بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
 
الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ
 
جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں
 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ (البقرہ : ٣)
متقین کی تین صفات بیان کی ہیں ‘ ایمان بالغیب ‘ اقامت صلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ ‘ پہلی صفت ایمان بالغیب ہے ‘ جس کا اس آیت میں بیان ہے ‘ اس آیت کریمہ کی تفسیر کے جاننے کے لیے ایمان اور غیب کو سمجھنا ضروری ہے ‘ ہم پہلے ایمان کی تشریح اور تحقیق کریں گے اور اس کے بعد غیب پر مفصل گفتگو کریں گے۔
ایمان کے لغوی معنی کی تفصیل اور تحقیق :
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
ایمان امن سے ماخوذ ہے اور امن کا معنی ہے : نفس کا مطمئن ہونا اور خوف کا زائل ہونا ‘ امن ‘ امانت اور امان اصل میں مصادر ہیں ‘ امان انسان کی حالت امن کو کہتے ہیں ‘ انسان کے پاس جو چیز حفاظت کے لیے رکھی جائے اس کو امانت کہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امنتکم “۔ (الانفال : ٢٧)
ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔
نیز قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال (الاحزاب : ٧٢)
ترجمہ : بیشک ہم نے آسمانوں ‘ زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت پیش کی۔
اور قرآن مجید ہے :
(آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ (آل عمران : ٩٧)
ترجمہ : اور جو حرم میں داخل ہوا وہ بےخوف ہوگیا۔
یعنی وہ دوزخ سے بےخوف ہوگیا ‘ یا وہ دنیا کی مصیبتوں سے بےخوف ہوگیا اس کا معنی ہے کہ حرم میں اس سے قصاص لیا جائے گا نہ اس کو قتل کیا جائے گا۔
ایمان کا استعمال کبھی اس شریعت کو ماننے کے لیے کیا جاتا ہے جس کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے پاس سے لے کر آئے اس استعمال کے مطابق قرآن مجید کی یہ آیت ہے :
(آیت) ” ان الذین امنوا والذین ھادوا والنصری والصبین “۔ (البقرہ : ٦٢)
ترجمہ : بیشک اسلام قبول کرنے والے ‘ یہودی ‘ عیسائی اور ستارہ پرست :
ایمان کے ساتھ ہر اس شخص کو متصف کیا جاتا ہے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں داخل ہو درآں حالیکہ وہ اللہ تعالیٰ کا اور آپ کی نبوت کا اقرار کرتا ہو۔
اور کبھی ایمان کا استعمال بر سبیل مدح کیا جاتا ہے اور اس سے مراد ذہن کا بہ طور تصدیق حق کو ماننا اور قبول کرنا ہے اور اس کا تحقق دل کے ماننے ‘ زبان سے اقرار کرنے اور اعضاء کے عمل کرنے سے ہوتا ہے ‘ اس اعتبار سے ایمان کا اطلاق قرآں مجید کی اس آیت میں ہے :
(آیت) ” والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون، والشھدآء عندربہم، لہم اجرھم ونورھم، (الحدید : ١٩)
ترجمہ : اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر (کامل) ایمان لائے وہی اپنے رب کی بارگاہ میں صدیق اور شہید ہیں ‘ ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔
تصدیق بالقلب ‘ اقرار باللسان اور عمل بالارکان میں سے ہر ایک پر ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ تصدیق بالقلب پر ایمان کا اطلاق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :
(آیت) ” اولئک کتب فی قلوبہم الایمان “۔ (المجادلہ : ٢٢)
ترجمہ : وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرمادیا۔
دل میں صرف تصدیق ہوتی ہے اس لیے اس آیت سے مراد صرف تصدیق ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت میں بھی ایمان کا اطلاق تصدیق پر کیا گیا ہے۔ :
(آیت) ” وما انت بمؤمن لنا ولوکنا صدقین “۔ (یوسف : ١٧)
ترجمہ : اور آپ ہماری بات کی تصدیق کرنے والے نہیں ہیں خواہ ہم سچے ہوں
اور اعمال صالحہ پر ایمان کا اطلاق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :
(آیت) ” وما کان اللہ لیضیع ایمانکم “ (البقرہ : ١٤٣)
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ (تحویل قبلہ سے پہلے تمہاری پڑھ ہوئی) تمہاری نمازوں کو ضائع کر دے۔
جب جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایمان کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کے صحیفوں ‘ اس کے رسولوں ‘ قیامت اور ہر اچھی اور بری چیز کو تقدیر کے ساتھ وابستہ ماننا ایمان ہے ‘ اس حدیث میں چھ چیزوں کے ماننے پر ایمان کا اطلاق کیا گیا ہے ‘ یہ حدیث صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم، اور حدیث کی دوسری مشہور کتابوں میں ہے۔ (المفردات ص ٢٦۔ ٢٥‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
علامہ زبیدی لکھتے ہیں :
ایمان تصدیق ہے ‘ علامہ زمخشری نے ” اساس “ میں اسی پر اعتماد کیا ہے ‘ اور اہل علم میں سے اہل میں سے اہل لغت وغیرہ کا اسی پر اتفاق ہے ‘ علامہ سعد الدین تفتازانی (رح) نے کہا ہے کہ ایمان کا حقیقی معنی تصدیق ہے ‘ اور ” کشاف “ میں لکھا ہے کہ کسی شخص پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ اس کو تکذیب سے مامون اور محفوظ رکھا جائے ‘ بعض محققین نے کہا ہے کہ ایمان کا معنی تصدیق ہو تو یہ بنفسہ متعدی ہوتا ہے ‘ اور جب اس کا معنی اذعان (ماننا اور قبول کرنا) ہو تو لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور جب اس کا معنی اعتراف ہو تب بھی لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے ‘ ازہری نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے بندے کو جس امانت پر امین بنایا ہے اس میں صدق کے ساتھ داخل ہونا ایمان ہے، اگر بندہ جس طرح زبان سے تصدیق کرتا ہے اسی طرح دل میں بھی تصدیق کرے تو وہ مومن ہے اور جو صرف زبانی اقرار کرے اور دل سے تصدیق نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت کو ادا نہیں کر رہا ‘ وہ منافق ہے اور جس کا یہ زعم ہے کہ تصدیق بالقلب کے بغیر صرف زبان سے اظہار کرنا ایمان ہے وہ یا منافق ہوگا یا جاہل (علامہ زبیدی (رح) کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ کبھی صرف زبانی اقرار پر بھی ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے ‘ جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ہے : rnّّ (آیت) ” ذلک بانھم امنوا ثم کفروا فطبع علی قلوبہم “۔ (المنافقون : ٣)
ترجمہ : یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ (زبان سے) ایمان لائے پھر انہوں نے (دل کا) کفر (ظاہر) کیا تو ان کے دلوں پر مہہر کردی گئی۔
اور اس آیت میں بھی زبانی اظہار پر ایمان کا اطلاق ہے : rnّّ (آیت) ” ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا ثم ازدادوا کفرا “۔ (النساء : ١٣٧)
ترجمہ : بیشک جو لوگ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے پھر (زبان سے) ایمان لائے پھر کافر ہوئے پھر وہ کفر میں اور بڑھ گئے۔
زجاج نے کہا ہے : کبھی ایمان کا اطلاق اظہار خشوع پر کیا جاتا ہے اور کبھی شریعت کے قبول کرنے پر اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو دین لے کر آئے ہیں اس پر اعتقاد رکھنے اور دل سے اس کی تصدیق کرنے پر ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے ‘ امام راغب نے کہا ہے کہ ایمان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی شریعت کا نام ہے اور کبھی بہ طور مدح حق کی تصدیق کرنے اور ماننے کو ایمان کہتے ہیں ‘ ایمان تصدیق ‘ اقرار اور عمل سے متحقق ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک پر الگ الگ بھی ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مومن اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جس کا معنی ہے : مخلوق کو ظلم سے امن دینے والا ‘ یا اپنے اولیاء کو عذاب سے امن میں رکھنے والا ‘ منذری نے ابو العباس ‘ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ امتوں سے اپنے رسولوں کی تبلیغ کے متعلق سوال کرے گا اور وہ امتیں انبیاء کی تکذیب کریں گی اور اللہ تعالیٰ کے مسلمان بندے انبیاء کی تصدیق کریں گے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لایا جائے گا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کی تصدیق کریں گے اور اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کی تصدیق کرے گا اور اسی تصدیق کی وجہ سے اللہ کا نام مومن ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عذاب سے امان میں رکھے گا اس وجہ سے وہ مومن ہے ‘ یہ علامہ ابن اثیر (رح) کا قول ہے۔ (تاج العروس ج ٩ ص ١٢٥‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
ایمان کی تعریف میں اہل قبلہ کے مذاہب :
ایمان کی تعریف میں اہل قبلہ کے مذاہب کا خلاصہ یہ ہے :
(١) جمہور متکلمین کے نزدیک صرف تصدیق بالقب کا نام ایمان ہے۔
(٢) امام ابومنصور ماتریدی (رح) کا مذہب ہے کہ ایمان صرف تصدیق بالقلب کا نام ہے اور اقرار اجراء احکام مسلمین کے لیے شرط ہے۔ یہ دونوں تعریفیں نفس ایمان کی ہیں۔
(٣) امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک ایمان کے دو جز ہیں ‘ اقرار اور تصدیق ‘ لیکن اکراہ کے وقت اقرار ساقط ہوسکتا ہے۔
(٤) ائمہ ثلاثہ اور محدثین کے نزدیک ایمان کے تین جز ہیں ‘ تصدیق ‘ اقرار اور اعمال صالحہ ‘ لیکن اعمال کے ترک کرنے سے انسان ایمان سے خارج ہوتا ہے اور نہ کفر میں داخل ہوتا ہے بلکہ فاسق ہوجاتا ہے یہ تعریف ایمان کامل کی ہے۔
(٥) معتزلہ میں سے واصل بن عطاء ‘ ابوالہذیل اور قاضی عبدالجبار کا یہ نظریہ ہے کہ تصدیق ‘ اقرار اور اعمال کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور اعمال میں واجب اور مستحب داخل ہیں اور عمل کے ترک کرنے سے انسان ایمان سے نکل جاتا ہے لیکن کفر میں داخل نہیں ہوتا، عمل کی نفی سے وہ ایمان سے خارج ہوگیا اور تکذیب نہ کرنے کی وجہ سے وہ کفر میں داخل نہیں ہوا۔
(٦) ابوعلی جبائی معتزلی اور ابو ہاشم معتزلی کا یہ مسلک ہے کہ فقط اعمال واجبہ کا نام ایمان ہے ‘ باقی تفصیل حسب سابق ہے۔
(٧) نظام معتزلی کا مذہب ہے : جس کام پر وعید ہے اس کے ترک کرنے کا نام ایمان ہے۔
(٨) خوارج کا مذہب ہے : تصدیق اقرار اور اعمال کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور انسان معصیت کے ارتکاب سے کافر ہوجاتا ہے خواہ معصیت صغیرہ ہو یا کبیرہ۔
(٩) کر امیہ کا یہ قول ہے کہ فقط زبان سے اقرار کرنا ایمان ہے۔
(١٠) غیلان بن مسلم دمشقی اور فضل رقاشی کا یہ نظریہ ہے کہ اقرار بہ شرط معرفت کا نام ایمان ہے۔
(١١) جہم بن صفوان کا یہ نظریہ ہے کہ فقط معرفت بالقبل کا نام ایمان ہے۔
(١٢) مرجۂ کے نزدیک ایمان صرف تصدیق کا نام ہے اور اعمالا کی کوئی ضرورت نہیں۔
نفس ایمان اور ایمان کامل کا بیان :
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں :
امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ ایمان تصدیق، اقرار اور عمل کا نام ہے جس کی تصدیق میں خلل ہو وہ منافق ہے ‘ جس کے اقرار میں خلل ہو وہ کافر ہے اور جس کے عمل میں خلل ہو وہ فاسق ہے ‘ وہ دوزخ کے دائمی عذاب سے نجات پالے گا ‘ اور جنت میں داخل ہوجائے گا ‘ امام رازی نے کہا : اس مسلک پر یہ قوی اشکال ہے کہ جب اعمال ایمان کا جز ہیں اور جز کی نفی سے کل کی نفی ہوجاتی ہے تو بےعمل شخص مومن کیسے ہوگا ؟ اور وہ کیسے مسلک پر یہ قوی اشکال ہے جب اعمال ایمان کا جز ہیں اور جز کی نفی سے کل کی نفی ہوجاتی ہے تو بےعمل شخص مومن کیسے ہوگا ؟ اور وہ کیسے دوزخ سے خارج اور جنت میں داخل ہوگا ؟ اس اشکال کا یہ جواب ہے کہ شارع کے کلام میں ایمان کبھی اصل ایمان کے معنی میں ہوتا ہے اور اصل ایمان میں اعمال کا اعتبار نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس سے ملاقات پر ‘ اس کے رسولوں پر اور مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان لاؤ ‘ اور اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ اور نماز قائم کرو اور فرض زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ (صحیح مسلم)
اور کبھی شارع کے کلام میں ایمان ‘ ایمان کامل کے معنی میں ہوتا ہے جس میں اعمال داخل ہوتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفد عبدالقیس سے فرمایا :
کیا تم جانتے ہو کہ اللہ وحدہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے ‘ آپ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ محمد اللہ کے رسول ہیں ‘ اور نماز قائم کرنا ‘ زکوۃ ادا کرنا ‘ رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے خمس ادا کرنا۔ (صحیح مسلم)
پہلی حدیث میں ایمان اصل ایمان یا نفس ایمان کے معنی میں ہے اور اس دوسری حدیث میں ایمان ‘ ایمان کامل کے معنی میں ہے ‘ اور جن احادیث میں اعمال کی نفی سے ایمان کی نفی کی گئی ہے ان میں ایمان سے مراد ایمان کامل ہے اور جن احادیث میں عمل کی نفی کی باوجود ایمان کا اطلاق کیا گیا ہے اور جنت کی بشارت دی گئی ہے ان میں ایمان سے مراد نفس ایمان ہے ‘ اس کی مثال یہ ہے :
جس وقت زانی زنا کرتا ہے اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث میں ایمان کامل کی نفی ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوذر (رض) سے فرمایا :
جس شخص نے بھی ” لا الہ الا اللہ “ کہا ‘ پھر اسی پر مرگیا ‘ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا ‘ میں نے کہا ‘ خواہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ! آپ نے فرمایا : خواہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث میں نفس ایمان مراد ہے :
خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف لفظی ہے کیونکہ اس کا رجوع ایمان کی تفسیر کی طرف ہے ‘ اور ایمان کا کون سا معنی منقول شرعی ہے اور کون سامعنی مجاز ہے اس میں اختلاف ہے ‘ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس ایمان کی وجہ سے دوزخ میں دخول سے نجات ملتی ہے وہ ایمان کامل ہے ‘ اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ‘ اور جس ایمان کی وجہ سے دوزخ کے خلود سے نجات ملتی ہے وہ نفس ایمان ہے ‘ اس میں اہل سنت کا اتفاق ہے اور خوارج اور معتزلہ کا اس میں اختلاف ہے۔
حاصل بحث یہ ہے کہ سلف اور امام شافعی (رح) نے جو اعمال کو ایمان کا جز کہا ہے اس ایمان سے ان کی مراد ایمان کامل ہے نہ کہ نفس ایمان یا اصل ایمان مراد ہے ‘ اور جب وہ کسی بےعمل یا بدعمل شخص پر مومن کا اطلاق کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد نفس ایمان ہوتی ہے نہ کہ ایمان کامل ‘ وہ کہتے ہیں کہ اس شخص میں ہرچند کہ ایمان کامل نہیں ہے لیکن وہ نفس ایمان کی وجہ سے نجات پاجائے گا۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ١٠٤۔ ١٠٢‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)
مومن ہونے کے لیے فقط جاننا اور سمجھنا کافی نہیں ہے بلکہ ماننا ضروری ہے۔
علامہ بدرالدین عینی (رح) لکھتے ہیں :
ایمان کی تعریف میں جو تصدیق بالقلب معتبر ہے اس سے مراد علم ‘ معرفت اور جاننا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی کی تصدیق کرنا اور آپ کو مخبر صادق ماننا ہے ‘ کیونکہ بعض کفار بھی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو جانتے تھے لیکن وہ مومن نہیں تھے ‘ قرآن مجید میں ہے ؛
(آیت) ” الذین اتینہم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ہم “ (البقرہ : ١٤٦)
ترجمہ : جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس نبی کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے حکایت کی ہے ‘ انہوں نے فرعون سے فرمایا :
(آیت) ” قال لقد علمت ما انزل ھؤلآء الا رب السموت والارض بصآئر، وانی لاظنک یفرعون مثبورا “۔ (بنی اسرائیل : ١٠٢)
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : یقیناً تو جانتا ہے کہ ان (چمکتی ہوئی نشانیوں) کو آسمانوں اور زمینوں کے رب نے ہی اتارا ہے جو آنکھیں کھولنے والی ہیں ‘ اور اے فرعون ! میں گمان کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہونے والا ہے
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کا کفار اور فرعون کو علم تھا، اس کے باوجوہ وہ کافر تھے اور وہ مومن نہیں تھے ‘ نیز اس سے واضح ہوا کہ ایمان کے تحقق کے لیے صرف جاننا کافی نہیں ہے ماننا ضروری ہے یعنی اپنے قصد اور اختیار ہے مخبر کی طرف صدق کو منسوب کرے اور اسے اس کی دی ہوئی خبروں میں صادق قرار دے۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ١٠٥۔ ١٠٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)
شیخ اشرف علی تھانوی (رح) لکھتے ہیں :
ایمان سچا سمجھنے کو کہتے ہیں ‘ عمل کرنا دوسری بات ہے ‘ پس جتنی کتابیں اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل کی ہیں سب کو سچا سمجھنا فرض اور شرط ایمان ہے۔ (بیان القرآن ص ٣‘ مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور)
جیسا کہ باحوالہ تفصیل اور تحقیق سے واضح ہوگیا ہے ایمان سچا سمجھنے یا سچا جاننے کو نہیں کہتے بلکہ ایمان سچا ماننے کو کہتے ہیں ‘ اس لیے ایمان کی یہ تعریف صحیح نہیں ہے، شیخ محمود الحسن (رح) نے بھی (آیت) ” یؤمنون بالغیب “ کی تفسیر میں اسی طرح لکھا ہے : یعنی جو چیزیں ان کے عقل و حواس سے مخفی ہیں (جیسے دوزخ ‘ جنت ملائکہ وغیرہ) ان سب کو اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کی وجہ سے حق اور یقینی سمجھتے ہیں۔ (شیخ محمود الحسن متوفی ٣٣٩ اھ ‘ حاشیۃ القرآن ص ٣‘ مطبوعہ العربیۃ السعودیہ) شیخ محمود الحسن (رح) کی بھی یہ عبارت صحیح نہیں ہے ‘ اللہ اور اس کے رسول ارشاد کی وجہ سے کسی خبر کو حق اور یقینی ماننا ایمان ہے ‘ اس کو حق اور یقینی سمجھنا ایمان نہیں ہے ‘ کیونکہ بعض کفار ان خبروں کو حق اور یقینی سمجھتے تھے لیکن عنادا مانتے نہیں تھے۔ البتہ انہوں نے اس کے بعد یہ جملہ لکھا ہے : ان امور غائبانہ کا منکر ہدایت سے محروم ہے۔ یہ جملہ صحیح ہے ‘ لیکن ان دونوں شیوخ نے ایمان کی تعریف صحیح نہیں لکھی۔
ایمان کی حقیقت میں فقط تصدیق کے معتبر ہونے پر قرآن مجید سے استشہاد :
ہم نے ذکر کیا تھا کہ محققین کا مذہب یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت فقط تصدیق بالقلب ہے ‘ اس پر محققین نے حسب ذیل دلائل پیش کیے ہیں، قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” اولئک کتب فی قلوبہم الایمان “۔ (المجادلہ : ٢٢)
ترجمہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرما دیا۔
(آیت) ” قالوا امنا بافواھہم ولم تؤمن قلوبہم “۔ (المائدہ : ٤١)
ترجمہ : انہوں نے اپنے منہ سے کہا : ہم ایمان لائے ہیں، حالانکہ ان کے دل مومن نہیں۔
(آیت) ” قالت الاعراب امنا، قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا ولمایدخل الایمان فی قلوبکم “۔ (الحجرات : ١٤)
ترجمہ : دیہات کے لوگوں نے کہا : ہم ایمان لائے آپ فرمائیں : تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو : ہم نے اطاعت کیا ہے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
ان آیات میں ایمان کا محل قلب کو قرار دیا ہے اور قلب میں تصدیق ہوتی ہے ‘ اقرار کا محل زبان اور اعمال کا تعلق باقی اعضاء سے ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ایمان صرف تصدیق بالقلب کا نام ہے۔
ایمان کی حقیقت میں فقط اقرار کے غیر معتبر ہونے پر قرآن مجید سے استشہاد :
صرف اقرار باللسان کے ایمان نہ ہونے پر قرآن مجید کی یہ آیت دلیل ہے :
(آیت) ” ومن الناس من یقول امنا باللہ وبالیوم الاخر وما ھم بمؤمنین “ (البقرہ : ٨)
ترجمہ : اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے ‘ حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں
زبان سے اقرار کے باوجود ان لوگوں کو اس لیے مومن نہیں قرار دیا گیا کہ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی نبوت کی تصدیق نہیں کی تھی ‘ نیز قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” اذا جآءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ، واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین کذبون “ (المنافقون :)
جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً ضرور آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافق ضرور جھوٹے ہیں
ایمان کی حقیقت میں اعمال کے غیر معتبر ہونے پر قرآں مجید سے استشہاد :
اعمال ایمان میں داخل نہیں ہیں ‘ اس پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات دلیل ہیں :
(آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت کا نت لہم جنت الفردوس نزلا “: (الکہف : ١٠٧)
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لیے جنت الفردوس کی مہمانی ہے
اس آیت میں اعمال کا ایمان پر عطف کیا گیا ہے اور عطف میں اصل تغایر ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اعمال ایمان کا غیر ہیں اور ایمان میں داخل نہیں ہیں اور قرآن مجید میں ایسی بہت آیات ہیں :
(آیت) ” من عمل صالحا من ذکراوانثی وھو مؤمن فلنحینہ حیوۃ طیبۃ “ ‘۔ (النحل : ٩٧)
ترجمہ : جس نے نیک عمل کیے خواہ مرد ہو یا عورت بہ شرطی کہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے۔
اس آیت میں اعمال کو مشروط اور ایمان کو شرط قرار دیا ہے اور مشروط شرط سے خارج ہوتا ہے ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ اعمال ایمان سے خارج ہیں ‘ اور اسی نہج پر یہ آیات ہیں :
(آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر اوانثی وھو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ “۔ (النساء : ١٢٤)
ترجمہ : اور جس نے نیک کام کئے خواہ مرد ہو یا عورت بہ شرطی کہ وہ مومن ہو تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔
(آیت) ” ومن یعمل من الصلحت وھو مؤمن فلا یخف ظما ولاھضما “ (طہ : ١١٢)
ترجمہ : اور جس نے نیک کام کئے بہ شرطی کہ وہ مومن ہو تو اس کو ظلم کا خوف ہوگا نہ کسی نقصان کا
(آیت) ” واصلحوا ذات بینکم، واطیعوا اللہ ورسولہ ان کنتم مؤمنین “ (الانفال : ١)
ترجمہ : اور اپنے باہمی معاملات درست رکھو ‘ اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو ‘ بہ شرطی کہ تم مومن ہو
قرآن مجید میں مرتکب کبیرہ پر بھی مومن کا اطلاق کیا گیا ہے ‘ اگر نیک اعمال ایمان کا جز ہوتے تو معصیت کبیرہ کرنے والے پر مومن کا اطلاق نہ کیا جاتا۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی “ (البقرہ : ١٧٨)
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم پر ان کا بدلہ فرض کیا گیا ہے جن کو ناحق قتل کیا گیا ہے۔
قصاص قاتل پر فرض کیا جاتا ہے اور اس آیت میں قاتل پر مومن کا اطلاق کیا گیا ہے اور قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے۔
(آیت) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینہما “۔ (الحجرات : ٩)
ترجمہ : اور اگر ایمان والوں کی دو جماعتیں آپس میں قتال کریں تو ان میں صلح کرا دو ۔
جب دو جماعتیں قتال کریں گی تو ان میں سے ایک حق پر اور دوسری باطل پر ہوگی اور اس آیت میں دونوں جماعتوں پر مومنوں کا اطلاق کیا گیا ہے۔
(آیت) ” وتوبوالی اللہ جمیعا ایہ المؤمنون “۔ (النور : ٣١)
ترجمہ : اے مومنو ! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو۔
توبہ معصیت پر واجب ہوتی ہے۔ اس آیت میں مومنین کو توبہ کا حکم دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ معصیت ایمان کے منافی نہیں ہے ‘ اور اسی نہج پر یہ آیت ہے :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا “۔ (التحریم : ٨)
ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو۔
ایمان میں کمی اور زیادتی کے ثبوت پر قرآن مجید سے استشہاد۔
ائمہ ثلاثہ ‘ محدثین اور دیگر اسلام جن کے نزدیک اعمال ایمان میں داخل ہیں اور ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے ‘ انہوں نے بہ کثرت احادیث سے استدلال کیا ہے ‘ جن میں سے بعض احادیث یہ ہیں :
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایمان کے ساٹھ اور کچھ حصے ہیں اور حیاء بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے ضرر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کے منع کئے ہوئے کاموں کو ترک کر دے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتی کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوال کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہیں اور نماز کو قائم کریں اور زکوۃ کو ادا کریں، اور جب وہ یہ کریں گے تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیں گے ماسوا اس کے جو اسلام کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اللہ وحدہ پر ایمان لانے کا معنی جانتے ہو ؟ صحابہ کرام (رض) نے کہا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے آپ نے فرمایا : یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
ان احادیث میں ایمان کے متعدد اجزاء بیان کئے گئے ہیں اور جو شخص ان اجزاء میں سے کسی جز پر عمل کو ترک کرے گا اس کا ایمان اس شخص سے کم ہوگا جو ان تمام اجزاء پر عمل کرے گا۔
ایمان میں کمی اور زیادتی کے دلائل کا جواب :
مذکورہ الصدر آیات اور احادیث سے ائمہ ثلاثہ اور محدثین نے اس پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان کا جز ہیں اور ایمان میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے ‘ اگر اعمال کم ہوں گے تو ایمان زیادہ ہوگا۔
ان تمام آیات اور احادیث کا جواب یہ ہے کہ تمام آیات اور احادیث ایمان کامل پر محمول ہیں اور ایمان کامل میں اعمال داخل ہیں، اور نفس ایمان میں اعمال داخل نہیں ہیں اور ان آیات اور احادیث میں نفس ایمان بالاتفاق مراد نہیں ہے۔
امام رازی نے کہا : یہ بحث لفظی ہے کیونکہ اگر ایمان سے مراد تصدیق ہو تو وہ کمی زیادتی کو قبول نہیں کرتا اور اگر اس سے مراد عبادات ہوں تو وہ کمی اور زیادتی کو قبول کرتا ہے ‘ پھر امام نے کہا : عبادات تصدیق کی تکمیل کرتی ہیں ‘ اور جن دلائل کا یہ تقاضا ہے کہ ایمان کمی اور زیادتی کو قبول نہیں کرتا، ان سے مراد اصل ایمان اور نفس ایمان ہے اور جن دلائل کا یہ تقاضا ہے کہ ایمان کمی اور زیادتی کو قبول کرتا ہے ان سے مراد ایمان کامل ہے جس میں اعمال داخل ہیں۔
بعض متاخرین نے یہ کہا ہے : حق یہ ہے کہ ایمان کمی اور زیادتی کو قبول کرتا ہے ‘ خواہ ایمان تصدیق اور اعمال کا مجموعہ ہو یا فقط تصدیق کا نام ہو کیونکہ تصدیق بالقلب وہ اعتقاد جازم ہے جو قوت اور ضعف کو قبول کرتا ہے کیونکہ جس شخص کو ہم قریب سے دیکھتے ہیں اس کی ہمیں اس سے زیادہ تصدیق ہوتی ہے جس کو ہم دور سے دیکھتے ہیں۔
بعض محققین نے یہ کہا کہ حق یہ ہے کہ تصدیق دو وجہوں سے کمی اور زیادتی کو قبول کرتی ہے ‘ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ تصدیق کیفیت نفسانیہ ہے ‘ جیسے خوشی ‘ غم اور غصہ وغیرہ کیفیات نفسانیہ ہیں اور ان میں قوت ‘ ضعف اور کمی اور زیادتی ہوتی ہے ‘ اسی طرح تصدیق میں بھی کمی اور زیادتی ہوتی ہے ‘ اور اگر ایسا نہ ہو تو لازم آئے گا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عام افراد امت کا ایمان برابر ہو اور یہ اجماعا باطل ہے اور دوسری وجہ سے تصدیق تفصیلیِ ، کیونکہ انسان کو جس جس چیز کے متعلق علم ہوتا جائے گا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو لے کر آئے ہیں، اس کا ایمان اس کے ساتھ متعلق ہوتا جائے گا ‘ اور ایمان زیادہ ہوتا جائے گا۔
بعض علماء نے اس تفصیل میں یہ کہا ہے کہ پہلے انسان اجمالی طور پر تمام شریعت پر ایمان لاتا ہے ‘ پھر جیسے جیسے اس کو احکام شرعیہ کی تفصیل کا علم ہوتا جاتا ہے وہ ان سب پر ایمان لاتا جاتا ہے اور یوں اس کا ایمان زیادہ ہوتا ہے اور بعض محققین نے یہ کہا ہے کہ زیادہ غور وفکر کرنے اور کثرت دلائل سے ایمان زیادہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدیقین اور علماء راسخین کا ایمان دوسروں کی بہ نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تشکیک اور مغالطہ آفرینی ہے ان کا ایمان متزلزل نہیں ہوتا۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ١٠٩۔ ١٠٨‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)
آیا اسلام اور ایمان متغایر ہیں یا متحد :
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں :
ایک بحث یہ ہے کہ آیا اسلام اور ایمان متغایر ہیں یا متحد ہیں ‘ پس ہم کہتے ہیں کہ لغت میں اسلام کا معنی ہے : انقیاد (اطاعت) اور اذعان (ماننا اور تسلیم کرنا) اور اسلام کا شرعی معنی ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مان کر اللہ کی اطاعت کرنا ‘ کلمہ شہادت پڑھنا ‘ واجبات پر عمل کرنا اور ممنوعات کو ترک کرنا کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسلام کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ نماز قائم کرو ‘ زکوۃ مفروضہ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ‘ اور اسلام کا اطلاق دین محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی کیا جاتا ہے جیسے کہتے ہیں : دین یہودیت ‘ دین نصرانیت ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “۔ (آل عمران : ١٩)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہے۔
اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا :
”۔ ذاق طعم الاسلام من رضی باللہ ربا وبالاسلام دینا “۔ جس شخص نے اللہ کو رب مان لیا اور اسلام کو دین مان لیا اس نے اسلام کا ذائقہ چکھ لیا۔
پھر اس میں علماء کا اختلاف ہے ‘ محققین کا مذہب یہ ہے کہ ایمان اور اسلام متغائر ہیں اور یہی صحیح ہے ‘ اور بعض محدثین متکلمین اور جمہور معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ ایمان اور اسلام شرعا مترادف ہیں ‘ علامہ خطابی نے کہا : ایمان اور اسلام مطلقا متحد یا متغائر نہیں ہیں ‘ کیونکہ مسلم بعض اوقات مسلم ہوتا ہے اور بعض اوقات مسلم نہیں ہوتا ‘(یعنی بعض اوقات اسلام کے احکام کی پیروی کرتا ہے اور بعض اوقات نہیں کرتا) اور مومن ہر وقت مومن ہوتا ہے (یعنی ہر وقت انقیاد باطن کرتا ہے) لہذا ہر مسلم مومن ہوتا ہے ‘ اور ہر مومن مسلم نہیں ہوتا۔
ایمان کی اصل تصدیق ہے اور اسلام کی اصل استسلام اور انقیاد (اطاعت) ہے ‘ بسا اوقات انسان ظاہر میں اطاعت گزار ہوتا ہے اور باطن میں اطاعت گزار نہیں ہوتا ‘ اور کبھی باطن میں صادق ہوتا ہے اور ظاہر میں اطاعت گزار نہیں ہوتا ‘ میں کہتا ہوں کہ اس کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام اور ایمان میں عموم ‘ خصوص مطلق کی نسبت ہے ‘ جیسا کہ بعض فضلاء نے اس کی تصریح کی ہے ‘’ اور تحقیق یہ ہے کہ ان میں عموم ‘ خصوص من وجہ کی نسبت ہے ‘ کیونکہ کبھی ایمان بغیر اسلام کے ہوتا ہے ‘ مثلا کوئی شخص کسی پہاڑ کی چوٹی پر اپنی عقل سے اللہ کی معرفت حاصل کرے اور کسی نبی کی دعوت پہنچنے سے پہلے اللہ کے وجود اس کی وحدت اور اس کی تمام صفات کی تصدیق کرے ‘ اسی طرح کوئی شخص تمام ضروریات دین پر ایمان لے آئے اور اقرار اور عمل کرنے سے پہلے اچانک مرجائے تو یہ مومن ہے اور مسلم نہیں ہے ‘ کیونکہ اس نے باطنی اور ظاہری اطاعت نہیں کی اور منافقین ظاہری اطاعت کرتے تھے اور باطنی اطاعت نہیں کرتے تھے تو وہ مسلم تھے مومن نہیں تھے اور صحابہ کرام (رض) ‘ تابعین اور بعد کے مسلمان مومن بھی ہیں اور مسلم بھی ہیں ‘ لہذا ایمان اور اسلام مفہوما متغائر اور مصداقا متحد ہیں۔
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :
ایمان اور اسلام واحد ہیں ‘ کیونکہ اسلام خضوع اور انقیاد ہے ‘ یعنی احکام کو قبول کرنا اور ماننا اور یہ ایمان کی حقیقت ہے اور اس کی تائید قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے :
(آیت) ” فاخرجنا من کان فیھا من المؤمنین فماوجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین ” (الذاریات : ٣٦۔ ٣٥)
ترجمہ : اس بستی میں جو مومنین تھے ہم نے ان سب کو نکال لیا تو ہم نے اس میں مسلمین کے ایک گھر کے سوا (اور کوئی گھر) نہ پایا
اگر اسلام ایمان کا غیر ہو تو اس آیت میں مومنین سے مسلمین کا استثناء صحیح نہیں ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ شریعت میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ فلاں شخص مومن ہے اور مسلم نہیں ہے یا مسلم ہے اور مومن نہیں ہے یا مسلم ہے اور مومن نہیں ہے ‘ ایمان اور اسلام کے اتحاد سے ہماری یہی مراد ہے (یعنی ان دونوں کا مصداق واحد ہے ‘ خواہ مفہوم متغائر ہو) اور مشائخ کے کلام سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایمان اور اسلام کو مصداق کے لحاظ سے واحد اور مفہوم کے لحاظ سے متغائر مانتے ہیں، جیسا کہ کفایہ میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبروں اس کے اوامر اور نواہی کی تصدیق نہیں کرے گا انقیاد متحقق نہیں ہوگا ‘ اس لیے ایمان اسلام سے مصداق کے لحاظ سے الگ نہیں ہوتا۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” قالت الاعراب امنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا “۔ (الحجرات : ١٤)
ترجمہ : دیہاتیوں نے کہا : ہم ایمان لائے ‘ آپ فرمائیں : تم ایمان نہیں لائے ‘ ہاں ! یہ کہو کہ ہم اسلام لائے (مطیع ہوئے ہیں) ۔
اس آیت میں ایمان کے بغیر اسلام کے تحقق کی تصریح ہے ‘ ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ شریعت میں جو اسلام معتبر ہے وہ ایمان کے بغیر متحقق نہیں ہوتا ‘ اور اس آیت میں اسلام کا شرعی معنی مراد نہیں ہے بلکہ لغوی معنی مراد ہے یعنی تم ظاہری اطاعت کر رہے ہو باطنی اطاعت نہیں کر رہے ‘ جیسے کوئی شخص بغیر تصدیق کے کلمہ شہادت پڑھ لے۔
اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسلام کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا :
اسلام یہ ہے کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور یہ کہ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر تم کو استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ (بخاری ومسلم)
اس حدیث میں دلیل ہے اسلام اعمال کا نام ہے نہ کہ تصدیق قلبی کا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں اسلام سے مراد اسلام کے ثمرات اور اس کی علامات ہیں ‘ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے فرمایا :
کیا تم جانتے ہو کہ فقط اللہ پر ایمان لانے کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ‘ آپ نے فرمایا : یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔ (بخاری)
اس حدیث میں بھی ایمان سے مراد ایمان کی علامات اور اس کے ثمرات ہیں :
غیب کا معنی :
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
جس چیز کا حواس (خمسہ) سے ادراک نہ کیا جاسکے اور نہ اس کو ابتداء عقل سے معلوم کیا جاسکے ‘ وہ غیب ہے ‘ اس کا علم صرف انبیاء کرام (علیہم السلام) کے خبردینے سے ہوتا ہے۔ (المفردات ص ٣٦٧‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
علامہ زیبدی (رح) لکھتے ہیں :
جوچیز تم سے غائب ہے ابواسحاق زجاج نے (آیت) ” یؤمنون بالغیب “۔ کی تفسیر میں کہا ہے : جو چیز متقین سے غائب تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس کی خبر دی وہ غیب ہے ‘ جیسے مرنے کے بعد اٹھنا ‘ جنت دوزخ ‘ اور ہر وہ چیز جو ان سے غائب تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس کی خبر دی وہ غیب ہے۔ (تاج العروس ج ١ ص ٤١٦‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
آیت مذکورہ میں غیب کا مصدق :
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
اس جگہ غیب کے مصداق میں مفسرین کا اختلاف ہے ایک گروہ نے کہا : اس آیت میں غیب سے مراد اللہ سبحانہ ہے ‘ ابن العربی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ‘ دوسرے مفسرین نے کہا : اس سے مراد قضاء و قدر ہے ‘ ایک جماعت نے کہا : اس سے مراد قرآن اور قرآن میں مذکورغیوب ہیں ‘ بعض علماء نے کہا : ہر ایسی چیز جس کی طرف عقل کی رسائی نہیں ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی خبر دی ہے وہ غیب ہے مثلا علامات قیامت ‘ عذاب قبر ‘ حشر ‘ نشر ‘ صراط ‘ میزان اور جنت ‘ دوزخ وغیرہ ابن عطیہ نے کہا : یہ اقوال متعارض نہیں ہیں ‘ بلکہ ان سب پر غیب کا اطلاق ہوتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١٦٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
آیت مذکورہ میں مومنین بالغیب کا مصداق :
علامہ سمرقندی (رح) لکھتے ہیں :
اس سے مراد صحابہ کرام (رض) اور ان کے قیامت تک کے متبعین ہیں کیونکہ وہ قرآن کے غیب کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے ‘ اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام قرار دیتے ہیں ‘ حارث بن قیس نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے کہا : اے اصحاب محمد ! ہم آپ کو اس لیے افضل سمجھتے ہیں کہ تم آپ پر بن دیکھے ایمان لائے ہو اور افضل ایمان، ایمان بالغیب ہے، پھر حضرت عبداللہ (رض) نے یہ آیت پڑھی :” الذین یؤمنون بالغیب “۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٩٠ مطبوعہ مکتبتہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٣ ھ)
امام احمد بن حنبل (رح) کرتے ہیں :
حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مجھ کو دیکھا اس کے لیے ایک سعادت ہے ‘ اور جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا ‘ اس کے لیے سات سعادتیں ہیں۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد ہوں گے ‘ ان میں سے ایک شخص کی یہ خواہش ہوگی کہ کاش وہ اپنے (سارے) اہل اور مال کے بدلہ میں میری زیارت کرلے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٧٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
آیا مخلوق کے علم پر علم غیب کا اطلاق جائز ہے یا نہیں ؟
اس آیت میں متقین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی جنت دوزخ وغیرہ کی تصدیق کرتے ہیں اور تصدیق علم کی قسم ہے ‘ اس کا معنی ہے : وہ غیب کا علم رکھتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے متقین کے علم پر علم غیب کا اطلاق فرمایا ہے ‘ لیکن یہ واضح رہے کہ اس غیب سے مراد الغیب المطلق (جمیع معلومات الہیہ) نہیں ہے بلکہ غیب کے وہ افراد مراد ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے متقین کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے خبر دی ہے۔ ہمارا مدعا صرف اتنا ہے کہ مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد عقلا جائز ہے شرک نہیں ہے بہ شرطی کہ اس سے مراد مخصوص غیب ہو ”’ الغیب المطلق “ (تمام معلومات کا علم) نہ ہو۔
علامہ زمخشری (رح) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
غیب سے مراد وہ مخفی چیز ہے جس کا ابتداء صرف اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے اور ہم کو اس میں سے صرف ان ہی چیزوں کا علم ہوتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں علم دیا ہے یا جن کے علم پر دلیل قائم ہے ‘ اس لیے مطلقا یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو غیب کا علم ہے اور یہاں غیب سے مراد صانع اور اس کی صفات ‘ امور نبوت ‘ حشر و نشر اور حساب وغیرہ ہیں۔ (کشاف ج ١ ص ١٧‘ مطبوعہ مطبعہ یہ یہ ‘ مصر ‘ ١٣٤٣ ھ)
امام رازی (رح) لکھتے ہیں :
رہا وہ غیب جس کے حصول پر دلیل قائم ہے تو یہ کہنا ناجائز نہیں کہ ہمیں اس غیب کا علم ہے جس کے حصول پر ہمارے لیے دلیل قائم ہے۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ١٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
متعدد مفسرین نے (آیت) ” وعلمنہ من لدناعلما “۔ ؛ (الکہف : ٦٥) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت خضر کو غیب کا علم تھا۔
علامہ سیوطی (رح) شافعی لکھتے ہیں :
حضرت خضر ایک مرد تھے جو علم الغیب جانتے تھے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ٤ ص ٢٣١‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
علامہ ابن جوزی (رح) حنبلی (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت خضر کو علم الغیب سے علم عطا فرمایا تھا۔
(زادالمیسر ج ٥ ص ١٦٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)
علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :
ہم نے ان کو اپنا علم لدنی سکھایا ‘ یعنی علم الغیب۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ١ ص ١٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
علامہ ابوسعود حنفی (رح) نے اس علم کے متعلق لکھا ہے
یہ غیوب کا علم ہے۔ (تفسیر ابوسعود علی ھامش الکبیر ج ٦ س ٥٢٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
علامہ آلوسی حنفی نے بھی لکھا ہے : یہ غیوب کا علم ہے۔ (روح المعانی ج ١٥ ص ‘ ٣٣٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
ان کے علاوہ علامہ ابن جریر طبری ‘ علامہ ابوحیان اندلسی ‘ علامہ شوکانی ظاہری ‘ علامہ اسماعیل حقی حنفی (رح) علامہ بیضاوی شافعی اور نواب صدیق حسن خاں بھوپالی ظاہری نے بھی اس آیت کی تفسیر میں اسی طرح لکھا ہے۔
ان کے علاوہ بعض دیگر مستند علماء نے مخلوق کی طرف علم غیب کی اضافت کو جائز لکھا ہے۔
علامہ نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں :
فقہاء نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے قرآن مجید کو سازوں کے ساتھ پڑھا ‘ یا اس سے پوچھا گیا : تم غیب جانتے ہو ؟ اور اس نے کہا : ہاں ! تو یہ کفر ہے اور جو شخص سفر کے لیے نکلا ‘ اور کوا بول پڑا اور وہ لوٹ آیا تو اس کے کفر میں اختلاف ہے ‘ میں کہتا ہوں کہ صحیح یہ ہے کہ ان تینوں مسئلوں میں کفر نہیں ہے۔ (روضۃ الطالبین ج ٧ ص ٢٨٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)
علامہ ابن حجر مکی شافعی لکھتے ہیں :
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں جو کہتا ہوں کہ مومن کو غیب کا علم ہے ‘ اس سے میری مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اولیاء کو بعض غیوب کا علم عطا فرماتا ہے تو اس کا یہ قول مقبول ہوگا کیونکہ یہ عقلا جائز ہے اور نقلا واقع ہے ‘ یہ ان جملہ کرامات سے ہے جو شمار سے باہر ہیں، بعض اولیاء کو خطاب (الہام) کے ذریعہ غیب کا علم ہوتا ہے، بعض کو کشف حجاب کے ذریعہ غیب کا علم ہوتا ہے ‘ اور بعض اولیا اللہ کے لیے لوح محفوظ کو منکشف کردیا جاتا ہے اور وہ اس کو دیکھ لیتے ہیں ‘ اور اس پر دلیل کے لیے یہ کافی ہے کہ حضرت خضر بعض کے نزدیک ولی تھے (اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ وہ نبی تھے) اور قرآن مجید نے ان کے علم غیب کو بیان کیا ہے ‘ اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنی بیوی کے حمل کے متعلق خبر دی کہ ان کے ہاں لڑکا ہوگا ‘ اور اسی طرح ہوا اور حضرت عمر (رض) عجم میں ساریہ اور اس کا لشکر منکشف ہوگیا ‘ اور انہوں نے جمعہ کے دن دوران خطبہ کہا : اے ساریہ ! پہاڑ کی اوٹ میں ہوجا ” رسالہ قشیری “ اور ” عوارف المعارف “ میں بعض اولیاء کے غیب کی خبر دینے کے بہت واقعات ہیں۔ (فتاوی حدیثیہ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ مطبعہ مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)
ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں :
شیخ اکبر ابوعداللہ نے اپنی کتاب ” معتقد “ میں لکھا ہے : ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ بندہ اپنے احوال میں ترقی کرتا ہوا مقام روحانیت سے واصل ہوجاتا ہے ‘ پھر اس کو غیب کا علم ہوتا ہے۔ (مرقات ج ١ ص ٦٢ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)
علامہ شامی لکھتے ہیں :
جس شخص نے ایک معاملہ میں یا چند معاملات میں علم غیب کا دعوی کیا اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی ‘ علامہ نووی (رح) نے ” روضۃ الطالبین “ میں جو تکفیر کی نفی کی ہے اس کا یہی محمل ہے اور جس نے تمام معاملات میں علم کا دعوی کیا اس کی تکفیر کی جائے گی اور جن فقہاء نے علم غیب کے مدعی کی تکفیر کی ہے اس کا یہی محمل ہے۔ (رسائل ابن عابدین ج ٢ ص ٣١١‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٣٤٦ ھ)
نیز علامہ شامی لکھتے ہیں :
علامہ ابن حجر مکی (رح) نے کہا ہے کہ قرآن مجید کی جن آیتوں میں اللہ کے غیر سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے وہ اس کے منافی نہیں ہیں ‘ کیونکہ انبیاء اور اولیاء کا علم اللہ تعالیٰ کے اعلام (خبر دینے) سے ہے ‘ اور ہمارا علم ان کے اعلام سے ہے ‘ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس علم کا غیر ہے جس کے ساتھ وہ متفرد ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم اس کی صفات قدیمہ ازلیہ دائمہ ابدیہ میں سے ایک صفت ہے جو علامات حدوث ‘ تغیر اور نقص سے منزہ ہے بلکہ وہ علم واحد ہے جس سے اس کو تمام کلیات اور جزئیات اور ” ماکان ومایکون “ کا علم ہے (صفت واحدہ امور غیر متناہیہ کے لیے منشاء انکشاف ہے) اور مخلوق کا علم اس طرح نہیں ہے ‘ اور جب یہ معلوم ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے جس علم کے ساتھ اپنی مدح کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس کے علم میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور اس کے سوال کوئی غیب کو نہیں جانتا وہ یہی علم ہے اور اللہ کے علاوہ اگر کسی کو غیب کا علم ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کے اعلام اور اس کی اطلاع سے چند جزئیات کا علم ہے ‘ اور اس وقت مطقا یہ نہیں کہا جائے گا کہ ان کو غیب کا علم ہے ‘ کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی صفت نہیں ہے جس کے ساتھ وہ مستقلا علم غیب کو حاصل کرنے پر قادر ہوں ‘ نیز ان کو از خود علم نہیں ہوتا ‘ ان کا علم دیا جاتا ہے ‘ اور وہ غیب مطلق کو نہیں جانتے اور ان کو جس چیز کا علم دیا جاتا ہے اس میں فرشتے اور دوسرے بھی ان کے شریک ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا انبیاء اور اولیا کو بعض غیوب کی خبر دینا کسی وجہ سے محال کو مستلزم نہیں ہے ‘ اس لیے اس انکار کرنا عناد کے سوا کچھ نہیں۔
(رسائل ابن عابدین ج ٢ ص ٣١٣‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٣٤٦ ھ)
اور علامہ شامی لکھتے ہیں :
حاصل بحث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ ” الغیب المطلق “ کے علم کے ساتھ متفرد ہے جو تمام معلومات کے ساتھ متعلق ہے ‘ اور وہ اپنے رسولوں کو ان بعض غیوب پر مطلع فرماتا ہے جو ان کی رسالت کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں ‘ ان کو یہ اطلاع وحی صریح کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے جو واضح اور جلی ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہوتا ‘ اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ وہ اپنے بعض اولیاء کو بھی بعض غیوب سے مطلع فرمائے اور یہ اطلاع انبیاء (علیہم السلام) کی اطلاع سے کم مرتبہ کی ہوتی ہے ‘ بہرحال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو غیب مختص ہے وہ الغیب المطلق ہے اور بندہ جس غیب کا مدعی ہوتا ہے وہ غیب حقیقی نہیں ہوتا ‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اعلام اور اس کی اطلاع سے ہوتا ہے۔ (رسائل ابن عابدین ج ٢ ص ٣١٤‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٣٤٦ ھ)
امام احمد رضا قادری (رح) لکھتے ہیں :
علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے ‘ اس کی تشریح ” حاشیہ کشاف “ پر میر سید شریف (رح) نے کردی ہے اور یہ یقیناً حق ہے ‘ کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقیناً کافر ہے۔ (الملفوظ ج ٣ ص ٤٧۔ ٤٦ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور)
علامہ میر سید شریف نے ” حاشیہ کشاف “ پر لکھا ہے :
غیر اللہ کی طرف مطلقا علم غیب کی نسبت کرنا اس لیے جائز نہیں کہ اس سے متبادر ہوتا ہے کہ وہ شخص ابتداء اور از خود علم غیب رکھتا ہے ‘ لیکن جب مقید کرکے یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو علم غیب دیا ہے ‘ یا اللہ تعالیٰ نے اس کو غیب پر مطلع کیا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (حاشیہ کشاف برکشاف ج ١ ص ١٢٨‘ مطبوعہ مصر)
نیز امام احمد رضا قادری (رح) لکھتے ہیں :
علم غیب میں عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم غیب عطا فرمایا (الی قولہ) برابری تو درکنار میں نے اپنی کتابوں میں تصریح کردی ہے کہ اگر تمام اولین وآخرین کا علم جمع کیا جائے تو اس علم کو علم الہی سے وہ نسبت ہرگز نہیں ہوسکتی جو ایک قطرہ کے کروڑیں حصہ کو کروڑ سمندر سے ہے کہ یہ نسبت متناہی کی متناہی کے ساتھ ہے اور وہ (علم الہی) غیر متناہی ہے ‘ غیر متناہی کو متناہی سے کیا نسبت ہوسکتی ہے۔ (الملفوظ ج ٣ ص ٤٦ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور)
قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” علم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا۔ الا من ارتضی من رسول، (الجن : ٢٦)
ترجمہ : وہ عالم الغیب ہے تو وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا۔ مگر جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے جو اس کے (سب) رسول ہیں۔
اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف اپنے رسولوں کو غیب پر مطلع فرماتا ہے ‘ اور اولیاء کو غیب پر مطلع نہیں فرماتا اور یہ کرامات اولیاء کے خلاف ہے ‘ علامہ تفتازانی (رح) اس کے جواب میں لکھتے ہیں :
اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں ” الغیب “ سے مراد عموم نہیں ہے ( ” الغیب المطلق “ مراد نہیں ہے) بلکہ ” مطلق الغیب “ مراد ہے (یعنی غیر رسول سے ہر غیب کی نفی مراد نہیں ہے) یا غیب سے مراد غیب خاص ہے اور وہ وقت وقوع قیامت ہے ‘ جیسا کہ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے اور یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض رسل ملائکہ یا رسل بشر کو وقت وقوع قیامت پر مطلع فرمائے۔ (گویا کہ اولیاء کرام کو وقت وقوع قیامت پر مطلع نہیں فرماتا اور باقی غیوب میں سے جس قدر چاہے مطلع فرماتا ہے) اور اگر اس استثناء کو منقطع قرار دیا جائے تو پھر کوئی اشکال نہیں ہے ‘ کیونکہ جب اسم جنس مضاف ہو تو وہ بہ منزلہ معرف باللام ہوتا ہے یا یہ کلام سلب عموم کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ہر غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض غیوب پر مطلع فرمائے ‘ اسی طرح اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ بہ طریقہ وحی صرف رسولوں کو غیب پر مطلع فرماتا ہے تب بھی کوئی اشکال نہیں (کیونکہ اولیاء کو بہ طریقہ الہام غیب پر مطلع فرماتا ہے) خلاصہ یہ ہے کہ مخالفین کا استدلال اس پر قائم ہے کہ یہ کلام عموم السلب کے لیے ہو یعنی اللہ تعالیٰ اپنے غیب میں سے کسی چیز کو کسی فرد پر ظاہر نہیں فرماتا اور یہ لازم نہیں ہے۔ (شرح مقاصد ج ٥ ص ٧٧۔ ٧٦‘ مطبوعہ منشورات الشریف ‘ ایران ١٤٠٩ ھ) بقیہ اگلی آیت میں