لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا اكۡتَسَبَتۡ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا وَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا ۚ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 286

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا اكۡتَسَبَتۡ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا وَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا ۚ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ

ترجمہ:

اللہ کسی شخص کو اس کی اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جن کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہمیں معاف فرما ‘ اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ‘ تو ہمارا مالک ہے تو کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

امام ابن جریر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ‘ تو صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم ہاتھ پاؤں اور زبان کے کاموں سے توبہ اور رجوع کرتے ہیں وسوسوں سے کیسے رجوع کریں تو جبریل اس آیت کو لے کر آئے : اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ بیشک تم وسوسوں سے باز رہنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

امام بخاری ‘ امام مسلم، امام ابودادؤ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے سینہ میں جو وسوسے آتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمالیتا ہے ‘ جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں اور ان کی بات نہ کریں۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٧٣٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے ‘ اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے۔ (البقرہ : ٢٨٦)

کسب اور اکتساب کا معنی اور شر کا اکتساب کے ساتھ مخصوص کرنے کی توجیہ :

جس کام کو انسان قصد اور ارادہ سے کرے اس کو کسب اور اکتساب کہتے ہیں ‘ اور خواطر اور وساوس میں انسان کے قصد اور ارادہ کا دخل نہیں ہوتا اس لیے ان پر گرفت نہیں ہوگی ‘ اسی طرح جو کام انسان سے نسیانا اور خطاء ہوجائے یا جو کام اضطراری طور پر صادر ہو ‘ اس پر بھی گرفت نہیں ہوگی۔

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان کاموں کو معاف کردیا جو خطاء ہوں ‘ نسیانا ہوں یا جن کاموں پر انہوں مجبور کیا گیا ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٤٧ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اہل لغت کے نزدیک کسب اور اکتساب کا معنی واحد ہے ‘ اور بعض نے کسب اور اکتساب میں فرق بیان کیا ہے ‘ کسب عام ہے خواہ انسان وہ کام صرف اپنے لیے کرے یا دوسرے کے لیے اور اکتساب اس کام کو کہتے ہیں جو صرف اپنے لیے کیا جائے زمخشری نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیر کے لیے کسب اور شر کے لیے اکتساب کو استعمال کیا ہے ‘ کیونکہ باب افتعال کا خاصہ ہے ! کسی چیز کو زیادہ محنت اور کوشش سے حاصل کرنا ‘ اور جب انسان کسی برے کام کی خواہش کرتا ہے تو اس کی تحصیل میں زیادہ عمل کرتا ہے اس کے لیے اکتساب فرمایا : اور بعض نے کہا : نیکی کے کام انسان کی فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اس لیے ان کو کرنیکے لیے زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑتی اور برائی کے کام چونکہ انسان کی فطرت کے خلاف ہوتے ہیں اس لیے ان کو کرتے وقت انسان کا نفس بوجھل ہوتا ہے اور انکے لیے زیادہ عمل کرنا پر تا ہے اس لیے ان کے لیے اکتساب فرمایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کی سرشت میں خیر اور نیکی ہو وہ اگر برا کام کسی وجہ سے کرے گا تو اس کا ضمیر مزاحمت کرے گا اور اسے برائی کے لیے زیادہ دشواری ہوگی ‘ اور جس کی سرشت میں شر اور برائی ہو وہ برے کام کو زیادہ دلچپسی اور زیادہ کوشش سے کرے گا ‘ اس طرح ہر صورت میں برے کام میں زیادہ عمل ہوگا اس لیے برے کام کے لیے اکتساب کا لفظ فرمایا جس میں زیادہ عمل ہے کیونکہ زیادتی لفظ زیادتی معنی پر دلالت کرتی ہے۔

دوسروں کے عمل سے نفع یا ضرر پہنچنے کا بیان :

بہ ظاہر اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو صرف ان ہی کاموں کا نفع یا ضرر ہوگا جو اس نے خود کیے ہوں ‘ لیکن تحقیق یہ ہے کہ جن کاموں کے وجود میں آنے کے لیے کسی طور سے بھی کسی انسان کا دخل ہو تو اگر وہ اچھے کام ہیں تو اس کو ان کا نفع پہنچے گا اور اگر وہ برے کام ہوں تو اس کو ان کو ضرر پہنچے گا ‘ مثلا ایک آدمی نے مسجد بنوا دی یا لائبریری قائم کردی تو جب تک اس مسجد میں نمازیں پڑھی جاتی رہیں گی اس کو اس کا اجر ملتا رہے گا اور جب تک اس لائبریری میں کتابیں پڑھی جاتی رہیں گی اس کو اجر ملتا رہے گا اس طرح اولاد کے دعا کرنے سے اور کسی استاذ کے پڑھائے ہوئے علم سے اجر ملتا رہے گا ‘ اور جس شخص نے کوئی جوا خانہ ‘ قحبہ خانہ یا شراب خانہ بنایا ہے تو جب تک وہاں برائی کے کام ہوتے رہیں گے اس کے نامہ اعمال میں گناہ لکھے جاتے رہیں گے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اون کے کپڑے پہنے ہوئے کچھ دیہاتی حاضر ہوئے ‘ آپ نے انکی بدحالی اور ضرورت کو دیکھا ‘ پھر آپ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے کچھ توقف کیا جس سے آپ کے چہرہ انور پر کبیدگی کے آثار ظاہر ہوئے ‘ پھر ایک نصاری درہموں کی تھیلی لے کر آیا ‘ پھر دوسرا آیا اور پھر صدقہ لانے والوں کاتنانتا بندھ گیا ‘ حتی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مسلمانوں میں کسی نیک طریقہ کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے مسلمانوں میں کسی برے طریقہ کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٤١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام بخاری بیان کرتے ہیں :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جائے گا اس کے گناہ میں ایک حصہ پہلے ابن آدم کا ہوگا (یعنی قابیل کا جس نے ہابیل کو ظلما قتل کیا تھا) کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا طریقہ نکالا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٧١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

خطاء ‘ نسیان اور جو کام جبرا کرائے جائیں ان پر مواخذاہ نہ کرنا :

امام ابن ماجہ ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن حبان ‘ امام طبرانی ‘ امام دارقطنی ‘ امام حاکم اور امام بیہقی ‘ نے اپنی ” سنن “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطاء ‘ نسیان اور جس کام پر اس کو مجبور کیا گیا ہو اس سے درگزر فرمالیا ہے۔

امام طبرانی نے اس حدیث کو حضرت ثوبان ‘ حضرت ابن عمر اور حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے۔ اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور امام ابن عدی نے ” کامل “ میں امام ابونعیم نے ” تاریخ “ میں اور امام سعید بن منصور نے اپنی ” سنن “ میں اس کو حسن سے روایت کیا ہے ‘ ہم اس سے پہلے امام مسلم کی روایت سے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی امام ابن جریر نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

سابقہ امتوں کے سخت احکام :

امام ابن جریر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ہم کو ایسے احکام کا مکلف نہ کرنا جن کو ہم ادا نہ کرسکیں ‘ جس طرح ہم سے پہلے یہود و نصاری پر سخت احکام کا بوجھ ڈالا گیا ‘ وہ ان احکام پر عمل نہ کرسکے ‘ پھر اس کی سزا میں ان کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام داؤد ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے عبدالرحمان بن حسنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بنو اسرائیل کے کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔

امام ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ بنواسرائیل میں جب کوئی شخص گناہ کرتا تو اس سے کہا جاتا کہ تمہاری توبہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو ‘ سو وہ قتل کرتا ‘ اس امت سے ایسے سخت احکام کا بوجھ اٹھا لیا گیا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٧ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

سابقہ امتوں پر بہت سخت اور دشوار احکام تھے ان پر پچاس نمازیں فرض تھیں ‘ زکوۃ میں چوتھائی مال کو ادا کرنا فرض تھا ‘ نجس کپڑا کاٹے بغیر پاک نہیں ہوتا تھا۔ مال غنیمت حلال نہیں تھا ‘ مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ‘ تیمم کی سہولت نہیں تھی ‘ قربانی کو کھانے کی اجازت نہیں تھی ‘ اونٹ کا گوشت حرام تھا ‘ چربی حرام تھی ‘ ہفتہ کے دن شکار کی اجازت نہ تھی ‘ کوئی گناہ کرتے تو فورا دنیا میں اس کی سزا مل جاتی تھی ‘ قصاص میں قتل کرنا لازم تھا ‘ شرک کی توبہ قتل کرنا تھی ‘ جس عضو سے گناہ ہوتا تھا اس کو کاٹ دیا جاتا تھا ‘ دیت کی سہولت نہیں تھی ‘ بعض گناہوں کی سزا میں ان کی صورتوں کو مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنادیا جاتا تھا۔

سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت :

امام عبد بن حمید نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت جبرائل (علیہ السلام) نے سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پڑھا تو آپ نے کہا : آمین۔

امام احمد ‘ امام دارمی ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ اور امام بیہقی نے اپنی ” سنن “ میں حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس نے رات میں سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو پڑھا تو وہ اس کے لیے کافی ہیں۔

امام طبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو بار بار پڑھو ‘ کیونکہ اللہ نے ان کی وجہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فضیلت دی ہے۔

امام احمد نے اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے سورة بقرہ کی آخری آیتیں عرش کی نیچے سے دی گئی ہیں مجھے سے پہلے یہ کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔

امام طبرانی نے سند جید کے ساتھ حضرت شداد بن اوس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی اس میں سے دو آیتیں نازل کیں اور سورة بقرہ کو ان پر ختم کیا ‘ جس گھر میں تین راتیں ان دو آیتوں کو پڑھا جائے گا اس گھر میں شیطان نہیں ٹھہرے گا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٨ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

کلمات تشکر :

١٠ رمضان المبارک ١٤١٤ ھ۔ بہ مطابق ٢١ فروری ١٩٩٤ ء کو میں نے ” تبیان القرآن “ لکھنے کا آغاذ کیا تھا اسی سال اللہ نے تعالیٰ نے مجھے فریضہ حج کی ادائیگی سے نوازا اور اپنے کرم سے حج اکبر عطا کیا حج سے پہلے اور بعد حج کی مصروفیات اور تھکاوٹ کی وجہ سے لکھنے میں تاخیر ہوتی رہی ‘ ٢٨ فروری ١٩٩٥ ء کو مقدمہ تفسیر ‘ سورة فاتحہ اور پہلے پارہ کی تفسیر مکمل ہوئی ‘ ١٠ جولائی ١٩٩٥ ء کو دوسرے پارہ کی تفسیر مکمل ہوئی اور ١٢ ربیع الاول ١٤١٦ ھ۔ ١٠ اگست ١٩٩٥ ء کو سورة بقرہ کی تفسیر مکمل ہوگئی ‘ فالحمد للہ رب العالمین۔

١٠ رمضان المبارک کو ” تبیان القرآن “ کی پہلی جلد کا افتتاح ہوا اور بارہ ربیع الاول جشن آمد رسول کے مبارک دن یہ جلد مکمل ہوگئی ‘ اس جلد کا افتتاح اور اختتام مبارک ایام میں ہوا ہے سو الہ العلمین اس کتاب کو مبارک بنادے ‘ ہمارے دلوں کو قرآن مجید کی ہدایات سے معمور کردے اور ہماری روحوں کو احادیث مبارکہ کے انوار سے منور کردے اور ہمارے بدن اور ہمارے تمام اعضاء کو قرآن اور سنت کے تابع کردے۔ رب العلمین ! جس طرح تو نے ” تبیان القرآن “ کی اس پہلی جلد کو مکمل کرنے کی توفیق دی ہے اسی طرح اپنے کرم سے اس کی باقی جلدوں کو بھی مکمل کرنے کی سعادت عطا فرما ‘ اس کتاب کو مقبولیت عامہ عطا فرما اور تاقیامت اس کے فیض کے چشموں کو جاری رکھ اور اس کے مندرجہ جات پر مجھ سمیت سب کو عمل کی توفیق عطا فرما ‘ اس کتاب کو مخالفین کے لیے ہدایت اور موافقین کے لیے استقامت کا موجب بنا ‘ اس کو میرے لیے صدقہ جاری کر دے۔ مجھے ‘ میرے والدین کو ‘ میرے اقرباء کو ‘ میرے اساتذہ اور تلامذہ کو ‘ میرے احباب اور معاونین کو ”’ تبیان القرآن “ کے ناشر کاتب اور مصحح کو اور جملہ مسلمانوں کو دنیا اور آخرت کے مصائب ‘ آفات اور بلاؤں سے محفوظ اور مامون رکھ اور دنیا اور آخرت کی ہر خیر ‘ ہر سعادت اور ہر کامرانی عطا فرما۔ آمین۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی الہ الطیبین الطاھرین و اصحابہ الکاملین الراشدین وازواجہ امھات المومنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ من المفسرین والمحدثین والمجتھدین الراسخین اجمعین الی یوم الدین :

غلام رسول سعیدی غفرلہ ‘

خادم الحدیث ‘ دارالعلوم نعیمیہ :

٣١ رجب ٧٢٤١ ھ۔ ٩ اگست ٢٠٠٦ ء

فون : ٩٠٣٦٥١٢، ٠٣٠٠۔ ٤٤٧١٢٠٢، ٠٣٢١

سورۃ 2 – البقرة – آیت 286

اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مِنۡ رَّبِّهٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ‌ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِهٖ‌ ۚ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ ۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 285

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مِنۡ رَّبِّهٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ‌ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِهٖ‌ ۚ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ ۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ

ترجمہ:

ہمارے) رسول اس (کلام) پر ایمان لائے جو ان کی طرف انکے رب کی طرف سے نازل ہوا اور مومن (بھی ایمان لائے) اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر سب (یہ کہتے ہوئے) ایمان لائے کہ ہم (ایمان لانے میں) ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ‘ اور انہوں نے کہا : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ‘ اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش کے طالب ہیں ‘ اور (ہمیں) تیری ہی طرف لوٹنا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ہمارے) رسول اس (کلام) پر ایمان لائے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ‘ اور مومن (بھی ایمان لائے) ۔ (البقرہ : ٢٨٥)

سورة بقرہ کے افتتاح اور اختتام کی مناسبت :

اس سورت کی ابتداء میں بھی اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کی صفات بیان فرمائی تھیں کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ‘ نماز قائم کرتے ہیں ‘ اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ اور جو اس (کلام) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا ‘ اور یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ آخرت میں فلاح پانے والے ہیں ‘ اور سورت کے اختتام میں بھی مومنوں کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ اس کلام پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور اے ہمارے رب ! ہم تیری مغفرت کے طالب ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے۔ الایۃ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ پر اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر سب (یہ کہتے ہوئے) ایمان لائے کہ ہم (ایمان لانے میں) ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ (البقرہ : ٢٨٥)

اللہ ‘ فرشتوں ‘ کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے ذکر کی ترتیب :

اس آیت میں پہلے اللہ پر ایمان لانے کا ذکر کیا ہے ‘ کیونکہ ہر ذی عقل سب سے پہلے وجود صانع پر استدلال کرتا ہے اس کے بعد فرشتوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے ‘ کیونکہ اللہ اور بندوں کے درمیان فرشتے واسطہ ہیں ‘ اس لیے ان کا دوسرے درجہ میں ذکر ہے ‘ پھر کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے ‘ کیونکہ کتابیں وہ وحی ہیں جن کو فرشتہ اللہ سے لے کر نبیوں تک پہنچاتا ہے اس لیے ان کا تیسرے مرتبہ میں ذکر ہے ‘ اس کے بعد رسولوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے ‘ کیونکہ وہی وحی کے انوار سے اقتباس کرتے ہیں اس لیے ان کا چوتھی جگہ ذکر ہے۔

اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لانے میں ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے ‘ جیسے یہود اور نصاری نے فرق کیا کہ بعض نبیوں پر ایمان لائے اور بعض پر ایمان نہیں لائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 285

لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ‌ؕ فَيَـغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 284

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَاِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡهُ يُحَاسِبۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ‌ؕ فَيَـغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

ترجمہ:

اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمینوں میں ہے ‘ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ اللہ تم سے اس حساب لے گا سو جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیرکے لیے

– سورۃ 2 – البقرة – آیت 284

 

وَاِنۡ كُنۡتُمۡ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمۡ تَجِدُوۡا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقۡبُوۡضَةٌ ‌ ؕ فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا فَلۡيُؤَدِّ الَّذِى اؤۡتُمِنَ اَمَانَـتَهٗ وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ‌ؕ وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ‌ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 283

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كُنۡتُمۡ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمۡ تَجِدُوۡا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقۡبُوۡضَةٌ ‌ ؕ فَاِنۡ اَمِنَ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا فَلۡيُؤَدِّ الَّذِى اؤۡتُمِنَ اَمَانَـتَهٗ وَلۡيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ‌ؕ وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ‌ ؕ وَمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ‌ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ

ترجمہ:

اور اگر تم سفر میں ہو (اور تمہیں نے دین پر مبنی کوئی معاملہ کرنا ہو) اور تمہیں دستاویز لکھنے والا نہ ملے تو قبضہ دی ہوئی رہن (کی بنا پر دین کا معاملہ کرلو) پھر اگر تم کو ایک دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کرے ‘ اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو شخص گواہی چھپائے گا اس کا دل گناہ آلود ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

بیع اور دین کے بعد اعمال صالحہ سے مکلف کرنے کی مناسبت :

اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اصول اور فروع ‘ اور عقائد اور اعمال میں سے متعدد اہم امور بیان فرمائے ہیں ‘ توحید اور رسالت ‘ قیامت اور جزاء اور سزا کے دلائل کا ذکر فرمایا اور نماز زکوۃ صدقات ‘ روزہ ‘ حج ‘ جہاد ‘ قصاص ‘ حیض ‘ طلاق ‘ عدت ‘ خلع ‘ ایلاء ‘ رضاعت ‘ ربا ‘ بیع ‘ دین اور رہن کے احکام بیان فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان عقائد کو ماننے اور ان احکام پر عمل کرنے کا مکلف فرمایا ہے تو یہاں ہمیں مکلف کرنے کی دلیل ذکر فرمائی کہ تمام آسمانوں میں جو کچھ ہے اور تمام زمینوں میں جو کچھ ہے اللہ اس کا مالک ہے اور آسمانوں اور زمنیوں کی ہر چیز اس کی مملوک ہے اور مالک کو حق ہے کہ وہ اپنی مملوک کو جس چیز کا چاہیے مکلف کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توحید و رسالت اور قیامت اور جزاء اور سزا کے ماننے کا مکلف کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن عقائد کا مکلف کیا ہے انکو ماننے کا تعلق ہمارے دلوں سے ہے ‘ اور جن احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا مکلف کیا ہے انکی جزاء یا سزا کا مدار ہماری نیتوں پر ہے اور ہماری نیتوں کا تعلق بھی ہمارے دلوں کے ساتھ ہے اس لیے فرمایا : اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لے گا چونکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے اور ہر چیز اس کی مملوک ہے اس لیے حساب لینا اس کا حق ہے اور وہ ہر چیز کا عالم ہے خواہ کوئی چیز چھوٹی ہو یا بڑی ظاہر ہو یا مخفی اسے ہر چیز کا علم ہے اور ہر چیز کی گرفت کرنے پر وہ قادر ہے اس کا علم ہر شے کو محیط ہے اور اس کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے۔

خواطر قلب کی تکلیف کے منسوخ ہونے کا بیان :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی : اللہ ہی کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا سو جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اصحاب پر یہ آیت بہت شاق گزری ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کی خدمت میں حاضر ہو کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ہمیں نماز ‘ روزہ ‘ جہاد اور صدقہ کا مکلف کیا گیا ‘ یہ ایسے اعمال ہیں جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں اور اب آپ پر جو آیت نازل کی گئی ہے اس پر عمل کر نیکی ہم طاقت نہیں رکھتے (کیونکہ اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ تمہارے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا بھی حساب لیاجائے گا اور دل میں غیر اختیاری طور پر بہت سی باتوں کا خیال آتا ہے جو اچھی بھی ہوتی ہیں اور بری بھی اور دل میں آنے والی باتوں کے دور کرنے پر انسان قادر نہیں ہے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اس طرح کہو جس طرح تم سے پہلے کتاب والوں (یہودونصاری) نے کہا تھا ہم نے سنا اور ہم نے نافرمانی کی ‘ بلکہ تم کہو : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ‘ اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش کے طالب ہیں ‘ اے ہمارے رب اور (ہمیں) تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ جب مسلمانوں نے اس طرح پڑھا اور انکی گردنیں جھک گئیں تو اللہ تعالیٰ عزوجل نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی : (ہمارے) رسول اس کلام پر ایمان لائے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا اور مومن بھی ایمان لائے ‘ اللہ پر ‘ اس کے فرشتوں پر ‘ اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر سب (یہ کہتے ہوئے) ایمان لائے کہ ہم (ایمان لانے میں) ان رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ‘ اے ہمارے رب ! ہم تیری بخشش کے طالب ہیں ‘ اور ہمیں تیری طرف لوٹنا ہے۔ جب مسلمانوں نے یہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے اس پہلے حکم کو منسوخ کردیا ‘ اور یہ آیت نازل فرمائی : اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے ‘ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا ‘ اللہ نے فرمایا : ہاں ! (حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کردیا) اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا اللہ نے فرمایا : ہاں ! (حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں ہے فرمایا میں نے کردیا) اے ہمارے رب ! ہم پر ان احکام کا بوجھ نہ ڈالنا جن کی ہمیں طاقت نہ ہو “ فرمایا ہاں ! (یا فرمایا : میں نے کردیا) اور ہمیں معاف فرما ! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ‘ تو ہمارا مالک ہے تو کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما ‘ فرمایا : ہاں ! یا فرمایا : میں نے کردیا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٨٧۔ ٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے ‘ اکثر مفسرین اس کے قائل ہیں کہ پہلے مسلمان دل میں برے خیالات اور وسوسوں سے بھی اجتناب کے مکلف تھے پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو منسوخ کردیا کیونکہ وسوسوں سے اجتناب کرنا ان کی وسعت اور طاقت میں نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث میں اس کی تصریح ہے ‘ اور بعض متاخرین نے کہا : یہاں نسخ نہیں ہے ‘ کیونکہ نسخ انشاء (اوامر اور نواہی) میں ہوتا ہے ‘ اخبار میں نہیں ہوتا ‘ لیکن ان متاخرین کی یہ رائے صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ ان کو پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وساوس سے اجتناب کرو اور بعد میں اس حکم کو منسوخ کیا گیا ہے اور اس آیت میں اس سابق حکم اور اس کے منسوخ ہونے کی خبر دی گئی ہے ‘ بعض مفسرین نے کہ کہا ہے کہ نسخ سے مراد یہاں ازالہ ہے یعنی ان کے دلوں میں یہ بات مرکوز ہوگئی تھی کہ انکو ایک سخت ‘ دشوار اور ناقابل عمل فعل کا مکلف کردیا گیا ہے ‘ تو ان کے دلوں سے اس بات کو زائل کیا گیا کہ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ یہ قاضی عیاض کی رائے ہے اور واحدی کا مختار یہ ہے کہ یہ آیت محکمہ ہے ‘ منسوخہ نہیں ہے۔

” ھم “ اور ” عزم “ کی تحقیق “۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جب میرا بندہ گناہ کا ” ھم “ (ارادہ) کرے تو اس کا گناہ نہ لکھو ‘ اور اگر وہ اس گناہ کو کرلے تو ایک گناہ لکھ دو اور جب وہ نیکی کا ” ھم “ کرے اور اس نے ابھی وہ نیکی نہ کی ہو تو اس کی ایک نیکی لکھ دو ‘ اور اگر وہ اس نیکی کو کرلے تو اس کی دس نیکیاں لکھ دو ۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نیکیاں اور برائیاں لکھتا ہے ‘ سو جو شخص نیکی کا ” ھم “ کرے اور ابھی اس نیکی کو نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے ‘ اور اگر وہ اس نیکی کو کرلے تو اس کے لیے دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک لکھ دیتا ہے اور اگر وہ گناہ کا ” ھم “ کرے اور اس گناہ کو نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر وہ گناہ کا ” ھم “ کرے اور وہ گناہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک گناہ لکھ دیتا ہے (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٧٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں :

امام مازری نے کہا : قاضی ابوبکر بن الطیب کا مذہب یہ ہے کہ جس نے دل سے معصیت کا عزم کیا وہ اپنے اعتقاد اور عزم میں گنہ گار ہوگا ‘ اور اگر اس نے معصیت کا عزم نہیں کیا ‘ وہ معصیت صرف اس کے ذہن میں آئی اس کا ذہن میں استقرار نہیں ہوا تو یہ ” ھم “ ہے اور ھم اور عزم میں فرق کیا جاتا ہے (اگر کسی کام میں راجح جانب کرنے کی ہو اور مرجوح سا خیال نہ کرنے کا ہو تو یہ ” ھم “ ہے اور اگر کام نہ کرنے کی مرجوح جانب بھی ختم ہوجائے اور اس کام کو کرنے کا سو فیصد ارادہ ہوجائے خواہ نفع ہو یا نقصان تو اس کو عزم کہتے ہیں) بہت سے فقہاء اور محدثین نے اس قاعدہ کی مخالفت کی ہے اور ظاہر حدیث پر عمل کیا ہے۔

قاضی عیاض نے کہا کہ عامۃ السلف ‘ فقہاء اور محدثین کا وہی مذہب ہے جو قاضی ابوبکر کا مذہب ہے ‘ کیونکہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ دل کے عمل پر بھی مواخذہ ہوتا ہے لیکن انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی برائی کا عزم کرے تو ایک برائی لکھ لی جاتی ہے اور اگر برائی کا ” ھم “ کرے تو برائی نہیں لکھی جاتی کیونکہ ” ھم “ کے بعد عمل نہیں کیا جاتا اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ عمل نہ کرنے کی وجہ خوف الہی ہو لیکن نفس اصرار اور عزم معصیت ہے ‘ اس لیے عزم کے بعد ایک معصیت لکھ دی جاتی ہے اور اگر عزم کے بعد اس پر عمل کرلیا تو دوسری معصیت لکھ لی جائے گی اور گر اس نے عزم معصیت کے بعد خدا کے خوف سے اس معصیت کو ترک کردیا تو ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔

معصیت کے ” ھم “ کے بعد معصیت نہیں لکھی جاتی کیونکہ ” ھم “ میں نفس اپنے آپ کو اس معصیت پر آمادہ نہیں کرتا ‘ نہ اس کا عقد ‘ عزم اور نیت کرتا ہے ‘ متکلمین نے اس میں بحث کی ہے کہ جب وہ اس معصیت کو خوف خدا کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کرے ‘ مثلا لوگوں کے خوف کی وجہ سے ترک کرے تو اس کی نیکی لکھی جائے گی یا نہیں ‘ بعض علماء نے کہا : اب اس کی نیکی نہیں لکھی جائے گی ‘ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٧٩۔ ٧٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

قرآن مجید کی نصوص قطعیہ اور احادیث صریحہ سے یہ ثابت ہے کہ معصیت کے عزم ‘ عقد اور گناہ کی نیت سے مواخذہ ہوتا ہے خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہیں۔

دل کے افعال پر مواخذہ کی تحقیق :

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ “۔ (النور : ١١٩)

ترجمہ : بیشک جو لوگ یہ پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بےحیائی کی بات پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔

اس آیت میں صرف دل کے عمل پر عذاب کی وعید ہے۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ‘ ان بعض الظن اثم “۔ (الحجرات : ١٢)

ترجمہ : اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو ‘ بیشک بعض گمان گناہ ہیں۔

اس آیت میں بدگمانی کو گناہ قرار دیا ہے اور وہ دل اور ذہن کا فعل ہے۔

(آیت) ” ولا تعزموا عقدۃ النکاح “۔ (البقرہ : ٢٣٥)

ترجمہ : اور (عدت کے دوران) عقد نکاح کا عزم نہ کرو “۔

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو مسلمان تلواروں سے مقابلہ کرتے ہیں ‘ تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ‘ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ قاتل تو ہوا مقتول کا کیا گناہ ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ بھی اپنے مقابل کے قتل پر حریص تھا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوا کہ جس طرح مسلمان کو قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح مسلمان کو قتل کرنے کا عزم کرنا بھی گناہ ہے۔

قرآن مجید اور حدیث شریف کی تصریحات کے علاوہ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ حسد کرنا ‘ مسلمانوں کو حقیر جاننا اور ان سے کینہ اور بغض رکھنا حرام ہے ‘ اور یہ تمام دل کے افعال ہیں ‘ ان دلائل سے یہ واضح ہوگیا کہ معصیت کا عزم بھی معصیت ہے خواہ اس عزم کے بعد معصیت کا ارتکاب کرے یا یا نہ کرے ‘ البتہ معصیت کا ” ھم “ معصیت نہیں ہے۔

” ھم “ اور ” عزم “ کی مزید وضاحت کے لیے یہ جاننا چاہیے کہ ذہن میں وارد ہونے والے امور کی پانچ قسمیں ہیں۔

علامہ احمد صاوی مالکی لکھتے ہیں۔

(١) ہاجس : اچانک کسی چیز کا خیال آئے۔

(٢) خاطر : کسی چیز کا بار بار خیال آئے۔

(٣) حدیث نفس : جس چیز کا خیال آئے ذہن اس کی طرف راغب ہو اور اس کے حصول کے لیے منصوبہ بنائے۔

(٤) ھم : غالب جانب اس چیز کو حاصل کرنے کی ہو اور مغلوب سا خیال ہو کہ اس کو حاصل نہ کیا جائے ‘ کیونکہ ہوسکتا ہے اس سے ضرر ہو۔

(٥) عزم : مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور اس چیز کے حصول کا پختہ ارادہ ہو ‘ وہ اپنے نفس کو اس کے حصول پر آمادہ کرلے اور اس کی نیت کرلے۔

اگر کسی شخص کے ذہن میں خیال آئے تو ہاجس ‘ خاطر ‘ حدیث نفس اور ہم کے مرتبہ میں اس سے مواخذہ نہیں ہوتا ‘ البتہ اگر گناہ کا عزم کرلے تو وہ مستحق مواخذہ ہے ‘ خواہ اس کے بعد گناہ کا فعل نہ کرے۔ (تفسیر الصاوی ج ١ ص ٩٩‘ مطبوعہ داراحیاء الکتب العربیہ ‘ مصر)

اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی انسان کا کوئی دشمن ہو اور ایک دن اس کے ذہن میں اچانک اس کو قتل کرنے کا خیال آئے تو یہ ھاجس ہے ‘ اور اگر باربار اس کو قتل کرنے کا خیال آئے تو یہ خاطر ہے اور جب اس کا ذہن اس کے قتل کی طرف راغب ہو اور وہ اس کے قتل کا منصوبہ بنائے کہ اس کو مثلا پستول سے قتل کرے گا اور فلاں جگہ سے پستول کو حاصل کرے گا تو یہ حدیث نفس ہے ‘ اور جب وہ اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرلے اور غالب جانب اس کو قتل کرنے کی ہو لیکن مغلوب سایہ خیال ہو کہ وہ کہیں پکڑا نہ جائے اس لیے نہ قتل کرے تو بہتر ہے تو یہ ھم ہے اور جب یہ مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور وہ یہ طے کرلے کہ اس کو قتل کرنا ہے خواہ وہ پکڑا کیوں نہ جائے اور اس کے بدلہ میں قتل کیوں نہ کردیا جائے اور اس کو قتل کرنے کی نیت کرے تو یہ عزم ہے پہلے چار مرتبوں پر اس سے مواخذہ نہیں ہوگا لیکن جب وہ قتل کرنے کا عزم کرلے گا تو اس عزم پر مواخذہ ہوگا خواہ اس نے قتل نہ کیا ہو ‘ مثلا وہ شخص اس کو قتل کرنے گیا لیکن جب وہ اس کے گھر گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنی طبعی موت سے ابھی ابھی مرا ہے اب ہرچند کہ اس نے قتل نہیں کیا لیکن اس نے بہرحال اس کو قتل کرنے کی نیت کرلی تھی اس لیے اس نیت کی وجہ سے اس کی گرفت ہوگی۔

ھاجس ‘ خاطر اور حدیث نفس کے مرتبہ میں معصیت پہلی امتوں پر بھی معاف تھی اور اس امت پر بھی معاف ہے ‘ لیکن پچھلی امتوں کا ” ھم “ پر مواخذاہ ہوتا تھا اس امت پر ” ھم “ معاف ہے البتہ اگر معصیت کا عزم کرلیا جائے تو اس امت پر بھی مواخذہ ہوگا۔

معصیت کی حدیث نفس مذموم ہے اور نیکی کی حدیث نفس جائز بلکہ مستحسن ہے خواہ حالت نماز ہو۔

امام بخاری بیان کرتے ہیں :

حضرت عمر (رض) نے کہا : میں نماز کی حالت میں لشکر کی صفیں مرتب کرتا رہتا ہوں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٦٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دینی امور کے متعلق نماز میں سوچ وبچار اور غور وفکر کرنا جائز ہے۔

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو دادؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت اپنے دل میں جن کاموں کے منصوبے بناتی ہے۔ (حدیث نفس) جب تک ان کی بات نہ کرے یا ان پر عمل نہ کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرماتا ہے۔

امام فریابی ‘ امام عبد بن حمید اور امام ابن المنذر ‘ محمد بن کعب قرضی سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ نے جس نبی اور رسول کو مبعوث کیا اور اس پر کتاب نازل کی۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی : جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ‘ پس جس کو چاہے گا اس کو بخش دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا ‘ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ سابقہ امتوں نے اپنے نبیوں اور رسولوں سے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا اور کہا : ہمارے دلوں میں جو باتیں آئیں اور ہم ان پر عمل نہ کریں تو ہم سے ان پر کیسے گرفت ہوگی ‘ سو وہ کافر اور گمراہ ہوگئے اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانو پر بھی یہ آیت اسی طرح دشوار ہوئی جس طرح پچھلی امتوں پر دشوار ہوئی تھی ‘ انہوں نے کہا : یارسول اللہ ! ہمارے دلوں میں جو باتیں آئیں اور ہم ان پر عمل نہ کریں کیا پھر بھی ہم سے ان باتوں پر مواخذہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! تم سنو اور تم اطاعت کرو ‘ اور جب مسلمانوں نے یہ کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے حدیث نفس (دل کی باتوں) پر محاسبہ کو ساقط کردیا ‘ جب تک کہ وہ اس پر عمل نہ کرلیں اور ان کو انہیں کاموں کا مکلف کیا جن کی وہ طاقت رکھتے تھے اور جب انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! نسیان اور خطا پر ہماری گرفت نہ کرنا تو ان سے نسیان اور خطا پر مواخذہ کو ساقط کردیا اور جب انہوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم پر ایسے سخت احکام کا بوجھ نہ ڈالنا جیسے سخت احکام پچھلی امتوں پر تھے ‘ تو ان کو ایسے سخت احکام کا مکلف نہیں کیا گیا ‘ اور ان کو معاف کردیا ‘ ان کی مغفرت کی اور ان کی مدد فرمائی (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٤۔ ٣٧٣ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تکلیف مالایطاق پر استدلال اور اس کا جواب :

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : ” جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے ‘ تم اس کو ظاہر کرو یا تم اس کو چھپاؤ‘ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا “ انسان اپنے دل میں جن وسوسوں اور حدیث نفس کو چھپاتا ہے وہ اس میں داخل نہیں ہیں ‘ کیونکہ ان سے قلب کو فارغ کرنا اس کی طاقت اور اختیار میں نہیں ہے ‘ البتہ جس چیز کا وہ اعتقاد کرتا ہے اور اس کا عزم کرتا ہے وہ اس میں داخل ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس آیت کو تلاوت کیا اور کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے اس پر ہمارا مواخذہ کیا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے ‘ پھر وہ رونے لگے ‘ جب حضرت ابن عباس (رض) سے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمان پر رحم کرے ‘ جس طرح ان کو رنج ہوا ہے مسلمانوں کو بھی اس طرح رنج ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا ‘ ان روایات کی بناء پر بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے لیکن زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں محکم ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا محاسبہ کرے گا اور انہوں نے جن کاموں کا پختہ عزم کیا ہے خواہ انہوں نے وہ کام نہیں کیے ان کا بھی محاسبہ کرے گا اور مؤمنین کی مغفرت فرما دے گا اور کفار اور منافقین کا مواخذہ فرمائے گا ‘ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : دل میں جو خواطر اور وساوس آتے ہیں ان کی سزا میں دنیا میں مصائب اور آلام پہنچتے ہیں۔ بعض علماء نے اس آیت سے تکلیف مالایطاق پر استدلال کیا ہے کیونکہ خواطر قلب سے بچنا انسان کی طاقت میں نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا مکلف کیا ہے ‘ ابن عطیہ نے کہا : یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ خواطر قلب کی یہاں تاویل نیات ‘ عزائم اور اعتقادات سے کی گئی ہے اور وہ انسان کے اختیار میں ہیں۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٧٥٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 283

وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ ۖ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 281

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّقُوۡا يَوۡمًا تُرۡجَعُوۡنَ فِيۡهِ اِلَى اللّٰهِ ۖ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورابدلہ دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔۔ (البقرہ : ٢٨١)

قرآن مجید میں نازل ہونے والی آخری آیت :

اللہ تعالیٰ نے آیات ربا کو اس بلیغ پر ختم کیا ہے کہ دنیا جانے والی ہے اور آخرت آنے والی ہے اور باقی ہے اور اس کے بعد وہ حساب پیش آنے والا ہے جو یقینی ہے ‘ لہذا اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس دن سے ڈرا رہا ہے جس دن تم سب لوگ اللہ سے ملاقات کرو گے ‘ وہ اعمال کی جزا کا دن ہے ‘ اس دن کوئی نیک عمل ہو سکے گا نہ کسی برے کام پر توبہ ہو سکے گی ‘ وہ ثواب عتاب اور محاسبہ کا دن ہے ‘ اس دین ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کی پوری پوری جزا دی جائے گی ‘ خواہ اس کے عمل نیک ہوں یا بد ‘ خیر ہوں یا شر ‘ اس دن ہر عمل سامنے آجائے گا اور کوئی چھوٹا یا بڑا عمل باقی نہیں بچے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ ان اعمال کی جزا دے گا اور تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ‘ اور اس ذات سے ظلم کیسے متصور ہوسکتا ہے جو برائی پر صرف اتنی ہی سزا دیتا ہے جتنی وہ برائی ہو اور نیکی کا دس گنا بڑھا کر اجر دیتا ہے ‘ بلکہ کبھی ایک نیکی پر سات سو گنا کبھی اس سے بھی زیادہ اور کبھی بےحساب اجر دیتا ہے ‘ اے بدکار ! وہ تجھ پر عدل کرے گا ‘ تو اس دن کے آنے سے پہلے توبہ کرلے اور اپنے آپ کو اس کے فضل و کرم کا سزا وار کرلے اور اے نیکوکار ! اس دن کے آنے سے پہلے اپنی نیکیوں کو اور بڑھا لے ‘ وہ تجھ پر فضل کرے گا۔ بعض روایات کے مطابق یہ قرآن مجید کی آخری آیت ہے ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ آخرت آیت ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی۔

یہ آیت کے دن نازل ہوئی تھی اس کے نزول کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نو دن حیات (ظاہری کے ساتھ) رہے اور پیر کے دن رفیق اعلی سے واصل ہوگئے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٧٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابوعبید ‘ امام عبد بن حمید ‘ امام نسائی ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام بیہقی نے ” دلائل النبوۃ “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی قرآن مجید کی یہ آخری آیت تھی۔

امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت منی میں نازل ہوئی تھی اور اس کے اکیاسی دن بعد آپ کا وصال ہوگیا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٧٠‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

اس آیت کے نزول کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدت حیات میں مختلف اقوال ہیں : نوراتیں ‘ سات دن ‘ تین گھنٹے اکیس دن اور اکیاسی دن۔

امام بخاری ‘ امام ابوعبید ‘ امام ابن جریر ‘ اور امام بیہقی نے شعبی (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو آخری آیت نازل ہوئی وہ آیت ربا ہے ‘ یہ اس آیت کے آخری آیت ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیوع سے متعلق آیات میں آخری آیت ‘ آیت ربا ہے ‘ یا مراد یہ ہے کہ آیت ربا آخر میں نازل ہوئی ہے ‘ اور تمام آیتوں کے لحاظ سے جو آخری آیت ہے وہ یہی آیت ہے۔ (روح المعانی ج ٣ ص ‘ ٥٥ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 281

وَاِنۡ كَانَ ذُوۡ عُسۡرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ‌ؕ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 280

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كَانَ ذُوۡ عُسۡرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيۡسَرَةٍ ‌ؕ وَاَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور اگر (مقروض) تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخی دستی تک مہلت دو اور (قرض کو معاف کرکے) تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے ‘ اگر تم جانتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر (مقروض) تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخی دستی تک مہلت دو ‘ اور (قرض کو معاف کرکے) تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔۔ (البقرہ : ٢٨٠)

مقروض کو مہلت دینے اور اس سے قرض وصول کرنے کا طریقہ :

جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ سود چھوڑ کر قرض خواہ کی اصل رقم واپس کردی جائے اور ثقیف نے اپنی اصل رقوم کا بنومغیرہ سے مطالبہ کیا تو بنو مغیرہ نے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور کہا : اس وقت ہمارے پاس مال نہیں ہے اور کہا : جس وقت ہمارے پھل اترے گے ہم اس وقت ادائیگی کردیں گے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی اور اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے اس کی فراخ دستی تک مہلت دو اور تمہارا صدقہ کرنا زیادہ بہتر ہے

جس شخص پر لوگوں کے بہت زیادہ قرض ہوں اور قرض خواہ مطالبہ کر رہے ہوں تو حاکم کے لیے یہ جائز ہے کہ مقروض کی ضروریات کے سوا باقی مال نیلام کے قرض خواہوں کے قرض ادا کردے ‘ اگر مقروض لوگوں کے واجبات ادا نہ کرے تو امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ اور دیگر فقہاء کے نزدیک اس کو قید کرنا جائز ہے الا یہ کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کے پاس واقعہ مال نہیں ہے۔ (تفسیر منیر ج ٣ ص ١٠١‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکفر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

مقروض کو ادائیگی کی مہلت دینا واجب ہے اور اس کا قرض معاف کردینا مستحب ہے اور اس معاملہ میں مستحب کا اجر واجب سے زیادہ ہے۔

مقروض کو مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے اجر وثواب کے متعلق احادیث :

مقروض کا قرض معاف کرنے کی فضیلت میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام احمد ‘ امام مسلم اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوالیسر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کو معاف کردیا اللہ اس کو اس دن اپنے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے سائے کے سوال اور کوئی سایا نہیں ہوگا۔

امام احمد ‘ امام بخاری ‘ اور امام مسلم نے حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل کے سامنے ایک شخص کو پیش کیا جائے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا : تم نے دنیا میں کیا کیا ؟ وہ شخص کہے گا : میں نے دنیا میں ایک ذرہ برابر بھی نیکی نہیں کی ‘ تین باریہی مکالمہ ہوگا ‘ تیسری بار وہ کہے گا : میں دنیا میں اپنا فاضل مال دے دیا کرتا تھا ‘ میں لوگوں کو چیزیں فروخت کرتا ‘ امیر آدمی پر آسانی کرتا اور غریب کو مہلت دیتا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہم تم سے زیادہ معاف کرنے کے حق دار ہیں ‘ میرے بندے سے درگزر کرو ‘ پھر اس کو بخش دیا جائے گا۔

امام احمد نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے فرمایا : جس شخص کا کسی آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ اس کو مؤخر کردے تو اس کو ہر روز صدقہ کا اجر ملے گا۔

امام احمد حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی مصیبت دور کی جائے وہ تنگ دست کے لیے کشادگی کرے۔

امام طبرانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے تنگ دست کو کشادگی تک مہلت دی اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے توبہ کرنے کی مہلت دے گا۔

امام احمد ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت بریدہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی اس کو ہر دن قرض کے برابر صدقہ کا اجر ملے گا ‘ پھر میں نے آپ سے سنا کہ جس نے تنگ کو مہلت دی اس کو ہر دن اس قرض کے دگنے صدقہ کا اجر ملے گا ‘ میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! پہلے تو آپ نے قرض کے برابر صدقہ کے اجر کا فرمایا تھا اور آب آپ نے دگنے صدقہ کے اجر کا فرمایا ہے ‘ آپ نے فرمایا : جب تک قرض کی میعاد پوری نہیں ہوگی اس کو ہر روز قرض کے برابر صدقہ کا اجر ملے گا اور جب میعاد پوری ہوجائے گی اور وہ اس کو مہلت دے گا تو پھر اس کو ہر روز اس کے دگنے صدقہ کا اجر ملتا رہے گا۔ ١ (اس حدیث میں قرض سے مراد دین ہے ‘ یعنی کاروباری قرض ‘ مدت معینہ کے ادھار پر کوئی چیز خریدنا ‘ کیونکہ نجی قرضوں میں مدت کا تعین قرض دینے والے کی طرف سے جائز نہیں ہے ورنہ وہ قرض سود ہوجائے گا مثلا سو روپے دے کر ایک ماہ کے تعین کے بعد دو روپے لینا ربا النسیئہ ہے اور اگر مدت کا تعین نہ ہو تو پھر جائز ہے ہاں اگر قرض لینے والا مدت کا تعین کرے پھر جائز ہے ‘ مثلا وہ کہے : میں ایک ماہ بعد ادا کروں گا۔ منہ) (مسند احمد ج ٥ ص ٣٦٠‘ سنن ابن ماجہ ص ١٧٤‘ شعب الایمان ج ٧ ص ٥٣٨)

امام احمد ‘ امام دارمی اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مقروض کو مہلت دی یا اس کو معاف کردیا وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا۔ ١ مسند احمد ج ٥ میں ٣٦٠ میں اسی طرح روایت ہے اور ” سنن ابن ماجہ “ ” شعب الایمان “ میں اسی طرح ہے کہ قرض کی میعاد پوری ہونے تک اس کو صدقہ کا اجر ملے گا اور مہلت دینے کے بعد اس قرض کی مثل صدقہ کا اجر ملے گا “ نیز مسند احمد ج ٥ ص ٣٥١ میں بھی اسی طرح ہے۔ منہ) (مسند احمد ج ٢ ص ٣٥٩‘ سنن درامی ج ٢ ص ١٧٩‘ شعب الایمان ج ٧ ص ٥٣٥)

امام احمد نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٦٩۔ ٣٦٨ ملتقطا مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 280

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 278

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوۡا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود کو چھوڑ دو اگر تم مؤمن ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود کو چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ پس اگر تم ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے اصل مال تمہارا حق ہیں ‘ نہ تم ظلم کرو نہ تم ظلم کیے جاؤ گے۔ (البقرہ : ٢٧٩۔ ٢٧٨)

سودی کاروبار ترک نہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! سود حرام قرار دیئے جانے کے بعد لوگوں کے اوپر جو تمہاری سودی رقوم ہیں ان کو چھوڑ دو ‘ اور ان سے صرف اپنی اصل رقم وصول کرو ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سدی بیان کرتے ہیں کہ یہ آیات حضرت عباس بن عبدالمطلب اور بنومغیرہ کے ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی ہیں ‘ وہ دونوں زمانہ جاہلیت میں شریک تھے ‘ جس وقت وہ مسلمان ہوئے تو لوگوں کے اوپر ان کے سود کی بڑھی بھاری رقمیں تھیں ‘ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ زمانہ جاہلیت میں جو سود تھا اس کو وصول مت کرو۔

ابن جریر نے بیان کیا ہے کہ ثقیف نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات پر صلح کرلی کہ ان کا جو سود لوگوں پر ہے اور لوگوں کا جو سود ان پر ہے وہ سب چھوڑ دیا جائے گا ‘ فتح مکہ کے بعد حضرت عتاب بن اسید مکہ مکرمہ کے عامل بنائے گئے اس وقت بنوعمرہ بن عمیر بن عوف ‘ بنو مغیرہ سے سود لیتے تھے اور بنو مغیرہ ان کو جاہلیت میں سود ادا کرتے تھے ‘ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان پر بہت زیادہ سود کی رقمیں واجب الاداتھیں ‘ بنو عمرو نے آکر ان سے اپنے سود کا مطالبہ کیا ‘ بنومغیرہ نے مسلمان ہونے کے بعد ان کو سود ادا کرنے سے انکار کردیا ‘ یہ مقدمہ حضرت عتاب بن اسید (رض) کے پاس پیش کیا گیا ‘ حضرت عتاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس معاملہ کا حکم معلوم کرنیکے لیے خط لکھا ‘ تو یہ آیت نازل ہوگئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عتاب اسید کو جواب لکھا کہ اگر بنو عمرو ‘ سود کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوں تو ان سے اعلان جنگ کردو۔ (جامع البیان ج ٣ ص ٧١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو ثقیف سود لینے سے باز آگئے اور کہا : ہم اللہ اور رسول سے جنگ کی طاقت نہیں رکھتے۔

علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ جو لوگ سود لینے کو ترک نہ کریں ان سے اسی طرح جنگ کی جائے گی جس طرح مرتدین اور باغیوں سے جنگ کی جاتی ہے۔ جمہور مفسرین کا یہی مختار ہے۔ (روح المعانی ج ٣ ص ‘ ٥٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

سود پر وعید کے متعلق احادیث :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام مسلم اور امام بیہقی حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سود کھانے والے ‘ سود کھلانے والے ‘ سود پر گواہی دینے والے اور سود کے لکھنے والے پر لعنت کی ہے اور فرمایا : یہ سب برابر ہیں۔

اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ بینک سے سود وصول کرکے غریبوں کو کھلانا جائز نہیں ہے ‘ اور نہ بینک کی ملازمت کرنا جائز ہے۔

امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ چار آدمیوں کو جنت میں داخل نہ کرے اور ان کو جنت کی نعمتیں نہ چکھائے ‘ عادی شرابی ‘ سود خور ‘ ناحق مال یتیم کھانے والا اور ماں باپ کا نافرمان۔

امام طبرانی نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان سود کا جو ایک درہم وصول کرتا ہے وہ اللہ کے نزدیک اسلام میں تینتیس بار زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔

امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سود کے بہتر درجے ہیں اور سب سے کم درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے۔

امام ابویعلی نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس قوم میں زنا اور سود کی کثرت ہوجاتی ہے ‘ اس قوم پر اللہ کا عذاب حلال ہوجاتا ہے۔

امام احمد نے حضرت عمرو بن العاص (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس قوم میں سود کی کثرت ہوتی ہے اس قوم پر قحط مسلط کردیا جاتا ہے ‘ اور جس قوم میں رشوت کی کثرت ہوتی ہے ‘ اس پر رعب طاری کردیا جاتا ہے۔

امام احمد نے حضرت عمرو بن العاص (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس قوم میں سود کی کثرت ہوتی ہے اس قوم پر قحط مسلط کردیا جاتا ہے ‘ اور جس قوم میں رشوت کی کثرت ہوتی ہے ‘ اس پر رعب طاری کردیا جاتا ہے۔

امام ابوداؤد ‘ امام ابن ماجہ اور امام بیہقی اپنی سنن میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کوئی شخص سود کھانے سے نہیں جو شخص سود نہیں کھائے گا اس جو کو سود کا غبار پہنچے گا (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٦٧‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس رات مجھے معراج کرائی گئی مجھے ایک ایسی قوم کے پاس سے گزارا گیا جس نے پیٹ کوٹھڑیوں کی طرح تھے ان کے پیٹوں میں باہر سے سانپ دکھائی دے رہے تھے میں نے پوچھا : اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ کہا : یہ لوگ سود کھانے والے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سود کے ستر گناہ ہیں اور ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٦٥۔ ١٦٤ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صبح کو اپنا خواب بیان فرمایا کہ مجھے جبرائیل اور میکائیل لے گئے میں نے دیکھا کہ خون کا ایک دریا ہے جس کے وسط میں ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور دریا کے کنارے ایک شخص ہاتھ میں پتھر لیے ہوئے کھڑا ہے، جب دریا میں کھڑا ہوا شخص کنارے کی طرف آنے کی کوشش کرتا ہے تو کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر مارتا ہے اور اس کو پھر دریا کے وسط میں دھکیل دیتا ہے اور وہ جب بھی دریا میں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اس کے ساتھ یہی ہوتا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا ‘ مجھے جبرائیل اور میکائیل نے بتایا کہ خون کے دریا میں ڈوبے ہوئے یہ لوگ سود خور تھے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٨٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث میں سود خوروں کے عذاب قبر کا بیان ہے اور چونکہ یہ لوگ دنیا میں غریبوں کی رگوں سے خون نچوڑتے تھے اس لیے ان کو خون کے دریا میں ڈبویا گیا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 278