بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏
بیشک لوگ کفر میں راسخ ہوچکے ہیں ‘ ان کے حق میں برابر ہے ‘ خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے
 
قرآن مجید میں پہلے مومنین اور متقین کی پانچ صفات بیان کیں ‘ اس کے بعد غیر مومنین کی صفات بیان کیں ‘ غیر مومنین میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے کفر کا علی الاعلان اظہار کیا ‘ مذکور الصدر دو آیتیں ان ہی کے متعلق ہیں ‘ اور بعض وہ ہیں جنہوں نے علی الاعلان کفر کے اظہار کی جرات نہیں کی ‘ انہوں نے بہ ظاہر مسلمانوں سے موافقت کی اور درپردہ کافر رہے ‘ ان کو قرآن کی اصطلاح میں منافق کہا گیا ہے ‘ اس کے بعد آنے والی تیرہ آیتوں میں منافقین کے احوال بیان کئے گئے ہیں اور ان کی مذمت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے بعد کفار کا بیان اس لیے شروع کیا ہے کہ شے اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے ‘ کیونکہ کفر ایمان کی ضد ہے ‘ کفار دائمی معذب ہیں اور مومن عذاب سے نجات پانے والے ہیں۔
کفر کا لغوی معنی :
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :
لغت میں کفر کا معنی ہے : کسی شے کو چھپانا ‘ رات کو کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو چھپا لیتی ہے ‘ کسان کا کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ بیچ کو زمین میں چھپا دیتا ہے ‘ جو شخص نعمت کو چھپائے اور اس کا شکر ادا نہ کرے اس کے فعل کو کفر اور کفران کہتے ہیں ‘ سب سے بڑا کفر وحدانیت یا شریعت یا نبوت کا انکار کرنا ہے ‘ قرآن مجید میں کفر کا لفظ کفران نعمت اور کفر باللہ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔
(آیت) ” لیبلونیء اشکر ام اکفر ومن شکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفر فان ربی غنی کریم (النمل : ٤٠)
تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ‘ اور جس نے شکر کیا تو وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے شکر کرتا ہے ‘ اور جس نے ناشکری کی تو بیشک میرا رب بےپرواہ ‘ بزرگی والا ہے
اس آیت میں کفر کا لفظ کفران نعمت اور ناشکری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
(آیت) ” ولا تکونوا اول کافربہ “۔ (البقرہ : ٤١)
ترجمہ : اور تم سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو۔
اس آیت میں کفر ‘ کفر بالقرآن کے معنی میں ہے ‘ جب کافر کا لفظ مطلقا بولا جائے تو اس سے متعارف وہ شخص ہے ‘ جو وحدانیت یا شریعت یا نبوت یا ان تینوں کا انکار کرے۔ (المفردات ص ٤٣٤۔ ٤٣٣‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
دیگر مفردات کے لغوی معانی :
” انذار “ کا معنی ہے : کسی خطرہ سے خبردار کرنا ” ختم “ کا معنی ہے : کسی چیز کو اس طرح چھپا دینا اور ڈھانپ دینا کہ اس میں دوسری چیز کسی طرف سے داخل نہ ہوسکے ‘ قلوب سے مراد عقول ہیں یعنی ان کی عقول کو اس طرح ڈھانپ دیا ہے کہ ان میں ایمان اور نور داخل نہیں ہوسکتا ‘ اس میں استعارہ تصریحیہ ہے ‘ ان کے قلوب (عقول) کو اس ظرف کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس پر مہر لگا دی گئی ہو “ ” سمع “ سے مراد کان ہیں اور ” ابصار “ کا معنی آنکھیں ہیں جن سے رنگ ‘ شکل اور دیگر مبصرات کا ادراک کیا جاتا ہے ” غشاوۃ “ کا معنی ہے : پردہ ‘ مقصود یہ ہے کہ یہ کفار اللہ کی آیات کو دیکھنے سے از خود اور دانستہ اندھے بن گئے ہیں ‘ عذاب کے معنی ہیں : عبرتناک سزا ‘ عذاب زائل کرنے کو بھی کہتے ہیں اور سزا آرام اور لذت کو زائل کرتی ہے اس لیے اس کو عذاب کہتے ہیں۔
شان نزول :
امام ابن جریر طبری (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) کی رائے یہ ہے کہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مدینہ میں ایک محلہ بنالیا تھا ‘ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور کفر پر مرگئے۔ ان کی مذمت میں یہ آیات نازل ہوئیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر حریص تھے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ‘ اور ہدایت میں آپ کی اتباع کریں ‘ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر دی کہ وہی لوگ ایمان لائیں گے جن کے لیے ازل میں ایمان لانا مقدر ہوچکا ہے اور وہی لوگ گمراہ رہیں گے جن کے لیے ازل میں شقاوت لکھی جاچکی ہے اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے ‘ اس سے وہ کفار مراد ہیں جو بدر میں قتل کئے گئے (جامع البیان ج ١ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں :
اس آیت سے معین کافر مراد ہیں مثلا ابولہب ‘ ابوجہل ‘ ولید بن مغیرہ اور علماء یہود۔
(انوار التنزیل ص ٢٣ (درسی) مطبوعہ مطبع سعیدی ‘ کراچی)
اللہ تعالیٰ کے کلام کے قدیم ہونے پر معتزلہ کا اعتراض اور اس کا جواب :
معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے ابولہب وغیرہ نے کفر کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ انہوں نے کفر کیا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کا یہ کلام ان کے کفر کے بعد حادث ہوا ‘ لہذا قرآن حادث ہے ‘ اہل سنت اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ کا علم بھی حادث ہونا چاہیے کیونکہ جب انہوں نے کفر کیا ‘ تب ہی اللہ کو ان کے کفر کرنے کا علم ہوا اور اگر ان کے کفر کرنے سے پہلے یہ علم ہو کہ انہوں نے کفر کرلیا ہے تو یہ واقع کے خلاف ہے اور اگر پہلے یہ علم تھا کہ وہ کفر کریں گے اور پھر یہ علم ہوا کہ انہوں نے کفر لیا ہے تو اس کے علم میں تغیر آگیا اور ہر متغیر حادث ہوتا ہے تو اس طرح اللہ کا علم بھی حادث ہوجائے گا حالانکہ معتزلہ کے نزدیک بھی اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ازل میں ” لابشرط شئی “ کے مرتبہ میں ہے اور اس میں ماضی ‘ حال اور استقبال کی اضافات نہیں ہیں اور ان اضافات کے تغیر سے اصل صفت علم میں تغیر پیدا نہیں ہوتا ‘ مثلا ازل میں اللہ تعالیٰ کو ابولہب کے کفر کا علم ہے ‘ پھر جب اس کا ماضی سے تعلق ہوگا تو اس کی اور تعبیر ہوگی ‘ حال سے تعلق ہوگا تو اور تعبیر ہوگی اور مستقبل سے تعلق ہوگا تو اور تعبیر ہوگی یعنی ابولہب کفر کرے گا ‘ وہ کفر کر رہا ہے ‘ وہ کفر کرچکا ہے ‘ یہ تغیرمتعلق میں سے اصل صفت میں تغیر نہیں ہے ‘ اس کی مثال یہ ہے کہ مثلا ایک شخص ایک ستون کے گرد گھوم رہا ہے تو کبھی وہ ستون اس کے سامنے ہوگا کبھی پیچھے ‘ کبھی دائیں ‘ کبھی بائیں لیکن یہ ان اوضاع اور نسبتوں میں تغیر ہے اس شخص کی ذات میں تغیر نہیں ہے ‘ اسی طرح اللہ کے علم کا تعلق جب مختلف زمانوں میں ہوگا تو ان تعلقات میں تغیر ہوگا ‘ نفس علم میں تغیر نہیں ہوگا ‘ اسی طرح اللہ کا کلام نفسی بھی ازل میں ” لا بشرط شئی “ کے مرتبہ میں ہے اور اس کا تعلقات میں تغیر ہوگا ‘ نفس علم میں تغیر نہیں ہوگا۔ اسی طرح اللہ کا کلام نفسی بھی ازل میں ” لا بشرط شئی “ کے مرتبہ میں ہے اور اس کا تعلق جب زمانہ کے ساتھ ہوتا ہے تو اس تعلق میں اختلاف ہوتا ہے مثلا ابولہب کفر کرے گا ‘ ابولہب نے کفر کرلیا ‘ وغیرہ اور اس کی صفت کلام جو کلام نفسی ہے اس میں کوئی تغیر اور اختلاف نہیں ہوتا ‘ قرآن مجید میں جہاں بھی ماضی کے صیغے واقع ہوئے ہیں معتزلہ ان میں سے اسی طرح استدلال کرتے ہیں اور ان کا یہی جواب ہے ‘ یہ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفت کلام ہے وہ کلام نفسی ہے اور جن الفاظ کو ہم پڑھتے ہیں وہ کلام لفظی ہیں اور قدیم کلام نفسی ہے ‘ انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت اور اس پر بحث اپنے مقام پر آئے گی۔
اللہ تعالیٰ نے جس ممکن کے عدم وقوع کی خبر دی ہے اس کے ساتھ مکلف کرنے کی تحقیق :
اللہ تعالیٰ نے ابولہب اور دیگر جن کفار کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے ان کا ایمان لانا ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے ‘ ان کا ایمان لانا ممکن بالذات اس لیے ہے کہ وہ ایمان لانے کے مکلف ہیں اور ممتنع لذاتہ کے ساتھ مکلف کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ انسان کی وسعت میں نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا، (البقرہ : ٢٨٦)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔
اور ممتنع بالغیر اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے ‘ اب اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ کی خبر کاذب ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ کی خبر کا کاذب ہونا محال بالذات ہے ‘ لہذا ابولہب وغیرہ کا ایمان لانا محال بالذات کو مستلزم ہے اور جو ممکن محال بالذات کو مستلزم ہو ‘ وہ ممکن بالذات ممتنع بالغیر ہوتا ہے ‘ اس لیے ابو لہب وغیرہ کا ایمان لانا ممکن بالذات ممتنع بالغیر ہے۔
محال بالذات کے ساتھ مکلف کرنے پر علامہ بیضاوی کی دلیل اور اس کا جواب :
علامہ بیضاوی (رح) نے یہ کہا ہے کہ تکلیف بالمحال عقلا جائز ہے لیکن تتبع اور استقراء (جستجو اور تفتیش) سے یہ ثابت ہے کہ تکلیف بالمحال واقع نہیں ہے ‘ جواز عقلی پر انھوں نے یہ دلیل دی ہے کہ اگر ابولہب مثلا ایمان لانے کا مکلف ہو تو وہ پورے قرآن پر ایمان لانے کا مکلف ہوگا اور پورے قرآن میں (آیت) ” لا یؤمنون “ بھی ہے یعنی وہ ایمان نہیں لائے گا اور اس کی تصدیق تب ہوگی جب وہ ایمان نہ لائے تو وہ ایمان لانے اور ایمان نہ لانے کا مکلف ہوا ‘ اور یہ اجتماع نقیضین ہے جو محال بالذات ہے ‘ لہذا ثابت ہوا کہ ابولہب محال بالذات کا مکلف ہے ‘ لیکن علامہ بیضاوی کی اس تقریر کا تقاضا یہ ہے کہ محال بالذات کے ساتھ مکلف کرنا صرف عقلا جائز ہی نہیں بلکہ واقع بھی ہے اور یہ خود ان کی تصریح کے خلاف ہے۔
اس تقریر کا جواب یہ ہے کہ ابولہب مثلا ایمان لانے ککا فی نفسہ مکلف ہے اس سے قطع نظر کرکے اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق (آیت) ” لا یؤمنون “ فرمایا ہے اور اس آیت سے صرف نظر کرکے فی نفسہ اس کا ایمان لانا ممکن بالذات ہے اور وہ اسی اعتبار سے ایمان لانے کا مکلف ہے اور کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کی خبر دینے سے وہ چیز نفس امکان سے خارج نہیں ہوتی مثلا فرض کیجئے اللہ تعالیٰ کو زید کے متعلق علم ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا ‘ اب زید کا نماز پڑھنا محال ہوگا ‘ کیونکہ اگر وہ نماز پڑھ لے گا تو اللہ تعالیٰ کا علم جہل سے بدل جائے گا اور اللہ تعالیٰ کا جہل محال بالذات ہے ‘ تو اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ زید کو نماز پڑھنے کا مکلف کرنا محال کا مکلف کرنا ہے کیونکہ اس کے نماز پڑھنے کا محال ہونا اللہ تعالیٰ کے علم کے اعتبار سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم سے قطع نظر فی نفسہ اس کا نماز پڑھنا ممکن ہے اور وہ اسی اعتبار سے نماز پڑھنے کا مکلف ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے عدم وقوع کی خبر دی یا اس کو جس چیز کے عدم وقوع کا علم ہے اس کے وقوع کا مکلف کرنا ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے اور اس کے ساتھ مکلف کرنا جائز ہے اور اس چیز کا واقع ہونا محال بالغیر ہے کیونکہ وہ اللہ کے کذب یا اس کے جہل کو مستلزم ہے اور یہ دونوں محال بالذات ہیں، یہ واضح رہے کہ اشاعرہ کے نزدیک محال بالذات کا مکلف کرنا صحیح ہے اور ماتریدیہ کے نزدیک محال بالذات کا مکلف کرنا صحیح نہیں ہے اور اکثر شوافع اشاعرہ ہیں اور اکثر احناف ماتریدیہ ہیں۔
جن کا ایمان نہ لانا مقدر ہوچکا ہے ان کو تبلیغ کرنے کی وجہ :
اگر یہ سوال ہو کہ جب یہ کفار تبلیغ کے باوجود اسلام قبول نہیں کریں گے تو پھر ان کو تبلیغ کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ان کو تبلیغ نہ کی جائے تو ممکن ہے وہ قیامت کے دن یہ عذر پیش کریں کہ ہم کو تبلیغ ہی نہیں کی گئی ہم اسلام کیسے لاتے ؟ لہذا ان پر حجت تمام کرنے کے لیے ان کو تبلیغ کی گئی، دوسرا جواب یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں ان کو تبلیغ کرنے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہرحال ثواب حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” سواء علیہم “ ان کے لیے برابر ہے “ یہ نہیں فرمایا :” سواء علیک “ آپ کے حق میں برابر ہے “ جیسا کہ بت پرستوں کے متعلق فرمایا :
(آیت) ” وان تدعوھم الی الھدی لایتبعوکم سوآء علیکم ادعوتموھم ام انتم صامتون “۔ (الاعراف : ١٩٣)
ترجمہ : اور (اے مشرکو ! ) اگر تم اپنے بتوں کو اپنی ہدایت کے لیے پکارو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آسکیں گے ‘(لہذا) تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو پکارو یا چپ رہو
اگر اس آیت سے معین کفار مراد ہوں جیسا کہ حضرت انس (رض) کی روایت ہے یا جس طرح علامہ بیضاوی (رح) نے نقل کیا ہے۔ ١ (امام ابونعیم نے دلائل النبوۃ میں اسی طرح روایت کیا ہے۔ منہ) کہ اس سے ابولہب ‘ ابوجہل ‘ وغیرہ مراد ہیں تو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ ہے کہ جن کے ایمان نہ لانے کی آپ نے پہلے خبر دے دی ہے وہ بہرحال ایمان نہ لاسکے اور کفر پر ہی مرے۔
جب کفار کے دلوں پر مہر لگا دی گئی تو پھر ان سے مواخذہ کیوں ؟
اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی اور ان کے آنکھوں پر پردے ڈال دیئے تو ان کے لیے اسلام کے دلائل پر غورو فکر کرنا اور اس کو سننا اور دیکھنا ممکن نہ رہا تو اس صورت میں اگر وہ ایمان نہ لائین تو اس میں ان کا کیا قصور ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب کفار اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید میں راسخ ہوگئے ‘ کفر اور معصیت سے والہانہ محبت کرنے لگے اور ایمان اور عبادت الہی کو بہت برا جاننے لگے اور اسلام کے دلائل میں غور وفکر کرنے سے اعراض اور امتناع پر ڈٹے رہے اور اپنی بےجا ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سرکشی اور ہٹ دھرمی کی سزا میں ان کے دلوں اور دماغوں کو ایسا بنادیا کہ وہ قبول حق کے قابل نہ رہے اور کان حق کی سماعت سے عاری ہوگئے اس کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگانے کے ساتھ تعبیر فرمایا ‘ اور انسان کی آنکھ خارج میں اور اپنے نفس میں جس صلاحیت سے دلائل توحید دیکھتی ہے انکی آنکھوں سے وہ صلاحیت سلب کرلی اور اس کو ان کی آنکھوں پر پردہ کے ساتھ تعبیر فرمایا ورنہ حسی طور پر ان کے دلوں اور کانوں پر کوئی مہر تھی اور نہ ان کی آنکھوں پر کوئی پردہ تھا۔
اللہ تعالیٰ نے کفار کی مسلسل ہٹ دھرمی اور عناد کی سزا میں ان سے قبول حق کی استعداد سلب کرلی ‘ اس کو اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل آیتوں میں طبع ‘ اغفال اور اقساء سے تعبیر فرمایا ہے :
(آیت) ” اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم وسمعھم وابصارھم “۔ (النحل : ١٠٨)
ترجمہ : یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔
(آیت) ”۔ ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا “۔ (الکہف : ٢٨)
ترجمہ : اور آپ اس کی اطاعت نہ کریں جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا۔
(آیت) ”۔ فبما نقضھم میثاقھم لعنھم وجعلنا قلوبھم قسیۃ “ (المائدہ : ١٣)
ترجمہ : تو ان کی (اتنی بڑی) عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔
ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی سرکشی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بہ طور سزا ان کے دلوں اور کانوں کو قبول حق کے قابل نہ رہنے دیا ‘ اس کی دلیل حسب ذلیل آیات ہیں :
(آیت) ”۔ فبما نقضھم میثاقھم وکفرھم بایت اللہ وقتلہم الانبیآء بغیر حق و قلولہم قلوبنا غلف بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یؤمنون الا قلیلا وبکفرھم و قولہم علی مریم بھتانا عظیما “۔ (النساء : ١٥٦۔ ١٥٥)
ترجمہ : پھر ان کے عہد توڑنے ‘ اللہ کی آیات کا انکار کرنے انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرنے اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں ‘ (یہ غلاف نہیں) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی تو ان میں سے ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑے اور ان کے کفر اور مریم (علیہ السلام) پر بہت بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے بھی
(آیت) ”۔ ولو علم اللہ فیھم خیرا الاسمعھم “۔ (الانفال : ٢٣)
ترجمہ : اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو ان کو ضرور سنا دیتا۔
(آیت) ”۔ کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون “۔ (المطففین : ١٤)
ترجمہ : ہرگز نہیں ! بلکہ ان کے کرتوتوں نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا
امام ابن ماجہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نشان ہوجاتا ہے ‘ پس اگر وہ توبہ کرے ‘ اس گناہ سے باز آئے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ زیادہ گناہ کرے تو وہ سیاہ نشان زیادہ ہوجاتے ہیں اور یہی وہ زنگ ہے جس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے :
(آیت) ”۔ کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون “۔ (المطففین : ١٤)
(سنن ابن ماجہ ص ٣١٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ‘ ٤٩٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
حافظ سیوطی (رح) نے اس حدیث کو امام احمد (رح) ‘ امام عبد بن حمید (رح) امام حاکم ‘ امام ترمذی (رح) (موخر الذکر اماموں نے اس حدیث کو صحیح سند سے روایت کیا ہے) امام نسائی (رح) ‘ امام ابن ماجہ (رح) ، امام ابن جریر (رح) امام ابن حبان (رح) امام ابن المنذر (رح) ، امام ابن مردویہ (رح) اور امام بیہقی (رح) کی ” شعب الایمان “ کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ٦ ص ٣٢٥‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
ہر چند کہ اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ معصیت سے مومن کے دل پر زنگ چڑھ جاتا ہے اور اگر معصیت سے توبہ نہ کی جائے تو وہ زنگ اور زیادہ ہوجاتا ہے تاہم اس حدیث سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جب معصیت سے دل پر زنگ چڑھ جاتا ہے اور معصیت پر اصرار سے وہ زنگ زیادہ ہوجاتا ہے تو کفر اور اس پر اصرار اور ہٹ دھرمی سے تو دل بہ طریق اولی مکمل طور پر سیاہ اور تاریک ہوجاتا ہے اور دل کی یہ سیاہی اور تاریکی کفار کی اپنی شامت اعمال کی وجہ سے ہے، اللہ کا ان پر کوئی ظلم اور جور نہیں ہے۔
قلب کی تعریف :
قلب گوشت کا ایک صنوبری عضو ہے ‘ جس کا کام خون کو تمام جسم میں پہنچانا ہے ‘ دل کے پھیلنے اور سکڑنے سے پورے جسم میں خون گردش کرتا ہے اور جب طب اور میڈیکل سائنس کی زبان میں دل کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس سے یہی معنی مراد ہوتا ہے اور ادب اور روز مرہ گفتگو میں دل کے لفظ سے عقل کا ارادہ کیا جاتا ہے کیونکہ سوچ وبچار غور وفکر اور علم اور ادراک کا محل عقل ہے اور قرآن طب اور میڈیکل سائنس کی کتاب نہیں ہے بلکہ رشد و ہدایت کی کتاب ہے اور اس میں عرب کے عام رواج اور اسلوب کلام کے مطابق خطاب کیا گیا ہے ‘ اس لیے قرآن کی زبان میں قلب سے عقل ہی مراد ہوتی ہے اس پر مزید تفصیل کے لیے ” شرح صحیح مسلم “ جلد رابع کا مطالعہ فرمائیں ” (آیت) ” فتکون لھم قلوب یعقلون بھا “۔ (الحج : ٤٦) کی تفسیر میں ہم اس پر انشاء اللہ سیر حاصل بحث کریں گے۔
علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں :
اور قلب سے مراد علم کا محل ہے اور کبھی قلب کا اطلاق کیا جاتا ہے اور اس سے عقل اور معرفت مراد ہوتی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ”۔ ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب “ (ق : ٣٧)
ترجمہ : بیشک اس قرآن میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس عقل اور معرفت ہو۔ (انوار التنزیل ص ٢٥ (دری) مطبوعہ مطبع سعیدی ‘ کراچی)