بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ وَادۡعُوۡا شُهَدَآءَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏
اور اگر تم کو اس کتاب (کے کلام الہی ہونے) میں شک ہے ‘ جس کو ہم نے اپنے (محبوب) بندے پر نازل کیا ہے تو اس کی مانند کوئی اور سورت (بنا کر) لے آؤ ‘ اور اللہ کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو ‘ اگر تم سچے ہو
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو مخاطب فرما کر اپنے خالق ‘ رب اور وحدہ لاشریک ہونے پر دلیل قائم کی تھی اور اب اس پر دلیل قائم کی ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کلام کو اس نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا اور اس میں آپ کی رسالت پر دلیل ہے ‘ کیونکہ عرب اپنی فصاحت و بلاغت پر بہت فخر کرتے تھے اور اپنے مقابلہ میں باقی دنیا کو عجم کہتے تھے ‘ اس کے باوجود وہ قرآن مجید کی کسی چھوٹی سورت کی مثال لانے سے بھی عاجز رہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی سورت لانے کے بجائے جنگ وجدال کے درپے ہوئے اور اس سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس دعوی کا سچا ہونا ظاہر ہوگیا کہ ان پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے ‘ اور جس طرح پہلی آیتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ آسمان سے پانی نازل کرنا اور اس سے زرعی اجناس کو اگانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور کوئی یہ کام نہیں کرسکتا ‘ اور یہ اس کے خالق ہونے کی دلیل ہے ‘ اسی طرح ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ ایسا فصیح وبلیغ کلام اور جو کلام غیب کی خبروں اور علوم و معارف پر بھی مشتمل ہو وہ صرف قرآن کریم ہے اور کوئی شخص اس کلام کی نظیر نہیں لاسکتا اور یہ آیتیں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر دلیل ہیں۔
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مکی سورتوں میں قرآن مجید کی نظیر لانے کا چیلنج کیا تھا ‘ ارشاد فرمایا :
(آیت) ” قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القران لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضہم لبعض ظھیرا (بنی اسرائیل : ٨٨)
ترجمہ : فرمائیے اگر تمام انسان اور جن اس قرآن کی مثل لانے پر جمع ہوجائیں تو وہ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے خواہ وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں
اور جب وہ اس پورے قرآن کی مثل لانے سے عاجز رہے تو اللہ تعالیٰ نے چیلنج میں تخفیف کرکے فرمایا :
(آیت) ” فاتو بعشر سور مثلہ، (ھود : ١٣)
ترجمہ : سو تم اس کی مثل دس سورتیں لے آؤ۔
اور جب وہ اس کی مثل دس سورتیں بھی نہ لاسکے تو اور تخفیف کرکے فرمایا :
(آیت) ” فاتوا بسورۃ مثلہ، (یونس : ٣٨)
ترجمہ : آپ کہیے : تم اس کی مثل کوئی ایک سورت لے آؤ۔
اور جب وہ کوئی ایک سورت بھی نہ لاسکے تو فرمایا :
یہ تمام مکی سورتوں کی آیتیں ہیں جن میں قرآن مجید کی مثل لانے کا چیلنج کیا گیا ہے اور اب اس مدنی سورت میں اس چیلنج کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے تاکہ باقی کفار اور مشرکین کے سامنے بھی قرآن مجید کا معجز اور حجت ہونا ظاہر ہوجائے۔
سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل :
ان آیتوں میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر کئی وجوہ سے دلیل ہے :
مشرکین عرب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سخت مخالف اور معاند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو قرآن مجید کی سورتوں جیسی ایک سورت لانے کا چیلنج دیا اور اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی بھی کردی کہ وہ اس کی مثل نہیں لاسکتے ‘ یہ قرآن ان کی لغت میں نازل ہوا تھا اگر اس کی مثل لانا ان کے لیے ممکن ہوتا تو وہ اس کی مثل ضرور لے آتے کیونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی نبوت کو باطل کرنا اور آپ کے اصحاب کو آپ سے متنفر کرنا ان کا انتہائی مقصود تھا ‘ اور جب وہ اس کی مثل لانے سے عاجز رہے تو ظاہر ہوگیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس سے معارضہ کرنا مخلوق کی قدرت میں نہیں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ معجزہ قیامت تک باقی رہے گا۔ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو اپنے اپنے زمانے میں معجزات دیئے گئے مثلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یدبیضاء دیا گیا اور ان کو عصا دیا گیا جو ان کے ہاتھ میں اژدھا بن جاتا تھا ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مادر زاد اندھوں کو بینائی عطا کرتے اور برص کے مریضوں کو شفاء دیتے اور مردوں کو زندہ کرتے مگر ان کے یہ معجزات صرف ان کی حیات اور ان کے زمانہ میں قائم اور حجت تھے اور جب یہ انبیاء (علیہم السلام) ظاہری نگاہوں سے رخصت ہوئے تو یہ معجزات بھی ان کے ساتھ رخصت ہوگئے ‘ اسکے برخلاف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد بھی قرآن مجید اسی طرح معجزہ ہے ‘ اب سے چودہ سو سال پہلے بھی قرآن مجید کی نظیر کوئی نہیں لاسکا تھا اور نہ اب تک لاسکا ہے ‘ حالانکہ قرآن مجید کے مخالفین کی تعداد دن بہ دن زیادہ ہورہی ہے اور علوم وفنون بھی روز افزوں ترقی پر ہیں تو اگر کسی شخص کے لیے قرآن مجید کی نظیر لانا ممکن ہوتا تو وہ اب تک لا چکا ہوتا۔ اگر کسی یہودی یا عیسائی کو اپنے دین کے متعلق مطمئن کرسکے ‘ اس کے برخلاف اگر کسی مسلمان کو اپنے دین کے متعلق بالفرض تردد ہو تو اس کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے متعلق یقین اور اطمینان پہنچانے کے لیے قرآن مجید کی ایک سو چودہ سورتیں موجود ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ موافقین اور مخالفین سب کا اس پر اتفاق ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر میں بہت دور رس تھی ‘ آپ بہت معاملہ فہم اور اتنہائی دانش مند تھے آپ کی رائے بہت صائب اور فکر بہت صحیح تھی پھر یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ آپ نبوت کا دعوی کرتے اور اپنی نبوت کی دلیل ایسے کلام کو قرار دیتے جس کی مثل پیش کرنے پر ہر عرب قادر ہوتا اور اس سے آپ کے دعوی کا کذب اور بطلان ظاہر ہوتا (العیاذ باللہ) ظاہر ہے کہ آپ ایسا غیر معمولی ذہین شخص اس قسم کا کمزور چیلنج نہیں کرسکتا تھا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ جس کلام کی نظیر لانے کا آپ نے چیلنج کیا تھا وہ اللہ کا کلام ہے اور اس کلام کی نظیر لانا کسی انسان کی قدرت میں نہیں ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ولن تفعلوا “ تم اس کلام کی مثل ہرگز نہ لا سکو گے “ یہ اللہ تعالیٰ کی پیش گوئی ہے اور اس آیت میں غیب کی خبر ہے اور بعد کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ پیش گوئی درست تھی اور غیب کی یہ خبر صادق تھی اور اب تو چودہ صدیاں گزر چکی ہیں ‘ اسلام کے مخالفین بہ کثرت ہیں لیکن آج تک کوئی شخص قرآن مجید کی کسی آیت کی نظیر نہیں پیش کرسکا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کے سوا اپنے شہداء (مددگاروں) کو بھی لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ (البقرہ : ٢٣)
شہید کا معنی :
شہداء شہید کی جمع ہے ‘ اس کا معنی ہے : حاضر ‘ گواہی دینے والا ‘ مددگار ‘ اور امام ‘ اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے والے کو بھی شہید کہتے ہیں ‘ کیونکہ اس کے قتل ہوتے ہی اس کے سامنے اس کا اجر اور سعادت حاضر ہوجاتی ہے یا اس کے سامنے حوریں حاضر ہوجاتی ہیں ‘ یا اس کی عزت افزائی اور اس کو بشارت دینے کے لیے فرشتے حاضر ہوجاتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” تتنزل علیہم المآئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون (حم السجدۃ : ٣٠)
ترجمہ : ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ خوف کرو نہ غم کرو ‘ اور اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا گا تھا
اور اس شہید سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کفار سے لڑتا ہوا شہید ہوا ‘ یہ دنیا اور آخرت کے حق میں شہید ہے ‘ اور جو شخص دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہوا قتل نہیں ہوا بلکہ اپنی جان ‘ مال یا عزت کی حفاظت کرتا ہو قتل ہوگیا یا ظلما قتل کیا گیا وہ دنیا کے اعتبار سے شہید ہے ‘ اور جو شخص غرق ہوا یا پیٹ کی بیماری میں فوت ہوا اور وہ آخرت کے اعتبار سے شہید ہے۔ اول الذکر دونوں قسم کے شہیدوں کو غسل دیا جائے گا نہ کفن پہنایا جائے گا ان کو بغیر غسل کے انہی کپڑوں میں دفن کیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ قرآن کی سورت کی مثل لانے کے لیے تم انسانوں ‘ جنوں اور خود ساختہ معبودوں کو بلاؤ اور ان سے مدد حاصل کرلو ‘ اللہ کے سوا اس کلام کی مثل اور کوئی نہیں لاسکتا یا اللہ کے سوا اور گواہوں کو بلاؤ جو یہ گواہی دیں کہ تمہارا بنایا ہوا کلام اللہ کے کلام کی مثل ہے ‘ یا شہداء سے مراد وہ غیر اللہ ہیں جن کو تم نے اپنا کارساز بنا کر رکھا ہے یا شہداء سے مراد وہ خود ساختہ معبود ہیں جن کے متعلق تمہارا عقیدہ ہے کہ وہ قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دیں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اگر تم نہ کرسکے اور تم ہرگز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ (البقرہ : ٢٤)
دوزخ میں جلنے والے پتھروں کا بیان :
ان پتھروں سے مراد وہ بت ہیں جن کو بنا کر انہوں نے ان کی پرستش کی ‘ قرآن مجید میں ہے۔
(آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم ”(الانبیاء : ٩٨)
بتوں کو اس لیے آگ میں ڈالا جائے گا تاکہ مشرکین کی زیادہ ذلت اور رسوائی ہو اور یہ واضح ہو کہ جن بتوں کو وہ اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے وہ خود اپنے آپ کو عذاب سے نہیں بچا سکتے ‘ یا اس لیے کہ ان کے جرم اور شرک کا منشاء یہ بت تھے ‘ اس لیے ان بتوں کو عذاب دیا جائے گا جس طرح جو شخص سونے چاندی کی محبت کی وجہ سے ان کی زکوۃ نہ نکالے سونا چاندی تپا کر ان سے اس کی پیشانی ‘ پہلوؤں اور پیٹھوں کو دغا جائے گا ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” یوم یحمی علیھا فی نار جھنم فتکوی بھا جباھہم وجنوبھم وظھورھم ‘(التوبہ : ٣٥)
جس دن وہ (سونا چاندی) جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا ‘ پھر اس سے ان کی پیشانیوں ‘ ان کے پہلوؤں اور ان کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔
[Tibyan-ul-Quran 2:23]