بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسۡتَحۡـىٖۤ اَنۡ يَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا ‌بَعُوۡضَةً فَمَا فَوۡقَهَا ‌ؕ فَاَمَّا ‌الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَيَعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ ڪَفَرُوۡا فَيَقُوۡلُوۡنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهٖ ڪَثِيۡرًا وَّيَهۡدِىۡ بِهٖ كَثِيۡرًا ‌ؕ وَمَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الۡفٰسِقِيۡنَۙ

بیشک اللہ (ہدایت کے سلسلہ میں) کسی بھی مثال کے بیان کو ترک نہیں کرتا خواہ مچھر کی مثال ہو یا اس سے بھی زیادہ حقیر چیز کی ‘ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ مثال ان کے رب کی طرف سے سچی ہے ‘ اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (حقیر) مثال سے اللہ تعالیٰ نے کیا ارادہ کیا ہے ؟ وہ اس (مثال کے بیان) سے بہت لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہت لوگوں کو اس سے ہدایت دیتا ہے ‘ اور وہ صرف فاسقوں کو ہی اس سے گمراہی میں مبتلا کرتا ہے

امام ابن جریر طبری (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) ‘ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کی دو مثالیں بیان کیں (آگ جلانے والے کی ‘ اور بارش میں گھرے ہوئے شخص کی) تو منافقین نے کہا : اللہ کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ وہ مثالیں بیان کرے ‘ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں ‘ سیاق وسباق کے یہی شان نزول مناسب ہے۔ نیز امام ابن جریر طبری (رح) نے قتادہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکھی اور مکڑی کی جو مثالیں دی تھیں ان پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ وہ مکھی اور مکڑی کی مثالیں بیان کرے۔ (جامع البیان ج ١ ص ١٣٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بتوں کی حقارت بیان کرنے کے لیے ان کو مکھی اور مکڑی سے تشبیہ دی ہے۔
(آیت) ” مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیآء کمثل العنکبوت ‘ اتخذت بیتا ‘ وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت “۔ (العنکبوت : ٤١)
ترجمہ : جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے مددگار بنالیے ان کی مثال مکڑی کی مثال ہے جس نے (جالے کا) گھربنایا ‘ اور بیشک سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے۔
(آیت) ” وان یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب والمطلوب “۔ (الحج : ٧٣)
ترجمہ : اور اگر مکھی ان بتوں سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس کو اس سے چھڑا نہیں سکتے ‘ طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں
پہلی مثال میں بتوں کی عبادت کا کمزور ہونا بتایا ہے کہ وہ مکڑی کے جالے کی مثل ہے ‘ اور دوسری مثال میں بتوں کی خست اور حقارت بتائی ہے کہ اگر بتوں سے مکھی کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس کو چھڑا نہیں سکتے۔
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں : ان مثالوں پر منافقوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ کیا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کو حیا نہیں آتی کہ وہ مکھی اور مکڑی ایسی چھوٹی اور حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کرتا ہے تب ان کے رد میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ (عمدۃ القاری ج ١ ص ١٧٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)
مثال بیان کرنے کا قاعدہ :
مثال دینے کا قاعدہ یہ ہے کہ جس کی وجہ سے مثال دی گئی ہے اس وجہ سے وہ مثال ممثل لہ کے موافق ہو اگر کسی چیز کو بیان کرنا مقصود ہو تو عظیم چیز سے مثال دی جائے گی اور اگر کسی چیز کی خست بیان کرنا مقصود ہو تو حقیر چیز سے مثال دی جائے گی ‘ کیونکہ مثال کے، ذریعہ ممثل لہ (مقصود) کے معنی کو منکشف کیا جاتا ہے اور امر معقول کو محسوس اور مشاہد کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ مسئلہ سمجھ آجائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ (ہدایت کے سلسلہ میں) کسی بھی مثال کے بیان کو ترک نہیں کرتا۔ (البقرہ : ٢٦)
حیاکا معنی اور قرآن اور حدیث میں اللہ کی طرف حیا کی نسبت کا محمل :
برا کام کرتے وقت لوگوں کی ملامت اور مذمت کے خوف سے انسان کا منقبض ہونا (سمٹنا ‘ سکڑنا) اس کو حیا کہتے ہیں ‘ یہ بےباکی اور بزدلی کی ایک درمیانی کیفیت ہے ‘ بےباک شخص دلیری کے ساتھ برے کام کرتا ہے اور بزدل شخص مطلقا کوئی کام نہیں کرسکتا ‘ برا ہو یا اچھا ‘ حیا کا یہ معنی اللہ کے حق میں محال ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کی ملامت سے متاثر ہو، اس لیے یہاں حیا کا لازمی معنی مراد ہے ‘ حیا کی وجہ سے انسان کسی کو دیکھ کر برا کام ترک کردیتا ہے ‘ اس لیے حیا کو ترک کرنا لازم ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے جب حیا کا لفظ استعمال ہو اس سے ترک کرنا ہی مراد ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ترک کا لفظ استعمال کیوں نہیں کیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بربناء مشاکلت ہے کیونکہ منافقوں نے کہا تھا : کیا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کو حیا نہیں آتی کہ وہ مکھی اور مکڑی کی مثالیں دیتا ہے ! تو ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق واضح کرنے کے لیے کسی بھی مثال دینے سے حیا نہیں فرماتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف حیا کی نسبت کی ہے : علامہ علی متقی ھندی ‘ امام ابن النجار کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :
عن انس (رض) قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اللہ یستحی من عبدہ وامتہ یشیبان فی الاسلام ان یعذبھما “۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا بندہ اور بندی اسلام میں بوڑھے ہوجائے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے سے حیا فرماتا ہے۔ (کنز العمال ج ١٥ ص ٦٧٢ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) ہے۔
حافظ سیوطی (رح) ‘ امام ابن النجار (رح) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو بوڑھا شخص صحیح عمل کرتا ہو اور پابندی سے سنت پر عمل کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کو اس سے حیا آتی ہے کہ وہ کوئی سوال کرے اور اللہ اس کو نہ دے۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ٢ ص ٣٠٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی اللہ کا بندہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھے تو اللہ کو اس سے حیا آتی ہے کہ وہ اپنی کسی حاجت کا سوال کرے اور اس کے پورا ہونے سے پہلے لوٹ جائے (جامع الاحادیث الکبیر ج ٢ ص ٣٠٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
امام ابوداؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت سلیمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک تمہارا رب حیادار ‘ کریم ہے ‘ جب بندہ اس کی طرف دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ ان کو خالی لوٹانے سے حیا فرماتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٠٩‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
اس حدیث کو امام ترمذی (رح) ۔ ١ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٥١٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام ابن ماجہ (رح) ۔ ٢ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ٢٧٥ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی )
اور امام احمدنے بھی روایت کیا ہے۔ ، ٣ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص ٣٨، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ)
حافظ سیوطی (رح) نے بھی اس حدیث کو متعدد حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ٢ ص ٢٧٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
یہاں پر غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک اور مولی ہو کر بندوں کی بات ٹالنے اور ان کی دعا مسترد کرنے سے حیا فرماتا ہے تو جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کسی کام کا حکم دے تو اس کے حکم پر عمل نہ کرنے سے بندوں کو کس قدر حیا کرنی چاہیے غالبا اسی نکتہ پر متنبہ کرنے کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے لیے ترک کے بجائے حیا کرنے کا لفظ استعمال کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ اس (مثال کے بیان) سے بہت لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہت لوگوں کو اس سے ہدایت دیتا ہے۔ (البقرہ : ٢٦ )
اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے کی توجیہ :
کفار اور منافقین نے جو یہ سوال کیا تھا کہ اللہ نے ان مثالوں کے بیان کرنے سے کیا ارادہ کیا ہے ؟ اس آیت میں اس کا جواب ہے ‘ یعنی جن لوگوں پر جہالت غالب ہے اور جو ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے وہ جب ان مثالوں کو سنیں گے تو ضد اور عناد کی وجہ سے ان مثالوں پر غور وفکر نہیں کریں گے اور فورا ان کا انکار کردیں گے ‘ لہذا ان مثالوں کا بیان کرنا ان کے حق میں گمراہی کا موجب ہوا اور جن لوگوں کی عادت یہ ہے کہ وہ ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیتے ‘ کھلے ہوئے ذہن سے سوچتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں وہ جب ان مثالوں کو سنیں گے تو ہدایت پاجائیں گے ‘ کلیات اور باریک چیزوں کی وضاحت مثال سے ہی ہوتی ہے اور جو شخص ان مثالوں پر غور وفکر کرتا ہے وہ ہدایت پالیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
(آیت) ” وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العلمون (العنکبوت : ٤٣)
ترجمہ : اور ان مثالوں کو ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور ان کو صرف عالم ہی سمجھتے ہیں
ایک سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ کثیر کو گمراہ کرتا ہے اور کثیر کو ہدایت دیتا ہے ‘ حالانکہ گمراہ تو کثیر ہیں اور ہدایت یافتہ قلیل ہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے یہ ہے کہ گمراہ عددا کثیر ہیں اور ہدایت یافتہ اپنے مرتبہ اور شرف کے اعتبار سے کثیر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ صرف فاسقوں کو ہی اس سے گمراہی میں مبتلا کرتا ہے۔ (البقرہ : ٢٦ )
فسق کی تعریف اور اس کی اقسام :
فسق کا معنی ہے : اعتدال اور طریق مستقیم سے سے خروج ‘ اور شریعت میں گناہ کبیرہ کرنے والے کو فاسق کہتے ہیں۔ اس کے تین مراتب ہیں : (١) تغابی : جو شخص کبھی کبھی گناہ کبیرہ کرے اور اس کو برا جانتا ہو (فرض کا ترک اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے) (٢) انہماک : جو شخص گناہ کبیرہ کا عادی ہو اور اس کو اس کا کوئی خوف نہ ہو (٣) جحود : جو شخص گناہ کبیرہ کو اچھا اور صحیح سمجھ کر کرے ‘ پس جو شخص اس درجہ میں پہنچ جائے اس کا ایمان جاتا رہتا ہے اور وہ کافر ہوجاتا ہے ‘ اور جب تک وہ تغابی اور انہماک کے درجہ میں ہوتا ہے وہ ایمان سے نہیں نکلتا کیونکہ اس کے دل کے ساتھ الہ اور اس کے رسول کی تصدیق قائم رہتی ہے اور اسی تصدیق نام ایمان ہے۔
یہاں فاسق سے مراد وہ منافقین ہیں جو فسق کے تیسرے درجہ میں پہنچ چکے تھے اور اللہ تعالیٰ نے گمراہ کرنے کو جو فاسقوں میں منحصر کردیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فسق نے ہی ان کو گمراہی تک پہنچایا ‘ کیونکہ مسلسل حق کا انکار کرنے اور باطل پر اصرار کرنے کی وجہ سے وہ ایسے معاند اور ہٹ دھرم ہوگئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بیان کی ہوئی مثالوں پر غور نہیں کیا اور یہ نہیں سمجھا کہ مکھی اور مکڑی کی مثالیں دے کر اللہ تعالیٰ نے بتوں کی خست اور حقارت کو بیان کیا ہے اور ان کی جہالت اور گمراہی اور پختہ ہوگئی اور اس طرح ان مثالوں کا مذاق اڑانے اور انکار کرنے سے ان فاسقوں کی گمراہی اور زیادہ راسخ ہوگئی اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ صرف فاسقوں کو ہی اس سے گمراہ کرتا ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اللہ تعالیٰ سے خوب پکا عہد کرنے کے بعد اس کو توڑتے ہیں۔ (البقرہ : ٢٧)
عہد موثق کا معنی اور اس کی اقسام :
پکے عہد کا تقاضا یہ ہے کہ رعایت اور حفاظت کی جائے جیسے قسم اور وصیت کی رعایت اور حفاظت کی جاتی ہے ‘ اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو لوگوں کو عقل دینے کی صورت میں لیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی ذات اور صفات پر دلائل قائم کئے ہیں اور نشانیاں رکھی ہیں اور عقل میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ان نشانیوں سے صاحب نشان تک پہنچ سکتی ہے۔ اس عہد کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے :
(آیت) ” واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسہم الست بربکم قالوا بل شھدنا ان تقولوا یوم القیمۃ انا کنا عن ھذا غفلین (الاعراف : ١٧٢)
ترجمہ : اور یاد کیجیے جب آپ کے نے بنو آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہوں خود ان کے اوپر گواہ بنایا (فرمایا) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ؟ ہم نے گواہی دی (یہ گواہی اس لیے لی ہے) کہ (کہیں) قیامت کے دن تم یہ (نہ) کہنے لگو کہ ہم اس سے بیخبر تھے
دوسرا عہد وہ ہے کہ نبیوں اور رسولوں کے واسطوں سے ان کی امتوں سے لیا گیا اور وہ یہ عہد تھا کہ جب ان کے پاس وہ عظیم رسول آجائیں جن کی پچھلی کتابوں میں تصدیق ہے اور معجزات سے ان کی رسالت ثابت ہوجائے تو یہ سب اس عظیم رسول کی اتباع کریں گے اور ان کی کتابوں میں اس کی نبوت کا جو بیان ہے اس کو نہیں چھپائیں گے اور اس کی مخالفت نہیں کریں گے ‘ اور اس عہد کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔
(آیت) ” واذا اخذا اللہ میثاق الذین اوتوالکتب لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ فنبذوہ وآء ظہورھم واشتتروا بہ ثمنا قلیلا فبئس ما یشترون (آل عمران : ١٨٧)
ترجمہ : اور یاد کرو ! جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا کہ تم یہ عہد لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے ‘ سو انہوں نے اس عہد کو پس پشت پھینک دیا اور اس عہد کے بدلہ میں حقیر معاوضہ لے لیا ‘ تو یہ کیسی بری چیز کو خرید رہے ہیں خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کی فطرت میں جو ہدایت رکھی تھی اس کو انہوں نے غور وفکر سے کام نہ لے کر ضائع کردیا ‘ اور ان کے نبیوں اور رسولوں نے جو ان سے آخری نبی کی پیروی کا عہد لیا تھا ‘ انہوں نے اپنے تعصب اور عناد کی وجہ سے اس عہد کو بھی توڑدیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن چیزوں کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے ‘ ان کو کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں (البقرہ : ٢٧)
منافقین کا شر اور فساد :
اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ رشتے داروں سے تعلق جوڑیں یہ توڑتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ مسلمانوں سے محبت کریں یہ ان سے اعراض کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ نبیوں میں ایمان لانے کے لحاظ سے فرق نہ کریں یہ فرق کرتے تھے ‘ فرض نماز کو جماعت سے پڑھنے کا حکم تھا یہ ترک کرتے تھے اور ہر وہ کام جس میں خیر ہو اس کو ترک کرکے شرک کو اختیار کرتے تھے، اور زمین میں ان کا فساد یہ تھا کہ یہ لوگوں کو ایمان لانے سے روکتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور جن چیزوں کے وصل سے امن عالم قائم ہے ان میں فصل کرتے تھے۔

[Tibyan-ul-Quran 2:26]