بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَيۡفَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَڪُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡيَاکُمۡ‌ۚ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ

تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو ؟ حالانکہ تم مردہ تھے ‘ اس نے تم کو زندہ کیا ‘ پھر وہ تم پر موت طاری کرے گا ‘ پھر تم کو زندہ کرے گا ‘ پھر اس کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے

اس آیت میں کفار کو مخاطب کرکے یہ بتایا کہ تم کس طرح اللہ کے ساتھ کفر کرسکتے ہو ‘ حالانکہ پہلے تم نطفہ کی شکل میں بہ ظاہر مردہ تھے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے جسم میں روح پھونک کر تم کو زندہ کیا پھر جب تمہاری مدت حیات پوری ہوجائے گی تو پھر تم پر موت طاری کرے گا ‘ پھر قبر میں سوال و جواب کے وقت یا صور پھونکنے کے وقت تم کو دوبارہ زندہ کرے گا ‘ پھر حشر کے بعد تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘ اور اللہ تعالیٰ تم کو تمہارے اعمال کو جزا دے گا اور جب تم کو اپنے ان احوال کا علم ہے تو پھر تمہارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا کس قدر تعجب خیز ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کفار کو یہ علم تھا کہ وہ پہلے مردہ تھے ‘ پھر ان کو زندہ کیا گیا اور پھر ان پر موت آئے گی ‘ لیکن موت کے بعد دوبارہ زندگی کے تو وہ قائل نہ تھے تو اس حیات کو ان کے خلاف بہ طور حجت پیش کرنا کس طرح درست ہوگا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ حیات بعد الموت پر دلائل بالکل ظاہر ہیں اس لیے ان دلائل کے ظہور کو کفار کے علم کے قائم مقام کیا گیا ہے ‘ علاوہ ازیں اس آیت میں بھی حیات بعد الموت پر دلیل ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے پہلی بار ان کو مردہ حالت میں زندگی کی طرف منتقل کیا تو دوبارہ ان پر موت طاری کر کے انہیں زندہ کرنا اس کے لیے کب مشکل ہوسکتا ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ موت طاری کرنے کو کس طرح نعمتوں میں سے شمار کیا جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ موت دوسری حیات کی طرف پہنچاتی ہے اور وہی حقیقی حیات ہے ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں مومنوں سے خطاب ہو کہ پہلے تم مردہ تھے یعنی جاہل تھے ‘ پھر تم کو زندہ کیا یعنی علم اور ایمان سے سرفراز کیا ‘ پھر تم پر معروف موت طاری کی جائے گی اور تم کو حقیقی حیات دے دی جائے گی اور تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ‘ پھر تم کو ایسا اجر وثواب دیا جائے گا ‘ جس کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ اس کا کسی دل میں خیال آیا ہے۔
حیات اور موت کا معنی :
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :
حیات کے متعدد معنی ہیں :
(١) نباتات میں جو نشو و نما کی قوت ہے اس کو حیات کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” ان اللہ یحی الارض بعد موتھا “۔ (الحدید : ١٧)
ترجمہ : بیشک اللہ ہی زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ فرماتا ہے۔
(٢) حیوانات میں جو احساس اور حرکت بالا ارادہ کی قوت ہے اس کو حیات کہتے ہیں :
(آیت) ” وما یستوی الاحیآء ولا الاموات “ (الفاطر : ٢٢)
ترجمہ : اور زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے۔
(٣) عمل اور عقل کی قوت کو حیات کہتے ہیں :
(آیت) ” اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ (الانعام : ١٢٢)
ترجمہ : اور کیا وہ شخص جو مردہ تھا ‘ پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کو روشنی دی جس سے وہ چلتا ہے۔
(٤) حیات اخرویہ ابدیہ جس کو عقل اور علم سے حاصل کیا جاتا ہے :
(آیت) ”۔ استجبیوا اللہ وللرسول اذا دعا کم لمایحییکم (الانفال : ٢٤)
ترجمہ : اللہ اور رسول جب تمہیں ابدی زندگی دینے والی چیز کی طرف بلائیں تو فورا حاضر ہوجاؤ۔
(٥) جس حیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ متصف ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے حی ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کے لیے موت ممکن نہیں ہے اور وہ عالم اور قادر ہے۔ حیات کے معنی کے مقابلہ میں موت کا معنی ہے ‘ زمین کا بےآب وگیاہ ہونا اور بنجر ہونا زمین کی موت ہے ‘ حس اور حرکت ارادیہ کی قوت کا ختم ہوجانا جانداروں اور حیوانوں کی موت ہے ‘ عمل اور عقل کی قوت کا ختم ہوجانا انسانوں کی موت ہے۔ (المفردات ص ١٣٩۔ ١٣٨‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اللہ) وہی ہے جس نے تمہارے نفع کے لیے زمین میں سب چیزوں کو پیدا کیا ‘ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے سات ہموار آسمان بنادیئے۔ (البقرہ : ٢٩)
زمین اور آسمان کی تخلیق کی ترتیب :
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ زمین کو پہلے بنایا گیا یا آسمان کو ‘ جو علماء پہلے زمین کی تخلیق کے قائل ہیں ان کا استدلال اس آیت سے ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو پیدا کرنے کے بعد آسمان کی طرف متوجہ ہوا ‘ اور حسب ذیل آیات سے بھی اس کا استدلال ہے۔
(آیت) ”۔ قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین وتجعلون لہ انداداذلک رب العلمین وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبرک فیھا وقدر فیھا اقواتھا فی اربعۃ ایام سو آ ء للسآئلین ثم استوی الی السمآء وھی دخان فقال لھا وللارض ائتیاطوعا اوکرھا قالتا اتینا طآئعین فقضھن سبع سموت فی یومین واوحی فی کل سمآء امرھا وزینا السمآء الدنیا بمصابیح وحفظا ذلک تقدیر العزیز العلیم (حم ٓ السجدۃ : ١٢۔ ٩)
ترجمہ : آپ کہیے : کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین کو بنایا اور تم اس کے لیے شریک بناتے ہو ‘ وہ (عطیم) رب ہے تمام جہانوں کا اور اس نے زمین میں بھاری پہاڑوں کو گاڑ دیا اور اس میں برکت رکھی اور زمین میں رہنے والوں کی غذا بھی چار دنوں میں مقدر کی ‘ جو طلب کرنے والوں کے لیے مساوی ہے پھر آسمان کی طرف قصد کیا درآں حالیکہ وہ دھواں تھا ‘ پھر آسمان اور زمین سے فرمایا : تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے حاضر ہو ‘ ان دونوں نے کہا : ہم خوشی سے حاضر ہوئے پھر دو دن میں سات آسمان بنادیئے اور ہر آسمان میں اس کے موافق حکم بھیجا ‘ اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا اور اس کی حفاظت کی ‘ یہ بہت زبردست ذات اور بڑے علم والے کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے
یہ آیتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ زمین کو آسمان سے پہلے پیدا کیا گیا ہے اور امام ابن جریر طبری (رح) نے قتادہ (رض) سے یہ نقل کیا کہ آسمان کو پہلے بنایا گیا ہے اور پھر زمین کو بنایا گیا ہے ‘ ان کا استدلال قرآن مجید کی ان آیات سے ہے :
(آیت) ” ء انتم اشد خلقا ام السمآء بنھا رفع سمکھا فسوھا واغطش لیلھا واخرج ضحھا والارض بعد ذلک دحھا (النازعات : ٣٠۔ ٢٧)
ترجمہ : آیا تمہاری تخلیق زیادہ سخت ہے یا آسمان کی ؟ (اللہ نے) آسمان کو بنایا اس کی چھت بلند کی ‘ پھر اس کو ہموار کیا اور اس کی رات تاریک کی اور اس کے دن کی روشنی کو ظاہر کیا اور اس کے بعد زمین کو پھیلا یا
اس آیت سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو آسمان کے بعد پیدا کیا گیا ہے لیکن جمہور علماء اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ زمین کی تخلیق پہلے کی گئی تھی جیسا کہ سورة البقرہ اور سورة حم السجدۃ سے واضح ہوتا ہے اور زمین کو پھیلانے کا عمل آسمان کی تخلیق کے بعد کیا گیا جیسا کہ سورة النازعات سے واضح ہوتا ہے۔
اباحت کے اصل ہونے کی تحقیق :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے تمہارے نفع کے لیے زمین میں سب چیزوں کو پیدا کیا۔ اس آیت میں لام انتفاع کے لیے ہے سبب اور تعلیل کے لیے نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کسی فعل کی کوئی علت نہیں ہوتی۔ (بیضاوی) اس آیت سے جمہور فقہاء اور اصلولیین نے یہ استدلال کیا ہے کہ احکام شرعیہ کے وارد ہونے سے پہلے اصل میں سب اشیامباح ہیں ‘ پھر جب احکام شرعیہ وارد ہوئے تو بعض کام واجب ہوگئے اور بعض کام حرام ہوگئے مثلا شراب نوشی اور کتوں کے ساتھ اشتغال اور تصویریں بنانا پہلے مباح تھا اور جب شریعت میں ان سے ممانعت وارد ہوگئی تو یہ کام حرام ہوگئے ‘ اسی طرح والدین کی اطاعت کرنا پہلے مباح تھا ‘ جب شریعت نے اس کا حکم دے دیا تو یہ واجب ہوگیا اور جن مشرکوں نے حکم شرع کے بغیر از خود کسی چیز کو حرام کرلیا جس طرح مشرکوں نے سائبہ ‘ بحیرہ وغیرہ جانوروں کو حرام کردیا تھا ‘ ان کا دودھ پینا ‘ ان پر سواری کرنا۔ اور ان کا گوشت کھانا سب کچھ حرام کرلیا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت میں یہ آیات نازل فرمائیں :
(آیت) ” ولا تقولوا لماتصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب۔ (النحل : ١١٦)
ترجمہ : اور جن چیزوں کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں ان کے متعلق نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔
(آیت) ” قل ارء یتم ماانزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما و حلال قل آللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون (یونس : ٥٩)
ترجمہ : آپ کہئے کہ بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا تو تم نے کچھ اس میں حرام کرلیا اور کچھ حلال ‘ آپ کہیے کہ آیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھتے ہو
ان آیات سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کو از خود حرام کرنا صحیح نہیں ہے ‘ جب تک اللہ اور رسول کسی چیز سے منع نہ کریں وہ چیز حلال ہے ‘ اسی طرح حدیث میں ہے :
عن سلمان قال سئل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عن السمن والجبن والفراء فقال الحلال ما احل اللہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ وما سکت عنہ فھو مما عفاعنہ۔ ١ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٢٦٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت سلمان (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گھی ‘ پنیر اور پوستین (کھال کی قمیص ‘ چغہ) کے متعلق سوال کیا گیا ‘ آپ نے فرمایا : جو چیز حلال ہے اس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا اور جو چیز حرام ہے اس کو اپنی کتاب میں حرام کردیا اور جس کے متعلق اللہ نے سکوت کیا اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
اس حدیث کو امام ابن ماجہرحمۃ اللہ علیہ۔ ٢ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ٢٤١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی )
اور امام ابوداؤد (رح) ۔ ٣ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٣‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور ‘ ١٤٠٥ ھ)
نے بھی روایت کیا ہے۔
علامہ قرطبی مالکی (رح) لکھتے ہیں :
اکثر مالکیہ نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اس حال میں ان کے نزدیک کوئی حکم نہیں ہے اور جب شریعت وارد ہوگی تو جو حکم چاہے گی وہ نافذ کرے گی ‘ اور عقل کسی چیز کو واجب یا حرام نہیں کرسکتی ‘ عقل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اشیاء کی اس طرح معرفت حاصل کرے جس طرح وہ ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٢٥٢۔ ٢٥١‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
علامہ بیضاوی شافعی (رح) لکھتے ہیں :
اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ تمام اشیاء نافعہ مباح ہیں۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ٥٧‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
علامہ شامی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
” تحریر ابن ھمام “ میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ جمہور حنفیہ اور شافعیہ کے نزدیک احکام میں اصل اباحت ہے ‘ ” ھدایہ “ اور ” خانیہ “ میں بھی اسی طرح لکھا ہے ‘ ” شرح تحریر “ میں لکھا ہے کہ معتزہ بصرہ ‘ کثیر شافعیہ اور اکثر حنفیہ کا یہی قول ہے ‘ امام محمد (رح) نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ کیونکہ انہوں نے کہا کہ جس شخص سے کسی نے یہ کہا کہ تم مردار کھاؤ یا شراب پیو ورنہ تم کو قتل کردیا جائے گا ‘ اور اس نے اس طرح نہیں کیا حتی کہ اس کو قتل کردیا گیا تو مجھے خدشہ ہے کہ وہ گنہ گار ہوگا ‘ کیونکہ مردار کا کھانا اور شراب کا پینا صرف شریعت کی ممانعت کی وجہ سے حرام کیا گیا ہے۔ امام محمد (رح) نے اس عبارت میں اباحت کو اصل قرار دیا ہے اور حرمت کو شرعی ممانعت کی وجہ سے عارضی قرار دیا ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٧٢۔ ٧١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
قرآن ‘ سنت اور فقہاء کرام کی آراء کے مطابق احکام میں اصل اباحت ہے اور قرآن اور سنت میں جن کاموں کو فرض ‘ واجب ‘ حرام یا مکروہ نہیں قرار دیا گیا ان کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ‘ اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر مشاہیر اسلام کے فضائل اور سیرت کی مجالس کو منعقد کرنا ‘ اور آپ کے میلاد پر خوشی کا اظہار کرنا ‘ صدقہ ‘ خیرات اور دیگر عبادات کا ثواب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ بزرگان دین اور اپنے رشتہ داروں کو پہنچانا ‘ انفرادی اور اجتماعی طور پر صلوۃ وسلام پڑھنا ‘ تراویح میں باجماعت قرآن مجید کو ختم کرنا ‘ وسیع و عریض مساجد بنانا ‘ لائبریریاں قائم کرنا ‘ مصحف (قرآن) پر سورتوں کا نام اور آیتوں کی تعداد لکھنا ‘ پاروں کے حساب سے قرآن مجید کو تقسیم کرنا ‘ مسجدوں میں محراب اور منبر بنانا ‘ وعظ و نصیحت کے لیے جلسے منعقد کرنا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) کے ایام میں جلوس نکالنا اور ان کے ذکر کی مجلسیں قائم کرنا ‘ دینی مدارس کے سالانہ جلسے کرنا ‘ دورہ حدیث پڑھانا اور ختم بخاری کرنا اور ایسے بہت سے دینی امور جن سے دین کے شعار اور اس کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ہرچند کہ شریعت میں ان کے کرنے کا حکم ہے نہ ان کے کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ تمام کام اپنی اصل پر مباح ہیں لیکن ان کو فرض اور واجب اعتقاد نہ کیا جائے نہ ان کے ساتھ فرض اور واجب کا معاملہ کیا جائے ‘ ان کاموں کو لازم سمجھا جائے نہ ان کے نہ کرنے والوں پر ملامت کی جائے اور نہ ان پر طنز وتشنیع کی جائے۔ جب کسی مباح کام کو فرض اور واجب کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو وہیں سے بدعت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے (البقرہ : ٢٩)
حشراجساد پر دلیل :
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حشر اجساد پر دلیل قائم کی ہے ‘ مشرکوں کو یہ اشکال ہوتا تھا کہ مرنے کے بعد انسانوں کے اجسام بوسیدہ ہوجاتے ہیں اور پھر مٹی میں مل جاتے ہیں ‘ پھر مختلف زلزلوں ‘ آندھیوں اور طوفانوں میں یہ ذرات بکھر کر منتشر ہوجاتے اور دوسرے ذرات کے ساتھ خلط ملط ہوجاتے ہیں ‘ ایک ہی انسان کا جسم ذرات میں بکھر کر آندھیوں اور ہواؤں کے ذریعہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اور اسی طرح کے دوسرے ذرات سے مختلط ہوجاتا ہے تو اب مثلا ایک انسان کے تمام ذرات کو مختلف مقات سے یکجا کرنا اور دوسرے ذرات سے ممتاز اور الگ کرنا ان کے خیال میں بہت بعید تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتلا دیا کہ یہ اس کے لیے بعید ہوگا ‘ جس کو علم نہ ہو ‘ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے اور اس کے لیے ان منتشر ذرات کو پھر سے جمع کردینا کچھ مشکل نہیں اور جب وہ تم کو اور تم سے کہیں بڑی چیزوں آسمان اور زمین کو بنا چکا ہے تو پھر دوبارہ تم کو پیدا کرنا اس کے لیے کب مشکل ہے بلکہ زیادہ آسان ہے۔

[Tibyan-ul-Quran 2:28]