بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ نَجَّيۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ‌ؕ وَفِىۡ ذٰلِكُمۡ بَلَاۤءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ

اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی جو تم کو بدترین عذاب پہنچاتے تھے ‘ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑتے تھے ‘ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے عظیم آزمائش تھی

ترجمہ :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی جو تم کو بدترین عذاب پہنچاتے تھے۔ (البقرہ : ٤٩)
بنواسرائیل پر فرعون کے عذاب کا بیان :
سورة بقرہ کی آیت ٤٩ سے لے کر آیت ٦٠ تک اللہ نے بنواسرائیل پر کی گئی دس نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے ‘ ان میں پہلی نعمت بنواسرائیل کو فرعون کے مظالم اور اس کے عذاب سے نجات عطا فرمانا ہے۔
امام ابن جریر طبری (رح) لکھتے ہیں :
امام ابن اسحاق (رح) نے بیان کیا ہے کہ فرعون بنواسرائیل کو عذاب دیتا تھا ‘ ان سے طرح طرح کے کام لیتا تھا ‘ بعض سے مکان بنواتا ‘ بعض سے کاشتکاری کراتا ‘ بعض سے مزدوری لیتا اور جن سے کوئی کام نہ لیتا ان سے جزیہ لیتا تھا۔ (جامع البیان ج ١ ص ٢٤١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
سدی نے بیان کیا ہے کہ فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نمودار ہوئی اور مصر کے مکانوں کو لپیٹ میں لیتی ہوئی آئی اور قبطیوں کو جلا ڈالا اور بنواسرائیل کو چھوڑ دیا ‘ اس نے جادوگروں اور کاہنوں کو بلایا اور اس خواب کی تعبیر معلوم کی ‘ انہوں نے کہا : جس شہر سے بنو اسرائیل آئے ہیں یعنی بیت المقدس سے ‘ وہاں ایک شخص پیدا ہوگا جس کے ہاتھ سے مصر کے لوگ مارے جائیں گے ‘ تب فرعون نے یہ حکم دیا کہ بنواسرائیل کے ہاں جو لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اور جو لڑکی پیدا ہو اس کو چھوڑ دیا جائے ‘ اس نے قبطیوں سے کہا : تمہارے جو غلام باہر کام کرتے ہیں ان کو بلالو اور ان کی جگہ بنواسرئیل سے کام لو اور ان سے نیچ اور رذیل کام لو ‘ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
ان فرعون علافی الارض وجعل اھلھا شیعا یستضعف طآئفۃ منہم یذبح ابنآء ھم ویستحی نسآء ھم “۔ (القصص : ٤)
ترجمہ : بیشک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس نے (اپنے) اہل زمین میں الگ الگ گروہ کر کے ان میں ایک گروہ ( بنواسرائیل) کو کمزور کررکھا تھا ‘ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا۔
بنواسرائیل کے بیٹے مارے جارہے تھے ‘ اور بنو اسرائیل کے بوڑھے قضاء الہی سے مر رہے تھے ‘ ان میں سے کوئی بچہ بڑا نہیں ہوتا تھا ‘ تب قبطیوں نے کہا کہ بنواسرائیل کے بچے بڑے نہیں ہو رہے اور بوڑھے مر رہے تھے اس طرح ان میں کوئی مرد باقی نہیں رہے گا ‘ پھر ہمارے کام کون کرے گا ؟ تب فرعون نے یہ حکم دیا کہ ایک سال بنواسرائیل کے بیٹے ذبح کردیئے جائیں اور ایک سال چھوڑ دیئے جائیں ‘ جس سال وہ ذبح نہیں کرتے تھے اس سال حضرت ہارون (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور ان کو چھوڑ دیا گیا اور جس سال بچوں کو ذبح کیا جانا تھا اس سال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ (جامع البیان ج ١ ص ٢١٥‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
فرعون : کا نام :
فرعون مصر کے بادشاہ کا لقب ہے جیسے روم کے بادشاہ کا لقب قیصر ہے اور فارس کے بادشاہ کا لقب کسری ہے اور یمن کے بادشاہ کا لقب تبع ہے اور حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہے ‘ ترک کے بادشاہ خاقان ہے ‘ مسلمانوں کے بادشاہ کا لقب سلطان ‘ ہندوؤں کے بادشاہ کا لقب راجا اور انگلستان کے بادشاہ کا لقب جارج ہے ‘ فرعون کا لفظ عجمہ اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔
امام ابن جریر طبری (رح) نے امام ابن اسحاق (رح) کے حوالے سے لکھا ہے کہ قرآن میں جس فرعون کا ذکر ہے اس کا نام ولید بن مصعب بن الریان تھا (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢١٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
آل کا لغوی معنی :
علامہ زبیدی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
کسی شخص کے اھل (بیوی) اور اس کے عیال (اولاد) کو اس شخص کی آل کہتے ہیں اور اس شخص متعین اور احباء کو بھی آل کہتے ہیں ‘ حدیث میں ہے : سلمان ہمارے آل بیت سے ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” کداب ای فرعون “ اس میں آل فرعون سے مراد اس کے متبعین ہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : صدقہ محمد اور آل محمد کے لیے جائز نہیں ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا : اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی آل ہی وہ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور صدقہ کے بدلہ میں ان کو خمس دیا گیا ‘ اور یہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : آپ کی آل کون ہیں ؟ فرمایا : آل علی ‘ آل جعفر ‘ آل عقیل اور آل عباس ‘ حضرت انس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : آل محمد کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ہر تقی (متقی)
آل کا استعمال غالبا اشراف میں ہوتا ہے ‘ اس لیے آل اسکاف (موچیوں کی آل) نہیں کہا جائے گا اگرچہ اھل اسکاف کہا جاتا ہے ‘ نیز اس کی اضافت اعلام ناطقین کی طرف ہوتی ہے نکرہ ‘ زمان اور مکان کی طرف اس کی اضافت نہیں ہوتی ‘ اس لیے آل رجل ‘ آل زمان یا آل مکان نہیں کہا جائے گا ‘ اس کی اصل اھل ہے اور اس کی تصغیر اھیل آتی ہے۔ (تاج العروس ج ٧ ص ٢١٦‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
امام ابن جریر طبری نے لکھا ہے کہ آل فرعون سے مراد فرعون کے اہل دین اور اس کے متبعین ہیں۔ (جامع البیان ج ١ ص ٢١٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل کے مصداق کی تحقیق :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل کے متعلق تین قول ہیں ‘ آپ کے متبعین ‘ اور آپ کی ازواج اور آپ کی ذریت ‘ اور مومنین میں سے آپ کے نسبی قرابت دار اور یہ آل علی ‘ آل علی ‘ جعفر ‘ آل عقیل ‘ آل عباس اور آل حارث بن عبدالمطلب ہیں۔ (ہدایہ اولین ص ٢٠٦) آل سے آپ کے متبعین ہونے پر دلیل یہ ہے کہ قرآن میں جہاں آل فرعون کا لفظ آیا ہے اس سے فرعون کے متبعین اور اس کے اھل دین مراد ہیں اور حضرت نوح (علیہ السلام) سے ان کے بیٹے کے متعلق فرمایا :
(آیت) ” انہ لیس من اھلک، انہ عمل غیر صالح “۔ (ھود : ٤٦)
ترجمہ : بیشک وہ آپ کے اھل سے نہیں ہے ‘ بیشک اس کے عمل نیک نہیں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ابو جہل اور ابولہب کو آپ کی آل اور اھل نہیں قرار دیا جاتا حالانکہ آپ کے اور ان کے درمیان نسبی قرابت داری ہے۔
امام مسلم روایت کرتے ہیں :
حضرت عمر و بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہ آواز بلند فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سنو ! فلاں شخص کی آل میرے ولی نہیں ہیں ‘ میرا ولی اللہ ہے اور نیک مومن میرے ولی ہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١١٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٨٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام بیہقی (رح) اپنی سند کے ساتھ امام عبدالرزاق (رح) سے روایت کرتے ہیں۔
ایک شخص نے ثوری سے پوچھا : آل محمد کون ہیں ؟ ثوری نے کہا : اس میں لوگوں کا اختلاف ہے ‘ بعض نے کہا : اہل بیت ہیں اور بعض نے کہا : جو آپ کی اطاعت کرے اور آپ کی سنت پر عمل کرے وہ آپ کی آل ہے ‘ امام بیہقی (رح) نے کہا : امام عبدالرزاق (رح) کا بھی یہی قول ہے اور یہی رائے حق کے مشابہ ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ کشتی میں ہر جوڑے میں سے دو کو اور اپنے اھل کو سوار کرو ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا : میرا بیٹا بھی میرے اھل سے ہے ‘ تیرا وعدہ حق ہے اور تو احکم الحاکمین ہے ‘ فرمایا : اے نوح ! بیشک تمہارا بیٹا تمہارے اہل سے نہیں ہے ‘ اس کے عمل نیک نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شرک کی وجہ سے حضرت نوح کے بیٹے کو ان کے اھل سے نکال دیا۔ (سنن کبری ج ٢ ص ١٥٢‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)
نیز امام بیہقی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل آپ کی امت ہے (سنن کبری ج ٢ ص ١٥٢‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)
امام طبرانی (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون ہیں ؟ فرمایا : ہر متقی شخص۔ (معجم صغیر ج ١ ص ١١٥ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ‘ مدینہ منورہ ٗ ١٣٨٨ ھ)
حافظ الہیثمی (رح) نے اس حدیث کو درج کر کے لکھا ہے : اس میں نوح بن ابی مریم ایک ضعیف راوی ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ‘ ٢٦٩ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
امام بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ایک اور سند سے روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس میں ابوھرمز بصری ایک ضعیف روای ہے۔ (سنن کبری ج ٢ ص ‘ ١٥٢ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)
قاضی عیاض مالکی (رح) نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے۔ (الشفاء ج ٢ ص ٦٦ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ‘ ملتان)
حافظ سیوطی (رح) نے اس حدیث کو امام ابن مردویہ ‘ طبرانی اور بیہقی (رح) کے حوالوں سے اپنی تفسیر میں درج کیا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ٣ ص ١٨٣‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
ہر چند کہ اس حدیث کی سند میں ایک ضعیف روای ہے لیکن یہ تعداد اسانید کی وجہ سے حسن لغیرہ ہوگئی اور فضائل اور مناقب میں حدیث ضعیف کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے ‘ نیز اس حدیث کی تائید اس سے ہوتی ہے امام بخاری روایت کرتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوگ اپنے اپنے صدقات لے کر آتے تو آپ فرماتے : اے اللہ ! آل فلاں پر صلوۃ نازل فرما ‘ سو میرے والد آپ کے پاس اپنا صدقہ لے کر آئے تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! آل اوفی پر صلوۃ نازل فرما۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٩٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی آل پر صلوۃ پڑھی جاتی ہے اور آپ کا آل ابی اوفی پر صلوۃ پڑھنا اس کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھی آپ کی آل میں ہیں۔
نیز امام حاکم روایت کرتے ہیں :
حضرت مصعب بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نیک مسلمان ہمارے اہل بیت سے ہیں (المستدرک ج ٣ ص ٥٩٨ دار الباز مکہ مکرمہ )
اس حدیث میں بھی اس پر دلالت ہے کہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مر متبع اور صالح مومن آپ کی آل سے ہے۔
آل کے متعلق دوسرا قول ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذریت اور آپ کی ازواج ‘ اس کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام مسلم روایت کرتے ہیں :
ابوحمید ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم آپ پر کسی طرح صلوۃ پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا : تم کہو : اے اللہ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ نازل فرما اور آپ کی ازواج اور آپ کی ذریت پر ‘ جیسا کہ تو نے آل ابراہیم پر صلوۃ نازل فرمائی ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٧٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث میں آپ نے آل کی جگہ ازواج اور ذریت کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی ازواج اور آپ کی ذریت بھی آپ کی آل ہیں۔
علامہ نووی لکھتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آل کون ہیں ؟ ازہری اور دیگر محققین کا مختاریہ ہے کہ تمام امت آپ کی آل ہے ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب ہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہل بیت (ازواج) اور آپ کی ذریت ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ١٧٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
آل کے متعلق تیسرا قول ہے : مومنین میں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نسبی قرابت دار ‘ یعنی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب آپ کی آل ہیں ‘ اس پر دلیل یہ حدیث ہے : امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن ابی طالب (رض) نے صدقہ کی ایک کھجور اپنے منہ میں رکھ لی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوڑو ‘ چھوڑو ‘ اس کو پھینک دو ‘ کیا تم کو علم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے ؟ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٤٤۔ ٣٤٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
حضرت عبداللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ صدقات لوگوں کا میل ہیں اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال نہیں ہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٤٥۔ ٣٤٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے تمہارے سمندر کو چیر دیا پھر ہم نے تم کو نجات دی۔ (البقرہ : ٥٠)
بنواسرائیل کے لیے سمندر چیرنے کا بیان :
امام ابن جریر طبری (رح) لکھتے ہیں :
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنواسرائیل کو لے کر مصر جانے لگے تو فرعون کو اس کی خبر پہنچ گئی اس نے کہا : ابھی رہنے دو ‘ صبح مرغ کی اذان کے ساتھ ان کا پیچھا کریں گے ‘ اس رات مرگ نے اذان نہیں دی ‘ جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک بکری ذبح کرائی اور کہا : جب میں اس کی کلیجی کھانے سے فارغ ہوں تو یہاں چھ لاکھ قبطی جمع ہوجائیں ‘ پھر چھ لاکھ قبطیوں کے ساتھ فرعون نے بنو اسرائیل کا پیچھا کیا ‘ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب سمندر کے کنارے پہنچے تو ان کے اصحاب میں سے یوشع بن نون نے کہا : اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کے رب نے کس طرف سے نکلنے کا حکم دیا تھا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے سامنے سمندر کی طرف اشارہ کیا۔ یوشع نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا حتی کہ جب وہ سمندر کی گہرائی میں پہنچا تو پھر لوٹ آئے اور پھر پوچھا کہ آپ کے رب نے کہاں سے نکلنے کا حکم دیا تھا ؟ تین اس طرح ہوا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی کی کہ اپنے عصا کو سمندر پر ماریں ‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر عصا مارا تو وہ بارہ حصوں میں منقسم ہو کر پھٹ گیا حتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنواسرائیل کے بارہ گروہوں کے ساتھ اس سے پار گزر گئے۔ بعد میں جب فرعون اور اس کے ساتھ قبطی اس سے گزرنے لگے تو سمندر آپس میں مل گیا اور فرعون اور قبطی غرق ہوگئے۔ یہ سمندر بحر قلزم تھا ‘ قتادہ نے کہا ہے کہ بنواسرائیل چھ لاکھ تھے اور قبطی بارہ لاکھ تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢١٩۔ ١١٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یاد کرو جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا ‘ پھر اس کے بعد تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ (البقرہ : ٥١)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نام ونسب کا بیان :
امام رازی لکھتے ہیں :
لفظ موسیٰ عبرانی زبان کا لفظ ہے ‘ اور دو کلموں سے مل کر بنا ہے ‘ مو کا معنی ہے پانی اور سا کا معنی ہے : درخت ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی ماں نے فرعون کے خوف سے تابوت میں رکھ دیا تھا اور اس تابوت کو سمندر میں ڈال دیا ‘ سمندر کی موجیں اس تابوت کو فرعون کے گھر کے قریب درختوں کے جھنڈ میں لے آئیں ‘ فرعون کی بیوی آسیہ کو وہ تابوت ملا ‘ اس نے اس تابوت سے بچہ نکال لیا اور چونکہ یہ بچہ اسے پانی اور درختوں میں ملا تھا تو اس جگہ کی مناسبت سے اس کا نام موسیٰ رکھ دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام و نسب یہ ہے : موسیٰ بن عمران بن یصھر بن قاعث بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٤٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
تورات کا نزول اور بنواسرائیل کی گؤسالہ پرستی :
امام ابن جریر طبری (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
امام ابن اسحاق (رح) نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنواسرائیل کو اس سے نجات دے دی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ فرمایا ‘ پھر ان کو دس مزید راتوں سے پورا کیا۔ ان راتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ملاقات کی ‘ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بنواسرائیل پر خلیفہ بنایا اور کہا : میں اپنے رب کے پاس جلدی میں جارہا ہوں ‘ تم میرے خلیفہ بنو اور مفسدوں کی پیروی نہ کرنا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے سے ملاقات کے شوق میں جلدی چلے گئے ‘ حضرت ہارون (علیہ السلام) قائم مقام ہوئے اور سامری بھی ان کے ساتھ رہا۔
ابوالعالیہ نے بیان کیا ہے : یہ مدت ایک ماہ ذوالعقدہ اور دس دن ذوالحجہ کے تھے ‘ اس مدت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اصحاب کو چھوڑ کر چلے گئے اور حضرت ہارون کو ان پر خلیفہ بنایا اور طور پر چالیس راتیں ٹھہرے اور ان پر زمرد کی الواح میں تورات نازل کی گئی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو قریب کر کے سرگوشی کی اور ان سے ہم کلام ہوا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قلم کے چلنے کی آواز سنی ‘ اور ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان چالیس میں وہ بےوضو نہیں ہوئے حتی کہ طور سے واپس آئے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٢٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
امام رازی لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے جب فرعون کو غرق کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تورات کے نازل کرنے کا وعدہ فرمایا تو موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو خلیفہ بنا کر طور پر چلے گئے ‘ بنو اسرائیل کے پاس قبطیوں کے وہ کپڑے اور زیورات تھے جو آنے سے پہلے قبطیوں سے انہوں نے عاریۃ لیے تھے ‘ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : یہ کپڑے اور زیورات تمہارے لیے جائز نہیں ہیں ان کو جلا دو ‘ انہوں نے ان کو جمع کرکے آگ لگا دی ‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سمندر میں جارہے تھے تو سامری نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ایک گھوڑی پر جاتے ہوئے دیکھا تھا ‘ اس نے اس گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی تھی ‘ سامری کے پاس جو سونا اور چاندی تھی اس نے اس کو پگھلا کر اس کا ایک بچھڑا بنا لیا اور اس میں وہ مٹی ڈال دی ‘ اس کے اثر سے اس مجسمہ سے بچھڑے کی سی آواز نکلنے لگی ‘ پھر سامری نے بنواسرائیل سے کہا : یہ تمہارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خدا ہے اور وہ قوم اس گؤ سالہ کی پرستش کرنے لگی ‘ حضرت ہارون (علیہ السلام) اور بارہ ہزار دیگر افراد کے علاوہ سب نے گؤ سالہ پرستی کی۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٤٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فرقان دی۔ (البقرہ : ٥٣)
کتاب سے مراد تورات ہے اور اسکے نزول کا واقعہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اور فرقان سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہیں ‘ جن میں عصا تھا ‘ اور یدبیضا ‘ اور بھی کئی معجزات تھے جن کو نو آیات بینات سے تعبیر فرمایا ہے ‘ ان سب کی تفصیل انشاء اللہ اپنے مقام پر آئے گی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب موسیٰ نے اپنی امت سے کہا : اے میری امت ! بیشک تم نے بچھڑے کو (معبود) بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ (البقرہ : ٥٤ )
بنواسرائیل کی قبولیت توبہ کا بیان :
اس آیت کے پس منظر اور پیش منظر کو اللہ تعالیٰ نے سورة طہ میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے ‘ اس کا ترجمہ اس طرح ہے : (ہم نے طور پر موسیٰ سے فرمایا) اے موسیٰ ! آپ نے لوگوں کو چھوڑ کر آنے میں کیوں جلدی کی ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں ‘ اور اے میرے رب ! میں تجھے راضی کرنے کے لیے تیری بارگاہ میں جلدی حاضر ہوا فرمایا : ہم نے آپ کے بعد آپ کی امت کو آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت غم وغصہ کی حالت میں واپس ہوئے اور فرمایا : میری امت ! کیا تم سے تمہارے رب نے (تورات عطا کرنے کا) اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ‘ پھر کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو کیونکہ تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے ‘ انہوں نے کہا : ہم نے اپنے اختیار سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی ‘ لیکن ہم پر قوم فرعون کے بھاری زیور کا بوجھ تھا ‘ ہم نے ان زیورات کو آگ میں ڈال دیا اور سامری نے بھی اپنے حصہ کے زیورات کو آگ میں ڈال دیا ‘ پھر اس نے ان کے لیے بچھڑے کا بےجان جسم نکالا جو بیل کی سی آواز نکالتا تھا ‘ لوگوں نے کہا : یہی موسیٰ (علیہ السلام) کا معبود ہے اور تمہارا معبود ہے ‘ موسیٰ (علیہ السلام) تو بھول گئے ‘ کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ وہ بچھڑاتو ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا تھا اور نہ وہ ان کے لیے کسی نفع اور نقصان کا مالک تھا ‘ اور بیشک ہارون نے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم ! اس بچھڑے کے ذریعہ تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے ‘ سو تم میری اتباع کرو اور میرا کہا مانو ‘ انہوں نے کہا : ہم تو اسی کی پوجا پر جمے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس لوٹ کر نہ آئیں (موسی (علیہ السلام) نے واپس آکر) کہا : اے ہارون ! جب آپ نے انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ کو کیا چیز مانع تھی کہ آپ نے میری اتباع نہ کی ؟ کیا آپ نے میرے حکم کی نافرمانی کی ؟ (ہارون نے) کہا : اے میری ماں کے بیٹے ! میری داڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیے ‘ بیشک مجھے یہ ڈر تھا کہ (اگر میں نے ان کو سختی سے روکا) تو آپ کہیں گے کہ تم نے بنو اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی ‘ اور میرے حکم کا انتظار نہ کیا ‘ (موسی (علیہ السلام) نے سامری سے) فرمایا : اے سامری ! تیرا کیا بیان ہے ؟ اس نے کہا : میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہ دیکھی تھی (مجھے گھوڑی پر جبرائیل سوار نظر آئے) تو میں نے رسول (جبرائیل (علیہ السلام) کی سواری کے نقش قدم (کی مٹی) سے ایک مٹھی بھرلی ‘ پھر میں نے اس کو (بچھڑے کے مجسمہ میں) ڈال دیا اور میرے دل میں اسی طرح بات آئی تھی فرمایا : تو (اب) دفع ہوجا ‘ بیشک اب زندگی بھر تیری یہ سزا ہے کہ تو کہتا پھرے کہ (خبردار مجھے) نہ چھونا ‘ اور تیرے لیے (عذاب کا) وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا ‘ اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کی پوجا میں تو جما بیٹھا تھا ‘ ہم اس کو ضرور جلا کر بھسم کردیں گے، پھر اس (کی راکھ) کو (اڑاکر) دریا میں بہادیں گے ‘ تمہارا معبود صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘ جس نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کرلیا ‘ اسی طرح ہم آپ کو گزشتہ واقعات کی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن) عطا فرمایا ہے (طہ : ٩٩۔ ٨٣)
امام ابن جریر طبریرحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
سدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس گؤسالہ کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور اس کو جلا کر اس کے ذرات کو سمندر میں بہادیا۔ ١ (بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مجسمہ گوشت پوست اور ہڈیوں میں تبدیل ہوگیا تھا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ذبح کر کے جلا دیا ‘ اور بعض نے کہا : وہ اسی طرح سونے اور چاندی کا مجسمہ تھا ‘ اس کو آلات سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ریزہ ریزہ کردیا۔ منہ) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اس سمندر سے پانی پیو تو جو اس بچھڑے سے محبت کرتا تھا اس کی مونچھوں پر اس سونے کے ذرات لگ لگئے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑا ان کے دلوں میں پلایا گیا تھا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے کے بعد جب بنواسرائیل کو اپنی گمراہی کا یقین ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم پر ہمارا رب رحم نہ فرمائے اور ہماری مغفرت نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی حال میں بنواسرائیل کی توبہ قبول کرنے سے انکار کردیا ‘ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا : اے میری امت ! تم نے بچھڑے کی عبادت کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ‘ تم اپنے خالق کی طرف توبہ کرو اور تم ایک دوسرے کو قتل کرو ‘ پھر انہوں نے دو صفتیں بنائیں۔ ایک صف میں بچھڑے کی عبادت کرنے والے کھڑے ہوئے اور دوسری صفت میں وہ کھڑے ہوئے جنہوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی اور انہوں نے گؤسالہ پرستوں کو قتل کیا اور ستر ہزار افراد قتل کردیئے گئے۔ ١ (امام ابن جریر (رح) نے لکھا ہے کہ ستر ہزار افراد بلا امتیاز قتل کئے گئے اور علامہ خازن نے لکھا ہے کہ بری نے مجرم کو قتل کیا۔ ) (خازن ج ١ ص ٥٤ منہ) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے رب ! اس طرح تو سارے بنواسرائیل ہلاک ہوجائیں گے ‘ اے رب ! بقیہ کو معاف فرما دے ‘ تب انہیں ہتھیار پھینکنے کا حکم دیا ‘ جو قتل ہوگئے وہ شہید قرار پائے اور جو بچ گئے ان کا کفارہ ہوچکا تھا۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٢٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
یہ بنواسرائیل کی توبہ تھی اور ہمارے لیے توبہ یہ ہے کہ گناہوں پر اشک ندامت بہائیں ‘ گناہ کو فورا ترک کردیں اور اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرلیں کہ دوبارہ اس گناہ کو نہیں کریں گے اور اس گناہ کے ذریعہ جو حق ضائع ہوا ہے اس کی تلافی کرلیں۔

[Tibyan-ul-Quran 2:49]