بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يٰمُوۡسٰى لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَـكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهۡرَةً فَاَخَذَتۡكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ‏

اور جب تم نے کہا : اے موسیٰ ! ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ ہم اللہ کو اپنے سامنے دیکھ لیں ‘ سو تم کو ایک کڑک نے پکڑ لیا اور تم (اس منظر کو) دیکھ رہے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب تم نے کہا : اے موسیٰ ! ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ (البقرہ : ٥٥)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معذرت کے لیے ستر بنواسرائیل کو طور پر لے جانا :
امام محمد بن جریر طبری (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
امام محمد بن اسحاق (رح) نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف لوٹے اور بچھڑے کی عبادت کرنے پر بنو اسرائیل کو ملامت کی اور بچھڑے کو جلا کر اس کے ذرات کو سمندر میں ڈال دیا ‘ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت میں سے انتہائی نیک افراد جن کی تعداد ستر تھی ‘ سے فرمایا : تم میرے ساتھ اللہ سے ملاقات کے لیے چلو اور اپنی اس گؤسالہ پرستی پر اللہ تعالیٰ سے معذرت کرو ‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر پہاڑ طور پر گئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : آپ اپنے رب سے یہ سوال کریں کہ ہم بھی اپنے رب کو کلام سن لیں ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اچھا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب پہاڑ کے قریب پہنچے تو ایک بادل آیا اور اس نے پورے پہاڑ کو ڈھانپ لیا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس بادل میں داخل ہوگئے اور قوم سے کہا : تم قریب آجاؤ ‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب سے ہم کلام ہوتے تو ان کی پیشانی پر بہت چمکدار نور ظاہر ہوتا جس کو دیکھنے کی کوئی انسان تاب نہیں لاسکتا تھا ‘ تو وہ اپنی پیشانی پر نقاب ڈال لیتے تھے ‘ جب قوم اس بادل کے اندر داخل ہوئی تو سجدہ میں گرگئی ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے کلام کررہے تھے اور وہ سن رہے تھے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فارغ ہوئے اور بادل چھٹ گیا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے : ہم ہرگز اللہ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو بالکل ظاہر عیاں اور بیان دیکھ نہ لیں اسی وقت ان پر بجلی کی ایک کڑک آپڑی اور وہ سب مرگئے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور عرض کیا : اے اللہ ! اگر تو چاہتا تو انکو پہلے ہی ہلاک کردیتا ‘ جب میں اپنی قوم کے پاس جاؤں گا تو میری کیسے تصدیق کریں گے کہ وہ کڑک سے ہلاک ہوگئے اور آئندہ مجھ پر کب اعتماد کریں گے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مسلسل دعا کرتے رہے ‘ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان میں روحیں لوٹا دیں پھر بنو اسرائیل نے جو بچھڑے کی پرستش کی تھی اس پر توبہ کی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب تک کہ یہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں فرمائے گا۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٣٢۔ ٢٣١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ کی دیدار کو طلب کرنا جائز ہے لیکن بنواسرائیل نے چونکہ سرکشی اور عناد سے دیدار طلب کیا تھا اس لیے ان کو بجلی کی کڑک کا عذاب ہوا اہل سنت کے نزدیک اللہ تعالیٰ کو دیکھنا جائز ہے اور آخرت میں مسلمان اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے معتزلہ اس کے منکر ہیں ‘ سورة اعراف : ١٤٣ میں انشاء اللہ اس کی مفصل بحث آئے گی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا۔ (البقرہ : ٥٦)
ستر اسرائیلیوں کا دوبارہ زندہ ہونا ان کے مکلف ہونے کے منافی نہیں :
ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” قالوا ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “۔ (المؤمن : ١١)
ترجمہ : وہ کہیں گے : اے رب ! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار تو نے ہمیں زندہ فرمایا۔
پہلے انسان بےجان مٹی کی صورت میں یا بےجان نطفہ کی صورت میں تھا ‘ پھر اس کو زندہ کیا ‘ پھر اس پر طبعی موت آئی اور اس کو پھر آخرت میں زندہ کیا ‘ اس طرح ہر انسان کے لیے دو موتیں اور دو حیاتیں ہیں اور ان بنواسرائیل کے لیے تین موتیں اور تین حیاتیں ہوگئیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام عادت جاریہ یہی ہے کہ ہر شخص پر دو بار موت آتی ہے لیکن کبھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے اپنی عادت کے خلاف بھی کرتا ہے جیسا کہ عام عادت یہ ہے کہ انسان کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کرتا ہے لیکن حضرت عسی (علیہ السلام) کو بغیر مرد کے ‘ حضرت حوا (علیہ السلام) کو بغیر عورت کے اور حضرت آدم کو مرد اور عورت دونوں کے بغیر پیدا کردیا ‘ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں کی مدت عمر علم الہی میں پوری ہوچکی تھی ان کو دنیا میں دوبارہ زندگی نہیں دی جاتی ‘ اور جن لوگوں کی مدت عمر علم الہی میں ابھی باقی تھی اور بہ طور سزا یا کسی دوسری حکمت کی وجہ سے ان پر اجل سے پہلے موت طاری کی گئی ان کو مرنے کے بعد دنیا میں دوبارہ زندگی عطا کی جاتی ہے اور ان ستر بنواسرائیل پر موت کے بعد حیات طاری کرنا اسی قبیل سے تھا ‘ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نبیوں کی دعا سے مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ ان ستر بنو اسرائیل کو زندہ کرنے کے بعد ان کو پھر مکلف کیا گیا حالانکہ مرنے کے بعد زندہ کرکے دوبارہ مکلف کرنا کیوں جائز نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دوبارہ مکلف نہ کرنے کی وجہ صرف مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان احوال آخرت کا مشاہدہ کرلیتا ہے ‘ جنت کی راحت یا دوزخ کے عذاب کو جان لیتا ہے اور اب آخرت پر ایمان اس کے نزدیک بدیہی اور ضروری ہوجاتا ہے اور اس میں عقل کی آزمائش اور امتحان کا کوئی دخل نہیں رہتا ‘ اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ ان ستر بنواسرائیل نے مرنے کے بعد احوال آخرت کا مشاہدہ نہ کیا ہو اور عام لوگوں پر موت کے بعد جو واردات مرتب ہوتی ہیں وہ ان پر مرتب نہ ہوئی ہوں ‘ اس لیے ان کو دوبارہ مکلف کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بنو اسرائیل کی خصوصیت ہو کیونکہ بنواسرائیل کو ایسی نشانیاں دکھائی گئیں جن کے بعد عقل کی آزمائش کا دخل نہیں رہتا ‘ اس کے باوجود ان کو مکلف کیا گیا ‘ مثلا انہوں نے دیکھا کہ پہاڑ ان کے اوپر ہوا میں معلق ہوگیا ہے ‘ اسی طرح چالیس سال تک بادل کا ان پر سایا کرنا ‘ ان پر من اور سلوی کا نازل ہونا ‘ نیز حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے بھی عذاب کے آثار دیکھ لیے تھے اور اس کے بعد وہ ایمان لائے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے تم پر بادل کو سایہ فگن کیا اور تم پر من اور سلوی کو نازل کیا۔ (البقرہ : ٥٧)
میدان تیہ میں بنواسرائیل کی سرگردانگی کا پس منظر وپیش منظر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان :
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
بنواسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ جبارین کے شہر میں داخل ہوں اور ان کے خلاف جہاد کریں ‘ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : آپ اور آپ کا رب ان سے جنگ کریں ‘ ہم یہیں بیٹھے رہیں گے ‘ ان کی اس گستاخی کی سزا کے طور پر ان کو میدان تیہ میں چالیس سال تک سرگرداں رکھا گیا ‘ میدان تیہ مصر اور شام کے درمیان پانچ چھ فرسخ (ایک فرسخ تین شرعی میل کا ہوتا ہے) کا ایک وسیع و عریض میدان ہے۔ اس کی تفصیل اور پس منظر اس طرح ہے :
بنی اسرائیل کا اصل وطن ملک شام تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ مصر آکر مقیم ہوئے۔ فرعون مصر کی غلامی کا دور بھی ان لوگوں نے مصر میں گزارا ‘ بالآخر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے انہیں نجات عطا فرمائی ‘ فرعون سمندر میں غرق ہوا اور بنی اسرائیل نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس دوران ملک شام پر قوم عمالقہ قابض ہوچکی تھی ‘ فرعون کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے جہاد کرکے ان سے اپنا وطن آزاد کرائیں۔ بنی اسرائیل جہاد کے لیے ملک شام کی طرف روانہ ہوئے ‘ جب یہ عمالقہ کی حدود کے قریب پہنچے تو ان کی قوت اور طاقت کا حال سن کر ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے منہ موڑ کر واپس لوٹے ‘ اللہ تعالیٰ نے انکے اس جرم کی سزا یوں دی کہ وہ اپنے گھروں تک جانے کی فکر میں دن بھر سفر کرتے ‘ رات بسر کرنے کے بعد صبح کو اپنے آپ کو وہیں پاتے جہاں سے گزشتہ صبح انہوں نے سفر کا آغاز کیا ہوتا ‘ اسی پریشان حالی کے عالم میں چالیس سال انہوں نے میدان تیہ میں گزار دیئے۔ اس وادی میں نہ کوئی سایا دار درخت تھا اور نہ ہی کوئی عمارت ‘ نہ پینے کے لیے پانی نہ کھانے کے لیے کوئی چیز ‘ نہ ضروریات زندگی کے دیگر لوازمات ‘ اس بےسروسامانی کے عالم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان کے لیے سب سامان مہیا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے دھوپ سے بچاؤ اور سایا کے حصول کے لیے بادل بطور سائبان نازل فرما دیا ‘ کھانے کے لیے کوئی چیز ‘ نہ ضروریات زندگی کے دیگر لوازمات ‘ اس بےسروسامانی کے عالم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ان کے لیے سب سامان مہیا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے دھوپ سے بچاؤ اور سایا کے حصول کے لیے باد بطور سائبان نازل فرما دیا ‘ کھانے کے لیے من وسلوی بھیج دیا ‘ من وسلوی کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ‘ صحیح قول یہی ہے کہ من سے مراد ترنجبین ہے جو ایک نفیس شیریں ذائقہ دار مادہ تھا جو شبنم کی طرح صبح کے وقت آسمان سے اترتا اور کثیر مقدار میں چھوٹے چھوٹے درختوں پر منجمد ہوجاتا تھا۔
سلوی کے بارے میں بھی متعدد اقوال ہیں ‘ صحیح قول یہی ہے کہ وہ بٹیر تھا ‘ بعض نے کہا کہ وہ بھنا ہوا اترتا تھا اور بعض کا قول ہے کہ بکثرت زندہ پرندے ان کے پاس جمع ہوجاتے تھے ‘ وہ انہیں زندہ پکڑ لیتے اور ذبح کرتے تھے ‘ الغرض من وسلوی ان کی شیریں اور نمکین غذائیں تھیں جنہیں کھاتے تھے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پتھر پر عصا مارا اور اس سے پانی کے چشمے جاری ہوگئے۔ تاریکی دور کرنے کے لیے عمودی شکل میں ایک روشنی ظاہر ہوجاتی تھی۔ لباس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ اس طرح دکھایا کہ نہ ان لوگوں کے کپڑے میلے ہوتے نہ پھٹتے اور ان کے بچوں کے جسم کے ساتھ ساتھ بچوں کا لباس بڑھتا رہتا تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٤٠٨۔ ٤٠٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے کہا : اس شہر میں داخل ہو اور اس میں تم جہاں سے چاہو بلا روک ٹوک کھاؤ اور دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہونا اور یہ کہو :” حطۃ “ (ہمارے گناہ معاف فرما) ۔ (البقرہ : ٥٨)
بنواسرائیل کا ” حطۃ “ کو ” حنطۃ “ کہنا۔
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
جمہور کے قول کے مطابق اس شہر سے مراد بیت المقدس ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مرادا ریحا ہے ‘ ابن کیسان نے کہا : اس سے مراد شام ہے اور ضحاک نے کہا : اس سے مراد رملہ ہے یعنی اردن اور فلسطین۔ اس آیت میں ایک اور نعمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو میدان تیہ سے نجات دی اور بیت المقدس میں داخل ہونے کا موقع عنایت فرمایا ‘ اس کی تفصیل اس جیسا کہ پچھلی آیت میں بیان فرمایا ہے بنواسرائیل چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں رہے ‘ اس عرصہ میں پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوگئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) نے قوم عمالقہ سے جہاد کیا اور جو بنواسرائیل زندہ بچ گئے تھے ‘ انہوں نے حضرت یوشع بن نون کا ساتھ دیا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا فرمائی اور چالیس سال بعد بنو اسرائیل کو میدان تیہ سے نجات حاصل ہوئی ‘ جب بیت المقدس میں فاتحانہ شان سے داخل ہونے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیت المقدس کے دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور حطۃ (ہمارے گناہوں کو معاف فرما) کہتے ہوئے داخل ہونا ‘ مگر یہ لوگ اللہ کے حکم کے برخلاف سرین کے بل گھسٹتے ہوئے اور ” حنطۃ “ یا ” حنطۃ فی شعرۃ “ (گندم ‘ گندم بالی میں) کہتے ہوئے داخل ہوئے ‘ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ان کو گندم چاہیے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٤١١۔ ٤٠٩ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو قول کہنے کے لیے ان سے کہا گیا تھا اس کو ظالموں نے بدل دیا ‘ پس ہم نے ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔ (البقرہ : ٥٩)
بنواسرائیل پر طاعون کا عذاب :
امام ابن جریر طبری (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
ابن زید نے بیان کیا کہ جب بنواسرائیل سے کہا گیا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور وہ سرین کے بل داخل ہوئے اور حطۃ کی جگہ انہوں نے حنطۃ کہا تو طاعون کی وبا کی شکل میں ان پر آسمانی عذاب آیا جس سے ان کے تمام بڑے لوگ ہلاک ہوگئے اور ان کے بیٹے بچ گئے اور بنواسرائیل میں جس فضل اور عبادت کا ذکر کیا جاتا ہے وہ ان کے بیٹوں میں تھا اور ان کے تمام آباء و اجداد طاعون کی اس وبا میں ہلاک ہوگئے تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٤٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ اس طاعون سے ستر ہزار بنو اسرائیل ہلاک ہوئے تھے۔
(الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٤١١‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
طاعون کے متعلق احادیث :
حافظ سیوطی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام احمد (رح) امام ابن جریر (رح) امام نسائی (رح) اور امام ابن ابی حاتم (رح) ‘ حضرت سعید بن مالک (رض) ‘ حضرت اسامہ بن زید (رض) اور حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ طاعون گندگی ہے اور تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا ان کا بچا ہوا عذاب ہے ‘ اگر کسی علاقہ میں طاعون پھیلے اور تم وہاں ہو تو تم وہاں سے مت نکلو اور اگر تم کو یہ خبر پہنچے کہ فلاں علاقہ میں طاعون ہے تو تم وہاں نہ جاؤ۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٧٢‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٥٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
نیز امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طاعون کے متعلق دریافت کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ عذاب ہے ‘ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اس کو بھیج دیتا ہے اس کو بھیج دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو مومنین کے لیے رحمت بنادیا ‘ جس بندہ کے شہر میں طاعون واقع ہو اور وہ صبر کے ساتھ وہیں ٹھہرا رہے اور اس کا ایمان ہو کہ اس کو وہی مصیبت پہنچے گی جو اس کی تقدیر میں ہے تو اس کو ایک شہید کا اجر ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٥٤۔ ٨٥٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٩٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام ابن ماجہ (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے مہاجرین کی جماعت ! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہوگئے (اور میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم ان میں مبتلاہو) تو تم پر مختلف عذاب نازل ہوں گے ‘ جب قوم علانیہ بدکاری کرنے لگے تو اس میں طاعون پھیل جاتا ہے اور ایسے دردوں والی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہیں تھیں اور جو قوم ناپ اور تول میں کمی کرتی ہے اس میں قحط سالی ‘ سخت مشقت اور ظالم حکومت نازل کی جاتی ہے اور جو لوگ زکوۃ ادا نہیں کرتے وہ بارش سے محروم کردیے جاتے ہیں ‘ اور اگر جانور نہ ہوتے تو ان پر بارش بالکل نہ ہوتی ‘ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے عہدشکنی کرتے ہیں ‘ ان پر ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا جاتا ہے جو ان کے بعض اموال کو لوٹ لیتے ہیں اور جو ائمہ اور حکمران کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے اور آپس کی جنگوں کے خوف میں مبتلا رہیں گے۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ٢٩٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی )
طاعون کے متعلق قدیم علماء اور جدید میڈیکل سائنس کی تحقیق :
علامہ نووی (رح) لکھتے ہیں :
طاعون جسم میں نکلنے والی گلٹیاں ہیں ‘ یہ گلٹیاں ‘ کہنیوں ‘ بغلوں ‘ ہاتھوں ‘ انگلیوں اور سارے بدن میں نکلتی ہیں ‘ اس کے ساتھ سو جن ہوتی ہے اور سخت درد ہوتا ہے ‘ یہ گلٹیاں جلن کے ساتھ نکلتی ہیں اور اور ان کی جگہ سیاہ ‘ سرخ یا سبز ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے طبیعت میں گھبراہٹ ہوتی ہے۔ (شرح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٢٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
جدید میڈیکل سائنس کی تحقیق یہ ہے کہ طاعون کی بیماری کی اصل وجہ ایک خوردبینی جرثومہ یریسیمیا پیسٹس (YARISIMIAPASTIS) ہے ‘ جو ایک پسو نما کیڑے میں پرورش پاتا ہے ‘ یہ پسوزیادہ تر چوہوں اور چوہوں کی اقسام کے جانوروں میں پائے جاتے ہیں اور یہ چوہے کی کھال کے ساتھ مضبوطی سے چمٹے ہوتے ہیں، جب یہ چوہے طاعون زدہ پسو کو سوار کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں ‘ یا مرجاتے ہیں تو پسو دوسرے جانوروں یا انسانوں میں منتقل ہوجاتے ہیں اور بیماری کا باعث بنتے ہیں ‘ بیماری زیادہ تر ان ہی پسوؤں کے کاٹنے سے جنم لیتی ہے ‘ اس کے علاوہ یہ بیماری دوسرے ذرئع سے بھی ہوتی ہے ‘ اس میں ہوا کے ذریعے جرثومہ کی بیمار آدمی سے تندرست آدمی تک منتقلی یا جرثومہ کا کسی اور جانور میں منتقل ہونا اور بعد ازاں بیماری کی وجہ بننا شامل ہے۔
طاعون کی علامت دو طرح سے نمودار ہوتی ہے۔
(١) غدودی طاعون : یہ پسوؤں کے کاٹنے سے ہوتا ہے ‘ اس میں مرض بڑھے ہوئے غدودوں کے ساتھ آتا ہے ‘ ساتھ ساتھ اس کو بخار ‘ سر میں درد ‘ سستی اور پیٹ کی تکلیف وغیرہ بھی ہوتی ہے ‘ غدودوں کا سائز ایک سم سے دس سم تک ہوتا ہے ‘ یہ غدود زیادہ ترچڈھوں کے حصہ میں پائے جاتے ہیں ‘ اس کے علاوہ بغل اور گردن میں بھی پائے جاسکتے ہیں ‘ یہ بالائی کھال اور زیریں حصہ سے جڑے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ ہلائے جاسکتے ہیں ‘ بالائی کھال زیادہ تر سرخ ہوجاتی ہے ‘ غدودوں کے ظاہر ہونے سے پہلے بخار اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے ‘ غدودوں کے ظہور کے ساتھ متلی ‘ الٹی اور دست کی علامات بھی ہوسکتی ہیں اگر اس مرحلہ پر علاج نہ کیا جائے تو یہ جرثومے سارے جسم میں پھیل جاتے ہیں اور موت کا باعث ہوتے ہیں۔
(٢) نیمونی طاعون : یہ طاعون ہوا کے ذریعے بیمار سے تندرست میں منتقل ہوتے ہیں ‘ اس قسم کے طاعون میں پھیپھڑے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور مریض میں نمونیہ کی علامات ہوتی ہیں اس میں بخار ‘ کھانسی اور سانس کا تیز چلنا شامل ہوتا ہے ‘ اگر بروقت علاج نہ ہو تو بیماری شدت اختیار کرلیتی ہے جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ تھوک میں خون آنے لگتا ہے اور بالآخر پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مرض کی تشخیص میں لیبارٹری کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ زیادہ ترتشخیص مرض کی علامات اور وبائی شکل میں موجودگی سے ہی ہوجاتی ہے۔
طاعون کا علاج :
مرض کا علاج فوری طور پر اینٹی بائیوٹک (ANTIBIOTICES) سے کیا جاتا ہے جس میں ٹیڑا سائیکلین (TETRACYCLINE) اسٹرپٹومائی سین (STRIPTOMYCIN) اور کلورومائی سی ٹن (CLORUOMYCTIN) شامل ہیں۔ جب طاعون کی وباء پھیل جائے تو مادی اسباب بھی اختیار کرنا چاہئیں ‘ شہر کو گندگی اور چوہوں سے صاف کیا جائے اور فورا کسی قابل ڈاکٹر کے مشورہ سے علاج کیا جائے اور باقی صحت مند افراد کو مریض سے الگ رکھا جائے اور روحانی اسباب بھی اختیار کرنے چاہئیں۔ اپنے اپنے گناہوں کو فورا ترک کردیا جائے اور ان پر توبہ اور استغفار کیا جائے۔
علامہ ابن قیم (رح) نے لکھا ہے کہ ارواح خبیثہ کی تاثیرات سے بھی طاعون ہوجاتا ہے اور اس کو دفع کرنے واحد طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ کثرت ذکر کیا جائے اور اللہ تعالیٰ سے گڑا گڑا کر دعا کی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ارواح طیبہ کا نزول ہوتا ہے اور وہ ارواح خبیثہ کے شر کو دور کردیتی ہے۔ (زادالمعاد ج ٣ ص ٧٦۔ ٧٥‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ١٣٦٩ ھ)

[Tibyan-ul-Quran 2:55]