بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَادُوۡا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـِٕـيۡنَ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًـا فَلَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡۚ وَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ

بیشک ایمان والے (مسلمان) یہودی ‘ عیسائی اور صابئین جو بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

صابئین کے دین کی تحقیق :
صابئین کا لفظ صباء سے بنا ہے علامہ ابن جریر اس کے متعلق لکھتے ہیں :
جو شخص ایک دین کو ترک کرکے دوسرے دین کو اختیار کرلے اس کو لغت میں صابئی کہتے ہیں ‘ مجاہد (رح) نے کہا : صابئی وہ لوگ ہیں جن کا کوئی دین نہ ہو۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ صابئی ‘ مجوس اور یہود کے درمیان ایک قوم ہے ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے ‘ حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ صابئی فرشتوں کی پرستش کرتے ہیں ‘ ابوالعالیہ نے کہا : صابئین اھل کتاب کا ایک فرقہ ہے جو زبور کو پڑھنے والا ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٥٣۔ ٢٥٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
اسحاق (رح) نے کہا : صابئین اھل کتاب کا ایک فرقہ ہے ‘ امام ابو حنفیہ (رح) نے کہا : ان کا ذبیحہ کھانے اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ١ (علامہ ابواللیث سمرقندی حنفی نے لکھا ہے کہ امام ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) نے نزدیک ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ فرشتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ١٢٥) منہ
خلیل نے کہا : ان کا دین دین نصاری کے مشابہ ہے ‘ جنوب کی ہوا کی طرف ان کا قبلہ ہے اور ان کا زعم یہ ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دین پر ہیں ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا : ان کا ذبیحہ نہ کھایاجائے۔ ہمارے علماء نے جو ان کے متعلق بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ صابی موحد ہیں اور ستاروں کی تاثیر کا اعتقاد رکھتے ہیں ‘ اسی وجہ سے ابوسعید اصطخری نے ان کی تکفیر کی ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٤٣٥۔ ٤٣٤‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
علامہ بیضاوی (رح) نے ان اقوال کے علاوہ یہ قول نقل کیا ہے کہ صابئی ستارہ پرست ہیں۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ‘ ٧٩ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
علامہ آلوسی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
صابئین کے کئی فرقے ہیں ‘ روم کے صابئی ستارہ پرست ہیں ‘ ھند کے صابئی بت پرست ہیں ‘ امام ابوحنفیہ (رض) فرماتے ہیں کہ صابئی بت پرست نہیں ہیں ‘ یہ ستاروں کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں جس طرح ہم کعبہ کی تعظیم کرتے ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ موحد ہیں اور ستاروں کی تاثیر کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ (روح المعانی ج ١ ص ‘ ٢٧٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
علامہ شامی لکھتے ہیں :
صابۂ کا ذبیحہ حلال ہے کیونکہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اقرار کرتے ہیں۔ (قھستانی) اور بدائع میں مذکور ہے ‘ ان کی کتاب زبور ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان کے کئی فرقے ہوں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ١٨٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
اغلب یہی ہے کہ صابئین کے کئی فرقے ہیں ان کے متعلق جتنے اقوال ہیں ‘ ان کے اتنے ہی فرقے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) جس فرقے کے متعلق کہا کہ ان کاذبیحہ جائز ہے وہ حکما اھل کتاب ہیں ‘ تمام صابئین کے متعلق امام اعظم کا یہ فتوی نہیں ہے۔
ایمان لائے ہوئے لوگوں کے ایمان لانے کی توجیہ :
اس آیت میں دوسری تحقیق طلب بات یہ ہے کہ بیشک جو لوگ ایمان لائے یہودی ‘ عیسائی اور صابئی ان میں سے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ان کو کوئی غم اور خوف نہیں ہوگا ‘ تو جو ایمان لاچکے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا کس طرح درست ہوگا ‘ ان میں جو ایمان لائے ‘ کیونکہ ایمان لائے ہوئے لوگوں کا پھر ایمان لانا تحصیل حاصل ہے۔ اس سوال کے متعدد جوابات ہیں :
(١) (آیت) ” ان الذین امنوا “ سے مراد یہ ہے کہ جو زبان سے ایمان لائے اور (آیت) ” من امن باللہ “ سے مراد ہے : دل سے ایمان لائیں یعنی جو لوگ صرف زبان سے ایمان لائے ہیں جیسے منافقین ان میں سے جو دل سے ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں تو ان کو کوئی خوف اور غم نہیں ہوگا ‘ اس آیت کی نظیر یہ آیت ہے :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ “ (النساء : ١٣٦)
ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔
یعنی جو صرف زبان سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں وہ دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں۔
(٢) (آیت) ” ان الذین امنوا “ سے مراد یہ ہے کہ جو ماضی میں اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ” من امن باللہ “ سے مراد یہ ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے میں برقرار اور ثابت قدم رہیں۔
(٣) حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ (آیت) ” ان الذین امنوا “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے اور یہود اور نصاری نے جو دین میں باطل چیزیں داخل کرلی ہیں ان سے بری تھے ‘ مثلا قس بن ساعدہ ‘ بحیرہ راھب ‘ حبیب النجار ‘ زید بن عمرو بن نفیل ‘ ورقہ بن نوفل ‘ سلمان فارسی اور نجاشی کا وفد ‘ گویا کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا : جو لوگ بعثت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ایمان لائے تھے ‘ اور یہود و نصاری میں سے جو ادیان باطلہ پر ہیں ‘ ان میں سے جو بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آیا اس کو آخرت میں خوف اور غم نہیں ہوگا۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٦٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
آیا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے سے موجودہ یہودیوں اور عیسائیوں کی نجات ہوجائے گی ؟
اس آیت سے یہ اشکال ہوتا ہے کہ نجات کے لیے مسلمان ہونا اور حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ مسلمان ‘ یہودی ‘ عیسائی ‘ اور صابئی جو بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئیں اور نیک کام کریں ‘ ان کو آخرت میں خوف اور غم نہیں ہوگا اور موجودہ یہودی اور عیسائی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ‘ لہذا ان میں سے جو بھی نیک کام کرنے والے ہیں ان سب کی نجات ہوگی۔
اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ ” من امن باللہ “ ا معنی ہے کہ اللہ پر صحیح ایمان لائیں اور اللہ پر ایمان اسی وقت صحیح ہوگا جب اللہ تعالیٰ کے ہر قول اور اس کے ہر حکم کو مان لیا جائے اور جب تک سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کا رسول اور آپ کو خاتم النبیین نہ مان لیا جائے اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں ہوگا ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” محمد رسول اللہ “۔ (الفتح : ٢٩)
ترجمہ : محمد اللہ کے رسول ہیں۔
(آیت) ” ماکان محمد ابااحدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین “۔ (الاحزاب : ٤٠ )
ترجمہ : محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور سب نبیوں کے آخر ہیں۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ جب تک سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کا رسول اور آخری نبی نہ مان لیا جائے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا صحٰح نہیں ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “۔ (آل عمران : ١٩)
ترجمہ : بیشک اللہ کے نزدیک اسلام ہی دین ہے۔
(آیت) ” ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔ (التوبہ : ٣٣)
ترجمہ : وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر دین پر غالب کر دے ‘ خواہ مشرکین پسند نہ کریں۔
(آیت) ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ ‘ وھو فی الاخرۃ من الخسرین “۔ (آل عمران : ٨٥)
ترجمہ : اور جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین کو طلب کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ جب تک کوئی یہودی ‘ عیسائی یا صابئی اپنے مذہب کو ترک کر کے اسلام کو قبول نہیں کرے گا اس کا اللہ پر ایمان نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ اس کے نزدیک اسلام کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں ہے۔
نیز یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ کسی ایک آیت یا کسی ایک حدیث کو دیکھ کر کوئی نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے ‘ جب تک کہ اس موضوع سے متعلق تمام آیات اور احادیث کا مطالعہ نہ کرلیا جائے ‘ کیونکہ بعض آیات مجمل ہوتی ہیں اور ان کی تفصیل دوسری آیات میں ہوتی ہے ‘ بعض آیات بہ ظاہر متعارض ہوتی ہیں اور ان میں کسی دقیق وجہ سے تطبیق ہوتی ہے اور بعض آیات منسوخ اور بعض ناسخ ہوتی ہے ‘ بعض آیات عام ہوتی ہیں اور بعض دوسری آیات ان کے لیے مخصص ہوتی ہیں اور یہی حال احادیث کا ہے اس لیے کسی ایک آیت یا کسی ایک حدیث کو دیکھ کر نتیجہ نکلنا صحیح نہیں ہے۔
نجات کے لیے صرف دین کی طرف منسوب ہونا کافی نہیں ہے۔
علامہ رشید رضا لکھتے ہیں :
امام ابن جریر (رح) اور امام ابن ابی حاتم (رح) نے سدی سے روایت کیا ہے کہ مسلمان یہود اور نصاری آپس میں ملے ‘ یہود نے مسلمانوں سے کہا : ہم تم سے بہتر ہیں ‘ ہمارا دین تم سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تم سے پہلے ہے اور ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے ہیں اور ہم ہی دین ابراہیم پر ہیں اور جنت میں صرف یہودی ہی داخل ہوں گے ‘ نصاری نے بھی اسی طرح کہا ‘ مسلمانوں نے کہا : ہماری کتاب تمہاری کتاب کے بعد ہے ‘ اور ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے نبی کے بعد ہیں اور ہمارا دین تمہارے دین کے بعد ہے اور تم کو اپنے دین کے ترک کرنے اور ہمارے دین کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ اس لیے ہم تم سے بہتر ہیں ‘ ہم ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے دین پر ہیں اور جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جو ہمارے دین پر ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیا تنازل فرمائیں :
(آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب، من یعمل سوئا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا۔ ومن یعمل من الصلحت من ذر او انثی وھو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا “۔۔ (النساء : ١٢٤۔ ١٢٣)
ترجمہ : تمہاری خواہشوں پر (کچھ موقوف ہے) نہ اھل کتاب کی امیدوں پر ‘ جو برا کام کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور وہ اللہ کے سوا کوئی حمائتی اور مددگار نہ پائے گا۔ اور جو حالت ایمان میں نیک کام کریں گے ‘ خواہ مرد ہو یا عورت تو وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔۔ (المنارج ١ ص ٣٣٦‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت)
خلاصہ یہ ہے کہ یہود اور نصاری کا یہ دعوی کرنا باطل ہے کہ جنت ان کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ کسی مسلمان کا محض زبانی ایمان کا دعوی کرنا کافی ہے بلکہ جو اللہ اور اس کے رسول پر صحیح ایمان کے ساتھ نیک عمل کرے گا وہ جنتی ہوگا ‘ اسی نہج پر یہ آیت ہے کہ جو لوگ محض زبان سے اسلام کا دعوی کرتے ہیں ‘ اور یہودی ‘ عیسائی ‘ اور صابئی ان کا محض زبان سے اسلام کا دعوی کرنا ‘ یا کسی کا یہودی ہونایا کسی کا عیسائی ہونا یا کسی کا صابئی ہونا نجات کا سبب نہیں ہے ‘ نجات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ پر صحیح ایمان لائیں اور آخرت کو مانیں بایں طور کہ حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری نبی مانیں اور پچھلے تمام ادیان کو منسوخ مانیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی پیروی کریں اور ان کو آخرت میں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

[Tibyan-ul-Quran 2:62]