بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَتَطۡمَعُوۡنَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا لَـكُمۡ وَقَدۡ كَانَ فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَسۡمَعُوۡنَ کَلَامَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوۡنَهٗ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا عَقَلُوۡهُ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏

(اے مسلمانو ! ) کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہاری خاطر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان کا ایک فریق اللہ کا کلام سنتا تھا پھر اس کو سمجھنے کے باوجود اس میں دانستہ تبدیلی کردیتا تھا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مسلمانو ! ) کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہاری خاطر ایمان لے آئیں گے ؟۔ (البقرہ : ٧٥)
آیات مذکورہ کا شان نزول :
جب کسی چیز کی بہت زیادہ رغبت ہوتی ہے اور انسان اس کے حصول کی قوی امید کرلیتا ہے تو اس کو طمع کہتے ہیں ‘ ہم نے اس کا ترجمہ توقع کیا ہے۔ علامہ او الحیان اندلسی لکھتے ہیں : اس آیت کے شان نزول میں دو قول ہیں :
(١) یہ آیت ان انصار کے متعلق نازل ہوئی ہے جو یہود کے حلیف تھے ‘ وہ ان کے پڑوسی بھی تھے اور ان کے درمیان رضاعت بھی تھی وہ یہ چاہتے تھے کہ یہ یہودی مسلمان ہوجائیں۔
(٢) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان یہ خواہش رکھتے تھے کہ ان کے زمانہ میں جو یہودی ہیں وہ مسلمان ہوجائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور ان کے پاس شریعت تھی ‘ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ نرمی کرتے تھے اور ان کی وجہ سے دوسروں پر سختی کرتے تھے تاکہ وہ یہودی مسلمان ہوجائیں۔ (البحر المحیط ج ١ ص ‘ ٤٣٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١١ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حالانکہ ان کا ایک فریق اللہ کا کلام سنتا تھا ‘ پھر اس کو سمجھنے کے باوجود اس میں دانستہ تبدیلی کردیتا تھا۔۔ (البقرہ : ٧٥)
بنواسرائیل کی تحریف کا بیان :
اس آیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ ایک فریق اللہ کا کلام سنتا تھا اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے بلاواسطہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تھا اور پھر اس میں تبدیلی کی اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کلام اللہ سے مراد تورات ہے جس میں وہ تحریف کرتے تھے۔ پہلے قول کے متعلق امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
امام محمد بن اسحاق (رح) بیان کرتے ہیں کہ مجھے بعض اہل علم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے دیدار اور ہمارے درمیان کڑک حائل ہوگئی لیکن جب اللہ تعالیٰ آپ سے ہم کلام ہو تو آپ ہمیں اس کا کلام سنا دیں ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول فرما لیا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تم غسل کرو ‘ صاف کپڑے پہنو اور روزے رکھو ‘ پھر وہ ان کو لے کر کوہ طور پر آئے ‘ جب بادل نے ان کو ڈھانپ لیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : سجدہ میں گرجائیں ‘ وہ سجدہ میں گرگئے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے کلام کیا اور انہوں نے اس کلام کو سنا ‘ اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کا امر کیا اور بعض چیزوں سے منع کیا ‘ انہوں نے اس کو سن کر سمجھ لیا ‘ جب بنواسرائیل کے پاس پہنچے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا حکم دیا ہے اور اس چیز سے منع کیا ہے ‘ تو ان لوگوں نے اس میں تحریف کردی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بتائے ہوئے احکام کو بدل دیا۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٩١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
امام ابن جوزی (رح) اس روایت پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
بعض اہل علم نے اس روایت کا شدید انکار کیا ہے ‘ ان میں سے امام ترمذی صاحب ” نوادرالاصول “ بھی ہیں انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کے کلام کو بلاواسطہ سننا صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت ہے ‘ ورنہ ان میں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں کیا فرق رہے گا ؟ اس قسم کی احادیث کو کلبی نے روایت کیا ہے اور وہ جھوٹا شخص ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ١٠٣ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)
دوسرے قول کے متعلق امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
ابن زید نے کہا : اس کلام اللہ سے مراد تورات ہے ‘ بنو اسرائیل اس میں تحریف کرکے اس کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے تھے اور حق کو باطل اور باطل کو حق بیان کرتے تھے۔ جب ان کے پاس صاحب حق رشوت لے کر آتا تو کتاب سے اس کی منشاء کے مطابق مسئلہ بیان کرتے اور جب باطل پر قائم کوئی شخص ان کے پاس رشوت لے کر آتا تو کتاب سے اس کی مرضی کے مطابق حکم بیان کرتے ‘ اور جب کوئی شخص رشوت لے کر نہ آتا تو پھر کتاب سے صحیح حکم نکال کر بیان کردیتے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٩١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ ابن جریر (رح) فرماتے ہیں : زیادہ صحت کے قریب یہ ہے کہ تورات میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو صفات مذکور تھیں ان میں دانستہ تحریف کرتے تھے اور آپ کی صفات کو تبدیل کرکے بیان کرتے تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٩٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ تورات میں مذکور تھا کہ آپ کا گورا رنگ ہے اور متوسط قد ہے اور جب ان سے آخری نبی کی صفات پوچھی جاتیں تو یہ کہتے : ان کا سانولا رنگ ہے اور لمبا قد ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ٢٩٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم ایمان لے آئے۔ (البقرہ : ٧٦)
یہود کے نفاق کا بیان :
علامہ ابن جریر طبری (رح) لکھتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب منافقین یہود حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے ملتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور ابوالعالیہ اور قتادہ (رض) نے بیان کیا کہ جب یہ آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تمہاری کتاب میں جو (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات بیان کی گئی ہیں وہ تم مسلمانوں کے سامنے کیوں بیان کرتے ہو ‘ وہ اس بیان کو تمہارے خلاف بنالیں گے کہ جب یہ وہی آنے والے نبی ہیں تو تم ان پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟ (جامع البیان ج ١ ص ٢٩٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان میں سے بعض ان پڑھ ہیں جو زبانی پڑھنے کے سوا (اللہ کی) کتاب کا علم نہیں رکھتے۔ (البقرہ : ٧٨)
” امی “ اور ” امنیہ “ کا معنی
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کئی گمراہ فرقوں کا بیان فرمایا ہے ‘ پہلے اس فرقہ کا بیان کیا جو اللہ تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرتا ہے ‘ پھر دوسرے فرقہ کا بیان کیا جو منافقین ہیں ‘ پھر تیسرے فرقہ کا بیان کیا جو مجادلین (بحث میں ضد سے کام لینے والے) تھے اور یہ کہتے تھے کہ مسلمانوں کے سامنے تورات کی ایسی آیات بیان کرو جو خود تمہارے خلاف حجت ہوں ‘ اس کے بعد اب چوتھے فرقہ کا بیان کیا جو عوام اور ناخواندہ لوگ ہیں ‘ ان کو اللہ تعالیٰ نے امیین فرمایا ‘ امی وہ شخص ہے جو لکھتا ہو نہ پڑھتا ہو یعنی جس طرح مان کے بطن سے ناخواندہ پیدا ہوا تھا اسی حالت پر ہو اور کسی سے علم حاصل نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ کتاب کا علم نہیں رکھتے ماسوا ” امانی “ کے ” امانی “ ” امنیہ “ کی جمع ہے ‘ ” امنیہ “ کا ایک معنی ہے : پڑھنا ‘ یعنی یہ عام ان پڑھ لوگ صرف زبانی تورات کو پڑھ لیتے ہیں اس کا معنی نہیں جانتے ‘ جیسے ہمارے برصغیر میں عام خواندہ لوگ قرآن مجید کی عبارت کو معنی سمجھے بغیر پڑھتے ہیں ‘ اور اس کا دوسرا معنی ہے : تمنا اور آرزو ‘ یعنی ان کی تمنائیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا اور ان گناہوں پر گرفت نہیں فرمائے گا ‘ اور ان کے آباء و اجداد میں جو انبیاء ہیں وہ ان کی شفاعت کریں گے ‘ یا ان کے علماء کی جو تمنائیں تھیں کہ دوزخ کی آگ ان کو صرف چند دن جلائے گی ‘ یا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ سوائے ان جھوٹی اور من گھڑت باتوں کے کتاب کا علم نہیں رکھتے جو انہوں نے اپنے علماء سے سن لی ہیں اور ان کو بہ طور تقلید کے مانتے چلے آرہے ہیں ‘ لیکن یہاں ” امنیہ “ کو تمنا کے معنی پر محمول کرنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس کے بعد کی آیت میں ان کی اس تمنا کا ذکر آرہا ہے کہ ان کو صرف چند دن آگ جلائے گی۔ ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ کی پانچویں جلد میں امی کا معنی زیادہ تفصیل اور تحقیق سے بیان کیا ہے اور سورة اعراف میں ’ ان شاء اللہ “ اس پر مکمل بحث کریں گے ‘ اسی طرح انشاء اللہ سورة حج میں ” امنیہ “ کے معنی پر بحث کریں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس عذاب ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں۔ (البقرہ : ٧٩)
ویل کا معنی :
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں ؛
اصمعی نے کہا : ” ویل “ بری چیز ہے اور اس کا استعمال حسرت کے موقع پر ہوتا ہے اور ” ویح “ کا استعمال ترحم کے طور پر ہوتا ہے۔ (المفردات ص ٥٣٥‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
امام ابن جریر طبری (رح) اپنی اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” فویل لھم “ کا معنی ہے : ان پر عذاب ہوا ابوعیاض نے کہا : ویل اس پیپ کو کہتے ہیں جو جہنم کی جڑ میں گرتی ہے ‘ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا کہ ویل ‘ جہنم میں ایک پہاڑ ہے اور حضرت ابوسعید (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا کہ ویل جہنم میں ایک وادی ہے ‘ کافر اس کی گہرائی تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک گرتا رہے گا۔ ان احادیت اور آثار کے اعتبار سے ویل کا معنی یہ ہے کہ جو یہودی اپنی طرف سے لکھ کر کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہیں ان کو جہنم کی گہرائی میں اہل جہنم کی پیپ پینے کا عذاب ہوگا۔
(جامع البیان ج ١ ص ٣٠٠۔ ٢٩٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
ابو العالیہ نے کہا کہ یہود سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات میں تحریف کرتے تھے اور دنیاوی مال کی وجہ سے اس میں تبدیلی کرتے تھے ‘ حضرت عثمان بن عفان (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہود نے اپنی خواہش کے مطابق تورات میں احکام لکھ دیئے اور جو احکام ان کو ناپسند تھے ان کو انہوں نے تورات سے مٹا دیا ‘ نیز انہوں نے تورات سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام مٹا دیا ‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر غضب فرمایا۔ (جامع البیان ج ١ ص ٣٠١۔ ٣٠٠‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

[Tibyan-ul-Quran 2:75]