بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاتَّبَعُوۡا مَا تَتۡلُوا الشَّيٰطِيۡنُ عَلٰى مُلۡكِ سُلَيۡمٰنَ‌‌ۚ وَمَا کَفَرَ سُلَيۡمٰنُ وَلٰـكِنَّ الشَّيٰـطِيۡنَ كَفَرُوۡا يُعَلِّمُوۡنَ النَّاسَ السِّحۡرَ وَمَآ اُنۡزِلَ عَلَى الۡمَلَـکَيۡنِ بِبَابِلَ هَارُوۡتَ وَمَارُوۡتَ‌ؕ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنۡ اَحَدٍ حَتّٰى يَقُوۡلَاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡؕ‌ فَيَتَعَلَّمُوۡنَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُوۡنَ بِهٖ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَ زَوۡجِهٖ‌ؕ وَمَا هُمۡ بِضَآرِّيۡنَ بِهٖ مِنۡ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَيَتَعَلَّمُوۡنَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنۡفَعُهُمۡ‌ؕ وَلَقَدۡ عَلِمُوۡا لَمَنِ اشۡتَرٰٮهُ مَا لَهٗ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنۡ خَلَاقٍ‌ؕ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ‌ؕ لَوۡ کَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ

اور انہوں نے اس (جادو کے کفریہ کلمات) کی پیروی کی جس کو سلیمان کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کوئی کفر نہیں کیا ‘ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے ‘ وہ لوگوں کو جادو (کے کفریہ کلمات) سکھاتے تھے اور انہوں نے اس (جادو) کی پیروی کی جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا تھا اور وہ (فرشتے) اس وقت تک کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہتے : ہم تو صرف آزمائش ہیں تو تم کفر نہ کرو ‘ وہ ان سے اس چیز کو دیکھتے جس کے ذریعہ وہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کردیتے اور اللہ کی اجازت کے بغیر وہ اس (جادو) سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ‘ وہ اس چیز کو سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچائے اور ان کو نفع نہ دے ‘ اور بیشک وہ خوب جانتے تھے کہ جس نے اس (جادو) کو خرید لیا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ‘ اور کیسی بری چیز ہے وہ جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کرڈالا ہے کاش یہ جان لیتے

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف جادو کی نسبت کی تحقیق :

مدینہ کے یہود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ساحر اور جادوگر کہتے تھے اور جب ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا نبیوں میں ذکر فرماتے تو وہ اس پر طعن اور تشنیع کرتے اور کہتے کہ دیکھو ان کو کیا ہوا ہے کہ یہ سلیمان کا نبیوں میں ذکر کرتے ہیں حالانکہ سلیمان محض جادوگر تھے ‘ امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور حکومت میں شیطان آسمان پر گھات لگا کر بیٹھ جاتے اور بیٹھ کر فرشتوں کا کلام کان لگا کر سنتے کہ زمین میں کون کب مرے گا ‘ بارش کب ہوگی اور اس قسم کی دیگر باتیں ‘ پھر آکر کاہنوں کو وہ باتیں بتاتے ‘ کاہن لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ‘ اور وہ باتیں اس طرح واقع ہوجاتیں ان کے ساتھ بہت سے جھوٹ ملا کر لوگوں نے وہ باتیں کتاب میں لکھ لیں ‘ اور بنواسرائیل میں یہ مشہور ہوگیا کہ جنات کو غیب کا علم ہے ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان کتابوں کو تلاش کروا کر منگوایا اور ایک صندوق میں رکھ کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیا اور شیاطین میں سے جو بھی ان کی کرسی کے قریب جاتا وہ جل جاتا ‘ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اعلان کردیا کہ میں نے جس شخص کے متعلق بھی یہ سنا کہ وہ کہتا ہے کہ شیاطین غیب جانتے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوگئے اور وہ علماء بھی گزر گئے جن کو یہ واقعہ معلوم تھا اور پشت ہا پشت گزر گئیں تو ایک دن وہ شیطان انسان کی صورت بن کر بنواسرائیل کی ایک جماعت کے پاس گیا ‘ اور کہا : میں تم کو ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ دکھاتا ہوں ‘ اس نے ان سے کہا : اس کرسی کے نیچے زمین کھودو ‘ انہوں نے کھودا تو وہ کتابیں نکل آئیں ‘ شیطان نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس جادو کی وجہ سے انسانوں ‘ جنوں اور پرندوں پر حکومت کرتے تھے پھر بنواسرائیل میں نسل در نسل یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جادوگر تھے ‘ حتی کے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے اور آپ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا انبیاء (علیہم السلام) میں ذکر کیا تو بنواسرائیل نے اس پر اعتراض کیا اور کہا : سلیمان تو جادو گر تھے اللہ تعالیٰ نے انکے رد میں یہ آیت نازل فرمائی : اور انہوں نے اس کی پیروی کی جس کو سلیمان (علیہ السلام) کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے (جادوکرکے) کوئی کفر نہیں کیا ‘ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٥٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

نیز امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

جب شیاطین (جنوں) کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا علم ہوا تو انہوں نے سحر کی مختلف اصناف اور اقسام کو لکھ کر ایک کتاب میں مدون کیا اور اس کے اوپر یہ نام لکھ دیا کہ یہ سلیمان بن داؤد کے دوست آصف بن برخیا کی تحریر ہے اور اس میں علم کے خزانوں کے ذخیرے ہیں ‘ پھر اس کتاب کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے دفن کردیا ‘ پھر بعد میں بنواسرائیل کی باقی ماندہ قوم نے اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے سے نکال لیا ‘ جب انہوں نے اس کتاب کو پڑھا تو انہوں نے جادو پھیلادیا ‘ اور جب ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) کا انبیاء اور مرسلین میں ذکر کیا تو مدینہ کے یہودیوں نے کہا : کیا تم (حضرت سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تعجب نہیں کرتے کہ وہ سلیمان کا انبیاء میں ذکر کرتے ہیں حالانکہ وہ صرف ایک جادوگر تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیت نازل کی : اور انہوں نے اس کی پیروی کی جس کو سلیمان کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے (جادوکرکے) کوئی کفر نہیں کیا ‘ البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے وہ لوگ کو جادو سکھاتے تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٥٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی ان دونوں روایتوں کو طبری کے حوالے سے ذکر کیا ہے (فتح الباری ج ١٠، ص ٢٢٣‘ مبطوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ لاہور)

امام ابن جوزی نے ان آیتوں کے شان نزول میں مزید چار قول نقل کیے ہیں :

(١) ابوصالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ان کی سلطنت نکل گئی تو شیاطین (جنوں) نے سحر کو لکھ کر ان کی جائے نماز کے نیچے دفن کردیا اور جب ان کی وفات ہوئی تو اس کو نکال لیا اور کہا : ان کی سلطنت اس سحر کی وجہ سے تھی ‘ مقاتل کا بھی یہی قول ہے۔

(٢) سعیدبن جبیر (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ آصف بن برخیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے احکام لکھ لیا کرتے تھے اور ان کو ان کی کرسی کے نیچے دفن کردیا کرتے تھے ‘ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو اس کتاب کو شیطانوں سے نکال لیا اور ہر دو سطور کے درمیان سحر اور جھوٹ لکھ دیا اور بعد میں اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیا۔

(٣) عکرمہ (رض) نے کہا : شیطانوں نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو وفات کے بعد سحر کو لکھا اور اس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیا۔

(٤) قتادہ (رح) نے کہا : شیطانوں نے جادو کو ایجاد کیا ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس پر قبضہ کرکے اس کو اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیا تاکہ لوگ اس کو نہ سیکھیں جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو شیطانوں نے اس کو نکال لیا ‘ اور لوگوں کو سحر کی تعلیم دی اور کہا : یہی سلیمان کا علم ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ١٢١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

سحر کے لغوی معنی :

علامہ فیروز آبادی نے لکھا ہے کہ جس چیز کا ماخذ لطیف اور دقیق ہو وہ سحر ہے۔ (قاموس ج ٢ ص ‘ ٦٦ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ جوہری نے بھی یہی لکھا ہے۔ (الصحاح ج ٢ ص ٦٧٩ مطبوعہ دارالعلم بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

علامہ زبیدی لکھتے ہیں :

” تہذیب “ میں مذکور ہے کہ کسی چیز کو اس کی حقیقت سے دوسری حقیقت کی طرف پلٹ دینا سحر ہے ‘ کیونکہ جب ساحر سی باطل کو حق کی صورت میں دکھاتا ہے اور لوگوں کے ذہن میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ وہ چیز اپنی حقیقت کے مغائر ہے تو یہ اس کا سحر ہے۔ (تاج العروس ج ٣ ص ‘ ٢٥٨ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں :

سحر وہ عمل ہے جس میں شیطان کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے کوئی کام کیا جاتا ہے ‘ نظر بندی کو بھی سحر کہتے ہیں ‘ ایک چیز کسی صورت میں دکھائی دیتی ہے ‘ حالانکہ وہ اس کی اصلی صورت نہیں ہوتی (جیسے دور سے سے سراب پانی کی طرح دکھائی دیتا ہے یا جسے تیز رفتار سواری پر بیٹھے ہوئے شخص کو درخت اور مکانات دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں) کسی چیز کی کیفیت کے پلٹ دینے کو بھی سحر کہتے ہیں ‘ کوئی شخص کسی بیمار کو تندرست کردے یا کسی کے بغض کو محبت سے بدل دے تو کہتے ہیں : اس نے اس پر سحر (جادو) کردیا۔ (لسان العرب ج ٤ ص ٣٤٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ١٤٠٥ ھ)

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

سحر کا کئی معانی پر اطلاق کیا جاتا ہے :

(١) نظر بندی اور تخیلات جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی جیسے شعبدہ باز اپنے ہاتھ کی صفائی سے لوگوں کی نظریں پھیر دیتا ہے۔

قرآن کریم میں ہے :

(آیت) ” فلما القوا سحروا اعین الناس واسترھبوھم “۔ (الاعراف : ١١٦)

ترجمہ : تو جب انہوں نے (لاٹھیاں اور رسیاں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر سحر کردیا اور ان کو ڈرایا۔

لوگوں کو ان جادوں گروں کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑتے ہوئے سانپوں کی شکل میں دکھائی دینے لگیں اور وہ ڈر گئے۔

(آیت) ” فاذا حبالھم وعصیہم یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی۔ (طہ : ٦٦ )

ترجمہ : تو اچانک ان کے جادو سے موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال ہوا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں۔

(٢) شیطان کا تقرب حاصل کرکے اس کی مدد سے کوئی غیر معمولی کام (عام عادت کے خلاف) کرنا۔

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ولکن الشیطین کفروا یعلمون الناس السحر “۔ (البقرہ : ١٠٢)

ترجمہ : البتہ شیطانوں نے کفر کیا تھا لوگوں کو سحر (جادو) سکھاتے تھے۔

(٣) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جادو سے کسی چیز کی ماہیت اور صورت بدل دی جاتی ہے ‘ مثلا انسان کو گدھا بنادیا جاتا ہے ‘ لیکن اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

(٤) کسی چیز کو کوٹ کر اور پیس کر باریک کرنے کو بھی سحر کہتے ہیں ‘ اسی لیے معدہ کے فعل ہضم کو سحر کہتے ہیں اور جس چیز میں کوئی معنوی لطافت اور باریکی ہو اس کو بھی سحر کہتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے، بعض بیان سحر ہوتے ہیں۔ (المفردات ص ٢٢٦‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

سحر کا شرعی معنی :

علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں :

جس کام کو انسان خود نہ کرسکے اور وہ شیطان کی مدد اور اس کے تقرب کے بغیر پورا نہ ہو اور اس کام کے لیے شیطان کے شر اور خبث نفس کے ساتھ مناسبت ضروری ہو اس کو سحر کہتے ہیں ‘ اس تعریف سے سحر ‘ معجزہ اور کرامت سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ مختلف حیلوں ‘ آلات ‘ دواؤں اور ہاتھ کی صفائی سے جو عجیب و غریب کام کیے جاتے ہیں ‘ وہ سحر نہیں ہیں اور نہ وہ مذموم ہیں ‘ ان کو مجازا سحر کہا جاتا ہے کیونکہ ان کاموں میں بھی دقت اور باریکی ہوتی ہے اور لغت میں سحر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے صدور کا سبب دقیق اور مخفی ہو۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ‘ ٩٦۔ ٩٥ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)

سحر کے تحقق میں مذاہب ‘ سحر کے دلائل اور ان پر اعتراضات کے جوابات :

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :

کسی خبیث اور بدکار شخص کے مخصوص عمل کے ذریعہ کوئی غیر معمولی اور عام عادت کے خلاف کام یا چیز صادر ہو اس کو سحر کہتے ہیں ‘ اور یہ باقاعدہ کسی استاذ کی تعلیم سے حاصل ہوتا ہے اس اعتبار سے سحر معجزہ اور کرامت سے ممتاز ہے ‘ سحر کسی شخص کی طبیعت یا اس کی فطرت کا خاصہ نہیں ہے اور یہ بعض جگہوں ‘ بعض اوقات اور بعض شرائط کے ساتھ مخصوص ہے ‘ جادو کا معارضہ کیا جاتا ہے اور اس کو کوشش سے حاصل کیا جاتا ہے ‘ سحر کرنے والا فسق کے ساتھ معلون ہوتا ہے ‘ ظاہری اور باطنی نجاست میں ملوث ہوتا ہے اور دنیا اور آخرت میں رسوا ہوتا ہے ‘ اھل حق کے نزدیک سحر عقلا جائز ہے اور قرآن اور سنت سے ثابت ہے ‘ اسی طرح نظر لگنا بھی جائز اور ثابت ہے۔

معتزلہ نے کہا : سحر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ یہ محض نظر بندی ہے اور اس کا سبب ‘ کرتب ‘ ہاتھ کی صفائی اور شعبدہ بازی ہے ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ سحر فی نفسہ ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس کا خالق ہے اور ساحر صرف فاعل اور کا سب ہے اور اس کے وقوع اور تحقق پر تمام فقہاء اسلام کا اجماع ہے۔ اس کا ثبوت قرآن مجید کی ان آیات میں ہے :

(ترجمہ) البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے ‘ وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور انہوں نے (یہودیوں نے) اس (جادو) کی پیروی کی جو شہر بابل میں دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا تھا اور وہ فرشتے اس وقت تک کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ یہ نہ کہتے : ہم تو صرف آزمائش ہیں تو تم کفر نہ کرو ‘ وہ ان سے اس چیز کو سیکھتے تھے جس کے ذریعہ وہ مرد اور اسکی بیوی میں علیحدگی کردیتے ‘ اور اللہ کی اجازت کے بغیر وہ اس جادو سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ‘ وہ اس چیز کو سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچائے اور ان کو نفع نہ دے (البقرہ : ١٠٣۔ ١٠٢) اور قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ومن شر النفثت فی العقد “۔۔ (الفلق : ٤)

ترجمہ : آپ کہیے کہ میں گرہوں میں (جادو کی) بہت پھونک مارنے والی عورتوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

اگر جادو کی کوئی حقیقت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے شر سے پناہ طلب کرنے کا حکم نہ دیتا۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ سحر ایک حقیقت ثابتہ ہے ‘ سحر کے ذریعہ نقصان پہنچ جاتا ہے ‘ مرد اور اس کی بیوی میں علیحدگی ہوجاتی ہے۔

اسی طرح جمہور مسلمین کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة فلق اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سحر کردیا تھا جس کے نتیجہ میں آپ تین راتیں بیمار رہے۔ امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ پر جادو کردیا گیا ‘ حتی کہ آپ یہ خیال کرتے تھے کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے ‘ حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا حتی کہ آپ ایک دن میرے پاس تشریف فرما تھے آپ نے اللہ تعالیٰ بار بار دعا کی ‘ پھر آپ نے فرمایا : اے عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے جو پوچھا تھا وہ اللہ تعالیٰ مجھے بتادیا ‘ میں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا : میرے پاس دو آدمی آئے ‘ ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور ایک میرے پاؤں کی جانب پھر ایک نے دوسرے سے کہا : اس شخص کو کیا درد ہے ؟ اس نے کہا : ان پر جادو کیا گیا ہے ‘ پوچھا : جادو کس نے کیا ہے ؟ کہا لبید بن اعصم یہودی نے جو بنو زریق سے ہے ‘ پوچھا : کس چیز میں جادو کیا ہے ؟ کہا : ایک کنگھی میں اور نر کھجور کے غلاف میں لپٹے ہوئے خوشہ میں ہے پوچھا وہ کہا ہے ؟ کہا : وہ ذی اروان کے کنویں میں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ اس کنویں پر گئے ‘ آپ نے اس میں جھانک کر دیکھا ‘ اس کنویں کے پاس ایک کھجور کا درخت تھا ‘ پھر آپ حضرت عائشہ (رض) کے پاس واپس گئے اور فرمایا : بہ خدا اس کنویں کا پانی گوندھی ہوئی مہندی کے پانی کی طرح ہے اور گویا اس کھجور کے خوشے شیاطین کے سر میں ہے ‘ میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس کو کنویں سے نکال کیوں نہ لیا آپ نے فرمایا نہیں مجھ کو تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی ‘ اور مجھے یہ خدشہ ہے کہ اس کے نکالنے سے لوگوں کو ضرر پہنچے گا پھر آپ نے اس کنویں کو دفن کرنے (بند کرنے) کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٥٨)

اسی طرح روایت ہے کہ ایک باندی نے حضرت عائشہ (رض) پر سحر کیا ‘ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر (رض) پر سحر کیا گیا تو ان کی کلائی ٹیڑھی ہوگئی۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر جادو کا اثر ثابت ہوتا تو جادوگر تمام انبیاء اور صالحین کو نقصان پہنچاتے اور وہ جادو کے ذریعہ اپنے لیے ملک اور سلطنت کو حاصل کرلیتے۔ نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر کیسے ہوسکتا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(آیت) ” واللہ یعصمک من الناس “۔ (المائدہ : ٦٧)

ترجمہ : اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔

(آیت) ” ولا یفلح السحر حیث اتی “ ، A (طہ : ٦٩)

ترجمہ : اور ساحر جہاں بھی جائے وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔۔

کہا جاتا ہے کہ سحر ہر زمانہ اور ہر وقت میں نہیں پایا جاتا ‘ اور نہ ہر علاقہ اور ہر جگہ میں پایا جاتا ہے ‘ اور نہ سحر کا اثر ہر وقت ہوسکتا ہے اور نہ ہر معاملہ میں جادوگر کا تسلط ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محفوظ رکھے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کو لوگوں کے ہلاک کرنے سے محفوظ رکھے گا ‘ یا آپ کی نبوت میں خلل ڈالنے سے محفوظ رکھے گا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جادوگر آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا یا آپ کے بدن میں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔

ایک اور اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” اذ یقول الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا۔ انظر کیف ضربوا لک الامثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا “۔۔ (بنواسرائیل : ٤٨۔ ٤٧)

ترجمہ : جب کہ ظالم یہ کہتے ہیں کہ تم صرف اس شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔ دیکھئے انہوں نے آپ کے لیے کیسی مثالیں بیان کی ہیں ‘ تو وہ اس طرح گمراہ ہوچکے ہیں کہ اب صحیح راستہ پر نہیں آسکتے۔

کفار نے کہا کہ آپ پر جادو کیا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کو گمراہی فرمایا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ آپ پر جادو کا اثر نہیں ہوسکتا ‘ اور ” صحیح بخاری “ میں یہ حدیث ہے کہ آپ پر جادو کا اثر ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کی مراد یہ تھی کہ جادو کے اثر سے آپ کی عقل زائل ہوگئی ہے اور آپ کا دعوی نبوت کرنا اور وحی الہی کو بیان کرنا اسی جادو کے اثر سے ہے ‘ اور اسی جادو کے اثر کی وجہ سے آپ نے عربوں کے دین کو ترک کردیا ‘ اور حدیث میں جادو کے جس اثر بیان ہے اس کا اثر آپ کی عقل پر نہیں تھا آپ پر بیماری کا طاری ہونا ‘ آپ کا سواری سے گرنا ‘ جسم سے خون کا نکلنا عوارض بشریہ کی وجہ سے تھا اور نبوت کے منافی نہیں تھا اسی طرح آپ پر جادو کا اثر ہونا عوارض بشریہ سے تھا اور یہ آپ کی نبوت کے منافی نہیں تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے :

(آیت) ” یخیل الیہ من سحرھم انھا تسعی “۔۔ (طہ : ٦٦)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خیال ہوا کہ ان کے جادو کی وجہ سے ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑ رہی ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ یہ صرف نظر بندی ہے اور کسی کے ذہن میں خیال ڈالنا ہے ‘ ہم کہتے ہیں کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ فرعون کے جادوگروں کا سحر یہی تخیل اور نظر بندی تھا لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے علاوہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

اسی طرح نظر لگنا بھی ثابت ہے کیونکہ بعض انسانوں میں ایسی خاصیت ہوتی ہے ہے کہ جب وہ کسی چیز کی تعریف اور تحسین کرتے ہیں تو اس چیز پر کوئی آفت آجاتی ہے ‘ اور یہ چیز مشاہدات میں سے ہے اور اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نظر حق ہے۔ (صحیح مسلم ‘ ج ٢ ص ٢٢٠ مطبوعہ کراچی) شرح المقاصد ج ٥ ص ٨١ ‘۔ ٧٩ موضحا ومفصلا ‘ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابن حجر عسقلانی (رح) لکھتے ہیں :

سحر میں اختلاف ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ یہ صرف تخییل ہے ‘ علامہ استر بازی شافعی ‘ علامہ ابوبکر رازی حنفی اور علامہ ابن حزم ظاہری کی یہی رائے ہے۔ علامہ نووی نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ سحر کی حقیقت ہے ‘ جمہور کے نزدیک یہ قطعی ہے ‘ عام علماء کی یہی رائے ہے۔ کتاب سنت صحیحہ مشہورہ کی اسی پر دلالت ہے ‘ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ سحر سے انقلاب حقائق ہوجاتا ہے یا نہیں۔ جو کہتے ہیں کہ سحر صرف تخییل ہے وہ اس کا انکار کرتے ہیں ‘ اور جو کہتے ہیں کہ اس کی حقیقت ہے اس کا اس میں اختلاف ہے کہ جادو کی تاثیر صرف کسی چیز کے مزاج میں ہوتی ہے ‘ مثلا صحت مند کو بیمار کرنا ‘ یا اس سے کسی چیز کی حقیقت بھی بدل جاتی ہے ‘ مثلا پتھر کو حیوان بنادینا ‘ جمہور یہ کہتے ہیں کہ اس کا اثر صرف مزاج میں ہوتا ہے ‘ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس سے حقیقت بدل جاتی ہے۔ علامہ مازری نے کہا ہے کہ سحر ‘ معجزہ اور کرامت میں یہ فرق ہے کہ سحر بعض اقوال اور افعال سے مکمل ہوتا ہے اور کرامت میں اس کی احتیاج نہیں ہوتی بلکہ وہ عموما اتفاقا صادر ہوتی ہے اور معجزہ میں چیلنج ہوتا ہے ‘ امام الحرمین نے یہ نقل کیا ہے کہ سحر فاسق سے صادر ہوتا ہے ‘ اور کرامت کا ظہور فاسق سے نہیں ہوتا۔ (فتح الباری ج ١٠ ص ٢٢٣۔ ٢٢٢ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

سحر کے شرعی حکم تحقیق :

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات ہلاک کرنے والے کاموں سے بچو ‘ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! وہ کون سے کام ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شریک کرنا ‘ جادو کرنا ‘ جس کو قتل کرنے سے اللہ نے منع کیا ہے اس کو ناحق قتل کرنا ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ میدان جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا ‘ اور مسلمان پاک دامن عورت کو زنا کی تہمت لگانا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٨٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کو امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٦٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فی نفسہ جادو کرنا ‘ حرام اور گناہ کبیرہ ہے ‘ اگر جادو کے عمل میں شرکیہ اقوال یا افعال ہوں تو پھر جادو کرنا کفر ہے اور جادو کے سیکھنے اور سکھانے میں فقہاء کے مختلف نظریات ہیں۔

سحر کے شرعی حکم کے متعلق فقہاء شافعیہ کا نظریہ :

علامہ نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں :

جادو کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سات ہلاک کرنے والے کاموں میں شمار کیا ہے ‘ اس کا سیکھنا اور سکھانا بھی حرام ہے ‘ اگر جادو کرنے والے کے قول یا فعل میں کوئی چیز کفر کی مقتضی ہو تو جادو کرنا کفر ہے ‘ ورنہ نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہے ‘ اس طرح جادو کے سیکھنے یا سکھانے میں کوئی قول یا فعل کفر کا مقتضی ہو تو کفر ہے ورنہ گناہ کبیرہ ہے ‘ ہمارے نزدیک جادوگر کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ اس سے توبہ طلب کی جائے گی اگر اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔

علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی (رح) نے بھی یہی لکھا ہے۔ (فتح الباری ج ١٠ ص ٢٢٤ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

نیز علامہ نووی (رح) نے لکھا ہے کہ ہمارے بعض اصحاب نے یہ کہا ہے کہ جادو کا سیکھنا جائز ہے تاکہ انسان کو جادو کی معرفت سیکھنے پر نہیں (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٦٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

سحر کے شرعی حکم کے متعلق فقہاء مالکیہ کا نظریہ :

علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :

علامہ ابن العربی (رح) نے سحر کی یہ تعریف کی ہے کہ یہ وہ کلام ہے جس میں غیر اللہ کی تعظیم کی جاتی ہے اور اس کی طرف حوادث کائنات کو منسوب کیا جاتا ہے ‘ امام کا قول یہ ہے کہ جادو کا سیکھنا اور سکھانا کفر ہے خواہ اس سے جادو کا عمل نہ کیا جائے ‘ کیونکہ شیاطین کی تعظیم کرنا اور حوادث کی نسبت اس کی طرف کرنا یہ ایسا کام ہے کہ کوئی عاقل مسلمان یہ کہنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ یہ فعل کفر نہیں ہے ‘ اگر جادو کا توڑ اسی کی مثل جادو سے کیا جائے تو یہ بھی کفر ہے ‘ جادو کے توڑ کے لیے کسی کو کرایہ پر لینا جائز ہے ‘ بہ شرطی کہ جادو سے یہ توڑ نہ کیا جائے ‘ جادو کے ذریعہ احوال اور صفات میں تغیر ہوجاتا ہے اور حقائق بدل جاتے ہیں ‘ اگر یہ کام آیات قرآنیہ اور اسماء الہیہ سے ہوجائیں تو پھر یہ کفر نہیں ہے ‘ البتہ اگر جادو کے ذریعہ دو آدمیوں کے درمیان عداوت پیدا کی جائے یا کسی کی جان اور مال کو نقصان پہنچایا جائے تو یہ حرام ہے ‘ اگر کوئی شخص علی الاعلان جادو کرتا ہو تو اس کو قتل کردیا جائے گا اور اس کا مال فئی ہے (یعنی لوٹ لیا جائے گا) بہ شرطی کہ وہ توبہ نہ کرے۔ (الشرح الکبیر ج ٤ ص ٣٠٢‘ مطبویہ دارالفکر بیروت)

علامہ دسوتی مالکی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (حاشیۃ الدسوتی علی الشرح الکبیر ج ٤ ص ٣٠٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

علامہ خرشی مالکی۔ ١ (علامہ محمد بن عبداللہ علی الخرشی المتوفی ١١٠١ ھ ‘ الخرشی علی مختصر خلیل ج ٨ ص ٦٣‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت) علامہ علی مالکی۔ ٢ (علامہ علی بن احمد الصعیدی العدوی المالکی ‘ حاشیۃ العدوی علی الخرشی ج ٨ ص ٦٣‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت) علامہ خطاب مالکی۔ ٣‘ (علامہ ابوعبداللہ محمد بن الخطاب المالکی ‘ المتوفی ٩٥٤ ھ ‘ مواہب الجلیل ج ٦ ص ٢٨٠۔ ٢٧٩‘ مطبوعہ مکتبۃ النجاح ‘ لیبیا) علامہ العبدری۔ ٤ (علامہ ابوعبداللہ محمد بن یوسف العبدری المتوفی ٨٩٧ ھ ‘ التاج والا کلیل علی ھامش مواہب الجلیل ج ٦ ص ٢٨٠۔ ٢٧٩‘ مطبوعہ مکتبۃ النجاح ‘ لیبیا ‘) نے بھی یہی لکھا ہے۔

سحر کے شرعی حکم کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا نظریہ :

امام ابن قدامہ حنبلیرحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

جادو کا سیکھنا اور سکھانا حرام ہے اور ہمارے علم کے مطابق اس میں اھل علم اتفاق ہے ‘ جادو کے سیکھنے اور جادو کے عمل کی وجہ سے ساحر کی تکفیر کی جائے گی ‘ خواہ وہ جادو کے حرام ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو یا اس کے مباح ہونے کا اور امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی ‘ کیونکہ امام احمد نے فرمایا : عراف ‘ کاہن اور ساحر کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ ان کے ان افعال پر ان سے توبہ طلب کی جائے ‘ کیونکہ میرے نزدیک وہ حکما مرتد ہیں ‘ اگر وہ توبہ کرلیں تو ان کو چھوڑ دیا جائے۔ راوی نے پوچھا : اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا ؟ تو کہا : نہیں بلکہ اس کو قید میں رکھا جائے گا حتی کہ وہ توبہ کرلے ‘ راوی نے پوچھا : اس کو قتل کیوں نہیں کیا جائے گا ؟ کہا : جب تک وہ نماز پڑھتا ہے تو اس کی توبہ اور رجوع کی توقع ہے۔ امام احمد کا یہ کلام اس پر دلالت کرتا ہے کہ ساحر کافر نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وما کفر سلیمان “۔ سلیمان نے کفر نہیں کیا “ یعنی انہوں نے جادو نہیں کیا حتی کہ ان کی تکفیر کی جائے اور فرشتوں نے کہا : (آیت) ” انما نحن فتنۃ فلا تکفر “۔ ہم تو محض آزمائش ہیں تو تم جادو سیکھ کر کفر نہ کرو “۔ ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ جادو کرنا کفر ہے ‘ اور حضرت علی (رض) نے فرمایا : ساحر کافر ہے۔

حضرت عمر (رض) حضرت عثمان بن عفان (رض) ‘ حضرت ابن عمر (رض) ‘ حضرت حفصہ (رض) حضرت جندب بن عبداللہ (رض) حضرت حبیب بن کعب (رض) حضرت قیس بن سعد (رض) کا قول یہ ہے کہ ساحر کو بطور حد کے قتل کردیا جائے گا ‘ امام ابوحنفیہ (رح) اور امالک کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی کا اس میں اختلاف ہے ‘ ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کو قتل کرنا صرف تین وجہوں سے جائز ہے ‘ ایمان لانے کے بعد کفر کرے ‘ شادی کرنے کے بعد زنا کرے ‘ یا ناحق قتل کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) ساحر نے ان میں سے کوئی کام نہیں کیا ‘ اس لیے اس کو قتل نہیں کیا جائے گا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ سحر کرنا بھی ارتداد ہے ‘ نیز حضرت جندب بن عبداللہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ ساحر کی حد ‘ اس کو تلوار سے مارنا سے مارنا ہے (ابن المنذر) اور امام داؤد نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہر ساحر کو قتل کردو۔ (المغنی ج ٩ ص ٣٦۔ ٣٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

علامہ مرداوی حنبلی لکھتے ہیں :

ساحر کی تکفیر کی جائے گی اور اس کو قتل کیا جائے گا ‘ یہی مذہب ہے اور یہی جمہور اصحاب کا نظریہ ہے ‘ ایک روایت یہ ہے کہ اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور جو شخص دواؤں اور دھوئیں سے شعبدہ بازی کرتا ہو اس کو صرف تعزیر دی جائے گی۔ (الانصاف ج ١٠ ص ٣٥٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)

سحر کے شرعی حکم کے متعلق فقہاء احناف کا نظریہ :

علامہ ابن ھمام حنفی لکھتے ہیں :

سحر کی حقیقت ہے اور جسم کو تکلیف پہنچانے میں اس کی تاثیر ہے ‘ جادو کو سکھانا بالاتفاق حرام ہے اور اس کی اباحت کا اعتقاد کرنا کفر ہے ‘ ہمارے بعض اصحاب ‘ امام مالک اور امام احمد کا یہ مذہب ہے کہ جادو کا سیکھنا اور جادو کا کرنا کفر ہے ‘ خواہ اس کے حرام ہونے کا اعتقاد رکھے یا نہ رکھے ‘ اس کو قتل کردیا جائے گا ‘ حضرت عمر (رض) ‘ حضرت عثمان (رض) ‘ حضرت ابن عمر (رض) ‘ حضرت جندب بن عبداللہ (رض) حبیب بن کعب (رض) ‘ قیس بن سعد (رض) ‘ اور عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ساحر سے توبہ طلب کئے بغیر اس کے قتل کا فتوی دیا ‘ حضرت جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساحر کی حد یہ ہے کہ اس کو تلوار سے مار دیا جائے ‘ امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ جب تک ساحر جادو کے مباح ہونے کا اعتقاد نہ رکھے اس کو کافر کہا جائے نہ اس کو قتل کیا جائے ‘ ساحر کو کافر قرار دینے نہ دینے میں امام شافعی کے مذہب پر عمل کرنا واجب ہے ‘ البتہ اس کو قتل کرنا واجب ہے ‘ جس شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ کوشش کرکے جادو کرتا ہے ‘ اس سے توبہ طلب کیے بغیر اس کو قتل کردیا جائے۔ (فتح القدیر ج ٥ ص ٢٣٣۔ ٢٣٢۔ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

علامہ شامی حنفی لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ ساحر جب تک کسی کفریہ امر کا اعتقاد نہ کرے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی : النہر الفائق “ میں اسی پر اعتماد کیا ہے ‘ اور علامہ حصکفی نے بھی اسی کی اتباع کی ہے اور ساحر کو مطلقا قتل کردیا جائے گا ” فتاوی قاضی خاں “ میں مذکور ہے کہ جو شخص کسی آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کے لیے کوئی عمل کرے ‘ وہ مرتد ہے اور اس کو قتل کردیا جائے گا بہ شرطی کہ وہ تفریق میں اس عمل کی تاثیر کا اعتقاد رکھتا ہو ‘ اور جو شخص لوگوں کو ضرر پہنچانے کے لیے سحر کرتا ہے اس کو قتل کردیا جائے گا ‘ اور جو ساحر تجربہ کے لیے سحر کرتا ہو اور اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ امام ابوحنفیہ (رح) نے فرمایا : جس شخص کا سحر کرنا اس کے اقرار یا گواہی سے ثابت ہو اس کو قتل کردیا جائے گا اور اس سے توبہ نہیں طلب کی جائے گی ‘ اس میں مسلمان ‘ ذمی ‘ آزاد اور غلام برابر ہیں ‘ ساحر سے مراد وہ شخص نہیں ہے جو معوذات سے جادو کو دور کرتا ہو ‘ نہ طلسم کرنے والا مراد ہے (شعبدہ باز) علامہ ابن ھمام نے جو ہمارے بعض اصحاب سے سحر کا حکم کفر نقل کیا ہے وہ اس پر مبنی ہے کہ سحر کا تحقق کلمات کفریہ کہنے پر موقوف ہے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

ڈاکٹر وھبہ زحیلی نے لکھا ہے کہ امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک ساحر کافر ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ (التفسیر المنیر ج ١‘ ص ٢٥٢۔ ٢٥١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

مذاہب اربعہ کا خلاصہ اور تجزیہ :

امام مالک اور امام احمد کے نزدیک ساحر مطلقا کافر ہے اور امام شافعی (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ساحر مطلقا کافر نہیں ہے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک سحر کفریہ عقائد اور کفریہ اقوال اور افعال کے بغیر متحقق نہیں ہوتا ‘ اس لیے وہ سحر کو مطلقا کفر کہتے ہیں ‘ اور امام شافعی (رح) اور امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک سحر عام ہے ‘ یہ کفر کے بغیر بھی ہوسکتا ہے اس لیے سحر مطلقا کفر نہیں ہے ‘ البتہ جس سحر میں کفر کا دخل ہو وہ ان کے نزدیک بلاشبہ کفر ہے جیسا کہ ان کی عبارات سے واضح ہے اور اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے کہ سحر حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے اور اس کا سیکھنا اور سکھانا بھی حرام ہے ‘ البتہ بعض شافعیہ سے یہ منقول ہے کہ دفع ضرر کے لیے جادو کا سیکھنا جائز ہے ‘ اور امام مالک (رح) ‘ امام احمد (رح) ‘ اور امام ابوحنفیہ (رح) ‘ کے نزدیک ساحر کو حدا قتل کرنا واجب ہے اور وہ ڈاکو کے حکم میں ہے ‘ امام شافعی (رح) ‘ کے نزدیک ساحر کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان یہودیوں نے اس (جادو) کی پیروی کی جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت پر اتارا گیا تھا۔ (البقرہ : ١٠٢)

ھاروت اور ماروت پر سحر کو نازل کرنے کی حکمت :

ھاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں ‘ ان کے متعلق علماء اسلام میں اختلاف ہے ‘ محققین کا یہ نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو جادو کی حقیقت بتائیں اور لوگوں پر یہ واضح کریں کہ لوگ جو سحر کے نام سے مختلف حیلوں اور شعبدوں سے عجیب و غریب کام کرتے ہیں وہ سحر نہیں ہے وہ لوگوں پر جادو کی حقیقت واضح کرنے کے لیے جادو کی تعلیم دیتے تھے اور جادو پر عمل کرنے سے روکتے تھے ‘ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی آزمائش کے لیے سحر کو نازل کیا ‘ جس نے سحر سیکھ کر اس پر عمل کیا وہ کافر ہوگیا ‘ اور جس نے سحر کو نہیں سیکھا یا جادو کے ضرر سے بچنے لیے اور جادو کی حقیقت جاننے کے لیے اس کو سیکھا اور اس پر عمل نہیں کیا وہ اپنے ایمان پر سلامت رہا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب جادو حرام ہے اور گناہ کبیرہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے جادو سکھانے کے لیے فرشتوں کو کیوں نازل کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر اور شر ہر چیز کا خالق ہے ‘ زہر کھانا اور کھلانا حرام ہے ‘ کتے اور خنزیر کو کھانا حرام ہے ‘ شراب پینا حرام ہے ‘ چوری ‘ قتل ‘ زنا کرنا حرام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں اور تمام کاموں کو پیدا کیا ہے اور انسان کو ان تمام چیزوں کے ترک کرنے اور ان سے باز رہنے کا حکم دیا ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ابتلاء اور آزمائش کے لیے فرشتوں کو جادو کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا تاکہ ظاہر ہوجائے کہ کون جادو پر عمل کرنے سے باز رہتا ہے اور کون جادو سیکھ کر اس پر عمل کرتا ہے۔

ھاروت اور ماروت کی معصیت کی روایت :

ھاروت اور ماروت اللہ تعالیٰ کے دو مقرب فرشتے ہیں اور ان کا واقعہ صرف اسی قدر ہے جس کو ہم نے بیان کردیا ہے ‘ بعض روایات میں ان کے متعلق یہ مذکور ہے کہ انہوں زمین پر آکر گناہ کیا ‘ ان تمام روایات کو محققین علماء نے مسترد کردیا ہے ‘ ہم پہلے وہ روایات بیان کرتے ہیں ‘ پھر ان کے مردود ہونے پر دلائل کو پیش کریں گے ‘ پھر ان کے متعلق محققین کی تصریحات کو بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق :

امام ابن جریر طبری (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عبا سرضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لیے آسمان سے جھری کی ‘ جب انہوں نے بنو آدم کو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا : اے رب ! یہ وہ بنو آدم ہیں جن کو تو نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور اپنے فرشتوں سے ان کو سجدہ کرایا اور وہ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر ان کی جگہ تم ہوتے تو تم بھی ان کی طرف عمل کرتے ‘ انہوں نے کہا : تو سبحان ہے ‘ ہم ایسا نہیں کرسکتے ‘ پھر ان سے کہا گیا کہ تم دو فرشتوں کو منتخب کرلو تو انہوں نے ھاروت اور ماروت کو منتخب کرلیا ‘ انہیں زمین پر بھیج دیا گیا اور ان کے لیے زمین پر ہر چیز حلال کردی گئی اور شرک ‘ چوری ‘ زنا ‘ شراب نوشی اور قتل ناحق سے منع کردیا ‘ وہ زمین پر آکر رہنے لگے وہاں انہوں نے بیذغت نام کی ایک عورت دیکھی جو بہت حسین تھی ‘ وہ اس پر فریفتہ ہوگئے انہوں نے اس سے زنا کا ارادہ کیا لیکن جب وہ عورت اس کے بغیر راضی نہ ہوئی تو انہوں نے یہ سب کام کرلیے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ منظر دکھایا فرشتوں نے کہا : تو سبحان ہے اور تجھ کو خوب علم ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان۔ ١ (حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام ابن اسحاق کے حوالے سے لکھا ہے کہ ھاروت اور ماروت کا قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے پہلے کا ہے اور سحر نوح (علیہ السلام) سے پہلے موجود تھا ‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ قوم نوح نے ان کو ساحر گمان کیا اور قوم فرعون سے پہلے سحر موجود تھا ‘ وہ بھی حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے پہلے تھی (فتح الباری ج ١٠ ص ١٢٣) اور طبری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے ‘ واللہ اعلم۔ ١٢۔

بن داؤد (علیہ السلام) کے ذریعہ ان کو یہ پیغام دیا کہ وہ دنیا اور آخر کے عذاب میں سے کسی ایک کو اختیار کرلیں انہوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کرلیا ‘ سو ان کو بابل (دنیا وند یا عراق یا کوفہ کی ایک بستی) میں عذاب دیا جارہا ہے۔ (مجاہد نے بیان کیا کہ وہ لوہے کی زنجیروں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں (ص ٣٦٥) اور ان کے ٹخنوں کو ان کی گردنوں کے ساتھ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٦٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابن جریر (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ فارس میں زہرہ نام کی ایک حسین عورت تھی ‘ ھاروت اور ماروت نے اس سے اپنی خواہش پوری کرنا چاہی ‘ اس نے کہا : مجھے وہ کلام سکھاؤ جس کو پڑھ کر میں آسمان پر چلی جاؤں انہوں نے اس کو وہ کلام سکھایا ‘ وہ اس کو پڑھ کر آسمان پر چلی گئی اور وہاں اس کو مسخ کر کے زہرہ ستارہ بنادیا گیا۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٦٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

ھاروت اور ماروت کی معصیت کی روایت کا قرآن مجید سے بطلان :

زہرہ ستارہ تو آسمان پر شروع سے موجود ہے اس لیے یہ روایت عقلا باطل ہے اور ھاروت اور ماروت کے گناہ کا جو ذکر ہے یہ قرآن مجید کی ان آیات کے خلاف ہے جن میں فرشتوں کی عصمت کو بیان فرمایا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون مایؤمرون “۔۔ (التحریم : ٦٦)

ترجمہ : وہ (فرشتے) اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

(آیت) ” بل عباد مکرمون ،۔ لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون “۔۔ (الانبیاء : ٢٧۔ ٢١)

ترجمہ : بلکہ (سب فرشتے) ان کے مکرم بندے ہیں۔ اس (کی اجازت) سے پہلے بات نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پرکار بند رہتے ہیں۔

(آیت) ” وھم لا یستکبرون۔ یخافون ربہم من فوقھم ویفعلون مایؤمرون “۔۔ (النحل : ٥٠۔ ٤٩)

ترجمہ : وہ (فرشتے) تکبر نہیں کرتے “۔ اپنے اوپر اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔۔

(آیت) ” ومن عندہ لا یستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون “۔ یسبحون الیل والنھار لا یفترون “۔۔ (الانبیاء : ٢٠۔ ١٩)

ترجمہ : اور جو اس کے پاس (فرشتے) ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور نہ وہ تھکتے ہیں۔ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں (اور ذرا) سستی نہیں کرتے۔۔

ھاروت اور ماروت کی معصیت کی روایت پر بحث ونظر :

حافظ ابن کثیر شافعی لکھتے ہیں :

ھاروت اور ماروت کے قصہ میں بہت سے مفسرین نے لکھا ہے کہ زہرہ ایک عورت تھی ‘ انہوں نے اس سے اپنی خواہش پوری کرنی چاہی ‘ اس نے کہا : پہلے مجھے اسم اعظم سکھاؤ ‘ وہ یہ اسم پڑھ کر آسمان پر چلی گئی اور ستارہ بن گئی ‘ میرا گمان ہے کہ اس قصہ کو اسرائیلیوں نے وضع کیا ہے ‘ ہرچند کہ اس کو کعب الاحبار نے روایت کیا ہے اور ان سے متقدمین کی ایک جماعت نے بہ طور حدیث بنی اسرائیل کے نقل کیا ہے امام احمد (رح) اور امام ابن حبان (رح) نے اس کو اپنی صحیح میں اپنی سندوں کے ساتھ حضرت ابن عمر سے مرفوعا روایت کیا ہے اور اس میں بہت طویل قصہ ہے ‘ اور امام عبدالرزاق (رح) نے اس کو اپنی سند کے ساتھ کعب احبار سے روایت کیا ہے اور اس کی سند زیادہ صحیح ہے ‘ امام حاکم نے ” مستدرک “ میں اور امام ابن ابی حاتم (رح) نے اس کو اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٣٨۔ ٣٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

نیز حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :

ھاروت اور ماروت کے قصہ میں تابعین کی ایک جماعت مثلا مجاہد ‘ سدی ‘ حسن بصری ‘ قتادہ ابوالعالیہ ‘ زہری ‘ ربیع بن انس ‘ مقاتل بن حیان وغیرہم نے روایات ذکر کی ہیں اور اور بہت سے متقدمین اور متاخرین مفسرین نے بھی اس کا ذکر کیا ہے اور اس کا مرجع بنی اسرائیل ہیں ‘ کیونکہ اس قصہ میں معصوم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صادق اور مصدوق سے کوئی حدیث مرفوع صحیح متصل الاسناد مروی نہیں ہے ‘ اور قرآن مجید نے ھاروت اور ماروت کا بغیر کسی تفصیل کے اجمالا ذکر کیا ہے ‘ سو ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٢٤٨‘ مطبوعہ ادارہ اندلس ‘ بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

یہ تمام روایات ضعیف ہیں ‘ حضرت ابن عمر وغیرہ سے بہت بعید ہے کہ وہ ایسی روایت کریں ‘ ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ‘ فرشتے اللہ کے سفیر اور اس کی وحی پر امین ہیں ‘ وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا رہے، ہرچند کہ عقلا فرشتوں سے معصیت ممکن ہے اور ان میں شہوت کا پیدا ہونا ممکن ہے اور ہر ممکن اللہ کی قدرت میں ہے ‘ لیکن یہ ممکن بغیر کسی صحیح حدیث کے ثابت نہیں ہوسکتا اور اس قصہ میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے ‘ اور اس کے صحیح نہ ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو پیدا کیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں ان سات سیاروں کو پیدا کیا ‘ زحل ‘ مشتری ‘ بہرام ‘ عطارد ‘ زہرہ ‘ شمس اور قمر ‘ اور اس روایت میں یہ بیان کیا ہے کہ وہ عورت زہرہ ستارہ بن گئی۔

(الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٥٢‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

قاضی ابوبکر بن العربی نے لکھا ہے کہ فرشتوں سے معصیت ممکن ہے اور قرآن مجید کی جن آیات میں بہ طرق عموم فرشتوں کی عصمت بیان کی گئی ہے ان میں تخصیص ہوسکتی ہے کیونکہ علم اصول میں مقرر ہے کہ عام میں تحصیص ہوسکتی ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٤٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

قاضی ابوبکر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید کا عموم قطعی ہے اور اس کے عموم کا ناسخ اور مخصص بھی اس کے مساوی ہونا چاہیے ‘ اس لیے اس عموم کا مخصص یا تو قرآن مجید ہوسکتا ہے یا حدیث صحیح متواتر ‘ اور ان روایات میں سے تو ایک حدیث بھی صحیح نہیں ہے چہ جائیکہ احادیث صحیحہ متواترہ ہوں۔

امام رازی لکھتے ہیں :

یہ تمام روایات فاسد ‘ مردود اور غیر مقبول ہیں ‘ کتاب اللہ میں ان میں سے کسی پر دلالت پر دلالت نہیں ہے ‘ اور قرآن مجید میں فرشتوں کی عصمت بیان کی گئی ہے ‘ یہ روایات اس کی مخالف ہیں ‘ نیز ان روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ھاروت اور ماروت کو عذاب دنیا اور عذاب آخرت میں اختیاردیا گیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ تاحیات شرک کرنے والے کو بھی توبہ اور عذاب آخرت کے درمیان اختیار دیتا ہے ‘ سو یہ روایات اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کے بھی خلاف ہیں ‘ اور ان بعض روایات میں بھی مذکور ہے کہ وہ حالت عذاب میں لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور جادو کی دعوت دیتے تھے اور یہ غیرمعقول ہے ‘ رہا یہ امر کہ ان فرشتوں کو کیوں نازل کیا گیا تھا ؟ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں بہت جادوگر ہوگئے تھے جو جادو سے عجیب و غریب کام کرتے اور نبوت کا دعوی کرتے اور لوگوں کو اس کے معارضہ کا چیلنج کرتے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو جادو سکھانے کے لیے بھیجا تاکہ مومنین جھوٹے نبیوں کا جادو سے معارضہ کرسکیں۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٤٢٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام رازی کی بیان کردہ یہ وجہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جادو کا معارضہ کرنا جادو کرنے پر موقوف ہے حالانکہ لوگوں کو جادو کرنے سے وہ فرشتے منع کرتے تھے ‘ البتہ یہ کہنا صحیح ہے کہ جادو کی حقیقت جاننے کے بعد لوگوں پر یہ بات کھل گئی تھی کہ جھوٹے نبی جو کچھ عجیب و غریب کام دکھا رہے ہیں یہ جادو ہے معجزہ نہیں ہے ‘ اس لیے اس زمانہ میں جادو کا سیکھنا اور سکھانا صحیح تھا۔

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

ان روایات میں سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے ‘ اور فرشتے معصوم ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے ‘ اور فرشتوں کو جادو سکھانے کے لیے اس لیے بھیجا گیا تھا کہ جس جادو سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور اس کے دوستوں میں تفرقہ ہوجائے وہ اس زمانہ میں مباح یا مستحب تھا۔ (البحر المحیط ج ١ ص ٥٢٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

قاضی بیضاوی شافعی لکھتے ہیں :

یہ روایات یہود سے نقل کی گئی ہیں اور یہ ہوسکتا ہے کہ متقدمین کی رموز ہوں جن کا حل کرنا اھل علم پر مخفی نہیں ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ ھاروت اور ماروت دو آدمی تھے جن کو ان کی غیر معمولی نیکیوں کی وجہ سے فرشتہ کہا گیا۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ‘ ٩٦ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)

علامہ شہاب الدین خفاجی (رح) لکھتے ہیں :

قاضی بیضاوی (رح) نے جو یہ کہا ہے کہ یہ رموز متقدمین ہیں ‘ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ فرشتہ بہ حیثیت فرشتہ گناہوں سے معصوم ہے اور جب اس کی حقیقت بدل دی جائے اور اس کو آدمی کے خواص اور اس کی قوتوں سے مرکب کردیا جائے تو پھر اس کا گناہ کرنا قرآن مجید کی آیات کے مخالف نہیں ہے ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس قصہ میں تمثیل بیان کی گئی ہو اور ھاروت وماروت سے مراد انسان کا بدن اور زہرہ سے مراد اس کی روح ہو ‘ بدن نے روح کو گناہ پر ابھارا اور جب روح اس پر متنبہ ہوئی تو وہ آسمان پر چلی گئی اور اگر یہ کہا جائے کہ ھاروت اور ماروت دو آدمی تھے جن کو ان کی غیر معمولی عبادت کی وجہ سے فرشتہ کہا گیا تو پھر کوئی اشکال نہیں ہے۔ (عنایۃ القاضی ج ٢ ص ‘ ٢١٦‘ مطبوعہ دار صادر بیروت ‘ ١٢٨٣ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک وہ خوب جانتے تھے کہ جس نے اس (جادو) کو خرید لیا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ اور کیسی بری چیز ہے وہ جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کرڈالا ہے ‘ کاش ! یہ جان لیتے۔۔ (البقرہ : ١٠٣)

علم کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا حکما جہل ہے :

اس آیت کے اول میں یہ فرمایا ہے کہ وہ جادو کی برائی جانتے تھے اور آخر میں فرمایا ہے کہ وہ جان لیتے ‘ یعنی وہ نہیں جانتے اور بہ ظاہر یہ تناقض ہے کہ وہ جانتے بھی تھے اور نہیں بھی جانتے تھے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ انکوجادو کی برائی کا علم تھا لیکن چونکہ وہ علم کے تقاضے پر عمل نہیں کرتے تھے اور جادو کرتے تھے اس لیے ان کے علم کو عدم علم کے قائم مقام کرکے فرمایا : کاش وہ جان لیتے ‘ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو عالم علم کے مطابق عمل نہ کرے وہ بہ منزلہ جاہل ہے۔

اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت کا فرق :

” کاش وہ جان لیتے “ اس سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ علم کے تقاضوں پر عمل کریں لیکن اللہ کا چاہا پورا نہیں ہوا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر چاہا ہوا پورا ہوتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی ایک مشیت ہے اور ایک مرضی ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف تو ہوسکتا ہے لیکن اس کی مشیت کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا ‘ یہودیوں کا ایمان لانا اور ان کا جادو نہ کرنا ‘ اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی ‘ اس کی مشیت نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ کفر اور بدعملی پر راضی نہیں لیکن دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کی مشیت سے ہوتا ہے۔ ” کاش وہ جان لیتے “ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا جادو کرنا اور علم کے خلاف عمل کرنا اللہ کی مرضی کے خلاف تھا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 102