بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَا ‌ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

جو آیت ہم منسوخ کردیتے ہیں یا جس آیت کو ہم ذہنوں سے محو کردیتے ہیں تو ہم اس سے بہتر یا اس کی مثل آیت لے آتے ہیں ‘ (اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ؟

نسخ کی تحقیق :

یہود مسلمانوں سے حسد اور بغض رکھتے اور ان پر اعتراض کرنے اور دین اسلام میں طعن کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا قبلہ بدلا اور مسلمان مسجد اقصی کے بجائے مسجد حرام کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے لگے تو یہود نے کہا کہ (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کو پہلے ایک حکم دیتے ہیں اور پھر اس سے منع کردیتے ہیں ‘ سو یہ قرآن ان ہی کا بنایا ہوا ہے اس لیے اس کے احکام متضاد ہیں ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ ہم جس آیت کو منسوخ یا محو کرتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی دوسری آیت لے آتے ہیں۔

ہم نے اس جلد کے مقدمہ میں نسخ کا معنی ‘ نسخ میں مذاہب نسخ کی اقسام ‘ آیات منسوخہ کی تعداد اور نسخ کی حکمتوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے ‘ تاہم اس جگہ چند مزید نکات بیان کر رہے ہیں۔

نسخ کے دو معنی :

لغت میں نسخ کے دو معنی ہیں ‘ ایک معنی لکھنا اور نقل کرنا ‘ اس اعتبار سے تمام قرآن منسوخ ہے ‘ یعنی لوح محفوظ سے آسمان دنیا کے بیت العزت کی طرف نقل کیا گیا ہے ‘ قرآن مجید میں نسخ کا لفظ لکھنے اور نقل کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے :

(آیت) ” انا کنا نستنسخ بمما کنتم تعملون۔ (الجاثیہ : ٢٩)

ترجمہ : بیشک ہم لکھتے رہے جو کچھ تم کرتے تھے۔

نسخ کا دوسرا معنی ہے : کسی چیز کو باطل اور زائل کرنا ‘ اور اس کی دو قسمیں ہیں :

(١) کسی چیز کو زائل کرکے دوسری چیز کو اس کے قائم مقام کردیا جائے جیسے عرب کہتے ہیں کہ بڑھاپے نے جوانی کو منسوخ کردیا یعنی جوانی کے بعد بڑھاپا آگیا ‘ اور زیر بحث آیت میں ہے : ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی دوسری آیت لے آتے ہیں۔ اس کی تعریف یہ ہے دلیل شرعی سے کسی حکم شرعی کو زائل کرنا۔

(ب) کسی چیز کا قائم مقام کیے بغیر اس کو زائل کردیا جائے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم اس کو محو کردیتے ہیں یعنی ہم تمہارے ذہنوں اور دلوں سے اس آیت کو نکال دیتے ہیں ‘ پس وہ آیت یاد آتی ہے نہ اس کو پڑھا جاتا ہے ‘ اس کی تائیدان روایات سے ہوتی ہے :

علامہ سیوطی (رح) بیان کرتے ہیں :

امام عبدالرزاق (رح) نے ” مصنف “ میں ‘ امام طیالسی اور امام سعید بن منصور نے ‘ امام عبداللہ بن احمد نے ” زوائد مسند “ میں امام نسائی (رح) اور امام ابن منذر (رح) نے اور ابن الانباری نے ” مصاحف “ میں ‘ امام دارقطنی نے ‘ امام حاکم (رح) نے تصحیح سند کے ساتھ ‘ امام ابن مردویہ (رح) نے اور امام الضیاء نے ” المختارۃ “ میں زربن حبیش (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے حضرت ابی بن کعب (رض) نے کہا : تم سورة احزاب میں کتنی آیات پڑھتے ہو ؟ میں نے تہتر آیات ‘ حضرت ابی بن کعب (رض) نے کہا : مجھے یاد ہے کہ سورة احزاب سورة بقرہ کے برابر یا اس سے بھی بڑی تھی اور ہم نے اس میں یہ آیت پڑھی تھی کہ جب بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت زنا کریں تو ان کو رجم کردو ‘ یہ اللہ کی طرف سے عبرت والیل سزا ہے اور اللہ عزیز اور حکیم ہے ‘ پھر ان میں سے جو آیتیں محو کردی گئیں وہ محو کردی گئیں۔

امام بخاری (رح) نے اپنی ” تاریخ “ میں حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سورة احزاب پڑھی تھی ‘ مجھے اس کی ستر آیتیں بھلا دی گئی ہیں جن کو اب میں نہیں پاتا۔

امام ابوعبید (رح) ‘ امام ابن الانباری (رح) اور امام ابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں سورة احزاب میں دو سو آیتیں پڑھی جاتی تھیں اور جب حضرت عثمان (رض) نے مصاحف کو لکھا تو وہ صرف اتنی آیات لکھنے پر قادر ہوئے جواب ہیں۔ (درمنثور ‘ ج ٥ ص ١٨٠۔ ١٧٩‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

نسخ اور بداء کا فرق :

یہود نے نسخ کا انکار کیا ہے اور ان کے خلاف یہ دلیل ہے کہ تورات میں مذکور ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی شریعت میں خون کے سوا ہر چیز حلال تھی ‘ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت سے حیوان حرام کر دئیے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی شریعت میں بہن کا بھائی سے نکاح جائز تھا ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں اللہ نے اس کو حرام کردیا ‘ اور پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں ‘ پھر اس حکم کو منسوخ کردیا ‘ اور پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بچھڑے کی پرستش کرنے والوں کو قتل کریں اور ستر ہزار اسرائیلیوں کے قتل کے بعد اس حکم کو منسوخ کردیا اور یہ بداء نہیں ہے ‘ بلکہ ایک عبارت سے دوسری عبارت کی طرف اور ایک حکم سے دوسرے کی طرف منتقل کرنا ہے اور میں کوئی مصلحت ہوتی ہے ‘ اور کسی حکم کا اظہار ہوتا ہے ‘ بداء اس وقت ہوتا جب حکم دینے والے کو اس حکم کے انجام کا علم نہ ہوتا اور جس کو اپنے حکم کے نتیجہ کا علم ہو اور وہ مصلحت کے تبدیل ہونے سے اپنے احکام تبدیل کرتا ہو وہ بداء نہیں ہوتا جیسے ماہرڈاکٹر کو مریض کے احوال کا علم ہوتا ہے ‘ اور وہ نسخہ بدل بدل کر دوائیں لکھتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے احکام اور خطابات تبدیل ہوتے ہیں اور علم اور ارادہ میں کوئی تغیر نہیں ہوتا۔

یہود نے نسخ اور بداء کو ایک چیز قرار دیا ‘ اسی وجہ سے انہوں نے بداء کو ناجائز کہا ‘ نحاس نے کہا : نسخ اور بداء میں فرق یہ ہے کہ نسخ میں عبارت کے ایک حکم کو دوسرے حکم سے بدل دیا جاتا ہے مثلا پہلے کوئی چیز حلال تھی ‘ پھر اس کو حرام کردیا یا اس کے برعکس اور بداء اس کو کہتے ہیں کہ آدمی ایک کام کا ارادہ کرے ‘ پھر اس کو ترک کردے ‘ مثلا ایک شخص کہے : فلاں آدمی کے پاس جاؤ ‘ پھر اس کو خیال آئے کہ اس کے پاس نہ جانا بہتر ہے تو وہ اپنے اس قول سے رجوع کرکے کہے : وہاں مت جاؤ ‘ اور یہ انسانوں کو عارض ہوتا ہے کیونکہ ان کا علم ناتمام ہے اور مآل کار کو محیط نہیں ہے ‘ مثلا کوئی شخص کہے : اس سال فلاں چیز کو کاشت کرو ‘ پھر اس کو خیال آئے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے اور کہے : یہ کاشت نہ کرو تو یہ بداء ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کے حق میں یہ متصور نہیں ہے۔

علماء شیعہ اللہ تعالیٰ کے حق میں بداء کے قائل ہیں ‘ شیخ کلینی روایت کرتے ہیں

ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے اس آیت ” یمحواللہ مایشاء ویثبت “ کے متعلق فرمایا : اللہ اسی چیز کو مٹاتا ہے جو ثابت تھی اور اسی چیز کو ثابت کرتا ہے جو نہیں تھی۔ (الاصول من الکافی ج ١ ص ١٤٦‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ تہران)

شیخ طباطبائی اس حدیث کے حاشیہ پر لکھتے ہیں :

بداء ان اوصاف میں سے ہے جن کے ساتھ ہمارے افعال اختیار یہ متصف ہوتے ہیں ‘ کیونکہ ہم کسی مصلحت کے علم کی وجہ سے کسی فعل کو اختیار کرتے ہیں ‘ پھر ہمیں کسی اور مصلحت کا علم ہوتا ہے جو پہلی مصلحت کے خلاف ہوتی ہے ‘ پھر ہم پہلے ارادہ کے خلاف ارادہ کرتے ہیں کیونکہ جو چیز ہم سے پہلے مخفی تھی وہ اب ظاہر ہوئی ہے اور اسی کو بداء کہتے ہیں کیونکہ بداء کا معنی ظہور کے خلاف ہے، (الی قولہ) یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام موجودات اور حوادث کا واقع کے مطابق علم ہے اور اس علم میں مطلقا بداء نہیں ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا ایک علم وہ ہے جو اشیاء کے مبادی اس کے مقتصیات اور شرائط اور اس کے موانع کے عدم کے ساتھ متعلق ہے (مثلا فلاں چیز ہو اور فلاں نہ ہو تو فلاں چیز ہوگی جیسے بارش ہو اور سیلاب نہ آئے تو فصل اچھیی ہوگی) اور اس علم میں یہ ممکن ہے کہ جس چیز کا ہونا اللہ کے نزدیک ظاہر تھا وہ کسی شرط کے عدم یا کسی مانع کے وجود کی وجہ سے نہ ہو اور پھر اللہ کو معلوم ہو کہ وہ چیز نہیں ہوگی ‘ اور اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا (آیت) ” یمحوا اللہ مایشاء ویثبت “ اس سے یہی مراد ہے۔ (حاشیہ الاصول من الکافی ج ١ ص ١٤٦‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ تہران)

شیخ طباطبائی نے علم کی جو دوسری قسم بیان کی ہے وہ مخلوق کا علم تو ہوسکتا ہے خالق اور عالم الغیب کی شان کو پہلے علم نہ ہو اور اس پر یہ چیز بعد میں ظاہر ہو اور بداء کہلائے اور اس آیت سے مراد تقدیر معلق ہے مثلا کسی شخص کی عمر چالیس سال لکھ دی ‘ پھر اس نے کوئی نیکی کی یا کسی نے دعا کی تو اس کی عمر بڑھا کر پچاس سال کردی اور چالیس سال کو مٹا دیا اور اگر نیکی نہیں کی یا کسی نے دعا نہیں کی تو چالیس سال کو برقرار رکھا ‘ لیکن یہ اس کا علم نہیں ہے ‘ اس کو لوح محفوظ میں اس لیے لکھا ہے کہ نیکی اور دعا کی فضیلت ظاہر ہو۔

خبر کے منسوخ ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف :

اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ اخبار میں نسخ واقع ہوتا ہے یا نہیں ‘ جمہور کا موقف ہے کہ نسخ صرف اوامر اور نواہی (احکام) کے ساتھ مخصوص ہے ‘ خبر منسوخ نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی خبر دی ہے اگر وہ منسوخ ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب لازم آئے گا اور یہ محال ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اگر خبر کسی حکم شرعی کو متضمن ہو تو اس کا منسوخ ہونا جائز ہے اور اس کی مثال یہ آیت ہے :

(آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا و رزقا حسنا (النخل : ٦٧)

ترجمہ : اور کھجور اور انگور کے بعض پھل ہیں جن سے تم سکر اور اچھا رزق بناتے ہو۔

” سکر “ کا ایک معنی ہے : سرکہ اور میٹھا مشروب ‘ اور سکر کا دوسرا معنی ہے : نشہ آور مشروب ‘ اگر اس کا معنی سرکہ یا میٹھا مشروب ہو تو پھر اس کا نسخ سے کوئی تعلق نہیں ہے ‘ لیکن ابن جبیر ‘ نخعی ‘ شعبی اور ابو ثور کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نشہ آور مشروب اور خمر ہے ‘ اور یہ آیت مکی ہے اور خمر (انگور کی شراب) کے حرام ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہے ‘ یہ آیت اس حکم شرعی کو متضمن ہے کہ خمر حلال ہے اور سورة مائدہ میں جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئی خمر کو حرام کردیا گیا۔ بہرحال اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اگر خبر کسی حکم شرعی کو متضمن ہو تو اس پر نسخ وارد ہوسکتا ہے۔

نسخ اور تخصیص کا فرق :

جب عام میں تخصیص کی جاتی ہے تو اس تخصیص پر بھی نسخ کا گمان کیا جاتا ہے ‘ حالانکہ تخصیص نسخ نہیں ہے کیونکہ نسخ کی تعریف ہے : دلیل شرعی سے کس حکم شرعی کا اٹھا دینا ‘ اور تخصیص کی تعریف ہے : عام کو اس کے بعض افراد میں منحصر کردینا ‘ ہرچند کہ دونوں کی تعریفیں الگ الگ ہیں لیکن ان دونوں میں قوی مشابہت ہے ‘ کیونکہ نسخ میں حکم کو بعض زمانہ کے ساتھ خاص کردیا جاتا ہے اور تخصیص میں بعض افراد سے حکم کو ساقط کردیا جاتا ہے اس کے باوجود ان دونوں میں حسب ذیل وجوہ سے فرق ہے :

(١) تخصیص کے بعد عام مجاز ہے کیونکہ عام کے لفظ کو کل افراد کے لیے وضع کیا گیا ہے اور اس کا قرینہ مخصص ہے اور یہ مجاز کی علامت ہے ‘ اور جو نص منسوخ ہوگی وہ اسی طرح حقیقت ہے اور وہ اپنے مدلول کے لحاظ سے تمام زمانوں کو شامل ہے ‘ البتہ ناسخ نے اس پر دلالت کی کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں وقت تک اس حکم پر عمل کرانے کا ارادہ کیا ہے۔

(٢) تخصیص سے جو افراد خارج ہوگئے وہ لفظ عام سے مراد نہیں ہوتے اور جو حکم منسوخ ہوگیا وہ اس لفظ سے مراد ہوتا ہے۔

(٣) جو نص منسوخ ہوجائے اس سے استدلال کرنا باطل ہے اور تخصیص کے بعد بھی عام اپنے باقی ماندہ افراد میں حجت ہوتا ہے۔

(٤) نسخ صرف کتاب اور سنت سے ہوتا ہے اور تخصیص حس اور عقل سے بھی ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم عاد سے فرمایا :

(آیت) ” بل ھو ما استعجلتم بہ ‘ ریح فیھا عذاب الیم۔ تدمر کل شیء بامر ربھا، (الاحقاف : ٢٥۔ ٢٤)

ترجمہ : بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کو تم نے جلدی طلب کیا ہے ‘ ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ یہ آندھی ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی۔

ہر چیز کے عموم میں زمین اور آسمان بھی شامل ہیں اور حس ان کی مخصص ہے کیونکہ اس آندھی سے زمین اور آسمان برباد نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہد ہد نے بلقیس کے متعلق بیان کیا :

(آیت) ” واوتیت من کل شیء ولھا عرش عظیم۔ (النمل : ٢٣)

ترجمہ : اور اس کو ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا بہت بڑا تخت ہے۔

ظاہر ہے کہ بلقیس کے پاس ہر چیز نہیں تھی اور حس اس کی مخصص ہے کہ اس کے پاس حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے درباری نہیں تھے اور موجودہ دور کی ایجادات بلقیس کے پاس نہیں تھیں۔

(آیت) ” ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ (البقرہ : ٢٠)

ترجمہ : بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔

اس کے عموم کی عقل مخصص ہے کیونکہ واجب اور محال اللہ کی قدرت میں نہیں ہیں یعنی اپنا شریک بنانا اور اپنے آپ کو معدوم کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہیں۔

(٥) جمہور کے نزدیک خبر میں نسخ نہیں ہوتا ‘ اور تخصیص خبر میں بھی ہوتی ہے۔

نسخ اور تقیید کا فرق :

بعض عبارات میں کسی خبر کو مطلق بیان کیا جاتا ہے ‘ اور بعض دوسری عبارات میں اس خبر کی تقیید بیان کردی جاتی ہے ‘ اس تقیید کو بھی بعض علماء نسخ گمان کرلیتے ہیں، حالانکہ یہ اطلاق اور تقیید کے باب سے ہے نسخ نہیں ہے ‘ اس کی مثال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” اجیب دعوۃ الداء اذا دعان : (البقرہ : ١٨٦)

ترجمہ : جب کوئی شخص دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔

بہ ظاہر اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مطلق ہے اور اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا کو ہرحال میں قبول فرماتا ہے لیکن ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے قبول کرنے کو اپنی مشیت کے ساتھ مقید کردیا ہے :

(آیت) ” بل ایاہ تدعون فیکشف ماتدعون الیہ ان شآء : (الانعام : ٤١)

ترجمہ : بلکہ تم اسی سے دعا کرو تو وہ اگر چاہے تو اس مصیبت کو دور کر دے گا جس کے لیے تم اس سے دعا کرتے ہو۔

عرف اور تعامل کا بدلنا نسخ نہیں ہے :

ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ احکام شرعیہ میں نسخ صرف کتاب اور سنت سے ہوتا ہے ‘ اور فقہاء کا جو یہ قاعدہ ہے کہ زمانہ کے اختلاف سے احکام مختلف ہوجاتے ہیں اور تعامل اور عرف کے بدل جانے سے احکام بدل جاتے ہیں ‘ اس کو نسخ نہیں کہتے ‘ یہ مجتہدین کا اختلاف ہے ‘ مثلا متقدمین تعلیم قرآن ‘ امام ‘ اذان ‘ خطبہ اور تدریس کی اجرت کو ناجائز کہتے تھے ‘ لیکن متاخرین نے اس کو جائز کہا ‘ اسی طرح مفقود الخبر کے متعلق متقدمین پہلے امام اعظم کے قول پر یہ کہتے تھے کہ اس کی بیوی نوے سال تک انتظار کرے ‘ پھر اس کو مردہ قرار دے کر اس کی بیوی کو نکاح ثانی کی اجازت دی جائے گی لیکن متاخرین فقہاء احناف امام مالک کے قول پر اس کو صرف چار سال تک انتظار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اس طرح پہلے صاع وغیرہ کے اعتبار سے خریدو فروخت ہوتی تھی اب کلو گرام کے اعتبار سے ہوتی ہے۔

قرآن مجید کی آیات منسوخہ کی تعداد میں اختلاف کا منشاء :

بعض متقدمین علماء نے نسخ کا بہت عام معنی مراد لیا اور مطلقا ازالہ کو نسخ قرار دیا ‘ ان کے نزدیک کسی تلاوت کا ازالہ بھی نسخ ہے ‘ اور کسی حکم شرعی کا بدل جانا بھیی نسخ ہے ‘ عام کی تخصیص بھی نسخ ہے ‘ استثناء بھی نسخ ہے ‘ مطلق کی تقیید بھی نسخ ہے ‘ کسی آیت میں بیان کیے گئے وصف کا ازالہ بھی نسخ ہے ‘ اس لیے ان کے نزدیک آیات منسوخہ کی تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی اور محققین علماء نے یہ کہا کہ نسخ صرف دلیل شرعی سے حکم شرعی کے زائل کرنے کو کہتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے کسی حکم کو بیان کرتے ہیں ‘ اللہ اور اس کے رسول کے علم میں وہ حکم کسی مصلحت کی وجہ سے کسی خاص وقت کے لیے ہوتا ہے لیکن چونکہ اس حکم کے ساتھ اس مدت کو بیان نہیں کیا جاتا ‘ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حکم دائمی ہے اور جب اللہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حکم کو زائل کردیتے ہیں تو اس پہلے حکم کو منسوخ سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس ناسخ کے ذریعہ اللہ یا اس کا رسول اس پہلے حکم کی مدت بیان فرماتے ہیں کہ جس حکم کو تم دائمی سمجھ رہے تھے وہ دراصل اس مدت تک کے لیے تھا ‘ خلاصہ یہ ہے کہ نسخ سابق حکم شرعی کی مدت کا بیان ہے ‘ اور ہمارے نزدیک قرآن مجید کی صرف بارہ آیات منسوخ ہیں ‘ ان کو ہم نے اس کتاب کے مقدمہ میں تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 106