بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِىَ الَّتِىۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَنِّىۡ فَضَّلۡتُكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ

اے بنواسرائیل ! میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی ہیں ‘ اور بیشک میں نے تم کو (تمہارے زمانہ میں) تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے

نسبت ابراہیم (علیہ السلام) کی وجہ سے یہود و نصاری اور مشرکین پر دین اسلام کا حجت ہونا : 

پہلی دو آیتوں کی تفسیر سورة بقرہ کی آیت نمبر ٤٨‘ ٤٧ میں گزر چکی ہے ‘ تیسری آیت میں ارشاد ہے : اور جب کئی باتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کی ان کے رب نے آزمائش کی۔ (البقرہ : ١٢٤) 

اللہ تعالیٰ نے پہلے تفصیل سے بنو اسرائیل پر کئے گئے انعامات کو بیان فرمایا ‘ پھر یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنے دین اور اعمال میں کیا کیا بدعات اور خرابیاں پیدا کیں ‘ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ شروع فرمایا ‘ اور اس کی حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے شخص ہیں کہ تمام ادیان اور مذاہب کے پیروکار ان کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں اور مشرکین مکہ بھی اس پر فخر کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں اور خدام حرم ہیں ‘ اور یہود و نصاری بھی ان کی فضیلت کا اعتراف کرتے تھے اور ان کی اولاد سے ہونے کا شرف ظاہر کرتے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا جس سے حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور آپ کے دین کا ان سب پر حجت ہونا لازم آتا ہے اور اس کی کئی وجوہ ہیں۔ 

(١) حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کی خصوصیت حج بیت اللہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ بیت اللہ کا حج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یادگار ہے اور اس کا داعی صرف اسلام ہے ‘ اس لیے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ماننے والے ہیں ان پر دین اسلام کو ماننا واجب ہے۔

(٢) جب کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا تو یہود نے اس کا برا منایا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ماننے والے ہو اور یہ کعبہ ان ہی کا بنایا ہوا ہے تو اس کے قبلہ بنائے جانے پر تو تمہیں ناراض ہونے کی بجائے خوش ہونا چاہیے۔ 

(٣) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جن کلمات سے آزمائش کی گئی اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ ان کا تعلق بدن کی صفائی اور پاکیزگی سے تھا اور یہ طہارت صرف دین اسلام میں ہے ‘ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ دین اسلام کو مانیں۔ 

(٤) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سورج ‘ چاند اور ستاروں کی خدائی کا انکار کیا اور بت پرستی کا رد کیا اور اسلام بھی اسی کا داعی ہے۔ 

(٥) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کی جگہ مینڈھے کو ذبح کرا دیا ‘ اور اس تاریخ کو سنت ابراہیم (علیہ السلام) کے مطابق قربانی کرنا صرف دین اسلام میں ہے۔ حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا : تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ (سنن ابن ماجہ، ١٢٦) 

ان کلمات کا بیان جن سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش کی گئی :

امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جن کلمات سے آزمائش کی گئی ان کے متعلق متعدد اقوال ہیں ‘ ایک قول یہ ہے : 

عکرمہ (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیس کلمات سے آزمائش کی گئی جن میں سے دس کا ذکر سورة توبہ میں ‘ دس کا ذکر سورة احزاب میں اور دس کا ذکر سورة مومنون میں ہے ‘ سورة توبہ میں جن دس کلمات کا ذکر ہے وہ یہ ہیں : 

(آیت) ” التائبون العبدون الحمدون السآئحون الرکعون السجدون الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر والحفظون لحدود اللہ ‘ وبشر المؤمنین “۔۔ (التوبہ : ١١٢) 

ترجمہ : توبہ کرنے والوں ‘ عبادت کرنے والوں ‘ حمد کرنے والوں ‘ روزہ رکھنے والوں ‘ رکوع کرنے والوں ‘ سجدہ کرنے والوں ‘ نیکی کا حکم دینے والوں ‘ برائی سے روکنے والوں ‘ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والوں ‘ اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجئے ،۔ 

سورة احزاب میں ان دس کلمات کا ذکر ہے : 

(آیت) ” ان المسلمین والمسلمت والمؤمنین والمؤمنت والقنتین والقنتت والصدقین والصدقت والصبرین والصبرت والخشعین والخشعت والمتصدقین والمتصدقت والصآئمین والصئمت والحفظین فروجھم والحفظت والذکرین اللہ کثیرا والذکرت اعداللہ لھم مغفرۃ واجرا عظیما “۔۔ (الاحزاب : ٣٥) 

ترجمہ : بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ‘ اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ‘ اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور سچے مرد اور سچ عورتیں ‘ اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں ‘ اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والی عورتیں ‘ اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ 

اور سورة مومنون میں جن دس کلمات کا ذکر ہے وہ یہ ہیں : 

(آیت) ” قد افلح المؤمنون۔ الذین ھم فی صلاتھم خشعون۔ والذین ھم عن اللغومعرضون۔ والذین ھم للذکوۃ فاعلون۔ والذین ھم لفروجھم حفظون۔ الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانہم غیر ملومین۔ فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العدون۔ والذین ھم لامنتہم وعہدھم رعون۔ والذین ھم علی صلوتہم یحافظون۔ (المؤمنون : ٩۔ ١) 

ترجمہ : بیشک ایمان والے کامیاب ہوئے۔ جو اپنی نماز خشوع سے پڑھتے ہیں۔ اور جو زکوۃ دیتے ہیں۔ اور جو اپنی شرمگاوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ماسوا اپنی بیویوں اور باندیوں کے ‘ بیشک اس میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔ اور جو اس کے سوا کسی اور کو طلب کرے تو وہی لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ اور جو اپنی نماز کی (قضا ہونے سے) حفاظت کرتے ہیں۔ 

اور طاؤس نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دس کلمات سے آزمائش کی گئی ‘ پانچ کا تعلق سر کی طہارت سے اور پانچ کا تعلق باقی جسم کی طہارت سے ہے ‘ وہ دس کلمات یہ ہیں : 

امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ دس چیزیں فطرت سے ہیں (سنت ہیں) : مونچھیں کم کرنا ‘ ڈاڑھی بڑھانا ‘ مسواک کرنا ‘ ناک میں پانی ڈالنا ‘ ناخن تراشنا ‘ انگلیوں کے جوڑ دھونا ‘ بغل کے بال نوچنا ‘ زیر ناف بالوں کو مونڈنا ‘ استنجاء کرنا ‘ راوی نے کہا : میں دسویں چیز بھول گیا البتہ وہ کلی کرنا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٢٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) 

ان دس چیزوں کی مکمل تشریح ہم نے شرح صحیح مسلم جلد اول میں کردی ہے۔ 

اور حنش نے حضرت ابن عباس (رض) سے ان کلمات کی تفسیر میں جسمانی طہارت کے علاوہ مناسک حج کا بھی ذکر کیا ہے اور ان میں طواف ‘ سعی ‘ رمی جمار اور وقوف عرفات کا ذکر کیا ہے : (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٤١٥۔ ٤١٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک میں تم کو (تمام) لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ (البقرہ : ١٢٤) 

امام کا لغوی معنی :

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

امام اس کو کہتے ہیں جس کی اقتداء کی جائے ‘ خواہ وہ انسان ہو جس کے قول اور فعل کی اطاعت اور اتباع کی جائے ‘ یا کتاب ہو جس میں مذکور احکام کی اطاعت کی جائے ‘ اور خواہ وہ امام حق ہو یا باطل ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامہم “۔ (بنواسرائیل : ٧١) 

ترجمہ : جن دن ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔

اس آیت میں امام سے مراد وہ شخص ہے جس کی اقتداء کی گئی ہو ‘ خواہ وہ حق ہو یا باطل ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب ہے۔ 

نیز قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وکل شیء احصینہ فی امام مبین “۔۔ (یسن : ١٢) 

ترجمہ : اور ہم نے ایک روشن کتاب میں ہر چیز کا احاطہ کرلیا ہے۔ 

اس آیت میں امام سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ، (المفردات ص ‘ ٢٤‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

اہل سنت کے نزدیک امام کا شرعی معنی : 

جب امام کا لفظ مطلقا بولا جائے تو اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی منہاج نبوت پر امور دین میں پیروی کی جائے ‘ اور اس کا مصداق انبیاء (علیہم السلام) ‘ خلفاء راشدین ‘ قضاۃ ‘ فقہاء ‘ ائمہ اور نماز کے امام ہیں ‘ انبیاء (علیہم السلام) اس لیے امام ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے امور دین میں ان کی اتباع اور اقتداء لازم کردی ہے اور خلفاء راشدین اس لیے امام ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اقتداء لازم کردی ہے ‘ حضرت عرباض بن ساریہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری سنت کی پیروی کرو اور میرے خلفاء راشدین کی پیروی کرو۔ ١ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) اور قضاۃ ‘ فقہاء ائمہ مجتہدین ‘ اور ائمہ تفسیر و حدیث بھی امام ہیں کیونکہ یہ سب اولی الامر میں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی اطاعت کو بھی لازم کردیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم “۔ (النساء : ٥٩) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے صاحبان امر ہیں۔ 

اور نماز کے امام کو اس لیے امام کہا جاتا ہے کہ حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : امام کو اس لیے امام بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ‘ جب وہ قیام کرے تو قیام کرو ‘ جب وہ رکوع کرے تو رکوع کرو اور جب وہ سجدہ کرے تو سجدہ کرو۔ ١ (امام محمد اسماعیل بخاری (رح) متوفی ٢٥٦ ھ صحیح بخاری ج ١ ص ١٠١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) انبیاء (علیہم السلام) کا امامت میں سب سے اعلی مرتبہ ہے ‘ پھر خلفاء راشدین ہیں ‘ پھر علماء ‘ فقہاء ‘ ائمہ مجتہدین ‘ عادل قاضی اور نماز کے امام ہیں ‘ اور جب امام سے مراد امام باطل ہو تو اس کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ ہوتا ہے جس سے اس پر دلالت ہو کہ یہاں امام باطل مراد ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” فقاتلوا ائمۃ الکفر : (التوبہ : ١٢) 

ترجمہ : کفر کے اماموں سے قتال کرو “۔ 

(آیت) ” وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار “۔ (القصص : ٤١) 

ترجمہ : اور ہم نے ان کو ایسا امام بنایا کہ وہ لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ 

ہر چند کہ امام کا اطلاق ‘ خلفاء راشدین ‘ فقہاء ائمہ مجتہدین اور ائمہ مساجد پر بھی ہوتا ہے لیکن اس جگہ امام سے مراد نبی ہے ‘ کیونکہ اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے خطاب ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب بطور امتنان اور احسان ہے ‘ اس لیے ضروری ہے کہ اس سے امامت کا اعلی درجہ مراد لیا جائے اور وہ نبوت ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ الناس میں لام استغراق ہے اور اس کا معنی ہے : میں تم کو تمام لوگوں کا امام بنانے والا ہوں ‘ اور جو تمام لوگوں کو امام ہو وہ نبی ہوتا ہے ‘ تیسری وجہ یہ ہے کہ یہاں امام سے مراد امام معصوم ہے کیونکہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اور میری اولاد سے بھی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا ‘ اور امام معصوم صرف نبی ہوتا ہے اس لیے اس آیت میں امام سے مراد نبی ہے۔ 

تمام مسلمانوں کے امیر کو بھی امام کہتے ہیں ‘ اس کی تعریف یہ ہے : جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نائب اور خلیفہ ہو اور اس کو دین اور دنیا کے تمام امور میں ریاست عامہ حاصل ہو ‘ علامہ تفتازانی نے لکھا ہے کہ امت کے لیے ایک امام ضروری ہے جو دین کے احکام کو زندہ کرے ‘ سنت کو قائم کرے ‘ مظلوموں کے ساتھ انصاف کرے اور حق داروں کو ان کے حقوق پہنچائے ‘ امام کے تقرر کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ مکلف ہو ‘ مسلمان ہو ‘ نیک ہو ‘ آزاد ہو ‘ مرد ہو ‘ مجتہد ہو ‘ بہادر ہو ‘ صاب رائے ہو ‘ سمیع بصیر اور ناطق ہو ‘ اور قرشی ہو ‘ اس کے لیے ہاشمی ہونا ‘ معصوم ہونا اور سب سے افضل ہونا ضروری نہیں ہے۔ (شرح المقاصد ج ٥ ص ١٣٣۔ ١٣٢‘ مطبوعہ منشورات الرضی ‘ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اہل تشیع کے نزدیک امامت کا شرعی معنی اور بحث ونظر : 

محققین شیعہ کی کتاب ” تفسیر نمونہ “ میں لکھا ہے : 

دنیاوی حکومت یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی حدود کو جاری کرنا ‘ اور دینی تربیت یعنی لوگوں کے ظاہر و باطن کو شریعت کے مطابق اور پاک اور صاف بنانا ان دونوں منصبوں کا مجموعہ امامت ہے ‘ اور یہ مرتبہ رسالت اور نبوت سے بلند تر ہے ‘ کیونکہ رسالت اور نبوت سے صرف اللہ کے احکام کی تبلیغ کی جاتی ہے ‘ ڈرایا جاتا ہے اور خوشخبری دی جاتی ہے اور امامت میں اس کے ساتھ ساتھ ظاہر اور باطن کی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ امامت کا معنی صرف اراءت طریق (نیکی کا راستہ دکھانا) نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ایصال یہ مطلوب (صالح مومن بنادینا) ہے۔ امام کا یہ منصب بارہ اماموں پر صادق آتا ہے اور بعض بزرگ انبیاء (علیہم السلام) کو بھی امامت کا یہ منصب حاصل ہے۔ 

نبوت کا معنی ہے : اللہ کی وحی کو حاصل کرنا ‘ رسالت کا معنی ہے : وحی الہی کی تبلیغ کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو بندوں تک پہنچانا ‘ اور امامت کا معنی ہے : دنیا میں احکام الہی کا جاری کرنا اور خلق خدا کے ظاہر اور باطن کو نیک بنانا ‘ خلاصہ یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کا منصب اراءت طریق ہے اور امامت کا مرتبہ ایصال بہ مطلوب ہے : (تفسیر نمونہ ج ١ ص ٤٤١۔ ٤٣٨‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ ایران ‘ ١٣٦٩ ھ) 

علماء شیعہ کا یہ کہنا کہ امامت کا منصب ایصال بہ مطلوب ہے ‘ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ پھر اماموں کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اپنے زمانوں میں سب لوگوں کو مومن بنادیتے اور کوئی کافر ‘ مشرک اور فاسق وفاجر باقی نہ رہتا “” تفسیر نمونہ “ میں اس کا یہ جواب لکھا ہے کہ ائمہ لوگوں کو جبرا مسلمان نہیں بناتے بلکہ ان کو ان کے اختیار سے مسلمان کرتے ہیں جیسے سورج موجودات کی تربیت کرتا ہے یا بارش زمین کو زندہ کرتی ہے پھر بھی بہت سی زمینیں مردہ ہیں۔ (تفسیر نمونہ ج ١ ص ٤٤٥) 

اس جواب سے ان کو نجات نہیں ملے گی ‘ یہ جواب اس وقت صحیح ہوتا جب ائمہ کا منصب صرف اراءت طریق یعنی راستہ دکھانا ہوتا خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے ‘ لیکن اس کے برعکس شیعہ کہتے ہیں کہ ائمہ کا منصب ایصال بہ مطلوب ہے اور ظاہر اور باطن میں ہدایت کو پہنچانا ہے تو کیوں نہ ائمہ نے کافروں اور فاسقوں کے باطنوں میں انقلاب برپا کیا اور ان کے دلوں کی کجی کو سیدھا کیا اور کیوں نہ ان کو مسلمان اور صالح بنایا ‘ اس اعتراض سے ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی حتی کہ شیعہ یہ اقرار کرلیں کہ ایصال بہ مطلوب صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اور ائمہ دونوں کا منصب اراءت طریق یعنی راستہ دکھانا ہے ‘ ائمہ کو انبیاء بڑھانے کے شوق میں شیعہ نے یہ کہا کہ انیباء اور مرسلین صرف اراءت طریق کرتے ہیں اور ائمہ ایصال بہ مطلوب کرتے ہیں : 

امامت کو نبوت اور رسالت سے بڑھانے کے لیے شیعہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نبوت کے بعد امامت ملی ‘ اس سے معلوم ہوا کہ امامت کا مرتبہ نبوت سے زیادہ ہے ‘ یہ کہنا بھی غلط ہے اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو امام بنانے سے شیعہ کی اختراعی امامت مراد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بعد میں آنے والے تمام انبیاء اور مرسلین کا مبدا اور باپ بنادیا اور بعد کے تمام انبیاء آپ کی نسل سے مبعوث ہوئے۔ 

علماء شیعہ کا بارہ اماموں کو انبیاء اور رسل سے افضل اور بلند تر قرار دینا صریح کفر ہے اور بداھۃ باطل ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ان اللہ اصطفی ادم ونوحا وال ابرھیم وال عمرن علی العلمین۔ (آل عمران : ٣٣) 

ترجمہ : بیشک اللہ نے آدم ‘ نوح ‘ آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہان والوں پر بزرگی دی ہے۔ 

آل ابراہیم اور آل عمران میں ان کی اولاد میں سے انبیاء مراد ہیں ‘ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک تمام نبیوں کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے اور تمام جہان والوں میں وہ ائمہ بھی داخل ہیں جو نبی نہیں ہیں ‘ پس ثابت ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) ان سے افضل ہیں ‘ نیز قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب ‘ کلا ھدینا ونوحا ھدینا من قبل ومن ذریتہ داؤد وسلیمن وایوب ویوسف وموسی وھرون ‘ وکذلک نجزی المحسنین۔ و زکریا ویحی و عیسیٰ والیاس ‘ کل من الصلحین۔ واسمعیل والیسع ویونس ولوطا وکلا فضلنا علی العلمین “۔ (الانعام : ٨٦۔ ٨٤) 

ترجمہ : اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے ‘ اور ہم نے سب کو ہدایت دی ‘ اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی ‘ اور ان کی اولاد سے داؤد ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ ‘ اور ہارون کو ہدایت دی ‘ اور ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ اور زکریا یحییٰ ‘ عیسیٰ اور الیاس یہ سب صالحین میں سے ہیں۔ اور اسماعیل ‘ الیسع ‘ یونس ‘ اور لوط (کو بھی ہم نے ہدایت دی ) ‘ اور ہم نے سب کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔۔ 

اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے از حضرت نوح تا آخر تمام نبیوں کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی ہے اور تمام جہان والوں میں غیر نبی ائمہ بھی ہیں ‘ لہذا غیر نبی اماموں کا انبیاء اور رسل سے افضل ہونا باطل ہوگیا۔

امام کے معصوم ہونے پر علماء شیعہ کے دلائل اور بحث ونظر : 

ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں : 

تمام علماء امامیہ کا اس پر اجماع ہے کہ امام تمام گناہوں سے از اول عمر تا آخر معصوم ہوتا ہے خواہ وہ گناہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ سہوا ہوں یا عمدا اور اس پر حسب ذیل دلائل ہیں : 

(١) امام کو مقرر کرنے کا سبب یہ ہے کہ رعیت سے گناہوں کا صدور جائز ہے اس لیے کوئی ایسا شخص ہونا چاہیے جو ان کو گناہوں سے باز رکھے ‘ اگر امام سے بھی گناہ کا صدور جائز ہو تو اس کے لیے ایک اور امام کی ضرورت ہوگی اور اگر اس سے بھی گناہ کا صدور جائز ہو تو اس کے لیے پھر ایک ایک اور امام کی ضرورت ہوگی اور اس سے تسلسل لازم آئے گا اور وہ باطل ہے اور جو باطل کو مستلزم ہو وہ بھی باطل ہوتا ہے ‘ لہذا امام کا معصوم نہ ہونا باطل ہے۔ یہ دلیل اس لیے صحیح نہیں ہے کہ امت کو گناہوں سے باز رکھنے کے لیے نبی کا وجود کافی ہے اور نبی معصوم ہوتا ہے اور نبی کی وفات کے بعد اس کی تعلیمات کافی اور وافی ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے کسی اور امام معصوم کی ضرورت نہیں ہے ‘ اگر امام معصیت کرے گا تو امت کے علماء اور فقہاء قرآن اور حدیث سے اس کی معصیت کی نشان دہی کریں گے اور اگر وہ معصیت پر اصرار کرے گا تو وہ اس کو بشرط استطاعت معزول کردیں گے۔ 

(٢) قرآن مجید اور احادیث میں تمام احکام کی تفصیل نہیں ہے ‘ اور غیر معصومین کا اجماع حجت نہیں ہے ‘ لہذا شریعت کی حفاظت کے لیے اور احکام کی تفصیل کے لیے امام معصوم کا ہونا ضروری ہے ‘ کیونکہ اگر امام معصوم نہ ہو تو اس کی بتائی ہوئی تفصیل پر اعتماد نہیں ہوگا : 

یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اجماع علماء حجت ہے ‘ اگرچہ انفرادی طور پر ہر عالم کی رائے غلط ہوسکتی ہے ‘ لیکن جب کسی زمانہ کے تمام علماء کسی رائے پر متفق ہوجائیں تو وہ حجت ہوگا کیونکہ کل اور جز کے احکام متغایر ہوتے ہیں ‘ نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ایک سے دو بہتر ہیں ‘ دو سے تین بہتر ہیں ‘ تین سے چار بہتر ہیں ‘ تم جماعت کے ساتھ لازم رہو ‘ کیونکہ اللہ عزوجل میری امت کو صرف ہدایت پر ہی مجتمع کرے گا۔ (مسند احمد ج ١ ص ١٤٥ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

نیز فرمایا : میں نے اللہ عزوجل سے یہ سوال کیا کہ وہ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عطا کردیا۔ (مسند احمد ج ٦ ص ‘ ٣٩٦ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اور امام ابن ماجہ (رح) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میری امت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔ ١ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ٢٨٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی) اور امام بخاری (رح) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ امت ہمیشہ اللہ کے دین پر قائم رہے گی ‘ کسی کی مخالفت اس کو ضرر نہیں پہنچائے گی حتی کہ قیامت آجائے گی۔ ٢ (امام محمد اسماعیل بخاری (رح) متوفی ٢٥٦ ھ صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) نیزاجتہادی مسائل میں صرف ظن غالب پر عمل کرلینا کافی ہے ‘ خود شیعہ حضرات تمام فروعی مسائل میں ہر دور میں زندہ مجتہد کے اجتہاد اور اس کے فتوی پر عمل کرتے ہیں ‘ امام غائب کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہتے ‘ ملا باقر مجلسی نے لکھا ہے کہ امام حسن عسکری کا ٢٦٠ ھ میں انتقال ہوا تھا اس وقت امام محمد بن الحسن جن کو قائم ‘ امام غائب امام منتظر کہتے ہیں ‘ ان کی عمر پانچ سال تھی ‘ وہ اس وقت سے غائب ہیں۔ ١ (ملا محمد باقر بن محمد تقی مجلسی متوفی ١١٠ ھ ‘ جلاء العیون (مترجم) ج ٢ ص ٤٧٩‘ مطبوعہ لاہور) تو گویا ٢٦٥ ھ سے تمام شیعہ کسی امام معصوم کے بغیر احکام شرعی پر عمل کر رہے ہیں لہذا ثابت ہوا کہ حفاظت شریعت کیلیے کسی امام معصوم کی ضرورت نہیں ہے۔ rnّ (٣) اگر امام سے خطاء واقع ہو تو لوگ اس کو ملامت کریں گے اور یہ اس کی اطاعت کے وجوب کے منافی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم “۔ (النساء : ٥٩) 

ترجمہ : اللہ کی اطاعت کرو ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے صاحبان امر ہیں۔ 

یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت مستقل ہے ‘ اور صاحبان امر کی اطاعت اسی وقت واجب ہے جب وہ اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق حکم دیں ‘ امام مسلم ‘ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان شخص پر خوشی اور ناخوشی میں سننا اور اطاعت کرنا لازم ہے ماسوا اس کے کہ اس کو معصیت کا حکم دیا جائے ‘ اگر اس کو معصیت کا حکم دیا جائے تو اس پر سننا اور اطاعت کرنا لازم نہیں ہے۔ ٢ (امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ ‘ صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١٢٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) اگر امام سے معصیت صادر ہو تو اس کو امام بنانے کی غرض فوت ہوجائے گی کیونکہ اس کو امام بنانے کی غرض یہ تھی کہ تمام امت اس کے اقوال اور افعال کی پیروی کرے۔ (حیات القلوب ج ٣ ص ١٥‘ مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ‘ تہران) 

یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ تمام امت پر جس کے تمام اقوال اور افعال کی پیروی لازم ہے وہ صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے اور امام کا کام صرف اللہ تعالیٰ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر عمل کرانا ہے ‘ نیز امام محمد بن حسن تو ٢٦٥ ھ کے بعد غائب ہوگئے تھے ‘ تو ٢٦٥ ھ کے بعد سے لے کر اب تک کون سے امام معصوم کے تمام اقوال اور افعال کی پیروی لازم ہے ؟ 

علماء شیعہ کے نزدیک اللہ اور رسول کی تصریح سے امام کا تقرر اور بحث ونظر :

ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں : 

علماء امامیہ کا اس پر اجماع ہے کہ امام اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مخصوص ہونا چاہیے ‘ اور اس پر حسب ذیل دلائل ہیں۔ 

(١) امام کا معصوم ہونا ضروری ہے ‘ اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کون معصوم ہے ‘ لہذا وہی امام کا تقرر کرسکتا ہے۔ یہ دلیل امام کے معصوم ہونے پر مبنی ہے اور ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ امام کا معصوم ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

(٢) تتبع اور استقراء سے معلوم ہے کہ اگر کوئی قاہر حاکم ہو جو لوگوں کو ایک دوسرے پر زیادتی اور فساد سے نہ روکے تو خلق خدا فساد کرتی ہے اس لیے شریعت کے مطابق اصلاح کے لیے ہر زمانہ میں امام معصوم کا تقرر کرنا لازم ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے تو لازم آئے گا کہ وہ فساد سے راضی ہے اور یہ محال ہے۔ 

یہ دلیل اس لیے صحیح نہیں ہے کہ فساد کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث کیا اور ان پر شریعت نازل کی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت قیامت تک کے لیے ہے ‘ اور خلفاء راشدین اور ہر زمانہ میں علماء ربانیین اس شریعت پر عمل کرانے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں اور اس جدوجہد کے نتیجہ میں فساد کا ختم ہونا لازم نہیں ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں منافقین فساد کرتے رہے ‘ حضرت علی (رض) کے دور میں خارجی فساد کرتے رہے ‘ اور اسی طرح باقی گیارہ اماموں کے دور میں فساد ہوتا رہا ‘ نیز ہم پوچھتے ہیں کہ اگر ہر زمانہ میں اللہ کی طرف سے امام معصوم منصوص ہوتا ہے جو شریعت پر عمل کرائے اور فساد دور کرے تو امام حسن عسکری متوفی ٢٦٥ ھ ‘ کے بعد کوئی فساد کو دور کرا رہا ہے ؟ کیونکہ امام محمد بن حسن تو ساڑھے گیارہ سو سال سے غائب ہیں۔ 

(٣) اللہ تعالیٰ کا مخلوق پر جو شفقت ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مسلمانوں کا کوئی خلیفہ ہو اور مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت امیر المومینن (علی) (علیہ السلام) کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کی امامت کی تصریح نہیں کی۔ 

یہ صراحۃ غلط ہے ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کی امامت کی تصریح کی ہے۔ امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت عائشہ۔ بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیماری کے ایام میں فرمایا : میرے لیے اپنے باپ ابوبکر (رض) اور اپنے بھائی کو بلاؤ حتی کہ میں ان کو ایک مکتوب لکھ دوں ‘ کیونکہ مجھے یہ خدشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہے گا کہ میں ہی زیادہ (خلافت کا) حق دار ہوں اور اللہ اور مسلمان ابوبکر (رض) کے سوا ہر ایک کا انکار کردیں گے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٢٧٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) 

اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے بھی روایت کیا ہے (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠٧٢۔ ١٠٧١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

(٤) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول تھا کہ جب غزوات میں تشریف لے جاتے تو کسی کو اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کرکے جاتے اس لیے ضروری ہوا کہ وفات کے وقت بھی آپ کسی کو مقرر کرتے (حیات القلوب ج ٣ ص ٢٢۔ ٢١‘ مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ‘ تہران) 

ہاں ! لیکن اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ آپ حضرت علی کو مقرر کرتے ‘ آپ نے ایام مرض میں حضرت ابوبکر (رض) کو نمازوں کا امام مقرر کیا اور حضرت عائشہ (رض) سے حضرت ابوبکر (رض) کے لیے امر خلافت لکھنے کا اظہار کیا ‘ ان تمام دلائل سے متعین ہے کہ آپ کے نزدیک آپ کے بعد حضرت ابوبکر (رض) ہی خلیفہ ہونے تھے۔ 

علماء شیعہ کے نزدیک امام کو مقرر کرنے کا اللہ پر وجوب اور بحث ونظر : 

ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں : 

(١) اللہ تعالیٰ کا بندوں پر لطف کرنا اور ان کے حق میں زیادہ بہتر کام کو کرنا واجب ہے ‘ اور مسلمانوں کے لیے امام کا وجود اللہ کا لطف ہے۔ 

یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر بندوں کے حق میں زیادہ بہتر کام کرنا اللہ پر واجب ہو تو بندوں کے حق میں تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ وہ بغیر امام کے از خود نیک کام کریں ‘ کیونکہ کسی کے نیک بنانے کے بعد نیک بننے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ انسان از خود نیک ہو ‘ اور صحیح بات یہ ہے کہ اللہ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ 

(٢) تحریف ‘ تغییر ‘ زیادتی اور کمی سے حفاظت کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کا کوئی محافظ ضروری نہیں ہے ‘ اور قرآن مجید میں جو احکام مجمل ہیں ان کی تفصیل کے لیے اور استنباط احکام کے لیے امام ضروری ہے ‘ اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات کے وقت کا غذ اور قلم طلب کیا تھا تاکہ آپ امت کے لیے ایسا مکتوب لکھ دیں جس کے بعد امت ہرگز گمراہ نہ ہو سکے ‘ لیکن ایک شخص نے کہا : ہمیں قرآن کافی ہے ‘ حالانکہ وہ شخص قرآن مجید کی ایک آیت کی بھی تفسیر نہیں جانتا تھا اور امام باقر نے معتبر سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف ڈرانے والے تھے اور ہدایت دینے والے حضرت علی (رض) تھے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد۔ (الرعد : ٧) 

ترجمہ : آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کا ایک ہدایت دینے والا ہے۔ 

اور سند صحیح کے ساتھ امام باقر سے منقول ہے کہ اس آیت میں ھادی سے مراد امام ہے یعنی ہر زمانہ میں اللہ کی طرف سے لوگوں کا ایک امام ہوگا جو ان کو ہدایت دے گا اور حلال اور حرام بیان کرے گا۔ (حیات القلوب ج ٣ ص ٤۔ ٣‘ مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ‘ تہران) 

یہ دلیل کئی مغالطہ آفرینیوں پر مبنی ہے ‘ قرآن مجید کی حفاظت کا خود اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے ‘ اس کے لیے الگ محافظ کی ضرورت نہیں ہے ‘ اور قرآن مجید کے احکام کی تفصیل اور استنباط مسائل کے لیے احادیث اور ائمہ مجتہدین کافی ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کاغذ اور قلم لانے کا حکم فرمایا تھا یہ حتمی حکم نہیں تھا ورنہ آپ کو کاغذ اور قلم منگوانے سے کون روک سکتا تھا ‘ اور حضرت عمر کا منع کرنا صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حالت مرض میں زحمت نہ دینے کے لیے آپ کی محبت کے پیش نظر تھا ‘ دین مکمل ہوچکا تھا اور تکمیل دین کی آیت نازل ہوچکی تھی ‘ اگر حضرت عمر (رض) کا جواب غلط تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مسترد کردیتے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ شان نہیں ہے کہ آپ کے سامنے کوئی غلط بات کہی جائے اور آپ اس پر سکوت فرمائیں ‘ اور کاغذ اور قلم منگوانے سے یہ کب لازم ہے کہ آپ امام کو نامزد کرنے کے متعلق لکھوانا چاہتے تھے اور اگر امام ہی کے متعلق لکھوانا چاہتے تھے تو یہ کب لازم ہے کہ حضرت علی (رض) کو امام لکھوانا چاہتے تھے بلکہ آپ حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق لکھوانا چاہتے تھے جیسا کہ ہم ” صحیح مسلم “ سے حضرت عائشہ (رض) کی روایت نقل کرچکے ہیں۔ حدیث قرطاس کی مکمل بحث ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد رابع میں کردی ہے ‘ اور رہا یہ کہنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف ڈرانے والے تھے ھادی حضرت علی (رض) تھے قرآن مجید کی معنوی تحریف ہے ‘ سیاق وسباق کے ساتھ یہ آیت اور اس کا صحیح ترجمہ اس طرح ہے : 

(آیت) ” ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ انما انت منذر ولکل قوم ھاد “۔ (الرعد : ٧) 

ترجمہ : اور کافر کہتے ہیں : ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ نازل ہوئی ؟ (یہ آپ کا کام نہیں) آپ تو صرف (عذاب سے) ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کو ہدایت دینے والے ہیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عذاب سے ڈرانے کے ساتھ ہدایت بھی دیتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” وانک لتھدی الی صراط مستقیم۔ (الشوری : ٥٢) 

ترجمہ : اور بیشک آپ ضرور صراط مستقیم کی ہدایت دیتے ہیں۔ 

اس سے بڑا اور کیا ظلم ہوگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صرف ڈرانے والا اور آپ کے مقابلہ میں حضرت علی (رض) کو ہدایت دینے والا کہا جائے۔ 

اہل تشیع کے بارہ اماموں کے بیان : 

ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں : 

شیعہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) کو خلیفہ مانتے ہیں اور امامیہ اور اثناء عشریہ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو قائم حضرت مہدی تک بارہ اماموں کو مانتے ہیں اور ان کو امام اور اللہ اور رسول اللہ کا خلیفہ جانتے ہیں اور امام کے لیے معصوم ہونے کو شرط مانتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت علی (رض) (١) متوفی ٤٠ ھ کو امام اور خلیفہ مانتے ہیں اور ان کے بعد حضرت حسن بن علی (٢) متوفی ٤٩ ھ ‘ اور ان کے بعد حضرت حضرت حسین (٣) متوفی ٦١ ھ ‘ ان کے بعد حضرت زین العابدین (٤) متوفی ٩٥ ھ ان کے بعد حضرت محمد باقر (٥) متوفی ١١٤ ھ ‘ ان کے بعد حضرت جعفر بن محمد الصادق (٦) متوفی ١٤٠ ھ ‘ ان کے بعد حضرت علی بن موسیٰ بن جعفر کا ظم (٧) متوفی ١٦٣ ھ ‘ ان کے بعد حضرت علی بن موسیٰ الرضا (٨) متوفی ٢٠٣ ھ ‘ ان کے بعد حضرت محمد علی تقی (٩) متوفی ٢٢٠ ھ ‘ ان کے بعد حضرت علی بن محمد نقی (١٠) متوفی ٢٥٤ ھ ‘ ان کے بعد حضرت حسن بن علی عسکری (١١) متوفی ٢٦٠ ھ ‘ اور ان کے بعد حجت ‘ ابن الحسن مھدی (١٢) کو امام منتظر مانتے ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر میں غائب ہوگئے تھے اور تاحال غائب ہیں۔ (حق الیقین ج ١ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ ‘ کتاب فروشے اسلامیہ ‘ تہران ‘ ١٣٥٧ ھ) 

امام غائب کا نام محمد بن الحسن ہے لیکن اہل تشیع کے نزدیک ان کے ظہور سے پہلے ان کا نام لینے کی اجازت نہیں ہے ‘ وہ مخالفین اور دشمنوں کے خوف سے روپوش ہیں۔ ہم نے ان تمام ائمہ کے سنین وفات ملا باقر مجلسی کی جلاء العیون سے اخذ کئے ہیں ‘ حق الیقین میں صرف ان کے اسماء لکھے ہیں ‘ سنین وفات نہیں ہیں۔ 

اہل سنت کے نزدیک امام کو منعقد کرنے کے طریقے : 

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں : امامت کو منعقد کرنے کے حسب ذیل طریقے ہیں : 

(١) علماء اور رؤسا میں سے ارباب حل و عقد کسی شخص کو امام منتخب کرلیں ‘ اس میں عدد کی شرط نہیں ہے اور نہ یہ شرط ہے کہ تمام شہروں کے لوگ اس کی امامت پر اتفاق کریں۔ 

(٢) امام کسی شخص کو اپنا ولی عہد اور خلیفہ نامزد کر دے ‘ اور اگر وہ اس کام کے لیے ایک مجلس شوری بنا دے اور وہ اپنے اتفاق سے کسی شخص کو خلیفہ بنادیں تو یہ بھی صحیح ہے ‘ اگر امام خلافت سے دستبر دار ہوجائے تو یہ اس کی موت کے قائم مقام ہے ‘ پھر امامت ولی عہد کی طرف منتقل ہوجائے گی۔ 

(٣) کوئی شخص غلبہ اور طاقت سے حکومت پر قبضہ کرلے جب کہ وہ بیعت لینے اور خلافت کی تمام شرائط کا جامع ہو ‘ وہ لوگوں کو اپنی طاقت سے مقہور کرے تو اس کی خلافت منعقد ہوجائے گی ‘ اسی طرح اگر وہ شخص فاسق یا جاہل ہو تو اظہر قول کے مطابق پھر بھی اس کی امامت منعقد ہوجائے گی ‘ الایہ کہ وہ اپنے افعال سے معصیت کرے (یہ استثناء محل نظر ہے کیونکہ فاسق مرتکب معصیت ہی کو کہتے ہیں ‘ بہ ظاہر یہ علامہ تفتازانی کا تسامح ہے) (شرح المقاصد ج ٥ ص ‘ ٢٣٣ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی ‘ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امامت کے مسائل : 

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں : 

امام عادل ہو یا ظالم جب تک وہ احکام شرع کی مخالفت نہ کرے اس کی اطاعت کرنا واجب ہے اور اظہر قول کے مطابق ایک وقت میں دو اماموں کو مقرر کرنا جائز نہیں ہے ‘ ایک شخص طاقت اور غلبہ سے امام بنا ‘ پھر دوسرے شخص نے طاقت اور غلبہ سے اس کو معزول کردیا تو اب یہ امام ہوجائے گا ‘ کسی شخص کو بغیر کسی سبب کے امامت سے معزول کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر لوگ اس کو معزول کریں تو یہ عزل نافذ نہیں ہوگا اگر وہ حکومت چلانے سے عاجز ہوجائے تو پھر معزول ہوجائے گا ‘ فسق اور بےہوش ہونے سے امام معزول نہیں ہوتا ‘ جنون اندھا ہونے ‘ بہرا اور گونگا ہونے اور جس مرض سے وہ تمام علوم بھول جائے ان عوارض سے وہ معزول ہوجائے گا۔ 

(بہرا ہونا پہلے لایخل مسئلہ تھا ‘ اب ھیرنگ ایڈ (آلہ سماعت) کی ایجاد کی وجہ سے یہ لایخل مسئلہ نہیں ہے اس لیے اب اس کو مستثنی کرنا لازم ہے البتہ جس شخص میں بالکل سماعت نہ ہو اس کا معاملہ الگ ہے) (شرح المقاصد ج ٥ ص ‘ ٢٣٤۔ ٢٣٣ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی ‘ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امامت کے وجوب پر دلائل : 

امام مقرر کرنے کے وجوب پر حسب ذیل دلائل ہیں : 

(١) امام مقرر کرنے کے وجوب پر اجماع ہے حتی کہ صحابہ (رض) نے اس معاملہ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تدفین پر مقدم رکھا۔ 

(٢) حدود کو قائم کرنا ‘ احکام شرع کو نافذ کرنا اور مسلمانوں کے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا واجب ہے ‘ اور یہ امور امام پر موقوف ہیں اور واجب کا موقوف علیہ بھی واجب ہوتا ہے۔ 

(٣) عدل و انصاف کو قائم کرنا ‘ ظلم وجور کو دور کرنا ‘ اور معاش اور معاد کی اصلاح کرنا واجب ہے اور یہ امور امام پر موقوف ہیں۔ 

(٤) کتاب وسنت سے امام کی اطاعت واجب ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ امام کو مقرر کرنا واجب ہو۔ 

امام کو مقرر کرنے کے وجوب پر اس آیت سے استدلال کیا جاتا ہے :

(آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم ‘ (النساء : ٥٩) 

ترجمہ : اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے صاحبان امر ہیں۔ 

اور اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے ‘ امام مسلم (رح) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : 

من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاھلیۃ :

جو شخص کسی کی بیعت کیے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ 

(صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١٢٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) 

کیا اب امام نہ بنانے کی وجہ سے پوری امت گمراہ ہے ؟ 

واضح رہے کہ امام اس کو کہتے ہیں جو روئے زمین کے تمام اسلامی ملکوں کا واحد امیر ہو ‘ جیسے خلفاء راشدین ‘ خلفاء بنوامیہ اور خلفاء بنو عباس تھے اور امامت کی شرائط مذکورہ بھی اسی کے لیے ہیں اور جو صرف کسی ایک ملک کا امیر ہو اس کو سلطان کہتے ہیں جیسے آج کل اسلامی ممالک کے امراء ہیں ‘ ان میں سے بعض بادشاہ ہیں ‘ بعض منتخب صدر ہیں اور بعض بادشاہ ہیں ‘ بعض منتخب صدر ہیں اور بعض مطلق العنان آمر ہیں جنہوں نے طاقت سے اقتدار پر قبضہ کیا ‘ نہ یہ امام ہیں نہ ان کے لیے امامت کی شرائط ضروری ہیں۔ 

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں : 

اگر امام کا مقرر کرنا واجب ہو تو لازم آئے گا کہ اکثر زمانوں میں تمام مسلمانوں نے اس واجب کو ترک کیا ہو ‘ کیونکہ صفات مذکورہ کا حامل ان زمانوں میں نہیں رہا ‘ خصوصا خلافت عباسیہ کے ختم ہونے کے بعد ‘ نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : میرے بعد امت میں خلافت تین سال رہے گی ‘ پھر اس کے بعد ملوکیت ہوجائے گی۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٢٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) 

حضرت علی (رض) کی خلافت پر تیس سال پورے ہوگئے ‘ حضرت معاویہ (رض) اور ان کے بعد کے حکمران ملوک اور امراء تھے ‘ ائمہ اور خلفاء نہ تھے ‘ اور تمام مسلمان ترک واجب پر متفق نہیں ہوسکتے ‘ کیونکہ واجب کو ترک کرنا معصیت اور گمراہی ہے اور پوری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوسکتی۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ پوری امت کا گمراہ ہونا تب لازم آتا جب وہ قدرت اور اختیار سے اس واجب کو ترک کرتی نہ کہ عجز اور اضطرار سے (اور خلافت عباسیہ ساتویں صدی ہجری میں ختم ہوگئی تھی ‘ اور اسلامی حکومتیں مختلف ٹکڑوں میں بٹ گئی تھیں ‘ اس وقت چالیس سے زیادہ اسلامی ملک ہیں ‘ اور ان سب کا کسی ایک امت کے ماتحت ہونا بہ ظاہر ممکن نہیں ہے ‘ اس لیے اس دور کے مسلمان امام کے قائم نہ کرنے میں معذور ہیں۔ ہم نے اس مسئلہ کی مفصل اور مکمل تحقیق ” شرح صحیح مسلم “ جلد خامس میں کی ہے) اور یہ حدیث ہرچند کہ خبر واحد ہے ‘ تاہم اس کا محمل یہ ہے کہ خلافت کاملہ یا پے درپے خلافت متصلہ تیس سال تک رہے گی ‘ کیونکہ اس کے بعد بنوامیہ اور بنوعباس میں خلفاء رہے ہیں۔ (شرح المقاصد ج ٥ ص ‘ ٢٣٩۔ ٢٣٨ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی ‘ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ) 

فاسق کی امامت امت میں فقہاء حنبلیہ کا نظریہ : 

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : 

خلاصہ یہ ہے کہ تمام مسلمان جس کی امامت اور بیعت پر متفق ہوجائیں اس کی امامت ثابت ہوجائے گی ‘ امام مسلم (رح) نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے دل سے کسی مسلمان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا وہ اس کی حتی المقدور اطاعت کرے ‘ اور اگر کوئی دوسرا شخص اس سے امامت میں نزاع کرے تو اس دوسرے کی گردن اڑا دو ‘ اور حضرت عرفجہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب میری امت کسی ایک شخص کی امامت پر مجتمع ہو ‘ پھر کوئی دوسرا شخص اس کے خلاف خروج کرے تو اس کی گردن اڑا دو ‘ خواہ وہ کوئی شخص ہو ‘ اور صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ باغیوں سے قتال کیا جائے گا اور اسی کے حکم میں اس شخص کی امامت ہے جس کو امام اول نے امام مقرر کردیا ہو جیسے حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) کو امام بنایا تھا ‘ اور اگر کوئی شخص امام کے خلاف خروج کرے اور اپنی طاقت سے اس کو زیر کرے اور اپنی تلوار سے مسلمانوں کو مغلوب کرے حتی کہ وہ اس کی اطاعت کا اقرار کرلیں تو اب وہ امام ہوجائے گا اور اس سے قتال کرنا اور اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہوگا کیونکہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ابن الزبیر کے خلاف خروج کیا ‘ ان کو قتل کردیا اور تمام ممالک اور ان کے باشندوں پر غلبہ حاصل کرلیا اور سب نے طوعا وکرھا اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی ‘ اب وہ امام ہوگیا اور اس کے خلاف خروج حرام ہوگیا۔ (المغنی ج ٩ ص ٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

فاسق کی امامت امت میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ : 

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں : 

علماء کی ایک جماعت نے (آیت) ” لاینال عھدی الظالمین “ میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا “ سے یہ استدلال کیا ہے کہ امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ صالح ہو اور نظام سلطنت کو قائم کرسکتا ہو ‘ اور امام مسلم (رح) نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے اس بات پر بیعت لی کہ جو شخص امامت کا اہل ہوگا ہم اس سے نزاع نہیں کریں گے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٢٥) اور فاسق اور ظالم امامت کے اہل نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” لا ینال عھدی الظالمین “ اسی وجہ سے حضرت ابن الزبیر اور حضرت حسین بن علی (رض) نے خروج کیا اور عراق کے صالحین اور علماء نے حجاج کے خلاف خروج کیا ‘ اور اہل مدینہ نے بنو امیہ کے خلاف خروج کیا جس کے نتیجہ میں واقعہ حرہ برپا ہوا۔ 

اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ظالم امام کی اطاعت پر صبر کرنا اس کے خلاف خروج کرنے سے زیادہ بہتر ہے ‘ کیونکہ اس کے خلاف خروج کرنے میں امن کو خوف سے بدلنا ہے ‘ خون بہانا ہے ‘ مسلمانوں پر لوٹ مار کا دروازہ کھولنا ہے اور زمین میں فساد کرنا ہے ‘ بعض معتزلہ اور خوارج کا مذہب اس کے برعکس ہے کہ ظالم امام کے خلاف خروج کرنا زیادہ بہتر ہے۔ 

ابن خویز منداد نے کہا ہے ہے کہ ظالم نہ نبی ہوسکتا ہے ‘ نہ خلیفہ ‘ نہ حاکم ‘ نہ مفتی ‘ نہ نماز کا امام اور نہ اس کی حدیث کی روایت قبول کی جائے گی ‘ نہ احکام میں اس کی شہادت قبول کی جائے گی ‘ البتہ وہ فسق کی وجہ سے از خود معزول نہیں ہوگا ‘ حتی کہ ارباب حل وعقد اس کو معزول کردیں ‘ اور اس کے دیئے ہوئے سابقہ احکام میں سے جو صحیح ہوں گے وہ بدستور نافذ رہیں گے ‘ امام مالک (رح) نے یہ تصریح کی ہے کہ باغیوں اور خوراج کے احکام میں جو احکام کسی بھی اجتہاد کے اعتبار سے صحیح ہوں ان کو باقی رکھا جائے گا ‘ جب تک کہ وہ نصوص کے مخالف نہ ہوں یا اجماع کے منافی نہ ہوں کیونکہ ان پر صحابہ (رض) کا اجماع ہے کہ ایمان صحابہ (رض) میں خوارج نے خروج کیا اور ان کے احکام کو باقی رکھا گیا ‘ انہوں نے جو مسلمانوں سے زکوۃ لی تھی اور جو حدود قائم کی تھیں ان کو باطل نہیں قرار دیا گیا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٠٩۔ ١٠٨‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) 

فاسق کی امامت امت میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ : 

علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں : 

جس چیز پر علماء کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ اگر مسلمان بغیر فتنہ اور ظلم کے امیر کو معزول کرنے پر قادر ہوں تو ان پر اس کا معزول کرنا واجب ہے ‘ ورنہ ان پر صبر کرنا واجب ہے ‘ بعض علماء سے یہ منقول ہے کہ ابتداء فاسق کو کسی منصب کا امیر بنانا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر کوئی امیر پہلے نیک تھا بعد میں فاسق ہوگیا تو اس کے خلاف خروج کرنے میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ اس کے خلاف خروج کرنے سے منع کیا جائے گا الا یہ کہ اس سے کفر صادر ہو ‘ پھر اس کے خلاف خروج کرنا واجب ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٨ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک تم کسی امام سے علی الاعلان کسی ایسے کفر کو نہ دیکھ لو جس پر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دلیل ہو ‘ اس وقت تک اس کے خلاف خروج نہ کرو (صحیح مسلم ج ٢ ص ١٢٥) اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ امراء اور حکام کی امارت اور حکومت میں ان کی مخالفت نہ کرو ‘ اور ان پر اعتراض نہ کرو ‘ وہاں ! اگر تم ان میں کوئی ایسی برائی دیکھو جس کا برا ہونا قواعد اسلام سے یقینی طور پر ثابت ہو تو ان پر انکار کرو ‘ اور تم جہاں کہیں بھی ہو حق کو بیان کرو ‘ لیکن ان کے خلاف خروج کرنا اور ان سے قتال کرنا یہ اجماع مسلمین سے حرام ہے ‘ خواہ وہامراء فاسق اور ظالم ہوں ‘ اور اس کی تائید میں بہ کثرت احادیث وارد ہیں ‘ اور اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ سلطان فسق سے معزول ہوجاتا ہے تو یہ غلط ہے اور اجماع کے خلاف ہے ‘ اس کے معزول نہ ہونے اور اس کے خلاف خروج کے حرام ہونے کی علماء نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ اس سے فتنہ اور فسادہو گا اور مسلمانوں کا خون بہے گا ‘ لہذا فاسق کو اس کے منصب پر باقی رکھنے کی بہ نسبت اس کو معزول کرنے میں فساد زیادہ ہے ‘ قاضی عیاض مالکی نے کہا کہ علماء کا اس پر اجماع ہے ‘ کہ کافر کی امامت منعقد نہیں ہوتی ‘ اور اگر اس سے بعد میں کفر صادر ہو تو وہ معزول ہوجائے گا ‘ اور اگر وہ نمازوں کو تر کرے یا نماز کی طرف دعوت دینے کو ترک کرے یا بدعت کا ارتکاب کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے اور بعض بصریوں نے کہا : فاسق کی امامت منعقد ہوجائے گی اور اس کو برقرار رکھا جائے گا کیونکہ وہ تاویل کرنے والا ہے ‘ قاضی عیاض نے کہا : اگر امام پر بعد میں کفر طاری ہو یا وہ شریعت میں تغیر کرے یا کسی بدعت کا ارتکاب کرے تو وہ امامت کے منصب سے خارج ہوجائے گا اور اس کی اطاعت ساقط ہوجائے گی ‘ اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ‘ اس کو معزول کردیں اور کسی امام عادل کو مقرر کریں بہ شرطی کہ یہ ممکن ہو ‘ بدعتی کو معزول کرنا واجب نہیں ہے ‘ ہاں ! اگر وہ اس پر قادر ہوں تو پھر واجب ہے ‘ اور اگر ان کا اس (کافر کو معزول کرنے) سے عاجز ہونا یقینی ہو تو وہ اس سرزمین سے ہجرت کر جائیں اور اپنے دین کو بچائیں ‘ قاضی عیاض نے کہا : فاسق کی امامت ابتداء منعقد نہیں ہوتی ‘ اور اگر خلیفہ بعد میں فسق کرے تو بعض نے کہا : اس کو معزول کرنا واجب ہے ‘ بہ شرطی کہ اس سے فتنہ اور جنگ نہ ہو ‘ اور جمہور اہل سنت کے فقہاء ‘ محدثین اور متکلمین نے یہ کہا کہ امام اور خلیفہ ظلم اور فسق سے معزول نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف خروج جائز نہیں ہے ‘ بعض علماء نے یہ کہا کہ اس پر اجماع ہے ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ حضرت حسن ‘ (رض) حضرت ابن الزبیر (رض) اور اہل مدینہ نے بنو امیہ کے خلاف خروج کیا اور قرن اول کے مسلمانوں نے حجاج کے خلاف خروج کیا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے اس مسئلہ میں اختلاف تھا ‘ بعد میں اس پر اجماع ہوگیا کہ امام اور خلیفہ اگر خلافت کے بعد فسق کرے تو اس کے خلاف خروج سے منع کیا جائے گا۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ‘ ١٢٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 122