بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ

اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد طلب کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

ربط آیات :

اس آیت میں دو وجہوں سے صبر کا حکم دیا ہے ایک تو اس وجہ سے کہ کعبہ کو قبلہ بنانے پر یہودی اعتراضات کرتے تھے اور مسلمانوں کو طعنے دیتے تھے اس سے مسلمانوں کو جو اذیت پہنچتی تھی اس پر صبر کرنے کا حکم دیا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم دیا اور تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس سے پہلی آیت میں شکر کرنے کا حکم دیا ہے اور نعمت ملنے پر شکر کیا جاتا ہے ‘ سو اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جس طرح نعمت ملنے پر اللہ کا شکر کرنا لازم ہے اسی طرح نعمت زائل ہونے پر صبر کرنا واجب ہے۔

صبر کے ساتھ ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ مصائب ٹوٹنے پر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل ہوتی ہے ‘ امام احمد اپنی سند کے ساتھ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی مصیبت پہنچتی تو آپ نماز پڑھتے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ‘ ٣٨٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

صبر اور نماز کے معانی ہم سورة بقرہ کی آیت ٤٥ میں بیان کرچکے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 153