بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

2:160

اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاَصۡلَحُوۡا وَبَيَّـنُوۡا فَاُولٰٓٮِٕكَ اَ تُوۡبُ عَلَيۡهِمۡۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ

البتہ جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور (چھپائی ہوئی باتوں کو) ظاہر کردیا تو میں ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں توبہ قبول فرمانے والا بڑا مہربان ہوں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : البتہ جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور (چھپائی ہوئی باتوں کو) ظاہر کردیا تو میں ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں۔ (البقرہ : ١٦٠)

توبہ کے قبول ہونے کے لیے گناہ کو ترک کرنے اور اس کی تلافی کرنے کی شرط :

یہاں توبہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی آیتوں کو چھپانے والے یہودی کفر کو ترک کرکے اسلام لے آئیں اور اصلاح سے مراد یہ ہے کہ اپنی باطنی اصلاح کرلیں ‘ اور ظاہری اعمال کو درست کرلیں ‘ یا اس سے مراد ہے : اپنی قوم اور اپنے پیروکاروں کو اسلام کی تبلیغ کرکے ان کی اصلاح کریں ‘ اور تورات میں حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے متعلق جو لکھا ہوا ہے اس کا بیان کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔

اس آیت سے یہ معلوم ہوا ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کی یہ شرط ہے کہ جس برائی سے توبہ کی ہے اس کو ترک کردیا جائے اور اس برائی کی تلافی کی جائے ‘ کیونکہ یہود کی برائی یہ تھی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات کو چھپاتے تھے ‘ تو ان کی توبہ قبول کرنے کی یہ شرط بیان فرمائی کہ وہ اپنی اصلاح کریں یعنی آپ کی صفات چھپانے کو ترک کرکے اسلام لائیں اور چھپائی ہوئی صفات کو اب لوگوں میں بیان کریں ‘ یہ پچھلی برائی کی تلافی ہے ‘ اس لیے اب کوئی قادیانی مثلا مسلمان ہو تو اس پر لازم ہے کہ مرزا کے دعوی نبوت سے برات کا بیان کرے اور اس کے کفر کا اقرار کرے اور کوئی عیسائی مسلمان ہو تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بندہ اور رسول ہونے کا اقرار کرے اور ان کے خدا ہونے کی نفی کرے اور اسی طرح جو مسلمان جس گناہ سے توبہ کرے دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے اور اس کی جو تلافی ممکن ہو وہ تلافی کرے اور جو شخص جب کسی گناہ سے توبہ کرلے ‘ پھر اس کو اس گناہ پر ملامت نہیں کرنی چاہیے۔

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص گناہ سے توبہ کرلے وہ اس شخص کی مثل ہے جس کا گناہ نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص ٢١٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 160