بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

2:158

اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآٮِٕرِ اللّٰهِۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَيۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِ اَنۡ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ؕ وَمَنۡ تَطَوَّعَ خَيۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيۡمٌ

بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ‘ سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ ‘ اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ‘ اور بیشک جس نے خوشی سے کوئی (نفلی) نیکی کی تو بیشک اللہ جزا دینے والا خوب جاننے والا ہے

ربط آیات :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ پر اعتراضات کے جواب دیئے اور مخالفین کے اعتراضات اور طعنوں کی وجہ سے مسلمانوں کو جو اذیت پہنچی تھی اس پر صبر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا تھا کہ صبر کرنے والوں پر اللہ کی رحمت ہے اور وہ ہدایت پر ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ کا ذکر شروع کیا ‘ کیونکہ اس سے پہلے نمازوں میں کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم تھا اور اب حج اور عمرہ کے ذریعہ کعبہ کی زیارت اور اس کے گرد طواف کا حکم دیا ‘ نیز اس سے پہلے صبر کا حکم تھا اور صبر کرنے میں نفس کو مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور اب حج اور عمرہ کا ذکر کیا ‘ ان میں جسم کو مشقت اٹھانی پڑتی ہے ‘ نیز اس سے چند آیات پہلے بناء کعبہ کا ذکر تھا اور یہ فرمایا تھا کہ ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو یہ حکم دیا تھا کہ میرے بیت (کعبہ) کو طواف کرنے والوں ‘ اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو ‘ اور بناء کعبہ کا سب سے عظیم مقصد حج اور عمرہ ہے اور طواف کے ذکر میں ان کی طرف اشارہ ہے ‘ سو یہاں صراحۃ حج اور عمرہ کا ذکر فرمایا ‘ نیز اس سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر تھا کہ ہمیں مناسک (احکام حج) بتا تو اب حج اور عمرہ کے احکام میں سے صفا اور مروہ کی سعی کا حکم بیان فرمایا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔

صفا اور مروہ کے معنی :

صفا اور مروہ کعبہ کے سامنے دو پہاڑیاں ہیں۔ صفا کے معنی ہیں : چکنا پتھر ‘ اور مروہ کے معنی ہیں : سفید اور ملائم پتھر ‘ ایک قول یہ ہے کہ صفا کے معنی ہیں : صاف اور خالص ‘ اور مروہ کے معنی ہیں : چھوٹے چھوٹے پتھر۔ ایک قول یہ ہے کہ صفا کو اس لیے صفا کہتے ہیں کہ اس پر حضرت آدم صفی اللہ بیٹھے تھے اور مروہ کو اس لیے مروہ کہتے ہیں اس پر ان کی امراۃ (بیوی) بیٹھی تھیں۔

” شعائر “ ” شعیرۃ “ کی جمع ہے۔ ” شعیرۃ “ کا معنی علامت ہے اور ” شعائر اللہ “ کا معنی ہے : اللہ کے دین کی علامتیں اور خصوصیات اور وہ اعمال جن کو اللہ نے عبادت اور دین کی علامتیں قرار دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ : ١٥٨)

حج اور عمرہ کا لغوی اور شرعی معنی :

حج اور عمرہ کا لغوی اور شرعی معنی :

حج کا لغوی معنی ہے : قصد اور اس کا شرعی معنی ہے : بیت اللہ کی زیارت کا قصد کرنا۔ زندگی میں ایک بار حج کرنا فرض ہے۔ اسلام ‘ حریت ‘ عقل ‘ بلوغ اور حج کی استطاعت حج کی فرضیت کے لیے شرط ہیں۔ وقوف عرفات اور طواف زیارت حج میں فرض ہیں۔ حج کے واجبات یہ ہیں : میقات یا اس سے پہلے احرام باندھنا ‘ غروب آفتاب تک میدان عرفات میں رہنا وقوف مزدلفہ ‘ صفا اور مروہ میں دوڑنا ‘ شیطان کو منی میں کنکریاں مارنا ‘ سرمنڈوانا یا بال کٹانا اور غیر ملکی کے لیے طواف و وداع کرنا۔

حج میں یہ کام ممنوع ہیں : عمل زوجیت ‘ بال کاٹنا ‘ ناخن کاٹنا ‘ خوشبو لگانا ‘ سر اور چہرہ ڈھانپنا ‘ سلا ہوا کپڑا پہننا ‘ کسی دوسرے محرم کا سرمونڈنا ‘ حل اور حرم میں شکار کے درپے ہونا۔ (فتح الباری ج ٢ ص ٣٢١۔ ٣٢٠ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

علامہ شرنبلالی نے لکھا ہے کہ حدیث صحیح میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ افضل الایام ہے اور جب یہ دن جمعہ کا ہو تو یہ ستر حجوں سے افضل ہے۔ (مراقی الفلاح ص ٤٤٥‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البالی واولادہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)

علامہ زبیدی لکھتے ہیں : اس حدیث کو رزین بن معاویہ العبدری نے ” تجرید الصحاح “ میں طلحہ بن عبیداللہ کو زین سے روایت کیا ہے اور اس پر موطا کی علامت ہے لیکن یہ حدیث یحییٰ بن یحییٰ کی موطا میں نہیں ہے کسی اور موطا میں ہے (اتحاف السادۃ المتقین ج ٤ ص ٢٧٤‘ مطبوعہ مطبع میمنہ ‘ مصر ‘ ١٣١١ ھ)

میں نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثالث میں بڑی تفصیل اور تحقیق سے لکھا ہے کہ جمعہ کے دن اگر حج ہو تو اس کا ثواب ستر سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ حج اکبر ہے۔ کتاب الحج کے آخر میں ‘ میں نے دعا کی : اے اللہ مجھ کو بھی حج اور عمرہ کی سعادت عطا فرما۔ یہ دعا ١٩ جمادی الثانیہ ١٤٠٨ ھ میں کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے تین سال بعد مجھے عمرہ کی سعادت عطا کی اور ١٠ جمادی الاولی ١٤١١ ھ کو بروز جمعہ میں نے عمرہ کیا اور اس کے تین سال بعد ١٤١٤ ھ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے حج کی نعمت عطا کی اور یہ حج بھی جمعہ کے روز تھا اور حج اکبر تھا۔ الہ العالمین ! جس طرح آپ نے میری یہ دعا قبول فرمائی ہے میری باقی دعائیں بھی قبول فرمانا۔

علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں : عمرہ کا لغوی معنی ہے : زیارت اور اس کا شرعی معنی ہے : بیت اللہ کی زیارت کرنا ‘ عمرہ کرنا سنت ہے۔ اس میں میقات سے احرام باندھنا ‘ کعبہ کا طواف کرنا ‘ صفا اور مروہ میں سعی کرنا اور حلق یا قصر کرنا واجب ہے اور احرام باندھنا شرط ہے اور طواف کا اکثر حصہ فرض ہے۔ (مراقی الفلاح ص ٤٤٥‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البالی واولادہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)

شوال میں عمرہ کرنے والے پر استطاعت کے بغیر حج فرض ہونے کی تحقیق :

ہمارے زمانہ میں یہ مشہور ہے کہ جس شخص نے پہلے حج نہ کیا ہو وہ اگر ماہ شوال میں عمرہ کرے تو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے۔ خواہ اس کے پاس ایام حج تک وہاں ٹھہرنے اور کھانے پینے کی استطاعت نہ ہو اور خواہ اس کے پاس وہاں ٹھہرنے کے لیے سعودی عرب کا ویزا نہ ہو اگر وہ حج کیے بغیر واپس آگیا تو اس کے ذمہ فرض ہوگا ‘ اس پر لازم ہے کہ وہ کسی سے قرض لے کر یا کسی بھی طرح حج کرے اگر اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو گنہگار ہوگا۔

یہ فتوی قرآن مجید ‘ حدیث اور فقہ کے صراحۃ خلاف ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔ (آل عمران : ٩٧)

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ استطاعت کے بغیر حج فرض نہیں ہوتا ‘ استطاعت کی تفسیر میں صدر الشریعت مولانا امجد علی (رح) لکھتے ہیں :

سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اس کی حاجت سے فاضل ہوں ‘ یعنی مکان ‘ لباس ’ خادم اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان اور دین (قرج) سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے اور وہاں سے سواری پر واپس آئے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑ جائے اور جانے آنے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل و عیال میں قدر متوسط کا اعتبار ہے نہ کمی نہ اسراف۔ عیال سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا نفقہ اس پر واجب ہے۔ (درمختار ‘ عالم گیری) (بہار شریعت ج ٢ ص ١٢۔ ١١‘ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز ‘ کراچی)

اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ شوال میں عمرہ کرنے والے جس شخص کے پاس حج کرنے تک مکہ مکرمہ میں ٹھہرنے اور طعام کی استطاعت نہیں ہے اس پر حج فرض نہیں ہے۔

امام دارمی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس شخص کو کرنے سے کوئی ظاہری حاجت (طعام ‘ قیام اور سفر خرچ کی کمی) مانع نہ ہوئی نہ ظالم بادشاہ نہ کوئی ایسی بیماری جو حج سے مانع ہو ‘ وہ شخص اس حال میں مرجائے کہ اس نے حج نہ کیا ہو تو خواہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ (سنن دارمی ج ١ ص ٣٦٠‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

اس حدیث کو حافظ منذری۔ ١ (حافظ زکی الدین عبدالعظیم بن عبد القوی المنذری المتوفی ٦٥٦ ھ ‘ الترغیب والترہیب ج ٢ ص ٢١١ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ ‘ ٤٠٧ ھ)

اور صدرالشریعت۔ ٢ (مولانا مولوی محمد امجد علی متوفی ١٣٧٦ ھ ‘ بہار شریعت ج ٦ ص ‘ ٩ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز کراچی) نے بھی ذکر کیا ہے۔

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ ظالم بادشاہ کے منع کرنے سے بھی حج فرض نہیں ہوتا اور جو شخص شوال میں واپسی کا ویزا لے کر عمرہ کرنے گیا ہے اس کو سعودی حکام مکہ میں قیام کرنے سے منع کرتے ہیں ‘ وہ لوگوں کی تلاشی لیتے رہتے ہیں اور جو پکڑا جائے اس کو پہلے گرفتار کرکے سزا دیتے ہیں ‘ پھر واپس اس کے ملک بھیج دیتے ہیں ‘ اس لیے شوال میں عمرہ کرنے والے پر حج کو فرض کہنا اس حدیث کے بھی خلاف ہے ‘ نیز جو نادار آدمی کسی کی طرف سے حج بدل کرتا ہے وہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ پہنچ جاتا ہے ‘ اگر صرف حج کے ایام میں مکہ پہنچ جانے سے حج فرض ہوجاتا ہے تو حج بدل کرنے والے نادار پر بھی حج فرض ہونا چاہیے ‘ حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہے ‘ نیز شوال حج کا مہینہ ہے اور فقہاء نے لکھا ہے کہ حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کرنا جائز ہے۔ ” عالم گیری “ میں لکھا ہے :

المفرد بالعمرۃ یحرم للعمرۃ من المیقات اوقبل المیقات فی اشھر الحج او فی غیر اشھر الحج۔ (عالم گیری ج ١ ص ٢٣٧‘ مطبوعہ امیریہ کبری بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

ترجمہ : صرف عمرہ کرنے والا میقات سے عمرہ کا احرام باندھے یا میقات سے پہلے حج کے مہینوں میں یا حج کے مہینوں کے علاوہ۔

اور اس جگہ یہ نہیں لکھا کہ جو شخص حج کے مہینوں میں صرف عمرہ کرے اس پر حج لازم ہوجاتا ہے حالانکہ موضع البیان میں بیان کرنا لازم ہوتا ہے۔ میں نے اس مسئلہ میں بعض علماء کا فتوی دیکھا ‘ انہوں نے شوال میں عمرہ کرنے پر حج فرض ہوجاتا ہے ‘ خواہ ان کو سواری پر قدرت نہ ہو ‘ بہ شرطی کہ وہ خود چل سکتے ہوں۔ اول تو ہمارا کلام اس شخص کے بارے میں ہے جو یہاں سے عمرہ کے لیے جائے کیونکہ حج کرنے تک رہائش اور کھانے کی استطاعت اسی سے متعلق ہے ‘ مکہ میں رہنے والوں کے لیے رہائش کی استطاعت کا مسئلہ نہیں ہے ‘ ثانیا انہوں نے فتوی میں ” عالم گیری “ کی آدھی عبارت نقل کی ہے ‘ ” عالم گیری “ کی پوری عبارت کا ترجمہ اس طرح ہے۔ :

” ینابیع “ میں مذکور ہے : اہل مکہ اور تین دن کی مسافت سے کم اس کے گرد رہنے والوں پر حج کرنا واجب ہے جب کہ وہ چلنے پر قوت رکھتے ہوں ‘ خواہ ان کی سواری پر قدرت نہ ہو لیکن یہ ضروری ہے کہ ان کے پاس دستور کے مطابق طعام کی اتنی مقدار ہو جو ان کے اہل و عیال کے لیے واپس آنے تک کے لیے کافی ہو ‘ اسی طرح ” السراج الوھاج “ میں ہے۔ (عالم گیری ج ١ ص ٢١٧‘ مطبوعہ مطبع امیریہ کبری بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

غور فرمائیے ! جب اہل مکہ اور اس کے گرد رہنے والوں پر بھی واپس آنے تک طعام کی استطاعت کے بغیر حج فرض نہیں ہے تو دوردراز کے علاقوں سے مکہ مکرمہ پہنچنے والوں پر رہائش اور طعام کی استطاعت کے بغیر حج کیسے فرض ہوگا۔

اس فتوی میں دوسری دلیل یہ لکھی ہے کہ اگر کسی شخص پر استطاعت کی وجہ سے حج فرض تھا اور اس نے حج نہیں کیا ‘ حتی کہ اس کا مال تلف ہوگیا تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ قرض لے کر حج کرے ‘ خواہ وہ وفات تک اس قرض کی ادائیگی پر قادر نہ ہو ‘ اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قرض کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے اس سے مواخذہ نہیں فرمائے گا ‘ جب کہ اس کی نیت یہ ہو کہ وہ قادر ہونے پر اس قرض کو ادا کر دے گا۔ (درمختار ج ٢ ص ١٤٠)

یہ عبارت ہمارے مبحث سے خارج ہے کیونکہ یہ عبارت اس شخص کے متعلق ہے جس پر مالی استطاعت کی وجہ سے حج فرض ہوچکا ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو اور پھر اس کا مال تلف ہوگیا ہو اور ہماری گفتگو اس شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس حج کرکے واپس آنے تک رہائش اور طعام کے لیے اپنے اور اپنے عیال کا خرچ نہیں ہے ‘ سو ظاہر ہے اس پر حج فرض ہوا ہی نہیں ‘ نیز علامہ شامی نے لکھا ہے کہ جس پر حج فرض تھا اس نے حج نہیں کیا اور اس کا مال تلف ہوگیا ‘ اس کے لیے قرض لینا اس وقت جائز ہے جب کہ اس کا غالب گمان یہ ہے کہ وہ اپنی وفات سے پہلے اس قرض کو ادا کر دے گا اور اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ اپنی وفات سے پہلے اس قرض کو ادا نہیں کرسکے گا تو اس کے لیے افضل قرض نہ لینا ہے۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ١٤١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اس تفصیل سے ظاہر ہوگیا کہ جو لوگ شوال میں عمرہ کرنے والے پر بغیر استطاعت کے حج کرنے کو فرض کہتے ہیں ان کا دعوی بلا دلیل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا ‘ اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (البقرہ : ١٥٨)

یہ فرمانے کی وجہ کہ صفا اور مروہ میں سعی گناہ نہیں ہے :

یہ فرمانے کی وجہ کہ صفا اور مروہ میں سعی گناہ نہیں ہے :

صفا اور مروہ میں طوفاف کو مسلمان دو وجہوں سے گناہ سمجھتے تھے ایک وجہ یہ تھی کہ زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ بتوں کی عبادت اور ان کی تعظیم کے لیے صفا اور مروہ میں طواف کرتے تھے ‘ اس لیے اسلام لانے کے بعد انہوں نے اس کو عمل جاہلیت کی بناء پر گناہ سمجھا اور بعض لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا اور مروہ میں طواف کو گناہ سمجھتے تھے تو انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد میں طواف کرنے کو گناہ سمجھا تو یہ آیت نازل ہوئی

امام ابن جریر روایت کرتے ہیں :

شعبی بیان کرتے ہیں ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں صفا پر اسعاف نام کا ایک بت رکھا ہوا تھا اور مروہ پر نائلہ نام کا ایک بت رکھا ہوا تھا ‘ اہل جاہلیت جب بیت اللہ کا طواف کرتے تو ان بتوں کو چھوٹے تھے ‘ جب اسلام کا ظہور ہوا اور بت توڑ دیئے گئے تو مسلمانوں نے کہا : صفا اور مروہ میں تو ان بتوں کی وجہ سے سعی کی جاتی تھی اور ان میں طواف کرنا شعائر اسلام سے نہیں ہے تو یہ آیت نازل ہوئی (جامع البیان ج ٢ ص ٢٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حافظ سیوطی نے اس حدیث کو سعید بن منصور ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن منذر کے حوالوں سے بیان کیا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ١٦٠ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے : سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ‘ (ان کا مطلب تھا : یہ سعی واجب نہیں ہے) سو بہ خدا اگر کوئی شخص صفا اور مروہ میں سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ! حضرت عائشہ نے فرمایا : اے بھتیجے ! تم نے غلط کہا : جس طرح تم نے اس آیت کی تاویل کی ہے ‘ اگر اسی طرح ہوتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا : جو ان کے درمیان سعی نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ‘ اور اس طرح فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ وہ اسلام سے پہلے منات (ایک بت) کے لیے احرام باندھتے تھے جس کی وہ مشلل کے پاس عبادت کرتے تھے تو جو شخص احرام باندھتا وہ صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے میں گناہ سمجھتا تھا ‘ جب وہ اسلام لے آئے تو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا ‘ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم صفا اور مروہ کے طواف میں گناہ سمجھتے تھے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : سو جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ‘ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طواف کو مقرر کیا ہے اور کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان طواف کرنے کو ترک کردے ‘ عروہ نے کہا : بلاشک وشبہ یہ علم کی بات ہے ‘ میں نے اس سے پہلے اس کو نہیں سنا ‘ اور حضرت عائشہ (رض) کے بیان کرنے سے پہلے میں نے لوگوں سے یہ سنا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ منات کے لیے احرام باندھتے تھے اور وہ سب لوگ صفا اور مروہ میں طواف کرتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرمایا اور قرآن میں صفا اور مروہ کے درمیان طواف کا ذکر نہیں فرمایا تو صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم صفا اور مروہ میں طواف کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا حکم نازل کیا ہے اور صفا کا ذکر نہیں کیا ‘ آیا اگر ہم صفا اور مروہ میں طواف کرلیں تو کوئی حرج ہے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : جس نے بیت اللہ کا حج یا عمرہ کیا اس پر ان دونوں کا طواف کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ ابوبکر بن عبدالرحمن (حدیث کے راوی) نے کہا : سنو ! یہ آیت دونوں فریقوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا اور مروہ کے طواف کو گناہ سمجھتے تھے ‘ اور جو لوگ زمانہ جاہلیت میں ان کا طواف کرتے تھے ‘ پھر ظہور اسلام کے بعد انہوں نے ان کے طواف کو گناہ سمجھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر فرمایا اور صفا اور مروہ کے طواف کا ذکر نہیں فرمایا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٢٣۔ ٢٢٢ ج ٢ ص ٦٤٦۔ ٦٤٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کو امام ترمذی۔ ١ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٤٢٢۔ ٤٢١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اور امام نسائی۔ ٢ (امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ ‘ سنن کبری ج ٦ ص ‘ ٢٩٣ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو کام اصل میں عبادت ہو اور شریعت میں صحیح ہو اور اپنی اصل پر صحیح رہتا ہے ‘ خواہ جاہل اور بدمذہب بعد میں اس کام کو کسی غلط نیت اور فاسد عقیدہ سے کرنے لگیں ‘ جس طرح سیاہ عمامہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے ‘ بعد میں روافض اور شیعہ نے سوگ کی نیت سے سیاہ عمامہ باندھنا شروع کردیا تو ان کے اس عمل کا اعتبار نہیں ہوگا اور سیاہ عمامہ باندھنا اپنی اصل کے اعتبار سے مسنون رہے گا۔

صفا اور مروہ کے درمیان سعی میں مذاہب ائمہ :

صفا اور مروہ کے درمیان سات بار سعی کرنا واجب ہے یہ سعی صفا سے شروع ہو کرمروہ پر ختم ہوگی ‘ ائمہ ثلاثہ اور امام شافعی کا صحیح مذہب یہ ہے کہ صفا سے مروہ تک ایک طواف ہے ‘ علامہ نووی نے لکھا ہے کہ یہ جو مشہور ہے کہ امام شافعی کے نزدیک صفا سے مروہ ‘ پھر مروہ سے صفا تک سعی ایک طواف ہے ‘ یہ غلط ہے۔ امام شافعی کا مذہب جمہور کے مطابق ہے۔ (شرح المہذب ج ٨ ص ٧٢۔ ٧١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

صفا اور مروہ میں سعی کے متعلق امام احمد کے دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ سعی رکن ہے ‘ اس کے بغیر حج تمام نہیں ہوتا کیونکہ امام مسلم نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس نے صفا اور مروہ میں طواف نہیں کیا اللہ نے اس کا حج تمام نہیں کیا ‘ سعی کرنا حج اور عمرہ دونوں میں رکن ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ سعی سنت ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے کہ اس سعی میں کوئی گناہ نہیں ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مباح ہے ‘ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو شعائر اللہ میں داخل کیا ہے اس لیے اس کا مرتبہ سنت سے کم نہیں ہے۔ (المغنی ج ٣ ص ١٩٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں : حج میں صفا اور مروہ میں سعی کرنا رکن ہے ‘ دم دینے سے اس کی تلافی نہیں ہوگی ‘ اور محرم اس کے بغیر حلال نہیں ہوگا۔ (روضۃ الطالبین ج ٢ ص ٣٧٢‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابوالعباس رملی شافعی نے لکھا ہے کہ صفا اور مروہ کا طواف کرنا عمرہ کا بھی رکن ہے۔ (نہایت المحتاج ج ٣ ص ٣٢٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

علامہ حطاب مالکی لکھتے ہیں : حج اور عمرہ دونوں میں صفا اور مروہ میں سعی کرنا رکن ہے۔ (مواہب الجلیل ج ٣ ص ٨٤‘ مطبوعہ مکتبۃ النجاح ‘ لیبیا)

علامہ المرغینانی حنفی لکھتے ہیں کہ صفا اور مروہ میں طواف کرنا (حج اور عمرہ میں) واجب ہے ‘ رکن نہیں ہے ‘ امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ یہ رکن ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کردی ‘ پس سعی کرو۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٤٧١) ہم کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہے کہ صفا اور مروہ میں طواف کرنا گناہ نہیں ہے اور یہ مباح ہونے کو مستلزم ہے اور فرضیت کے منافی ہے ‘ نیز ہم نے رکن سے وجوب کی طرف اس لیے عدول کیا ہے کہ یہ حدیث خبر واحد ہے اور رکنیت دلیل قطعی سے ثابت ہوتی ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٢٤٣ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک جس نے خوشی سے کوئی (نفلی) نیکی کی تو بیشک اللہ جزا دینے والا اور خوب جاننے والا ہے۔ (البقرہ : ١٥٨)

امام رازی۔ ١ (امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ ‘ تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٥ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ قرطبی۔ ٢ (علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ ‘ الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١٨١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی۔ ٣ (علامہ ابوالحیان محمد بن یوسف غرناطی متوفی ٧٥٤ ھ ‘ البحر المحیط ج ٢ ص ٦٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٢ ھ)

اور علامہ ماوردی۔ ٤ (علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب الماوردی البصری المتوفی ٤٥٠ ھ ‘ النکت والتیون ج ١ ص ٢١٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) وغیرہ نے کہا ہے کہ اس نیکی سے مراد نفلی نیکی ہے کیونکہ قرآن اور حدیث کے اطلاقات میں تطوع کا نفل پر اطلاق ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ جس نے فرض کی ادائیگی کے بعد نفلی طور پر حج یا عمرہ کیا ‘ اور علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد عام نیکی ہے خواہ فرض ہو یا نفل۔ (روح المعانی ج ٢ ص ‘ ٢٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ شاکر علیم ہے۔ (البقرہ : ١٥٨)

اللہ تعالیٰ لوگوں کے قصد اور نیت کو جانتا ہے اور ان کی نیکیوں کی جزا دیتا ہے یا اللہ تعالیٰ قلیل نیکی کی بھی جزاء دیتا ہے اور اس کو ثواب کا علم ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 158