بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓٮِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏

2:161

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ حالت کفر میں مرگئے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی (لعنت) ہے

اللہ تعالیٰ نے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت چھپانے والوں کا ذکر کیا اور ان پر لعنت فرمائی ‘ پھر ان میں سے توبہ کرنے والوں کا ذکر فرمایا اور اب ان کا ذکر فرمایا جنہوں نے اپنے اس کفر سے توبہ نہیں کی ‘ کفر پر اصرار کیا اور کفر پر ہی مرگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

اللہ کی لعنت کا معنی ہے : عذاب کی خبر دینا اور فرشتوں اور انسانوں کی لعنت کا معنی ہے : اللہ کی رحمت سے دور کرنے کی بدعا دینا۔

مردہ کافروں پر لعنت کرنے کا جواز اور زندہ کافروں پر لعنت کرنے کی ممانعت :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت کی ہے جو کفر پر مرگئے ‘ اس سے جمہور علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ جس کی موت علی الکفر معلوم نہ ہو اس پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض کفار پر لعنت کی ہے ان کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی سے معلوم تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے اور کفر پر مریں گے۔ علامہ ابوبکر ابن العربی نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! بیشک عمرو بن العاص نے میری ہجو کی ہے اور اس کو علم ہے کہ میں شاعر نہیں ہوں تو اس کی ہجو فرما اور جتنی بار اس نے میری ہجو کی ہے اتنی بار اس پر لعنت فرما۔ اس حدیث کو امام رویانی اور امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ (کنزالعمال ج ١٣ ص ٥٤٨ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابوبکر ابن العربی نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ جس شخص کا ظاہر حال کفر ہو اس پر لعنت کرنا جائز ہے جیسے اس سے جہاد کرنا جائز ہے ‘ حالانکہ عمرو بن الع اس بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٧٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس حدیث کی سند میں کلام ہے ‘ ثانیا اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذات کا بدلہ لیا حالانکہ حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اپنی ذات کا بدلہ نہیں لیا۔

امام ترمذی روایت کرتے ہیں۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی اپنے ساتھ کی جانے والے زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ جب تک اللہ تعالیٰ کی حدود کو نہ توڑا جاتا اور اگر اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑا جاتا تو آپ سے زیادہ غضب میں کوئی نہیں ہوتا تھا۔ (جامع ترمذی ص ٥٩٦‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

البتہ یہ اعتراض صحیح ہے کہ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! ابوسفیان پر لعنت کر ‘ اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت کر ‘ اے اللہ صفوان بن امیہ پر لعنت کر ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔

(آیت) ” لیس لک من الامر شیء اویتوب علیہم اویعذبہم فانہم ظلمون “۔۔ (آل عمران : ١٢٨)

ترجمہ : آپ اس میں کسی چیز کے مالک نہیں ہیں ‘ یا اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے ‘ یا ان کو عذاب دے ‘ بیشک یہ ظالم ہیں۔

سو اللہ تعالیٰ نے انکی توبہ قبول فرمالی ‘ وہ اسلام لے آئے اور انہوں نے اسلام میں اچھے عمل کیے ‘ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٢٧ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے کا واقعہ ہے ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کافروں پر لعنت سے روک دیا تو پھر آپ نے ان پر لعنت نہیں کی ‘ اس سے یہ مؤقف اور مضبوط ہوگیا کہ زندہ کافروں پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمان ہوجائیں ‘ اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کافروں پر لعنت کرنے سے منع کردیا تو کسی اور کے لیے کب جائز ہوسکتا ہے ‘ اور علامہ ابن العربی کا اس کو کافروں سے قتال کرنے پر قیاس کرنا درست نہیں کیونکہ کافروں سے قتال کرنا تبلیغ اسلام کا سبب ہے جو رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے ‘ اس کے برخلاف زندہ کفار پر لعنت کرنا ان کو رحمت سے دور کرنے کی دعا ہے۔

مسلمانوں پر لعنت کرنے کی ممانعت :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ثابت بن ضحاک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مسلمان کو لعنت کی تو یہ اس کو قتل کرنے کی مثل ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٩٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں عبداللہ نام کا ایک شخص تھا جس کا لقب حمار تھا اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسایا کرتا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو شراب نوشی پر حد لگایا کرتے تھے ایک دن اس شخص کو حد لگائی جارہی تھی کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے کہا : اے اللہ ! اس پر لعنت کر ‘ اس کو کتنی بار حد لگائی گئی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو لعنت نہ کرو بہ خدا ! تم کو معلوم نہیں ہے یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠٠٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

البتہ گناہ کبیرہ کرنے والوں پر بلاتعیین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت فرمائی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ چوری کرنے والے پر لعنت کرے ‘ وہ بیضہ (لوہے کا گولہ) چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور وہ (جہاز کی) رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠٠٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس آیت میں فرمایا ہے : جو کفر پر مرے اس پر سب انسان لعنت کرتے ہیں ‘ حالانکہ کافر تو اس پر لعنت نہیں کرتے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ کافر اس پر آخرت میں لعنت کریں گے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ انسان سے مراد کامل انسان ہے اور کامل انسان مسلمان ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 161