بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ

اے ایمان والو ! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے رکھنا فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ

ربط آیات :

سابقہ آیات میں پہلے قصاص کا حکم دیا گیا تھا جس کا تقاضا یہ ہے کہ قاتل اپنے جسم کو حکام اور ولی مقتول کے حوالے کر دے تاکہ وہ اس کو قتل کردیں ‘ اس حکم پر عمل کرنا انسان کے لیے بہت مشکل اور دشوار ہے ‘ اس کے بعد وصیت کرنے کا حکم دیا ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اپنی ملکیت سے نکال کر دوسروں کے حوالے کردے ‘ یہ حکم کی بہ نسبت بہت کم مشکل اور کم دشوار ہے ‘ پھر اسکے بعد روزہ رکھنے کا حکم دیا ‘ یہ اس سے بھی کم مشکل ہے کیونکہ روزہ رکھنے سے انسان کے صرف کھانے پینے کے معمولات بدل جاتے ہیں ‘ اب وہ فجر سے پہلے سحری کرے گا اور دن بھر غروب آفتاب تک بھوکا پیاسا رہے گا ‘ پھر مغرب کے بعد کھانا کھائے گا ‘ یہ حکم پہلے دو حکموں کی بہ نسبت اور بھی کم مشکل ہے تو ان احکام ثلاثہ میں ترتیب یہ ہے پہلے ایک زیادہ مشکل کام کا حکم دیا ‘ پھر بہ تدریج اس مشکل کو کم کرکے احکام دیئے ‘ نیز اسلام کے پانچ ارکان میں سے توحید و رسالت پر ایمان ‘ نماز ‘ زکوۃ اور ضمنا حج کا بھی ذکر اس سے پہلی آیات میں آچکا تھا سو اب روزہ کا ذکر فرمایا :

قصاص اور وصیت کی روزہ کے ساتھ یہ مناسب بھی ہے کہ قصاص میں نفس انسان کو حسی طور پر قتل کیا جاتا ہے اور روزہ میں شہوت کو قتل کیا جاتا ہے اور شہوت وطی کا سبب ہے اور وطی نفس انسان کے پیدا ہونے کا حسا سبب ہے ‘ نیز قصاص میں معنوی طور پر اجسام کی حیات ہے اور روزہ میں ارواح کی حیات ہے ‘ کیونکہ روزہ سے ذہن پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی نعمتوں اور اپنی بری عادتوں اور کوتاہیوں میں غور وفکر کرتا ہے جس سے ندامت ہوتی ہے اور وہ توبہ کرتا ہے اور اس کے دل میں خوف خدا پیدا ہوتا ہے اور وہ گناہوں سے بچتا ہے اور دنیا کی رنگینیوں کو ترک کرتا ہے اور فرشتوں کے اوصاف سے متصف ہوجاتا ہے ‘ اسی سبب سے اس مہینہ میں فرشتہ کی وساطت سے قرآن نازل ہوا ‘ بہ ایں ہمہ روزہ کا حکم وصیت کے مناسب تھا ‘ کیونکہ وصیت کے ذریعہ پاکباز لوگوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اب ان سے فرشتوں کی ملاقات کا وقت آرہا ہے ‘ اس لیے وہ مال دنیا کو ترک کردیں اور دنیا کا مال وصیت کرکے دوسرے ضرورت مندوں کے حوالے کردیں ‘ پھر وصیت کے حکم کو مغفرت اور رحمت پر ختم کیا اور اس کے بعد روزہ کا حکم شروع کیا تاکہ معلوم ہو کہ مغفرت اور رحمت سب سے زیادہ روزہ داروں کو حاصل ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا تھا۔ (البقرہ : ١٨٣)

روزہ کا لغوی اور شرعی معنی اور اس کی مشروعیت کی تاریخ :

روزہ کا لغوی معنی ہے : کسی چیز سے رکنا اور اس کو ترک کرنا ‘ اور روزہ کا شرعی معنی ہے : مکلف اور بالغ شخص کا ثواب کی نیت سے طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے ‘ پینے اور جماع کو ترک کرنا اور اپنے نفس کو تقوی کے حصول کے لیے تیار کرنا۔

تمام ادیان اور ملل میں روزہ معروف ہے ‘ قدیم مصری ‘ یونانی ‘ رومن اور ہندو سب روزہ رکھتے تھے ‘ موجودہ تورات میں بھی روزہ داروں کی تعریف کا ذکر ہے ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چالیس دن روزہ رکھنا ثابت ہے ‘ یروشلم کی تباہی کو یاد رکھنے کے لیے یہود اس زمانہ میں بھی ایک ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں ‘ اس طرح موجودہ انجیلوں میں بھی روزہ کو عبادت قرار دیا گیا ہے اور روزہ داروں کی تعریف کی گئی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا اسی طرح تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے ‘ تاکہ مسلمانوں کو روزہ رکھنے میں رغبت ہو کیونکہ جب کسی مشکل کام کو عام لوگوں پر لاگو کردیا جاتا ہے تو پھر وہ سہل ہوجاتا ہے۔

علامہ علاؤ الدین حصکفی نے لکھا ہے کہ ہجرت کے ڈیڑھ سال اور تحویل قبلہ کے بعد دس شعبان کو روزہ فرض کیا گیا۔ ( درالمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ٨٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

سب سے پہلے نماز فرض کی گئی ‘ پھر زکوۃ فرض کی گئی ‘ اس کے بعد روزہ فرض کیا گیا ‘ کیونکہ ان احکام میں سب سے سہل اور آسان نماز ہے اس لیے اس کو پہلے فرض کیا گیا ‘ پھر اس سے زیادہ مشکل اور دشوار زکوۃ ہے کیونکہ مال کو اپنی ملکیت سے نکالنا انسان پر بہت شاق ہوتا ہے ‘ پھر اس کے بعد اس سے زیادہ مشکل عبادت روزہ کو فرض کیا گیا ‘ کیونکہ روزہ میں نفس کو کھانے پینے اور عمل تزویج سے روکا جاتا ہے اور یہ انسان کے نفس پر بہت شاق اور دشوار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے بہ تدریج احکام شرعیہ نازل فرمائے اور اسی حکمت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارکان اسلام میں نماز اور زکوۃ کے بعد روزہ کا ذکر فرمایا ‘ قرآن مجید میں بھی اس ترتیب کی طرف اشارہ ہے :

(آیت) ” والخشعین والخشعت والمتصدقین والمتصدقت والصآئمین والصمت، (الاحزاب : ٣٥)

ترجمہ : اور نماز میں خشوع کرنے والے مرد اور نماز میں خشوع کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں۔

رمضان اور روزوں کے فضائل کے متعلق احادیث :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : روزہ ڈھال ہے ‘ روزہ دار نہ جماع کرے ‘ نہ جہالت کی باتیں کرے ‘ اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اس کو گالی دے تو وہ دو مرتبہ یہ کہے میں روزہ دار ہوں ‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ اپنے کھانے ‘ پینے اور نفس کی خواہش کو میری وجہ سے ترک کرتا ہے ‘ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ‘ اور (باقی) نیکیوں کا اجر دس گنا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک دروازہ ہے ‘ جس کا نام ریان ہے ‘ اس دروازہ سے قیامت کے دن روزہ دار داخل ہوں گے ‘ ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا ‘ کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں ؟ پھر روزہ دار کھڑے ہوجائیں گے ‘ ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا ‘ کہا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہیں ؟ پھر روزہ دار کھڑے ہوجائیں گے ‘ ان کے علاوہ اور کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا ‘ ان کے داخل ہونے کے بعد اس دروازہ کو بند کردیا جائے گا ‘ پھر اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب رمضان داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازہ کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دہئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے ایک روایت میں جنت کے دروازوں کا ذکر کیا ہے اور دوسری روایت میں رحمت کے دروازوں کا ذکر کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٤٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر میں قیام کیا اس کے پہلے (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے حالت ایمان میں ثواب کی نیت سے روزہ رکھا اس کے پہلے (صغیرہ) گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : جس نے جھوٹی بات اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : روزے کے سوا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے ‘ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ‘ روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کوئی شخص روزہ سے ہو تو وہ نہ جماع کی باتیں کرے نہ شور وشغب کرے ‘ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ یہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ‘ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ‘ ایک خوشی افطار کے وقت ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ہوگی ‘ اس وقت وہ اپنے روزہ سے خوش ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وصال کے روزے رکھے تو صحابہ نے بھی وصال کے روزے رکھے ‘ ان پر یہ روزے دشوار ہوئے آپ نے ان کو منع فرمایا : صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : تم میں میری مثل کون ہے ؟ مجھے تو کھلایا جاتا ہے اور پلایا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کا ایک روزہ بھی بغیر عذر یا بغیر مرض کے چھوڑا تو اگر وہ تمام دہر بھی روزے رکھے تو اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ایک دن اللہ کی راہ میں روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ کو جہنم سے ستر سال کی مسافت دور کردیتا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٦٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حافظ منذری لکھتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ نمازیں ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور ایک رمضان سے دوسرا رمضان ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں جب کہ گناہ کبیرہ سے بچا جائے۔ (صحیح مسلم)

حضرت مالک بن حویرث (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے ‘ جب آپ نے پہلی سیڑھی پر پیر رکھا تو فرمایا : آمین ! جب دوسری سیڑھی پر پیر رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر جب تیسری سیڑھی پر پیر رکھا تو فرمایا : آمین ! پھر آپ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد ! جس نے رمضان کو پایا اور اس کی بخشش نہیں کی گئی اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) دور کردے ‘ میں نے کہا : آمین ! اور کہا : جس نے اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اس کے باوجود دوزخ میں داخل ہوگیا ‘ اللہ اس کو اپنی رحمت سے دور کردے ‘ میں نے کہا : آمین ! اور کہا : جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا گیا اور وہ آپ درود نہ پڑھے اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) دور کردے ‘ میں نے کہا : آمین ! (صحیح ابن حبان)

حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شعبان کے آخری دن خطبہ دیا اور فرمایا : اے لوگو ! تمہارے پاس ایک عظیم اور مبارک مہینہ آپہنچا ہے ‘ اس مہینہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ‘ اللہ نے اس مہینہ میں روزہ کو فرض کردیا ہے اور اس کی رات میں قیام کو نفل کردیا ہے ‘ جو شخص اس مہینہ میں فرض ادا کرے تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے مہینہ میں ستر فرض ادا کیے ‘ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ‘ یہ غمگساری کرنے کا مہینہ ہے ‘ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں زیادتی کی جاتی ہے ‘ اس مہینہ میں جو کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لیے گناہوں کی مغفرت ہے اور اس کی گردن کے لیے دوزخ سے آزادی ہے ‘ اور اس کو بھی روزہ دار کی مثل اجر ملے گا اور اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی ‘ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر شخص کی یہ استطاعت نہیں ہے کہ وہ روزہ دار کو افطار کرا سکے ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو روزہ دار کو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ سے روزہ افطار کرائے ‘ یہ وہ مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے ‘ جس کا اوسط مغفرت ہے اور جس کا آخر جہنم سے آزادی ہے ‘ جس شخص نے اس مہینہ میں اپنے خادم سے کام لینے میں تخفیف کی اللہ اس کی مغفرت کر دے گا اور اس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔ اس مہینہ میں چار خصلتوں کو جمع کرو ‘ دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو اور دو خصلتوں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے ‘ جن دو خصلتوں سے تم اپنے رب کو راضی کرو گے وہ کلمہ شہادت پڑھنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا ہے ‘ اور جن دو خصلتوں کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے وہ یہ ہیں کہ تم اللہ سے جنت کا سوال کرو اور اس سے دوزخ سے پناہ طلب کرو اور جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض سے پلائے گا ‘ اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی حتی کہ وہ جنت میں چلا جائے گا۔ (صحیح ابن خزیمہ ‘ بیہقی ‘ صحیح ابن حبان)

امام ابن حبان نے یہ بھی روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے رمضان کے مہینہ میں اپنی حلال کمائی سے کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرایا تو رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں اور لیلۃ القدر میں جبریل (علیہ السلام) اس سے مصاحفہ کرتے ہیں اور جس سے جبریل (علیہ السلام) مصافحہ کرتے ہیں اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور اس کے بہت آنسو نکلتے ہیں۔ حضرت سلمان نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک مٹھی طعام دے دے ‘ میں نے کہا : یہ فرمائیے اگر اس کے پاس روٹی کا ایک لقمہ بھی نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : وہ ایک گھونٹ دودھ دے دے ‘ میں نے عرض کیا : اگر اس کے پاس وہ بھی نہ ہو ؟ فرمایا : ایک گھونٹ پانی دے دے (امام ابن خزیمہ اور بیہقی نے بھی اس کو روایت کیا ہے)

حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں جب رمضان آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس رمضان آگیا ہے ‘ یہ برکت کا مہینہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں ڈھانپ لیتا ہے اس میں رحمت نازل ہوتی ہے اور گناہ جھڑ جاتے ہیں اور اس میں دعا قبول ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس مہینہ میں تمہاری رغبت کو دیکھتا ہے سو تم اللہ کو اس مہینہ میں نیک کام کرکے دکھاؤ کیونکہ وہ شخص بدبخت ہے جو اس مہینہ میں اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم رہا (اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں ‘ البتہ اس کے ایک راوی محمد بن قیس کے متعلق مجھے کوئی جرح یا تعدیل مستحضر نہیں ہے)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے ‘ تو جنتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا ‘ اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور پھر پورے ماہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا ‘ اور سرکش جنوں کے گلوں میں طوق ڈال دیا جاتا ہے اور ہر رات صبح تک ایک منادی آسمان سے ندا کرتا ہے : اے نیکی کے طلب کرنے والے ! نیکی کا قصد کر اور زیادہ نیکی کر ‘ اور اے برائی کے طلب کرنے والے ! برائی میں کمی کر اور آخرت میں غور وفکر کر ‘ کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے تو اس کی مغفرت کردی جائے اور کوئی توبہ کرنے کا والا ہے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور کوئی دعا کرنے والا ہے تو اس کی دعا قبول کی جائے اور کوئی سوال کرنے والا ہے تو اس پورا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ ماہ رمضان کی ہر رات میں ساٹھ ہزار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے ‘ اور رمضان کی ہر رات میں جتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے عید کے دن اس سے تیس گنازیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے (اس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے)

حضرت عبدالرحمان بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کا ذکر کیا اور تمام مہینوں پر اس کی فضیلت بیان کی ‘ پس فرمایا : جس نے رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح آج ہی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو (اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے)

حضرت عمرہ بن مرہ جہنی (رض) عنہبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بتائیے اگر میں اللہ کے وحدہ لاشریک ہونے اور آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دوں ‘ اور پانچوں نمازیں پڑھوں اور زکوۃ ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور قیام کروں تو میرا کن لوگوں میں شمار ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : صدیقین اور شہداء میں۔ (مسندبزار ‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ صحیح ابن حبان) (الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٠٦۔ ٩٢‘ ملتقطا مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ)

بعض نفلی روزوں کی فضیلت :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عبداللہ ! کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : نہ کرو ‘ روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو (بغیر روزہ کے رہو) قیام بھی کرو اور سوؤ بھی ‘ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ‘ اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے ‘ اور تمہارے لیے یہ کافی ہے تم پر مہینہ کے تین دن روزے رکھو ‘ اور تمہیں نیکی کا دس گنا اجر ملے گا اور یہ تمہارے پورے دہر کے روزے ہوجائیں گے ‘ میں نے شدت کی اور کہا : یارسول اللہ ! میں قوت پاتا ہوں تو آپ نے فرمایا : اللہ کے نبی داؤد کے روزے کس طرح تھے ؟ آپ نے فرمایا : نصف دہر (ایک دن روزہ ایک دن افطار) ۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٦٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

ابن ملحان قیسی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایام بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے تیرھویں ‘ چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے کا اور فرماتے : ان روزوں سے پورے دہر کے روزوں کا اجر ملے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣٢ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

تین روزوں کا دس گنا اجر ملے گا جیسا کہ ” صحیح بخاری “ کی روایت میں ہے تو ہر ماہ تین روزے رکھنے سے پورے ماہ کے روزوں کا اجر ملے گا اور جو شخص ہمیشہ یہ روزے رکھے گا اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ‘ پھر اس نے شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو تمام دہر کے روزوں کا اجر ملے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٦٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

ہر نیکی کا دس گنا اجر ہوتا ہے تو چھتیس روزوں کا اجر ٣٦٠ روزوں کے برابر ہوا ‘ گویا وہ پورا سال روزہ دار رہا۔

حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا اور دس محرم کا روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٦٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

قدامہ بن مظعون بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت اسامہ بن زید (رض) کے ساتھ وادی القری میں اپنے مال کی طلب میں گئے ‘ حضرت اسامہ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ قدامہ نے کہا : آپ بوڑھے آدمی ہیں ‘ آپ پیر اور جمعرات کا روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ‘ آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا پیر اور جمعرات کو بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مسلسل) روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے کہ اب آپ افطار (روزہ ترک کرنا) نہیں کریں گے ‘ اور آپ روزے نہ رکھتے حتی کہ ہم کہتے : اب آپ روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رمضان کے علاوہ آپ کو کسی ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں روزے رکھتے ہوئے دیکھا (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣١۔ ٣٣٠ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

بعض ایام میں روزہ رکھنے کی ممانعت :

امام ابوداؤد بیان کرتے ہیں :

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا : عید الاضحی کے دن کیونکہ اس دن تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو اور عید الفطر کے دن کیونکہ اس دن تم اپنے روزوں سے افطار کرتے ہو۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : یوم عرفہ ‘ یوم نحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩۔ ٣٢٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے اور دوسری جگہوں میں اس دن روزہ رکھنا کار ثواب ہے اور عیدین میں روزہ رکھنا ممنوع ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا : (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٣١ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص (صرف) جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے ‘ الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد میں روزہ رکھے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٢٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

ابوداؤد نے کہا : یہ حدیث منسوخ ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٢٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

یہود ہفتہ کے دن کی تعظیم کی وجہ سے اس دن کا روزہ رکھتے تھے ‘ ان کی مشابہت کی وجہ سے اس دن کے روزہ سے منع فرمایا :

روزہ کے اسرار و رموز :

(١) روزہ رکھنے سے کھانے پینے اور شہوانی لذات میں کمی ہوتی ہے ‘ اس سے حیوانی قوت کم ہوتی ہے اور روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے۔

(٢) کھانے پینے اور شہوانی عمل کو ترک کرکے انسان بعض اوقات میں اللہ عزوجل کی صفت صمدیہ سے متصف ہوجاتا ہے اور بہ قدرامکان ملائکہ مقربین کے مشابہ ہوجاتا ہے۔

(٣) بھوک اور پیاس پر صبر کرنے سے انسان کو مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے کی عادت پڑتی ہے اور مشقت برداشت کرنے کی مشق ہوتی ہے۔

(٤) خود بھوکا اور پیاسا رہنے سے انسان کو دوسروں کی بھوک اور پیاس کا احساس ہوتا ہے اور پھر اس کا دل غرباء کی مدد کی طرف مائل ہوتا ہے۔

(٥) بھوک پیاس کی وجہ سے انسان گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے۔

(٦) بھوکا پیاسا رہنے سے انسان کا تکبر ٹوٹتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کھانے پینے کی معمولی مقدار کا کس قدر محتاج ہے۔

(٧) بھوکا رہنے سے ذہن تیز ہوتا ہے اور بصیرت کام کرتی ہے ‘ حدیث میں ہے : جس کا پیٹ بھوکا ہو اس کی فکر تیز ہوتی ہے۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢١٨)

اور پیٹ (بھر کر کھانا) بیماری کی جڑ ہے اور پرہیز علاج کی بنیاد ہے۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ٢٢١) اور لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی : اے بیٹے ! جب معدہ بھرجاتا ہے تو فکر سو جاتی ہے اور حکمت گونگی ہوجاتی ہے اور عبادت کرنے کے لیے اعضاء سست پڑجاتے ہیں ‘ دل کی صفائی میں کمی آجاتی ہے اور مناجات کی لذت اور ذکر میں رقت نہیں رہتی۔

(٨) روزہ کسی کام کے نہ کرنے کا نام ہے ‘ یہ کسی ایسے عمل کا نام نہیں ہے جو دکھائی دے اور اس کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جائے ‘ یہ ایک مخفی عبادت ہے ‘ اس کے علاوہ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات کسی کام کے کرنے کا نام ہیں وہ دکھائی دیتی ہیں اور ان کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور روزہ کو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیکھتا ‘ باقی تمام عبادات میں ریا ہوسکتا ہے روزہ میں نہیں ہوسکتا ‘ یہ اخلاص کے سوا اور کچھ نہیں۔

(٩) شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور بھوک پیاس سے شیطان کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں اسی طرح روزہ سے شیطان پر ضرب پڑتی ہے۔

(١٠) روزہ امیر اور غریب ‘ شریف اور خیس سب فرض ہے ‘ اس سے اسلام کی مساوات مؤکد ہوجاتی ہے۔

(١١) روزانہ ایک وقت پر سحری اور افطار کرنے سے انسان کو نظام الاوقات کی پابندی کرنے کی مشق ہوتی ہے۔

(١٢) فربہی ‘ تبخیر اور بسیار خوری ایسے امراض میں روزہ رکھنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔

روزہ کے فساد وعدم فساد کے بعض ضروری مسائل :

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

اگر روزہ دار بھولے سے کھالے یا پی لے یا جماع کرے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی یا دھواں داخل ہو خواہ اس کو روزہ یاد ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ ان سے بچنا مشکل ہے ‘ تیل لگانے سے یا سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ ان کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو ‘ فصد لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ بوسہ لینے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا بہ شرطی کہ اس سے انزال نہ ہو ‘ احتلام سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کلی کرنے کے بعد جو تری منہ میں رہ گئی اس کو نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کان میں پانی داخل ہونے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اگر دانتوں کے درمیان سے خون نکلا اور اس کو نگل لیا تو اگر خون غالب تھا تو روزہ ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ‘ استمنا بالید سے اگر انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ ورنہ نہیں۔ اگر ناک (رینٹ) کو اندر کھینچ لیا اور وہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ کسی چیز کے چھکنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اگر رات سمجھ کر سحری کی اور صبح ہوچکی تھی یا غروب آفتاب سمجھ کر روزہ افطار کیا اور آفتاب غروب نہیں ہوا تھا تو روزہ ٹوٹ گیا اور اس پر صرف قضاء ہے اور کفارہ نہیں ہے ‘ اگر کوئی شخص رمضان کے روزہ میں عمدا جماع کرے یا عمدا دوا یا غذا کھائے یا پئے تو ان تمام صورتوں میں قضا اور کفارہ ہے ‘ اور اگر از خود قے آئے اور وہ اس کو واپس حلق میں نہ لوٹائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ قے منہ بھر کر آئے یا منہ بھر کر نہ آئے اور اگر خود بخود واپس حلق میں چلی جائے پھر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ‘ اور اگر عمدا قے لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا بہ شرطی کہ منہ بھر کر قے آئی ہو یہ مختار مذہب ہے اور اگر از خود قے کی تو اگر منہ بھر کر قے کی ہے تو اجماعا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس میں صرف قضاء ہے کفارہ نہیں ہے۔

روزہ میں کسی چیز کو بلاعذر چکھنا مکروہ ہے ‘ دنداسہ چبانا مکروہ ہے ‘ بوسہ لینا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے مونچھوں پر تیل لگانا اور سرمہ لگانا مکروہ نہیں ہے ‘ مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے خواہ شام کے وقت کی جائے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ١١٤۔ ١٠٧‘ ملخصا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹنے کا بیان :

تحقیق یہ ہے کہ انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ‘ قدیم فقہاء کے دور میں انسانی جسم کی اور اس کے تمام اعضاء کی مکمل تحقیق نہیں ہوئی تھی اور ان کے نظریات محض مفروضات پر مبنی تھے ‘ انہوں نے انسان کے جسم کا مکمل مشاہدہ اور تجزیہ نہیں کیا تھا اور اب تحقیق اور تجربہ سے ان کے کئی نظریات غلط ثابت ہوگئے ‘ مثلا ان کا مفروضہ تھا کہ دماغ اور معدہ کے درمیان ایک منفذ (راستہ) ہے اور دماغ سے معدہ میں یا معدہ سے دماغ میں کوئی چیز چلی جاتی ہے ‘ حالانکہ دماغ اور معدہ میں کوئی منفذ نہیں ہے ‘ نیز ان کا مفروضہ تھا کہ کان اور معدہ میں منفذ ہے حالانکہ کان اور معدہ میں کوئی منفذ نہیں ہے ‘ انہیں مفروضات کی بنا پر انہوں نے یہ کہا کہ جوف معدہ یا جوف دماغ میں کوئی غذا یا دوا چلی جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ لیکن یہ فقہاء اس غلطی میں معذور تھے کیونکہ اس زمانہ میں پوسٹ مارٹم کے ذریعہ جسم کے تمام رگ وریشہ کا مکمل مطالعہ اور مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا ‘ نیز ان کے زمانہ میں جسم کو غذا یا دوا کے ذریعہ منفعت پہنچانے کا ذریعہ صرف معدہ کا نظام ہضم تھا ‘ اس لیے انہوں نے کہا : دوا یا غذا معدہ میں پہنچ جائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا ‘ جب ہم منہ کے ذریعہ دوا کھاتے ہیں تو معدہ کے ہضم کرنے کے بعد وہ دوا خون میں پہنچ جاتی ہے اور جب تک وہ دوا خون میں پہنچ جاتی ہے اور جب تک وہ دوا خون میں نہ مل جائے اس کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا ‘ پہلے دوا سے استفادہ کا صرف یہی ایک طریقہ تھا ‘ لیکن اب میڈیکل سائنس نے ترقی کرلی ہے اور انجیکشن کے ذریعہ دوا کو براہ راست خون میں پہنچا دیا جاتا ہے بعض اوقات کسی عارضہ کی وجہ سے معدہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور منہ سے دوا کھانے کا کوئی اثر نہیں ہوتا ‘ بعض دفعہ اس قدر الٹیاں آتی ہیں کہ جو دوا کھاؤ وہ فورا الٹی کے ذریعہ نکل جاتی ہے پہلے اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں تھا ‘ لیکن اب جب معدہ کام نہ کرے یا کسی چیز کو قبول نہ کرے یا دوا کا اثر جلدی مطلوب ہو تو دوا کو انجیکشن کے ذریعہ براہ راست خون میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ لہذا منہ کے ذریعہ دوا کھانے سے جو فائدہ مطلوب ہوتا ہے وہ انجیکشن کے ذریعہ دوا خون میں پہنچانے سے بہ طریق اتم اور اکمل حاصل ہوجاتا ہے ‘ فرق یہ ہے کہ منہ کے ذریعہ دوا کھانے سے معدہ کے عمل ہضم کے بعد دوا خون میں پہنچتی ہے اور انجیکشن کے ذریعہ اسی وقت براہ راست دواخون میں پہنچ جاتی ہے اور اثر کرتی ہے اس لیے جس طرح منہ کے ذریعہ دوا کھانے سے روزہ ٹوٹتا ہے اسی طرح دوا کا انجیکشن لگوانے سے بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔

بعض علماء یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ پھر مچھر یا بھڑ کے ڈنگ لگانے سے روزہ کیوں نہیں ٹوٹتا ‘ اس کا جواب یہ کہ روزہ ٹوٹنے کا مدار اس پر ہے کہ انسان اپنے قصد اور اختیار سے کوئی دوا یا غذا جسم میں پہنچائے اور مچھر یا بھڑ کے کاٹنے میں انسان کا قصد اور اختیار نہیں ہے۔ ثانیا انکے ڈنک سے جو زہر جسم میں پہنچتا ہے وہ دوا یا غذا نہیں ہے نہ اس میں جسم کی منفعت ہے بلکہ اس سے جسم کو ضرر لاحق ہوتا ہے۔ دوا یاگلوکوز کا انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس میں صرف قضا ہے کفارہ نہیں ہے ‘ کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز صورۃ اور معنی دونوں طرح مفطر ہو اس سے قضا اور کفارہ دونوں لازم آتے ہیں اور جو صرف صورۃ یا صرف معنی مفطر ہو اس سے صرف قضا لازم ہے کفارہ لازم نہیں ہے اور دوا یا گلوکوز کا انجیکشن لگوانا صرف معنی مفطر ہے صورۃ مفطر نہیں ہے۔ اس مسئلہ پر مکمل بادلائل اور باحوالہ بحث میں نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد اول طبع خامس میں کی ہے ‘ وہاں مطالعہ فرمائیں ‘ اس کا کچھ ذکر ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثالث کے ضمیمہ میں بھی ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 183