بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِيۡضًا اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنۡ اَيَّامٍ اُخَرَؕ يُرِيۡدُ اللّٰهُ بِکُمُ الۡيُسۡرَ وَلَا يُرِيۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰٮكُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ

رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ‘ لوگوں کو ہدایت دینے والا اور روشن دلیلیں ہدایت دینے والیں اور حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والیں ‘ سو تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو وہ ضرور اس ماہ کے روزے رکھے ‘ اور جو مریض یا مسافر ہو (اور روزے نہ رکھے) تو وہ دوسرے دنوں سے (مطلوبہ) عدد پورا کرے ‘ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تمہیں مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں فرماتا اور تاکہ تم (مطلوبہ) عدد پورا کرو ‘ اور اللہ کی کبریائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تاکہ تم شکر ادا کرو

اللہ تعالیٰ نے تمام قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ماہ رمضان کی لیلۃ القدر میں نازل کیا ‘ پھر حسب مصلحت تئیس سال میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مکمل قرآن کو نازل فرمایا ‘ اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید کو نازل کرنے کی ابتداء رمضان کے مہینہ میں ہوئی اور تیسری تفسیر یہ ہے کہ روزہ کو فرض کرنے کے احکام ماہ رمضان میں نازل ہوئے۔

حافظ ابن عساکر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ابراہیم پر صحائف رمضان کی پہلی شب میں نازل کیے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات رمضان کی چھٹی شب میں نازل کی ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل رمضان کی اٹھارویں شب میں نازل ہوئے۔ (تاریخ ابن عساکر ج ٣ ص ١٩٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

رمضان کے اسرار و رموز اور رمضان میں نزول قرآن کا بیان :

امام رازی لکھتے ہیں :

مجاہد نے کہا : کہ رمضان اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور رمضان کے مہینہ کا معنی ہے : اللہ کا مہینہ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ یہ نہ کہو کہ رمضان آیا اور رمضان گیا ‘ بلکہ یہ کہو کہ رمضان کا مہینہ آیا اور رمضان کا مہینہ گیا ‘ کیونکہ رمضان ‘ اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔

دوسرا قول یہ ہے کہ رمضان مہینہ کا نام ہے جیسا کہ رجب اور شعبان مہینوں کے نام ہیں۔ خلیل سے منقول ہے : رمضان ‘ رمضاء سے بنا ہے اور رمضاء خریف کی اس بارش کو کہتے ہیں جو زمین سے گرد و غبار کو دھو ڈالتی ہے ‘ اس طرح رمضان بھی اس امت کے گناہوں کو دھو ڈالتا ہے اور ان کے دلوں کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ رمضان رمض سے بنا ہے اور رمض سورج کی تیز دھوپ کو کہتے ہیں اور اس مہینے میں روزہ داروں پر بھوک اور پیاس کی شدت بھی تیز دھوپ کی طرح سخت ہوتی ہے ‘ یا جس طرح تیز دھوپ میں بدن جلتا ہے اسی طرح رمضان میں گناہ جل جاتے ہیں اور روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رمضان اللہ کے بندوں کے گناہ جلا دیتا ہے۔

رمضان کے مہینہ میں نزول قرآن کی ابتداء اس وجہ سے کی گئی کہ قرآن اللہ عزوجل کا کلام ہے اور انوار الہیہ ہمیشہ متجلی اور منکشف رہتے ہیں ‘ البتہ ارواح بشریہ میں ان انوار کے ظہور سے حجابات بشریہ مانع ہوتے ہیں اور حجابات بشریہ کے زوال کا سب سے قوی سبب روزہ ہے ‘ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کشف کے حصول کا سب سے قوی ذریعہ روزہ ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر بنی آدم کے قلوب میں شیطان نہ گھومتے تو وہ آسمانوں کی نشانیوں کو دیکھ لیتے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں اور رمضان میں عظیم مناسبت ہے ‘ اس لیے نزول قرآن کی ابتداء کے لیے اس مہینہ کو خاص کرلیا گیا۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ١٢١۔ ١٢٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں موجود ہو وہ ضرور اس ماہ کے روزے رکھے۔ (البقرہ : ١٨٥)

قطبین میں روزے اور نماز کی تحقیق :

بہ ظاہر اس آیت میں یہ اشکال کہ اس آیت سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اس مہینہ سے غائب بھی ہوسکتا ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ پہلے یہ بات عجیب معلوم ہو لیکن اب جب کہ یہ محقق ہوگیا کہ قطبین میں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے تو وہاں کے رہنے والے رمضان کے مہینہ میں حاضر نہیں ہوتے ‘ اس لیے قطبین کے رہنے والوں پر رمضان کے روزے فرض نہیں ہیں ‘ البتہ جب باقی دنیا میں رمضان کا مہینہ ہو ان دنوں میں کسی قریبی اسلامی ملک کے حساب سے وہاں کے رہنے والے طلوع فجر اور غروب آفتاب کے اوقات کا اپنے علاقہ کی گھڑیوں کے وقت سے ایک نظام الاوقات مقرر کرلیں اور اتنا وقت روزہ سے گزاریں تو بہت بہتر ہے ‘ اور جب کہ تمام دنیا کاٹائم بتانے والی گھڑیاں ایجاد ہوچکی ہیں ‘ یہ ایسا مشکل بھی نہیں ہے ‘ وہاں کے رہنے والے اگر گھڑیوں کے حساب سے نمازیں پڑھیں تو یہ بھی بہت بہتر ہے ہرچند کہ سورج کے طلوع اور غروب کے لحاظ سے ان پر ایک سال میں صرف ایک دن کی نمازیں فرض ہوں گی۔

سعودی عرب کے حساب سے روزے رکھتا ہوا پاکستان آیا تو عید کس حساب سے کرے گا ؟

پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ سعودی عرب سے ایک یا دو روز پہلے روزے رکھتے ہوئے آتے ہیں اور ان کے تیس روزے پورے ہوجاتے ہیں اور یہاں ہنوز رمضان ہوتا ہے تو چونکہ مذاہب اربعہ کے محققین فقہاء کے نزدیک بلاد بعیدہ میں اختلاف مطالع معتبر ہے ‘ اس لیے اس کو روزے رکھنے چاہئیں ‘ نیز قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “۔ (البقرہ : ١٨٥) تم میں سے جو اس مہینے میں موجود ہو تو وہ ضرور اس کے روزے رکھے “۔ اور اس شخص نے اس صورت میں رمضان کا مہینہ پایا ہے اس لیے وہ سب کے ساتھ روزے رکھے ‘ نیز امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” الصوم یوم تصومون والفطر یوم تفطرون “۔ جس دن لوگ روزہ رکھیں اس دن روزہ ہے اور جس دن لوگ عید کریں اس دن عید ہے۔ (جامع ترمذی ص ١٢٤) اس حدیث کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جو شخص پاکستان میں آگیا وہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ روزے رکھے اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ عید کرے۔ ایک رائے یہ ہے کہ اگر اس کے تیس روزے پورے ہوچکے ہیں تو اس پر اب روزے لازم نہیں ‘ کیونکہ حدیث کے اعتبار سے مہینہ انتیس یا تیس دنوں کا ہوتا ہے اور وہ ایک مہینہ کے روزے رکھ چکا ہے ‘ لیکن پہلی رائے کے دلائل زیادہ قوی ہیں۔

پاکستان سے روزے رکھتا ہوا سعودی عرب گیا تو عید کس حساب سے کرے گا ؟

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے پاکستان میں چاند دیکھ کر روزے رکھنے شروع کیے اور اثناء رمضان میں سعودی عرب چلا گیا جہاں جہاں لوگوں نے ایک یا دو روز پہلے روزے رکھنے شروع کیے تھے اور ابھی اس کے اٹھائیس یا انتیس روزے ہوئے تھے کہ انہوں نے عید کرلی اس صورت کے بارے میں علامہ نووی لکھتے ہیں :

ایک شخص نے ایک ایسے شہر سے سفر کیا جنہوں نے رمضان کا چاند نہیں دیکھا اور اس شہر میں پہنچا جس میں (اس کے حساب سے) ایک دن پہلے چاند دیکھ لیا گیا تھا اور ابھی اس نے انتیس روزے رکھے تھے کہ انہوں نے عید کرلی۔ اب اگر ہم عام حکم رکھیں یا یہ کہیں کہ اس کے لیے اس شہر کا حکم ہے تو وہ عید کرلے اور ایک دن کے روزے کی قضاء کرے ‘ اور اگر ہم حکم عام نہ رکھیں اور یہ کہیں کہ اس کے لیے پہلے شہر کا حکم ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس دن روزہ رکھے۔

چونکہ مذاہب اربعہ کے محققین فقہاء کے نزدیک بلاد بعیدہ میں اختلاف مطالع معتبر ہے ‘ اس لیے پاکستان سے سعودی عرب پہنچنے کے بعد اس شخص پر سعودی عرب کے مطلع کے احکام لازم ہوں گے وہ اس کے حساب سے روزے رکھے گا اور ان کے حساب سے عید کرے گا ‘ لیکن اس کے روزے تیس سے کم ہیں تو وہ کم دونوں کی احتیاط قضا کرلے۔

سعودی عرب سے عید کے دن سوار ہو کر پاکستان پہنچا اور یہاں ہنوز رمضان ہے۔ ایسی صورت کے بارے میں علامہ نووی لکھتے ہیں : اگر ایک شخص نے ایک شہر میں چاند دیکھا تو صبح عید کی اور وہ کشتی کے ذریعہ کسی دو دراز شہر میں پہنچا جہاں لوگوں کا روزہ تھا۔ شیخ ابو محمد نے کہا : اس پر لازم ہے کہ وہ بقیہ دن کھانے پینے سے اجتناب کرے۔ یہ اس صورت میں ہے جب ہم یہ کہیں کہ اس پر اس شہر کا حکم لازم ہے اور اگر ہم حکم عام رکھیں یا اختلاف مطالع کا اعتبار نہ کریں تو اس پر افطار کرنا لازم ہے۔

چونکہ بلادبعیدہ میں اختلاف مطالع معتبر ہے ‘ اس لیے جو شخص سفر کر کے دور دراز علاقہ میں پہنچے گا اس پر وہاں کے جغرافیائی حالات کے اعتبار سے شرعی احکام لازم ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو مریض یا مسافر ہو (اور روزے نہ رکھے) تو وہ دوسرے دنوں سے (مطلوبہ) عدد پورا کرے۔ (البقرہ : ١٨٥)

روزہ کی رخصت کے لیے شرعی مسافت کا بیان :

اس حکم کو دوبارہ ذکر فرمایا تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ یہ رخصت منسوخ ہوگئی ہے۔ کتنی مسافت کے سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے ؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے ‘ داؤد ظاہری کے نزدیک مسافت کم ہو یا زیادہ اس پر شرعی سفر کے احکام نافذ ہوجاتے ہیں ‘ خواہ ایک میل کی مسافت کا سفر ہو ‘ امام احمد کے نزدیک دو دن کی مسافت کا اعتبار ہے ‘ امام شافعی کے نزدیک بھی دو دن کی مسافت کا اعتبار ہے ‘ امام مالک کے نزدیک ایک دن کی مسافت معتبر ہے ‘ امام ابوحنفیہ سفر شرعی کے لیے تین دن کی مسافت کا اعتبار کرتے ہیں ‘ ان کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی عورت بغیر محرم کے تین دن کا سفر نہ کرے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٤٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

جمہور فقہاء احناف نے تین دن کی مسافت کا اندازہ اٹھارہ فرسخ کیا ہے۔ (ردالمختار ج ١ ص ٥٢٧۔ ٥٢٦) اٹھارہ فرسخ ‘ ٥٤ شرعی میل کے برابر ہیں جو انگریزی میلوں کے حساب سے اکسٹھ میل ‘ دو فرلانگ ‘ بیس گز ہے اور ٧٢٤۔ ٩٨ کلومیٹر کے برابر ہے۔ مسافت قصر کی پوری تفصیل اور تحقیق ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثانی میں بیان کی ہے۔

میت کی طرف سے روزے رکھنے میں مذاہب ائمہ :

جو شخص فوت ہوگیا اور اس نے رمضان کے روزے نہ رکھے ہوں تو امام مالک ‘ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک کوئی شخص اس کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا ‘ ان کی دلیل یہ آیت ہے :

(آیت) ” ولا تزروازۃ وزر اخری۔ (الانعام : ١٦٤)

ترجمہ : کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

علامہ مرداوی حنبلی لکھتے ہیں :

جب کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس پر نذر کے روزے ہوں تو صحیح مذہب یہ ہے کہ اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ سکتا ہے اور صحیح مذہب یہ ہے کہ ایک جماعت میت کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہے ‘ نیز صحیح مذہب یہ ہے کہ ولی کا غیر بھی میت کی طرف سے اس کی اجازت سے اور اس کی اجازت کے بغیر روزے رکھ سکتا ہے ‘ اگر ولی روزے نہ رکھے تو میت کے مال سے ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ (الانصاف ج ٣ ص ٣٣٧۔ ٣٣٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی)

علامہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں :

ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے موقوفا روایت ہے کہ کوئی شخص کسی کی طرف سے روزہ نہ رکھے اور نہ کوئی شخص کسی کی طرف سے نماز پڑھے۔ (موطا امام مالک ص ٢٤٥‘ مطبوعہ لاہور) دوسرے دلیل یہ ہے کہ زندگی میں عبادات کی ادائیگی میں کوئی شخص کسی کا نائب نہیں ہوسکتا ‘ لہذا موت کے بعد بھی نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ عبادت کا مکلف کرنے سے یہ مقصود ہے کہ مکلف کے بدن پر اس عبادت کی مشقت ہو اور نائب کے ادا کرنے سے مکلف کے بدن پر کوئی مشقت نہیں ہوئی ‘ البتہ اس کی طرف سے ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے گا ‘ کیونکہ اب اس مکلف کا خود روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے تو فدیہ اس کے روزہ کا قائم مقام ہوجائے گا جیسا کہ شیخ فانی کی صورت میں ہے اور اس نے فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو اس کے تہائی مال سے کھانا کھلانا لازم ہے اور امام شافعی کے نزدیک وہ وصیت کرے یا نہ کرے اس کی طرف سے کھانا کھلانا لازم ہے ‘ فدیہ کی مقدار ہمارے نزدیک دو کلو گندم ہے اور امام شافعی کے نزدیک ایک کلو گندم ہے (المبسوط ج ٣ ص ٣٧‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حاملہ اور مرضعہ کے لیے روزہ کی رخصت میں مذاہب ائمہ :

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

حاملہ اور دودھ پلانے والی کو جب اپنی جان کا خوف ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں اور فقط ان روزوں کی قضاء کریں اور اگر ان کو اپنے بچہ کی جان کا خوف ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں ‘ ان پر قضا بھی ہے اور فدیہ بھی ‘ ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ (المغنی ج ٣ ص ٣٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ العبدری مالکی لکھتے ہیں :

اگر حاملہ پر روزہ دشوار ہو تو وہ روزہ نہ رکھے اور صرف قضاء کرے اور اگر دودھ پلانے والی پر روزہ دشوار ہو تو وہ روزہ نہ رکھے ‘ وہ قضا بھی کرے اور فدیہ بھی دے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ صرف قضا کرے۔ (التاج والاکلیل شرح مختصر خلیل ج ٢ ص ٤٤٧‘ مبطوعہ مکتبہ النجاح لیبیا)

علامہ شمس الدین رملی شافعی لکھتے ہیں :

حاملہ اور دودھ پلانے والی کو اگر اپنی جان کا خوف یا اپنی اور بچہ دونوں کی جان کو خوف ہو تو وہ روزہ نہ رکھیں ‘ صرف قضا کریں اور اگر صرف بچہ کی جان کا خوف ہو تو روزہ کی قضا بھی کریں اور فدیہ بھی دیں۔ (نہایۃ المحتاج ج ٣ ص ١٩٤‘ مطبوعہ دارالکتب بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)

علامہ المرغینانی الحنفی لکھتے ہیں :

حاملہ اور دودھ پلانے والی کو جب اپنی جان کا خوف ہو یا اپنے بچہ کا خوف ہو تو وہ روزہ رکھیں اور قضاکریں ‘ تاکہ ان پر تنگی نہ ہو ‘ ان پر فدیہ لازم نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ رہیں ‘ امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ اگر بچہ کا خوف ہو تو فدیہ دیں وہ اس کو شیخ فانی پر قیاس کرتے ہیں ‘ ہم کہتے ہیں کہ شیخ فانی میں فدیہ کا وجوب خلاف قیاس ہے اور یہاں روزہ رکھنا بچہ کے سبب سے ہے اور بچہ شیخ فانی کے حکم میں نہیں ہے کیونکہ شیخ فانی روزہ کے وجوب کے بعد عاجز ہوا ‘ اور بچہ پر اصلا روزہ کا وجوب نہیں ہے ‘ اس لیے یہ قیاس صحیح نہیں ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٢٢٢‘ مکتبہ شرکت علمیہ ملتان)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تمہیں مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں فرماتا۔ (البقرہ : ١٨٥)

اسلام دین یسر ہے :

اسلام نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا جس سے امت حرج اور دشواری میں مبتلا ہوجائے۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج “ (المائدہ : ٦)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ یہ ارادہ نہیں فرماتا کہ تم پر تنگی کی جائے۔

(آیت) ” وما جعل علیکم لیجعل علیکم من حرج “۔ (الحج : ٧٨)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں کی۔

(آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم ‘ وخلق الانسان ضعیفا “۔۔ (النساء : ٢٨)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ تم سے تخفیف کرنے کا ارادہ فرماتا ہے اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

(آیت) ” ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ “۔ (البقرہ : ١٧٨)

ترجمہ : (قصاص کے ساتھ دیت کی گنجائش رکھنا) یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔

قصاص کے ساتھ دیت کی گنجائش ‘ پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو تیمم کی سہولت ‘ بیمار اور مسافر کے لیے روزہ قضا کرنے کی رخصت ‘ بوڑھے اور دائمی مریض کے لیے روزے کے فدیہ کی اجازت ‘ جو کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے اس کے لیے بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھنے کی وسعت ‘ اگر سواری سے اترنہ سکے تو سواری پر نماز پڑھنے کی اجازت ‘ جو شخص خود حج نہ کر سے اس کے لیے حج بدل کی وسعت ‘ سفر میں نماز کو قصر کرنا اور بہت سے احکام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احکام شرعیہ میں مشقت کی صورت پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے ‘ وصال کے روزوں ‘ صیام دہر ‘ عمر بھر شادی نہ کرنے اور ساری رات قیام کرنے سے منع کیا ہے ‘ اسی طرح مشکل عبادات کی نذر ماننے پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے ‘ تمام مال کو صدقہ کرنے سے منع کیا ہے اور اضطرار کی حالت میں حرام چیزوں کے استعمال کی اجازت دی ہے ‘ بہ کثرت احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسان احکام اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین آسان ہے ‘ جو شخص بھی دین پر غالب آنے کی کوشش کرے گا (بایں طور کہ آسان طریقہ کو چھوڑ کر مشکل طریقہ کو اختیار کرے) دین اس پر غالب آجائے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا تم لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو ‘ اور ان کو مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت سعید بن ابی بردہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے والد کو اور حضرت معاذ بن جبل کو یمن بھیجا اور فرمایا : آسانی کرنا ‘ مشکل میں نہ ڈالنا ‘ خوشخبری دینا ‘ متنفر نہ کرنا اور آپس میں موافقت کرنا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠٦٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوموسی اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے اصحاب میں سے کسی کو ‘ اپنے کسی کام کے لیے بھیجتے تو یہ فرماتے : خوشخبری دینا ‘ متنفر نہ کرنا ‘ آسانی کرنا اور مشکل میں نہ ڈالنا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٨٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی ایک کا اختیار دیا جاتا تو آپ اس پر عمل کرتے جو زیادہ آسان ہوتا بہ شرطی کہ وہ گناہ نہ ہو اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے بچنے والے ہوتے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٥٠٣۔ ج ٢ ص ١٠٠٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین وہ جو باطل ادیان سے الگ ہو اور آسان اور سہل ہو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام احمد روایت کرتے ہیں :

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا دینی عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو ‘ تمہارا بہترین دینی عمل وہ جو سب سے زیادہ آسان ہو ‘ تمہارا بہترین دینی دینی عمل وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٣٨‘ ج ٥ ص ٣٥ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص فیصلہ کرنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرنے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگیا۔ (مسند احمد ج ٢ ص ١١٠‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

بعض مفتی فتوی دیتے وقت ڈھونڈ ڈھونڈ کر لوگوں کو مشکل اور ناقابل عمل احکام بیان کرتے ہیں ‘ مثلا اگر کسی عورت کا خاوند گم ہوجائے تو کہتے ہیں وہ نوے سال تک انتظار کرے ‘ پھر عقد ثانی کرے ‘ جس عورت کو اس کا خاوند کھانے پینے کا خرچ دے نہ آباد کرے اور نہ اس کو طلاق دے تو کہتے ہیں کہ خاوند کی طلاق کے بغیر اس کی نجات نہیں ہوسکتی ‘ عدالت نے جس کا نکاح فسخ کردیا ہو اس کو نکاح کی اجازت نہیں دیتے ‘ انگریزی دواؤں اور انتقال کو حرام کہتے ہیں ‘ ریڈیو اور ٹیوی پر رؤیت ہلال کے اعلان کو ناجائز کہتے ہیں ‘ پر فیوم کے استعمال کو ناجائز کہتے ہیں ‘ چلتی ٹرین اور ہوائی جہاز میں نماز کو ناجائز کہتے ہیں ‘ تعلیم ‘ نسواں کو حرام کہتے ہیں ‘ نماز میں سجدہ کے دوران اگر پیروں کی تین انگلیاں اٹھ جائیں ‘ کہتے ہیں کہ نماز فاسد ہوگئی ‘ بعض علماء سجدہ میں انگلیوں کے پیٹ لگانے کو فرض کہتے ہیں ‘ گھڑی کے چین کو ناجائز کہتے ہیں ‘ جس مسئلہ میں فقہاء کے متعدد اقوال ہوں تو اس قول پر فتوی دیتے ہیں جس پر عمل کرنا سب سے مشکل اور سخت ہو ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسان اور سہل احکام بیان کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ لوگ اس کے برعکس کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی کبریائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔۔ (البقرہ : ١٨٥)

عیدگاہ جاتے وقت تکبیرات پڑھنے میں مذاہب ائمہ :

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان شوال کا چاند دیکھیں تو ان پر حق ہے کہ وہ اللہ کی تکبیر کہیں حتی کہ وہ عید سے فارغ ہوجائیں اور زہری ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ عید الفطر کے دن جب عیدگاہ جاتے تو تکبیر پڑھتے اور جب نماز پڑھ لیتے تو تکبیر منقطع کردیتے ‘ حضرت علی ‘ ابوقتادہ ‘ حضرت ابن عمر ‘ سعید بن مسیب ‘ عروہ ‘ قاسم ‘ خارجہ بن زید ‘ نافع بن جبیر بن مطعم وغیرہم سے مروی ہے کہ وہ عید کے دن عید گاہ کو جاتے وقت تکبیر پڑھتے تھے۔ حبیش بن معتمر نے بیان کیا کہ عید الاضحی کے دن حضرت علی اپنے خچر پر سوار ہو کر گئے اور تکبیر پڑھتے رہے حتی کہ جبانہ پہنچ گئے۔

حضرت ابن عباس (رض) کے غلام شعبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے لوگوں کو تکبیر پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ کیا امام تکبیر پڑھ رہا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ‘ فرمایا : تو کیا یہ لوگ پاگل ہیں ؟ اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے عید گاہ کی طرف جانے کے راستہ میں تکبیر پڑھنے کا انکار کیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک اس آیت میں تکبیر سے مراد وہ تکبیریں ہیں جو امام خطبہ میں پڑھتا ہے ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) سے جو یہ روایت ہے کہ مسلمانوں پر حق ہے کہ شوال کا چاند دیکھ کر تکبیر پڑھیں اس سے مراد آہستہ تکبیر پڑھنا ہے ‘ اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ جب وہ عید الفطر اور عیدالاضحی کی نماز پڑھنے کے لیے جاتے تو عید گاہ تک بلند آواز سے تکبیر پڑھتے۔

اس مسئلہ میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : عید الاضحی کے لیے جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیر پڑھے اور عید الفطر کے لیے جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیر نہ پڑھے اور امام ابو یوسف عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں تکبیر پڑھتے تھے۔ قرآن مجید میں کسی چیز کی تعیین نہیں ہے ‘ امام محمد نے فرمایا کہ عیدین میں تکبیر پڑھے ‘ اور حسن بن زیادہ نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا ہے کہ عیدین میں تکبیر پڑھنا واجب نہیں ہے ‘ راستہ میں نہ عیدگاہ میں تکبیر صرف عید کی نماز میں واجب ہے۔ امام اوزاعی اور امام مالک نے کہا ہے کہ دونوں عیدوں میں عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے راستہ میں تکبیر پڑھے ‘ جب امام آجائے تو تکبیر منقطع کر دے اور واپسی میں تکبیر نہ پڑھے۔ امام شافعی نے فرمایا : دونوں عیدوں کی رات میں بلند آواز سے تکبیر پڑھنا مستحب ہے اور صبح جب عید گاہ کو جائے تو امام کے آنے تک تکبیر پڑھنا مستحب ہے۔

علامہ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اولی یہ ہے کہ بلند آواز سے تکبیر پڑھے اور ہلال شوال دیکھ کر آہستہ تکبیر پڑھنا بھی جائز ہے اس پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ بلند آواز سے تکبیر پڑھنا واجب نہیں ہے اور جس نے بلند آواز سے تکبیر پڑھنے کے لیے کہا اس نے بہ طور استحباب کہا ہے۔ امام طحاوی نے کہا ہے کہ ابن ابی عمران نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے تمام اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ عید الفطر کے دن عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے تکبیر پڑھنا سنت ہے ‘ یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) کے مذہب کے زیادہ مناسب ہے ‘ کیونکہ ظاہر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گنتی پوری کرنے کے بعد تکبیر پڑھی جائے اور گنتی پورا کرنا عید الاضحی کی بہ نسبت عیدالفطر کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ عید الفطر میں روزوں کا عدد پورا کیا جاتا ہے اور جب امام ابوحنیفہ کے نزدیک عید الاضحی میں تکبیر پڑھنا سنت ہے تو عید الفطر میں بھی سنت ہونا چاہیے کیونکہ دونوں عیدوں کی نمازوں میں تکبیر کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ نہ اس کے بعد خطبہ میں نہ سنتوں میں ‘ سو چاہیے کہ عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے تکبیر پڑھنے میں بھی دونوں عیدوں میں اختلاف نہ ہو۔ (احکام القرآن ص ‘ ٢٢٦۔ ١٢٢ ملخصا ‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص نے امام شافعی کا مذہب صحیح نقل نہیں کیا۔ امام شافعی کے نزدیک یہ تکبیرات واجب ہیں ‘ اسی طرح ان کا جہر کے استحباب کو متفق علیہ قرار دینا بھی صحیح نہیں ہے، کیونکہ امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک ان تکبیرات کو جہر سے پڑھنا واجب ہے۔

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

عید الفطر کی رات اور عیدالاضحی کی رات میں بلند آواز سے تکبیر پڑھنا سنت ہے اور جب عید گاہ کی طرف جائیں ‘ امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ جب عیدگاہ پہنچ جائیں تو تکبیرات منقطع کردیں اور ایک روایت ہے : جب امام خطبہ سے فارغ ہو۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ١٨٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

اگر طلوع شمس کے بعد عید گاہ کے لیے روانہ ہو تو عیدگاہ کے راستہ میں امام کے آنے تک تکبیرات پڑھے ‘ اس میں عید الفطر اور عیدالاضحی برابر ہیں اور اگر طلوع شمس سے پہلے روانہ ہو تو پھر نہ پڑھے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٣٠٧۔ ٣٠٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

اس عبارت کا تقاضا یہ ہے کہ امام مالک کے نزدیک عیدین کی تکبیرات واجب ہیں۔

علامہ خازن شافعی لکھتے ہیں :

امام شافعی نے کہا : عیدین کی تکبیروں کو بلند آواز سے پڑھنا واجب ہے اور یہی امام مالک کا قول ہے۔ (لباب التاویل ج ١ ص ١٢٣ مطبوعہ دارالکتب العربیہ پشاور)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 185