بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا سَاَلَـكَ عِبَادِىۡ عَنِّىۡ فَاِنِّىۡ قَرِيۡبٌؕ اُجِيۡبُ دَعۡوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لِىۡ وَلۡيُؤۡمِنُوۡا بِىۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡشُدُوۡنَ

اور (اے رسول ! ) جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں (تو آپ فرما دیں کہ) بیشک میں ان کے قریب ہوں دعا کرنے والا جب دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو چاہیے کہ وہ (بھی) میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان برقرار رکھیں تاکہ وہ کامیابی حاصل کریں

شان نزول :

اس آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حسن بصری بیان کرتے ہیں : صحابہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : ہمارے رب کہاں ہے تو یہ آیت نازل ہوئی : جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو بتائیے کہ میں قریب ہوں۔

عطاء نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاقبول کروں گا ‘ تو صحابہ نے پوچھا : ہم کس وقت دعا کریں تو یہ آیت نازل ہوئی : جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو بتائیے کہ میں قریب ہوں اور جب کوئی دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ٩٣۔ ٢٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اللہ سے دعا کرنے کے متعلق احادیث :

ہمارے زمانہ میں بعض جہلا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بجائے اپنی حاجتوں کا سوال پیروں ‘ فقیروں سے کرتے ہیں اور قبروں اور آستانوں پر جا کر اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اور اولیاء اللہ کی نذر مانتے ہیں ‘ حالانکہ ہر چیز کی دعا اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور اسی کی نذر ماننی چاہیے ‘ کیونکہ دعا اور نذر دونوں عبادت ہیں اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے ‘ البتہ دعا میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات کے آخری حصہ میں آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کون مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرلوں کون مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کروں اور کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو میں اس کی مغفرت کردوں۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٣٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دعا عبادت کا مغز ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٨٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی ہر حاجت کا اللہ سے سوال کروحتی کہ جوتی کے تسمہ ٹوٹنے کا۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥١٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٨٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو اس سے خوشی ہو کہ اللہ سختیوں اور مصیبتوں میں اس کی دعا قبول کرے ‘ وہ عیش و آرام میں اللہ تعالیٰ سے بہ کثرت دعا کرے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٨٧ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ‘ آپ نے فرمایا : اے بیٹے ! میں تم کو چند کلمات کی تعلیم دیتا ہوں ‘ تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو ‘ اللہ تمہاری حفاظت کرے گا ‘ تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو تم اللہ کی تقدیر کو اپنے سامنے پاؤ گے ‘ جب تم سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔ (جامع ترمذی ص ٣٦١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے متعلق احادیث :

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت مالک بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم اللہ سے سوال کرو تو اپنی ہتھیلیوں کے باطن سے سوال کرو اور ہتھیلیوں کی پشت سے سوال نہ کرو۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٠٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حضرت سلمان فارسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا رب حیا والا کریم ہے ‘ جب اس کا کوئی بندہ اس کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ ان کو خالی لوٹانے سے حیا فرماتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٠٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی ص ٥١٢‘ مطبوعہ کراچی)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ سوال کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر اٹھاؤ اور استغفار کا طریقہ یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو اور گڑ گڑا کر سوال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاؤ۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٢٠٩ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :

ابو محریز (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب تم اللہ سے سوال کرو تو ہتھیلیوں کے باطن سے سوال کرو ‘ ہتھیلیوں کی پشت سے سوال نہ کرو۔ (المصنف ج ١ ص ٢٨٦‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا میں ہاتھ میں بلند کرتے اور ہاتھوں کو نیچے نہ گراتے حتی کے ان کو چہرے پر مل لیتے۔ (جامع ترمذی ص ٤٨٨‘ مطبوعہ نور کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

ہمارے زمانہ میں بعض علماء ہر دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کو سنت نہیں قرار دیتے اور بغیر ہاتھ اٹھا کے دعا کرنے کی تلقین کرتے ہیں ‘ اس لیے میں نے ایسی احادیث بیان کیں جن میں دعا کرنے کا طریقہ یہ بیان کیا ہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے۔

فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کے متعلق احادیث :

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! کس وقت کی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : رات کے آخری حصہ میں اور فرض نمازوں کے بعد۔ (جامع ترمذی ص ٥٠٤‘ مطبوعہ نور کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد ان کلمات سے اللہ کی پناہ چاہتے تھے : اے اللہ ! میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ میں ارذل عمر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور دنیا کے فتنہ اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (جامع ترمذی ص ٥١٣‘ مطبوعہ نور کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام نسائی روایت کرتے ہیں :

مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد ہر نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ! میں کفر ‘ فقر اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ میں بھی یہ دعا کرنے لگا ‘ میرے والد نے پوچھا : اے بیٹے ! یہ دعا کہاں سے حاصل کی ؟ میں نے کہا : آپ سے ‘ انہوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے۔ (سنن نسائی ج ١ ص ١٣٦‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابن شیبہ روایت کرتے ہیں :

ابوبکر بن ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوموسی اشعری (رض) جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میرے گناہ کو بخش دے ‘ میرے معاملہ کو آسان کر اور میرے رزق میں برکت دے۔ (المصنف ج ١٠ ص ٢٢٩‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ١٤٠٦ ھ)

حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام پھیرنے کے بعد پڑھتے تھے : ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر ‘ اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد “۔ (المصنف ج ١٠ ص ٢٣١‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ١٤٠٦ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد فرماتے تھے :” اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام “ (المصنف ج ١٠ ص ٢٣٢‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ١٤٠٦ ھ)

ابوالزبیر بیان کرتے ہیں کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے :” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر ‘ ولا حول قوۃ الا باللہ ولا نعبد الا۔۔ لا النعمۃ ولہ الفضل ولہ الثناء الحسن ‘ لا الہ اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکافروں “ پھر حضرت ابن الزبیر نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے بعد ان کلمات کو بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ (المصنف ج ١٠ ص ٢٣٢‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ١٤٠٦ ھ)

اس حدیث کو امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٢١٨‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز کا سلام پھیرنے کے بعد دعا کرتے : اے اللہ ! میں تجھ سے علم نافع ‘ پاک رزق اور عمل مقبول کا سوال کرتا ہوں۔ (المصنف ج ١٠ ص ٢٣٤‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ١٤٠٦ ھ)

اس حدیث کو امام ابن السنی نے بھی روایت کیا ہے۔ (عمل الیوم واللیلۃ ص ٣٩۔ ٣٨‘ مطبوعہ مجلس الدائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد ‘ دکن)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم صغیر “ میں روایت کیا ہے اور اس کے روای ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ‘ ١١١ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

زازان کہتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد سو مرتبہ دعا کرتے : اے اللہ ! میری مغفرت فرما ‘ میری توبہ قبول فرما ‘ بیشک تو بہت توبہ قبول فرمانے والا بہت بخشنے والا ہے۔ (المصنف ج ١٠ ص ٢٣٥‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ‘ ١١٠۔ ١١٩‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام نسائی روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک یہودی عورت آئی اور کہنے لگی : پیشاب کی وجہ سے عذاب قبر ہوتا ہے ‘ میں نے کہا : تم جھوٹ ہو ‘ اس نے کہا : کیوں نہیں ؟ ہم کھال اور کپڑے کو پیشاب کی وجہ سے کاٹ دیتے تھے ‘ ہماری آوازیں بلند ہو رہی تھیں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے جارہے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا بات ہے ؟ تو میں سارا واقعہ عرض کیا آپ نے فرمایا : وہ سچی ہے ‘ اس دن کے بعد آپ ہر نماز کے بعد یہ دعا کرتے تھے : اے جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اور اسرافیل کے رب ! مجھے آگ کی گرمی اور عذاب قبر سے اپنی پناہ میں رکھ۔ (سنن کبری ج ١ ص ٤٠٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

حضرت ابو امامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی کو پڑھا ‘ اس کو جنت میں داخل ہونے سے موت کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں ہوگی۔ (سنن کبری ج ٦ ص ٣٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

اس حدیث کو امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٨ ص ‘ ١١٤ مسند الشامیین ج ٢ ص ٩ مطبوعہ مؤسسۃ الرساءۃ بیروت)

اس حدیث کو امام ابن السنی نے بھی روایت کیا ہے (عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٣‘ مطبوعہ دائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے : اس حدیث کی سند جید ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ‘ ١٠٢ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام ابن السنی روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز ادا کرلیتے تو اپنا دایاں ہاتھ پیشانی پر پھیرتے ‘ پھر پڑھتے : ” اشھد ان لا الہ الا الرحمن الرحیم “ اس کے بعد دعا کرتے : اے اللہ ! مجھ سے غم اور فکر دور کردے۔ (عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٣‘ مطبوعہ دائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں اور امام بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور متعدد ائمہ نے اس کی توثیق کی ہے (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ‘ ١١٠ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں جب بھی کسی فرض یا نفل نماز کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوا تو آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میرے گناہوں اور خطاؤں کو بخش دے ‘ اے اللہ ! مجھے ہلاکت سے بچا ‘ اے اللہ ! مجھے نیک اعمال اور اخلاق کی ہدایت دے ‘ تیرے سوا کوئی نیک اعمال کی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور تیرے سوا کوئی برے اعمال سے بچانے والا نہیں ہے۔ (عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٠ ‘۔ ٤١ مطبوعہ دائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

حافظ الہیثمی لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ص ‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا تو آپ نے فرمایا : اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں تم کسی نماز کے بعد یہ دعا نہ چھوڑو :” اللہم اعنی علی ذکر وشکرک وحسن عبادتک “ (عمل الیوم واللیلۃ ص ٤١ مطبوعہ دائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی ہم کو فرض نماز پڑھائی اس کے بعد ہماری طرف کر کے یہ دعا کی : اے اللہ ! میں ہر اس عمل سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو مجھے شرمندہ کرے ‘ میں ہر اس شخص سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو مجھے ہلاک کرے ‘ اور ہر اس امید سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو مجھے غافل کردے ‘ میں ہر اس فقر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جو تجھے بھلا دے اور ہر اس غنی سے تیری پناہ میں آتا ہے جو مجھے سرکش بنادے۔ (عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٢ ‘۔ ٤١ مطبوعہ دائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام بزار نے حضرت انس سے روایت کیا ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کو امام ابو یعلی نے بھی روایت کیا ہے (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١١٠‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز کے بعد یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میری آخری زندگی کو خیر کر دے اور میرے سب سے اچھے عمل پر میرا خاتمہ کر اور میرا سب سے اچھا دن وہ بنا دے جس دن تجھ سے ملاقات ہو۔ (عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٢ مطبوعہ دائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

اس حدیث کو امام طبرانی نے ” اوسط “ میں روایت کیا ہے اور اس کا ایک راوی ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١١٠‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد ” معوذات “ (قل اعوذ برب الفلق “ اور ” قل اعوذ برب الناس “ ) کو پڑھا کروں۔ (عمل الیوم واللیلۃ ص ٤٢ مطبوعہ دائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)

حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں صبح کی نماز پڑھنے کے بعد تین بار بلند آواز سے یہ دعا فرماتے : اے اللہ ! میرے دین کی اصلاح فرما جس کو تو نے میرے امر کی حفاظت بنایا ہے ‘ اے اللہ ! میری دنیا کی حفاظت فرما جس کو تو نے میری معاش بنایا ہے ‘ اور تین بار یہ دعا فرماتے : اے اللہ ! میری آخرت کی اصلاح فرما ‘ جس کو تو نے میرا مرجع بنایا ہے اور تین بار فرماتے : اے اللہ ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں ‘ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ جو تو عطا کرے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو تو روک دے اس کا کوئی دینے والا نہیں ‘ اور تیرے مقابلہ میں کسی کی کوشش نفع نہیں دے سکتی (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١١١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حافظ الہیثمی لکھتے ہیں اس حدیث طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ایک ضعیف راوی ہے۔

(مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١١١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حافظ الہیثمی لکھتے ہیں :

حضرت ابوایوب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب بھی تمہارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھی تو آپ نے نماز کے بعد یہ دعا کی : اے اللہ ! میری کل خطاؤں اور ذنوب کو بخش دے ‘ اے اللہ ! مجھے ہلاکت سے بچا ‘ میرے ٹوٹے ہوئے کام جوڑ دے ‘ اور مجھے نیک اعمال اور اخلاق کی ہدایت دے ‘ تیرے سوا نیک اعمال کی ہدایت دینے والا اور بےاعمال سے بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم صغیر “ اور ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١١١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص نماز پڑھائے اور دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی مغفرت کردیتا ہے ‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ایک ضعیف راوی ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١١١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کے متعلق فقہاء اسلام کی آراء

علامہ حلبی حنفی لکھتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد صرف ” اللہم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام “ کی مقدار بیٹھتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ بعینہ یہی کلمات فرماتے تھے یا بس اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے ‘ اس سے تحدید مراد نہیں ہے اس لیے یہ حدیث ” صحیح بخاری “ اور ” صحیح مسلم “ کی اس حدیث کے منافی نہیں ہے جس میں حضرت عبداللہ بن الزبیر سے طویل ذکر مروی ہے۔ (غیۃ المستملی (حبلی کبیر) ص ٣٤٢‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ ابن حمام حنفی لکھتے ہیں :

اس میں اختلاف ہے کہ فرض کے بعد متصلا سنت پڑھنا اولی ہے یا دعا اور وظائف پڑھنے کے بعد سنتیں پڑھنا اولی ہے ‘ امام حلوانی نے کہا ہے کہ فرائض اور سنتوں کے درمیان وظائف اور اوراد پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (الی قولہ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے بعد کم مقدار میں بھی ذکر کیا ہے اور زیادہ مقدار میں بھی ‘ اور اس وقت سنت یہ ہے کہ اتنی مقدار میں تاخیر کے بعد سنتیں پڑھی جائیں۔ (فتح القدیر ج ١ ص ٣٨٤۔ ٣٨٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

علامہ شرنبلالی حنفی لکھتے ہیں :

مستحب یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد ائمہ اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے دعا کریں کیونکہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کس وقت دعا مقبول ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا : آدھی رات کو اور فرض نمازوں کے بعد ‘ اور آپ نے حضرت معاذ سے فرمایا : بہ خدا ! میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تم کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ تم کسی نماز کے بعد یہ دعا ترک نہ کرنا : ” اللہم اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک “۔ (مراقی الفلاح ص ١٨٩‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واوالادہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)

علامہ طحطاوی حنفی لکھتے ہیں ‘ ہر فرض نماز کے بعد تین بار اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص ١٨٨‘ مطبوعہ مطبع مصطفیٰ البابی واوالادہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)

علامہ علاؤ الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد تین بار استغفار کرے ‘ آیۃ الکرسی اور معوذات پڑھے اور سو تسبیحات پڑھے اور دعا کرے اور ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون “ پر ختم کرے۔ (درمختار علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی ‘ ج ١ ص ٢٣٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ طحطاوی حنفی اس کی شرح میں لکھتے ہیں : کیونکہ فرض نمازوں کے بعد دعا مقبول ہوتی ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار ج ١ ص ٢٣٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٣٩٥ ھ)

نیزعلامہ حصکفی نے لکھا ہے کہ فرض ناز کے بعد متصلا سنتیں پڑھنے یا دعا اور ذکر کے بعد سنتیں پڑھنے میں فقہاء کا اختلاف افضلیت میں ہے اور میں یہ کہتا ہوں کہ فرض کے بعد اور اداوار دعا سے منع کرنے والوں کا قول اگر اس پر محمول کیا جائے کہ فرض نمازوں کے بعد وظائف میں زیادہ دیر لگانا مکروہ تنزیہی ہے اور کم مقدار میں دعا اور وظائف پڑھنا بلاکراہت جائز ہے پھر اختلاف نہیں رہے گا۔ (درمختار علی ھامش حاشیۃ الطحطاوی ج ١ ص ٢٣٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٣٩٥ ھ)

علامہ حطاب مالکی طرایلسی مغربی لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ امام مقتدیوں کو بھی اپنی دعا میں شریک کرے ‘ روایت ہے کہ جس نے ان کو نہیں شریک کیا اس نے ان سے خیانت کی ‘ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ نماز کے بعد دعا کرنا جائز ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ آدھی رات اور فرض نمازوں کے بعد دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے ‘ امام حاکم نے امام مسلم کی شرط کے مطابق یہ حدیث روایت کی ہے جب بھی مسلمان جمع ہوں بعض دعا کریں اور بعض آمین کہیں تو اللہ ان کی دعا کو قبول فرماتا ہے۔ (مواہب الجلیل ج ١ ص ١٢٧۔ ١٢٦‘ مطبوعہ مکتبہ النجاح ‘ لیبیا)

علامہ نووی شافعی لکھتے ہیں :

نماز کے بعد کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا سنت ہے ‘ اس سلسلہ میں بہت احادیث ہیں ‘ اور سلام پھیرنے کے بعد آہستہ دعا کرنا مسنون ہے ‘ الایہ کہ کوئی شخص امام ہو اور وہ حاضرین کو دعا پر مطلع کرنے کا ارادہ کرے تو وہ بلند آواز سے دعا کرے۔ (روضۃ الطالبین ج ١ ص ٣٧٤۔ ٣٧٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

سلام پھیرنے کے بعد اللہ کا ذکر کرنا اور دعا کرنا مستحب ہے ‘ حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھنے کے بعد پھرجاتے اور تین بار استغفر اللہ کہتے اور ” اللہم انت السلام ومنک السلام تبارک یا ذالجلال والاکرام “ پڑھتے ‘ حضرت سعد کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے بعد یہ دعا کرتے : اے اللہ ! میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ میں ارذل عمر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ میں دنیا کے فتنہ اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (المغنی ج ١ ص ٢٢٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

چونکہ بہ کثرت احادیث میں فرض نماز کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہرا ذکر کرنا اور دعا کرنا ثابت اور مصرح ہے جیسا کہ ہم نے باحوالہ بیان کیا ہے اس لیے ہمارے نزدیک یہی راجح ہے کہ فرض نماز کے بعد مختصر ذکر کیا جائے اور دعا کی جائے اور جن فقہاء نے اس کو غیر افضل یا مکروہ تنزیہی کہا ہے ہمارے نزدیک ان کا قول صحیح نہیں ہے ‘ ہم نے اس مسئلہ میں اس لیے طویل بحث کی ہے کہ ہمارے زمانہ میں بعض حنبلی المسئلک علماء اور بعض صوفیاء فرض نماز کے بعد دعا مانگنے سے لوگوں کو منع کرتے ہیں اور ان کا یہ قول بکثرت احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔

طلب جنت کی دعا کرنے کا قرآن اور سنت سے بیان :

ہمارے زمانہ میں بعض جہلا جنت کی بہت تنقیص اور بہت تحقیر کرتے ہیں اور جنت کی دعا کرنے کو بہت گھٹیا درجہ قرار دیتے ہیں ‘ بعض کہتے ہیں : ہمیں جنت نہیں مدینہ چاہیے ‘ حالانکہ مدینہ کی عظمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ کی وجہ سے ہے اور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اب بھی جنت میں ہیں اور آخرت میں بھی جنت میں ہوں گے تو اگر سرکار کے مسکن کی وجہ سے مدینہ کو محبوب رکھا جاتا ہے تو دنیا اور آخرت میں آپ کا مسکن جنت ہے اس کی تنقیص کیوں کی جاتی ہے ؟ بلکہ اس کو مدینہ سے زیادہ محبوب جاننا چاہیے کہ وہ اب آپ کا مسکن ہے اور آخرت میں بھی آپ کا مسکن ہے ! بعض کہتے ہیں کہ جنت کا درجہ کم ہے اور اللہ کی رضا کا درجہ زیادہ ہے اس لیے وہ جنت کو کم قرار دیتے ہیں اور جنت کی دعا نہیں کرتے ‘ لیکن وہ غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنت کی بہت تعریف اور توصیف کی ہے اور اس کی طرف بہت رغبت دلائی ہے تو اللہ نے جس چیز کی تعریف و توصیف کی ہو اس کی تنقیص کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگا یاناراض ! اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا دیدار اہل جنت کو ہوگا تو اللہ کی رضا اور اس کے دیدار کا وسیلہ جنت ہے اس لیے جنت کو محبوب رکھنا چاہیے ‘ جس طرح انبیاء (علیہم السلام) کو اس لیے محبوب رکھا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی معرفت کا وسیلہ ہیں ‘ نیز قرآن اور سنت میں جنت کو طلب کرنے اور اس کے حصول کی دعا کی ہدایت دی گئی ہے۔

(آیت) ” وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا السموت والارض اعدت للمتقین “۔۔ (آل عمران : ١٣٣)

ترجمہ : اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کی پہنائی آسمان اور زمینیں ہیں جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔

حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) سے بڑھ کر اللہ کی رضا کا کون طالب ہوگا انہوں نے جنت کے حصول کے لیے دعا کی :

(آیت) ” واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم “۔ (الشعراء : ٨٥)

ترجمہ : اور مجھے نعمت والی جنت کے وارثوں میں سے بنا دے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کئے حصول کی دعا کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اما ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٦٣۔ ٣٦٢ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کیا ‘ جنت کہتی ہے : اے اللہ ! اس کو جنت میں داخل کر دے اور جس نے تین بار جہنم سے پناہ طلب کی ‘ جہنم کہتی ہے : اے اللہ ! اس کو جہنم سے پناہ میں رکھ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٦٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابن شیبہ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ دعا سکھائی : اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت کی ہر اس خیر کا سوال کرتی ہوں جو تجھے معلوم ہے اور مجھے معلوم نہیں ‘ اور میں تجھ سے ہر اس شر سے پناہ طلب کرتی ہوں جو تجھے معلوم ہے اور مجھے معلوم نہیں ‘ اے اللہ تعالیٰ میں تجھ سے اس خیر کا سوال کرتی ہوں جس کا تیرے بندے اور تیرے نبی نے سوال کیا اور ہر اس شر سے تیری پناہ طلب کرتی ہو جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ طلب کی ‘ اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتی ہوں اور اس قول اور عمل کا سوال کرتی ہوں جو جنت کے قریب کر دے ‘ اے اللہ ! میں تجھ سے دوزخ سے پناہ طلب کرتی ہوں اور اس قول اور عمل سے پناہ طلب کرتی ہوں جو جنت کے قریب کردے ‘ اے اللہ ! میں تجھ سے دوزخ سے پناہ طلب کرتی ہوں اور اس قول اور عمل سے پناہ طلب کرتی ہوں جو دوزخ کے قریب کردے ‘ اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ تو میرے لیے جو چیز مقدر کرے تو اچھی چیز مقدر کر۔ (المصنف ج ١٠ ص ٣٦٤‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٦ ص ‘ ١٣٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

نیز امام احمد روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے اپنے بیٹے کو یہ دعا سکھائی :

اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور اس قول یا عمل کا جو جنت کے قریب کر دے اور تجھ سے جہنم سے پناہ طلب کرتا ہوں اور اس قول یا عمل سے جو جہنم کے قریب کر دے۔ (مسند احمد ج ١ ص ١٧١‘ ج ١ ص ١٨٣

مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

یہ حدیث کنز العمال میں بھی ہے ‘ حدیث نمبر : ٥٠٧٢‘ ٣٨٤٧‘ ٣٦١٠۔

دعا قبول ہونے کی شرائط اور آداب :

(١) دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرے اور ہتھیلیوں کا باطنی حصہ اپنے کندھوں کے بالمقابل رکھے اور دعا کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرے۔

(سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٠٩‘ جامع ترمذی ٤٨٨ )

(٢) حافظ الہیثمی نے امام طبرانی سے روایت کیا ہے ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو پہلے اللہ کی ایسی حمد وثناء کرے جس کا وہ اہل ہے ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ پڑھے ‘ اس کے بعد سوال کرے تو اس کی قبولیت متوقع ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٦٠‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

(٣) حافظ الہیثمی نے امام طبرانی سے روایت کیا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے یہ حدیث حسن ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٥١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

(٤) امام ترمذی روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کا ذکر کرکے اس کے لیے دعا کرتے تو پہلے اپنے لیے دعا کرتے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٣٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

(٥) امام بخاری حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو پورے عزم سے سوال کرے ‘ یوں نہ کہے : اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا کر۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٣٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

(٦) امام ترمذی حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرتا ہے تو یا تو اللہ دعا قبول کرلیتا ہے یا اس کی مثل کوئی برائی دور کردیتا ہے ‘ بہ شرطی کہ وہ گناہ کی دعا کرے نہ قطع رحم کی۔ (جامع ترمذی ص ٤٨٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوسعید خدری کی روایت میں تین چیزوں کا ذکر ہے : دعا جلد قبول کرنا یا آخرت میں اجر عطا کرنا یا مصیبت ٹال دینا۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ‘ ١٥١ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

(٧) حافظ الہیثمی نے امام احمد سے روایت کیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرایا : اے لوگو ! جب تم اللہ سے دعا کرو تو قبولیت کے یقین سے دعا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل دل سے دعا کرتا ہے ‘ یہ حدیث حسن ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ‘ ١٤٨ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام غزالی لکھتے ہیں :

(٨) قبولیت کے اوقات میں دعا کرے ‘ مثلا رات کے آخری حصہ میں ‘ فرض نمازوں کے بعد ‘ اسی طرح قبولیت کے ایام میں مثلا یوم عرفہ کو ‘ رمضان میں ‘ جمعہ میں۔

(٩) قبولیت کے احوال میں دعا کرے ‘ مثلا بارش کے وقت ‘ حضرت انس سے روایت ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان دعا مسترد نہیں ہوتی۔

امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ بندہ کا اللہ سے سب سے زیادہ سجدہ میں ہوتا ہے تو سجدہ میں بہ کثرت دعا کیا کرو ‘ نیز امام مسلم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سجدہ میں دعا کی قبولیت متوقع ہے۔

(١٠) قبلہ کی طرف منہ کرکے دعا کرے امام مسلم نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میدان عرفات میں قبلہ کی طرف منہ کیا اور غروب آفتاب تک دعا کرتے رہے۔

(١١) بہت زیادہ گلا پھاڑ کر دعا نہ کی جائے ‘ امام بخاری حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! تم کسی بہرے اور غائب سے دعا نہیں کررہے۔

(١٢) تصنع اور تکلف سے مسجع مقفی عبارات کے ساتھ دعا نہ کرے ‘ امام ابوداؤد حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لوگو ! عنقریب ایک قوم دعا میں حد سے تجاوز کرے گی۔

(١٣) شوق اور خوف سے دعا کرو : (آیت) ” یدعوننا رغبا ورھبا “۔ (الانبیاء : ٩٠) وہ ہم سے رغبت اور خوف سے دعا کرتے ہیں “۔

(١٤) گڑگڑا کر اور خشوع سے دعا کرے : (آیت) ” ادعواربکم تضرعا وخفیۃ “۔ (الاعراف : ١٥٥) اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے “۔

(١٥) تین بار دعا کرے ‘ امام مسلم حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے تو تین بار دعا کرتے اور جب سوال کرتے تو تین بار سوال کرتے۔

(١٦) قبولیت کے لیے جلدی نہ کرے ‘ امام بخاری اور امام مسلم حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک جلدی نہیں کی جائے گی تمہاری دعا قبول ہوتی رہے گی ‘ تم میں سے ایک شخص کہتا ہے : میں نے دعا کی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی ‘ جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو بکثرت سوال کرو کیونکہ تم کریم سے دعا کررہے ہو۔ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کی دعا کی جو تقریباتین ہزار سال بعد قبول ہوئی ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ تین سو سال بعد قبول فرمائی۔ تفسیر خازن ج ١ ص ٤٧)

(١٧) قبولیت دعا کے لیے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے توبہ کرے ‘ لوگوں کے جو حقوق دبا رکھے ہیں وہ ان کو واپس کرے ‘ جس پر جو ظلم کیا ہے وہ اس سے معاف کرائے ‘ کعب احبار نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں قحط پڑگیا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کے ساتھ مل کر تین بار بارش کی دعا کی لیکن بارش نہیں ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی کی : تمہارے درمیان ایک چغل خور ہے ‘ جب تک وہ درمیان سے نہیں نکلے گا تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا : یا رب ! وہ کون ہے ؟ فرمایا میں تم کو چغلی سے منع کرتا ہوں تو میں تم سے اس کی چغلی کیسے کروں گا ‘ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے سب کو توبہ کرنے کا حکم دیا ‘ جب سب نے توبہ کرلی تو بارش ہوگئی۔ (آیت) ” احیاء علوم الدین ج ٢ ص ٤٠٧۔ ٤٠٣‘ مطبوعہ دارالخیر ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

(١٨) قبولیت دعا کی ایک اور شرط یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” اجیب دعوۃ الداع اذا دعان ‘ فلیستجیبوا لی “۔ (البقرہ : ١٨٦) دعا کرنے والا جب دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو چاہیے کہ وہ بھی میرا حکم مانیں “۔ انسان بندہ اور محتاج ہو کر اللہ کی بات نہ مانے اور اس کے حکم پر عمل نہ کرے اور یہ چاہے کہ وہ معبود بےنیاز ذات اس کا کہا مان لے یہ کیسی بےانصافی ہے !

(١٩) حافظ الہیثمی نے امام طبرانی سے روایت کیا ہے کہ تین شخصوں کی دعا قبول ہوتی ہے ‘ والد کی ‘ مسافر کی اور مظلوم کی۔ یہ حدیث صحیح ہے ‘ نیز امام طبرانی ‘ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ غائب شخص کے لیے دعا کی جائے تو مسترد نہیں ہوتی۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٥٢۔ ١٥١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

(٢٠) قبولیت دعا کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تقدیر کے خلاف نہ ہو۔

دعا قبول نہ ہونے کی وجوہات :

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” اجیب دعوۃ الداع اذا دعان “۔ (البقرہ : ١٨٦)

ترجمہ : میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ کئی بار ہم دعا کرتے ہیں اور وہ قبول نہیں ہوتی ‘ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہ دعا ‘ قبول کی ان شرائط اور آداب کے مطابق نہیں مانگی جاتی جن کو ہم نے تفصیل سے بیان کیا ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات ہم جس چیز کی دعا کرتے ہیں وہ مال کار ہمارے حق میں مضر ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ دعا قبول نہ کرکے ہم کو اس کے ضرر سے بچا لیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وعسی ان تکرھوا شیئا وھو خیرلکم ‘ وعسی ان تحبوا شیئا وھو شرلکم واللہ یعلم وانتم لا تعلمون “۔۔ (البقرہ : ٢١٦)

ترجمہ : اور ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا سمجھو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور وہ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو ‘ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات ہماری دعا اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق نہیں ہوتی اس لیے وہ اس کو قبول نہیں فرماتا ‘

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” بل ایاہ تدعون فیکشف ماتدعون الیہ ان شآء “۔ (الانعام : ٤١)

ترجمہ : بلکہ تم اسی سے دعا کرو گے اور اگر وہ چاہے گا تو وہ اس مصیبت کو دور کر دے گا جس کے لیے تم اس سے دعا کروگے۔

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت خباب بن ارت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو چیزیں عطا کردیں اور ایک چیز کے سوال سے مجھے روک دیا ‘ میں نے سوال کیا کہ میری (تمام) امت قحط سے ہلاک نہ ہو ‘ اللہ نے مجھے یہ عطا کردیا ‘ میں نے سوال کیا کہ ان کا مخالف دشمن ان (سب) پر مسلط نہ ہو ‘ اللہ نے یہ عطا کردیا ‘ میں نے یہ سوال کیا : میری امت آپس میں جنگ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سوال سے روک دیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣١٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محبوب اور مستجاب ہونے کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا مسترد نہیں کی بلکہ آپ کو اس دعا کے کرنے سے منع فرمای دیا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس ایک دعا کے سوا آپ کی تمام دعائیں قبول کی گئیں اور چونکہ آپ کی زندگی میں ہر عمل کے لیے حسین نمونہ ہے تو دعا قبول نہ ہونے پر صبر وضبط کرنے کا نمونہ بھی آپ کی حیات طیبہ میں ہونا چاہیے تھے ‘ سو اس حکمت کی وجہ سے آپ کی ایک دعا قبول نہیں کی گئی۔ اصل سوال کا چوتھا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والے کی دعا قبول نہیں فرماتا ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ادعوا ربکم تضرعا وخفیۃ ‘ انہ لا یحب المعتدین “۔۔ (الاعراف : ٥٥)

ترجمہ : اپنے رب سے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعا کرو ‘ بیشک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔۔

اور جو شخص علم سے یا بغیر علم کے گناہ کبیرہ پر اصرار کرتا ہو وہ حد سے بڑھنے والا ہے ‘ اس کی دعا کیسے قبول ہوگی !

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے اس کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہوتے ہیں وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے : یا رب ! یارب ! اس کا کھانا پینا حرام ہو ‘ اس کا لباس حرام ہو ‘ اس کی غذا حرام ہو تو اس کی دعا کہاں قبول ہوگی۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٢٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حافظ ابن عساکر روایت کرتے ہیں :

ابراہیم بن نصر کرمانی یکے ازابدال ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ دس وجوہات سے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی ‘۔

(١) اللہ کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا حکم نہیں مانتے ‘

(٢) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی سنت کی اتباع نہیں کرتے۔

(٣) قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے۔

(٤) جنت کو پسند کرتے ہیں اور اس کے راستہ پر نہیں چلتے۔

(٥) جہنم کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے راستہ پر دھکم پیل کرتے ہیں۔

(٦) ابلیس کو اپنا دشمن کہتے ہیں اور اس کی موافقت کرتے ہیں۔

(٧) لوگوں کو دفن کرتے ہیں اور اپنی موت کو یاد نہیں کرتے۔

(٨) اپنے بھائیوں کے عیوب تلاش کرتے ہیں اور اپنے عیوب نہیں دیکھتے۔

(٩) مال جمع کرتے ہیں اور حساب کے دن کو یاد نہیں رکھتے،

(١٠) قبریں کھودتے ہیں پھر بھی عالیشان مکان بناتے ہیں۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٤ ص ١٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کو بعینہ عبادت اور عبادت کا مغز فرمایا ہے ‘ اس لیے میں نے چاہا کہ دعا کے متعلق تمام اہم مباحث کو یہاں بیان کردیا جائے۔ وما توفیقی الا باللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم :

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 186