بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمُ اللّٰهُ فِىۡ ظُلَلٍ مِّنَ الۡغَمَامِ وَالۡمَلٰٓٮِٕکَةُ وَقُضِىَ الۡاَمۡرُ‌ؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ

وہ صرف اس کا انتظار کررہے ہیں کہ اللہ (کا عذاب) بادلوں کے سائبانوں میں اور (عذاب کے) فرشتے ان پاس آجائیں اور کام تمام ہوجائے اور اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ صرف اس کا انتظار کررہے ہیں کہ اللہ (کا عذاب) بادلوں کے سائبانوں میں اور (عذاب کے) فرشتے ان کے پاس آجائیں اور کام تمام ہوجائے۔ (البقرہ : ٢١٠)

بادلوں کے ساتھ عذاب کی تمثیل کا بیان :

اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ صرف اللہ کے آنے کا انتظار کررہے ہیں اور چونکہ آنا جانا اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں ہے ‘ اس لیے اس کو مجاز پر محمول کیا گیا ہے ایک معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کے انتقام کے آنے کا انتظار کررہے ہیں ‘ دوسرا یہ ہے کہ وہ اللہ کی وعید کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں ‘ اور بہترین توجیہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا ہے : اللہ کا عذاب ان کے پاس بادلوں کے سائبانوں میں آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے بادلوں اور سائبانوں کے ساتھ عذاب کو تشبیہ دی اور اس کی تصویر کشی کی ہے کیونکہ جب گھٹاٹوپ گہرے بادل مہیب آوازوں کے ساتھ گرج رہے ہوں تو اس سے بہت خوب اور دہشت معلوم ہوتی ہے یا جس طرح بادل قطرہ قطرہ کر کے بےحساب برستے ہیں اسی طرح عذاب بھی بےحساب ہوتا ہے ‘ قرآن مجید میں کئی جگہ عذاب آنے کی مثال بادلوں کے ساتھ دی ہے :

(آیت) ” ویوم تشقق السمآء بالغمام وننزل الملئکۃ تنزیلا “۔۔ (الفرقان : ٢٥)

ترجمہ : اور جس دن آسمان پھٹ کر بادل کی صورت میں ہوگا اور فرشتوں کی جماعتیں اتاری جائیں گی۔۔

(آیت) ” واذا غشیہم موج کا لظلل “۔ (لقمان : ٣٢)

ترجمہ : اور جب سائبانوں کی طرح موج انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔

اور کام تمام ہوجائے ‘ اس سے مراد ہے : انکے عذاب سے ہلاک ہونے کا کام پورا ہوجائے یا قیامت کا انتظار ختم ہوجائے اور قیامت آجائے یا ان کا حساب پورا ہوجائے اور ان پر عذاب واجب ہوجائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 210