بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِى السِّلۡمِ کَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ‌ؕ اِنَّهٗ لَـکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ

اے ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ، اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو۔ (البقرہ : ٢٠٨)

دین اسلام کے ساتھ کسی اور دین کی رعایت یا موافقت کا ناجائز ہونا :

امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت ثعلبہ ‘ عبداللہ بن سلام ‘ ابن یامین ‘ اسد بن کعب ‘ اسید بن کعب ‘ شعبہ بن عمرو اور قیس بن زید (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ یہ سب یہود سے اسلام لائے تھے ‘ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے آپ ہمیں اس دن کی تعظیم کرنے دیں کیونکہ تورات بھی اللہ کی کتاب ہے ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ١٨٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اونٹنیوں کے گوشت اور ان کے دودھ کو مکروہ جانتے تھے ‘ مسلمانوں نے اس پر اعتراض کیا تو انہوں نے کہا : ہم دونوں شریعتوں پر عمل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ تورات بھی اللہ کی کتاب ہے ‘ آپ ہمیں اس پر بھی عمل کرنے دیں ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ اے ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی کہ تم اسلام میں ظاہرا و باطنا داخل ہوجاؤ اور نفاق کرکے شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ جو اہل کتاب ‘ کتب سابقہ پر ایمان لائے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اصل مقصود ان کی شریعت پر اسلام لانا ہے ان سے خطاب فرمایا گیا ہے کہ تم ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت اور دین اسلام میں داخل ہوجاؤ یہی دین اسلام ہے۔ (روح المعانی ج ٢ ص ٩٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کے ساتھ کسی اور دین اور شریعت کی رعیت یا موافقت کرنا جائز نہیں ہے۔

اس کے بعد فرمایا :

تم اس حکم کی مخالفت کرکے اور متعدد شریعتوں میں متفرق ہو کر شیطان کی پیروی نہ کرو ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 208