بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡهُنَّ اَوۡ تَفۡرِضُوۡا لَهُنَّ فَرِيۡضَةً  ۖۚ وَّمَتِّعُوۡهُنَّ ‌ۚ عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الۡمُقۡتِرِ قَدَرُهٗ ‌ۚ مَتَاعًا ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌‌ۚ حَقًّا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ

تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم عورتوں کو اس وقت طلاق دے دو ‘ جب تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو ‘ یا تم نے ان کا مہر مقرر نہ کیا ہو ‘ اور تم انہیں استعمال کے لیے کوئی چیز دے دو ‘ خوشحال پر اس کے موافق ہے اور تنگ دست پر اس کے لائق دستور کے مطابق انہیں فائدہ پہنچانا نیکی کرنے والوں پر (ان کا) حق ہے

غیر مدخولہ کے مہر اور متاع کی ادائیگی کا بیان :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عورت کی عدت کے مفصل احکام بیان فرمائے تھے اور اس کے ضمن میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ مردوں کے حقوق عورتوں سے زیادہ ہیں اور عدت طلاق ہو یا عدت وفات اس کے نتیجے میں عورت کے مہر کی ادائیگی مرد پر واجب ہوجاتی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مہر کے بعض احکام بیان فرمائے ‘ جس عورت کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی گئی اس کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ہے جس کا نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں کیا گیا اور دوسری وہ ہے جس کا نکاح کے وقت مہر مقرر کیا گیا ہو ‘ او الذکر کو شوہر اپنی حیثیت کے مطابق کچھ استعمال کی چیزیں دے دے اور ثانی الذکر کو نصف مہر ادا کرنا لازم ہے الا یہ کہ عورت نصف مہر سے کچھ رقم معاف کردے ‘ یا شوہر نصف مہر سے زائد ادا کرے اور شوہر کا نصف مہر سے زائد ادا کرنا مکارم اخلاق کے زیادہ قریب ہے۔ غیر مدخولہ کو استعمال کی کچھ چیزیں یا نصف مہر ادا کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ مباشرت سے پہلے فورا اس کو طلاق دینے سے اس کے مستقبل پر برا اثر پڑے گا اور اس قدر جلد طلاق ہونے سے چہ میگوئیاں ہوں گی اور اس کے لیے جو نکاح کے مزید پیغام آنے ہیں ان میں کمی ہوگی تو اس کی اشک شوئی اور تلافی کے لیے اس کے واسطے نصف مہر کا لازم کیا گیا ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر نکاح سے پہلے مہر کو مقرر نہ کیا جائے تو نکاح پھر بھی صحیح ہے ‘ تاہم اس صورت میں مہر مثل ادا کرنا لازم ہوتا ہے یعنی اس جیسی لڑکی یا اس لڑکی کے خاندان میں جتنے مہر کو مقرر کرنے کا رواج ہو اتنا مہر ادا کیا جائے۔

مطلقہ کی متاع کی مقدار میں ائمہ مذاہب کی آراء :

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ مطلقہ کی متاع میں اعلی درجہ یہ ہے کہ ایک خادم دیا جائے ‘ اس سے کم درجہ یہ ہے کہ چاندی دی جائے اور اس سے کم یہ ہے کہ کپڑے دیئے جائیں۔

شعبی نے کہا : متوسط مطلقہ کی متاع دوپٹہ ‘ قمیص ‘ چادر اور ملحفہ ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ٢٢٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ماوردی شافعی نے لکھا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک مطلقہ کی متاع حاکم کے اجتہاد پر موقوف ہے (النکت والعیون ج ١ ص ‘ ٣٠٥ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں : امام احمد کے اس میں دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ یہ حاکم کے اجتہاد پر موقوف ہے ‘ اور دوسرا قول یہ ہے کہ جتنے کپڑوں کے ساتھ عورت نماز ادا کرسکے وہ مطلقہ کی متاع ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢٨٠ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں : امام مالک نے کہا ہے کہ ہمارے نزدیک مطلقہ کی متاع کی کوئی معین مقدار نہیں ہے قلیل متاع کی کوئی حد ہے نہ کثیر کی اور ائمہ کا اس کی حد میں اختلاف ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٣٠١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں : جس عورت سے بلامہر نکاح کیا گیا ہو اور مباشرت سے پہلے اس کو طلاق دے دی گئی ہو اس کو متاع دینا واجب ہے اور یہ قمیص ‘ دوپٹہ ور ملحفہ ہے (سر سے قدم تک اوڑھے جانے والی چادر ‘ علامہ شامی نے لکھا ہے اس کے ساتھ ازار بھی ضروری ہے) یہ متاع نصف مہر مثل سے زائد نہیں ہونی چاہیے ‘ خواہ زوج ‘ خوشحال ہو ‘ اور نہ پانچ درہم سے کم ہو ‘ تنگ دستی اور خوشحالی میں عورت کے حال کا اعتبار کیا جائے گا ‘ اس کے سوا باقی مطلقہ عورتوں کے لیے متاع مستحب ہے ‘ البتہ جس عورت کا مہر مقرر کیا گیا ہو اور اس کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی گئی اس کے لیے متاع کو دینا مستحب نہیں ہے۔ مطلقات کی چار قسمیں ہیں : مطلقہ کا مہر پہلے مقرر کیا گیا تھا یا نہیں اور ہر تقدیر پر مباشرت سے پہلے طلاق دی گئی یا مباشرت کے بعد ‘ سو جس کا مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا اور اس کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی گئی اس کو متاع دینا واجب ہے اور باقی قسموں کی مطلقات کو متاع دینا مستحب ہے ‘ علامہ حصکفی نے لکھا ہے کہ جس مطلقہ کا مہر مقرر کیا گیا ہو اور اس کو وطی سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو اس کو متاع دینا مستحب نہیں ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ مبسوط ‘ محیط ‘ کنز اور ملتقی وغیرھا میں لکھا ہے کہ اس کو بھی متاع دینا مستحب ہے اور یہی صحیح ہے۔ (درمختار علی ھامش الرد ج ٢ ص ٢٣٦۔ ٢٣٥ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

مطلقہ کی متاع کے شرعی حکم کے متعلق ائمہ مذاہب کی آراء :

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں : مطلقہ کی متاع کے شرعی حکم میں صحابہ کرام ‘ فقہاء تابعین اور ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے۔ حضرت علی ‘ حسن بصری ‘ ابوالعالیہ اور زہری کا مذہب یہ ہے کہ ہر مطلقہ کے لیے متاع واجب ہے ‘ حضرت ابن عمر ‘ قاسم بن محمد ‘ شریح اور ابراہیم کا یہ نظریہ ہے کہ جس مطلقہ کا مہر مقرر کیا گیا ہو اور مباشرت سے پہلے اس کو طلاق دے دی گئی ہو اس کے سوا ہر مطلقہ کے لیے متاع واجب ہے ‘ اور اس مطلقہ کے لیے نصف مہر واجب ہے ‘ امام اوزاعی ‘ ثوری ‘ امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور اس کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو اس کے لیے متاع واجب ہے ‘ اور اگر اس کے ساتھ مباشرت کی گئی ہو تو پھر اس کو متاع نہیں دی جائے گی۔ امام مالک لیث بن سعد ‘ حکم اور ابن ابی لیلی کے نزدیک متاع مستحب ہے اور کسی عورت کے لیے واجب نہیں ہے خواہ اس عورت کا مہر مقرر کیا گیا ہو یا نہیں اور اس کے ساتھ مباشرت کی گئی ہو یا نہیں۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢٨٠ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ ماوردی شافعی نے لکھا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور اس کو دخول سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو اس کو متاع دینا واجب ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٣٠٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی لکھتے ہیں :

ہمارے علماء کے نزدیک مطلقہ کی متاع واجب نہیں ہے ‘ اولا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے متاع کی مقدار بیان نہیں فرمائی بلکہ اس کو دینے والے کے اجتہاد پر معلق فرمایا : ثانیا اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” حقا علی المحسنین “۔۔ (البقرہ : ٢٣٦)

یہ محسنین پر واجب ہے “ اگر مطلقہ کی متاع واجب ہوتی تو مطلقا تمام مسلمانوں پر واجب ہوتی۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٢٨٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

متاع کے وجوب پر فقہاء پر احناف کے دلائل :

علامہ ابوبکر رازی جصاص حنفی لکھتے ہیں : امام ابوحنیفہ ‘ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ اور امام زفر کے نزدیک جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو اور اس کو دخول سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو اس کو متاع دینا واجب ہے ‘ وجوب کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” فمتعوھن “ ان کو متاع دو “۔ یہ امر کا صیغہ ہے اور امر وجوب کا تقاضا کرتا ہے الا یہ کہ اس کے خلاف استحباب پر کوئی دلیل قائم ہو اور وہ یہاں نہیں ہے ‘ نیز فرمایا : (آیت) ” وللمطلقت متاع بالمعروف “۔ (البقرہ : ٢٤١) دستور کے مطابق متاع مطلقات کی ملکیت ہے “ کیونکہ لام تملیک کے لیے ہے اور جو چیز کسی کی ملکیت اور اس کا حق ہو اس کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے اور تیسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” حقاعلی المحسنین “ اور ” حق علی المتقین “ یہ وجوب کی تاکید ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٤٢٨ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

متاع کے وجوب کے خلاف فقہاء مالکیہ کے دلا ئل کے جوابات :

علامہ ابن عربی مالکی نے جو یہ اعتراض کیا ہے کہ اگر متاع واجب ہوتی تو ہر مسلمان پر واجب ہوتی صرف متقین اور محسنین پر واجب نہ ہوتی ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وجوب کی تاکید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ متاع محسنین اور متقین پر حق ہے ‘ اور حق سے زیادہ اور کوئی وجوب کے لیے مؤکد نہیں ہے ‘ جس طرح (آیت) ” ھدی للمتقین “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن مجید تمام مسلمانوں کے لیے ہدایت نہ ہو اسی طرح (آیت) ” حقا علی المتقین “ سے یہ لازم نہیں آتا کہ مطلقہ کی متاع ہر مسلمان پر واجب نہ ہو ‘ نیز اس کا معنی ہے جو تقوی اور احسان کی طرف رجوع کرنے والا ہو اور ہر مسلمان تقوی اور حسان کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔ باقی یہ جو کہا ہے کہ اگر متاع واجب ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کی مقدار معین نہیں کی جاسکتی ‘ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : خوشحال پر (یہ متاع) اس کے (حال کے) موافق ہے اور تنگ دست پر اس کے لائق ہے۔

اللہ کا ارشاد ہے : البتہ عورتیں کچھ چھوڑ دیں یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ کچھ زیادہ دے دے۔ (تودرست ہے) (البقرہ : ٢٣٧)

نکاح کی گرہ کا مالک شوہر ہے یا عورت کا ولی :؟

اس میں اختلاف ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اس سے مراد شوہر ہے یا عوت کا ولی ‘ اگر اس سے مراد شوہر ہو تو اس آیت کا وہ معنی ہوگا جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے اور اگر اس سے مراد عورت کا ولی ہو تو معنی یہ ہوگا : البتہ عورتیں (نصف مہر سے) کچھ معاف کردیں یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے یعنی ولی وہ کچھ معاف کر دے۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک اس سے مراد شوہر ہے اور امام مالک کے نزدیک اس سے مراد عورت کا ولی ہے۔

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں : جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اس سے ولی کے مراد ہونے پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : البتہ عورتیں (نصف مہر سے) کچھ معاف کردیں ‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ ہر عورت اپنے مہر کو معاف نہیں کرسکتی ‘ کیونکہ صیغرہ اور مجنونہ اپنے حقوق میں خود تصرف نہیں کرسکتی اس کے حق میں اس کا ولی تصرف کرتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ذکر کے بعد اس کے ولی کا ذکر فرمایا ‘ یعنی جس کو وہ معاف کرسکتی ہیں وہ معاف کردیں اور جس کو وہ معاف نہیں کرسکتیں اس کو ان کا ولی معاف کر دے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٢٠٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)

علامہ قرطبی کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ ولی یعنی لڑکی کے باپ کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ لڑکی کے مال سے کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے ‘ خود کو نہ کسی اور کو نیز جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ صرف شوہر ہے ‘ اسی کو اختیار ہے کہ وہ نکاح پر برقرار رہ کر نکاح کی گرہ کو قائم رکھے یا طلاق دے کر نکاح کی گرہ کو کھول دے اور لڑکی کے ولی کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ مطلق نہیں ہے حقیقۃ نہ مجازا ‘ علامہ ابوبکر جصاص حنفی نے اسی طرح لکھا ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٤٤٠ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

شوہر کے حق میں عقد نکاح کی ملکیت پر جمہور کے دلائل :

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں : جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اس کے مصداق کے متعلق تین قول ہیں :

(١) حضرت علی ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت جبیر بن معطم ‘ ابن المسیب ‘ ابن جبیر ‘ مجاہد ‘ شریح ‘ جابر بن زید ‘ ضحاک ‘ محمد بن کعب القرظی ‘ الربیع بن انس ‘ ابن شبرمہ ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ امام ابوحنیفہ اور دیگر فقہاء (رض) کا مسلک یہ ہے کہ اس سے مراد شوہر ہے۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن ‘ علقمہ ‘ طاؤس ‘ شعبی ‘ ابراہیم اور دیگر حضرات کا یہ نظریہ ہے کہ اس سے مراد ولی ہے۔

(٣) عورتوں کا معاف کرنا شادی شدہ عورتوں پر محمول ہے اور اگر لڑکی کنواری ہو تو پھر اس کا ولی معاف کرے گا ‘ یہ بھی حضرت ابن عباس اور ابو الشعثاء سے منقول ہے۔

ان تینوں اقوال میں پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ نکاح کے بعد نکاح کی گرہ ولی کے ہاتھ سے نکل کر خاوند کے ہاتھ میں آگئی ‘ اور معاف کرنے کا تعلق اس چیز کے ساتھ ہے جو انسا کی ملکیت میں ہو ‘ اور مہر ولی کی ملکیت میں نہیں ہے تو وہ اس کو معاف کرنے کا بھی مالک نہیں ہے ‘ نیز اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور تم ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرنے میں (ہبہ کرنے) کو فراموش نہ کرو ‘ اور انسان اپنے مال سے کسی کو کوئی چیز ہبہ کرسکتا ہے دوسرے کے مال سے کوئی چیز ہبہ نہیں کرسکتا ‘ لہذا سیاق وسباق کے اعتبار سے یہاں شوہر کو مراد لینا ہی صحیح ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ٢٨١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

شوہر کے حق میں عقد نکاح کی ملکیت کے متعلق احادیث :

حافظ جلال الدین سیوطی نے اس آیت میں شوہر کے مراد ہونے پر متعدد روایات بیان کی ہیں ‘ بعض ازاں یہ ہیں :

امام ابن جریر ‘ امام ابن ابی حاتم ‘ امام طبرانی ‘ اور امام بیہقی ‘ نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ شوہر ہے۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام عبد بن حمید ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن ابی حاتم ‘ امام دارقطنی اور امام بیہقی نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ شوہر ہے۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن جریر اور امام بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ شوہر ہے۔

امام ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر ‘ مجاہد ضحاک ‘ شریح ابن المسیب ‘ شعبی ‘ نافع اور محمد بن کعب سے روایت کیا ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ شوہر ہے۔

امام عبدالرزاق نے ابن المسیب سے روایت کیا ہے کہ زوج کا عفویہ ہے کہ وہ پورا مہر دے اور بیوی کا عفویہ ہے کہ وہ نصف مہر معاف کردے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٩٢‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 236