بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِىۡ كُلِّ سُنۡۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ‌ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس نے ساتھ ایسے خوشے اگائے کہ ہر خوشے میں سودانے ہیں ‘ اور اللہ جس کے لیے چاہے ان کو دگنا کردیتا ہے ‘ اور اللہ بڑی وسعت والا بہت علم والا ہے۔

حیات بعد الموت کے ذکر کے بعد صدقہ و خیرات کے ذکر کی مناسبت :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیز اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا ‘ ان دونوں قصوں میں حیات بعد الموت پر دلائل قائم کیے گئے تھے ‘ اور اس زندگی کے بعد دوسری زندگی پیش آنا کا ذکر گیا تھا ‘ ان آیتوں میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اس دوسری زندگی میں کیا چیز انسان کے کام آسکتی ہے ‘ اور کون سا عمل وہاں نفع دے سکتا ہے ‘ اور وہ صدقہ اور خیرات ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو ہزاروں کی تعداد میں موت کے ڈر سے بھاگے اور ان کے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : وہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے ؟ پھر جالوت اور طلوت کا قصہ بیان کیا اور اس کے بعد فرمایا : اے ایمان والوں ! اس دن کے آنے سے پہلے ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو جب خریدو فروخت ہو سکے گی ‘ نہ کسی کی دوستی کام آئے گی نہ کسی کی (بلا اذن) شفاعت کام آسکے گی ‘ اسی طرح یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر اور حضرت ابراہیم کے قصوں کو بیان کرنے کے بعد صدقہ اور خیرات پر اپنے بہت زیادہ اجر عطا فرمانے کا ذکر فرمایا۔

انفاق فی سبیل اللہ کے مصارف :

قرآن کریم میں جگہ جگہ صدقہ و خیرات کی فضیلت اور اس کا اجر وثواب بیان کیا ہے اور صدقہ و خیرات کی بہت ترغیب دی ہے، کیونکہ صدقہ و خیرات کرنے سے دولت معاشرہ میں گردش کرتی رہی ہے ‘ غرباء اور فقراء کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اور رفاہ عام کے بہت سے کام انجام پاتے ہیں اور ملک وملت کی بقاء میں صدقہ و خیرات کا بہت بڑا دخل ہے ‘ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کی سبیل (راہ) میں خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے اور اللہ کی سبیل کی کئی انواع ہیں : علم دین کی نشر و اشاعت میں حصہ لینا ‘ دینی مدارس کی مدد کرنا ‘ مساجد بنانا ‘ لائبریری قائم کرنا ‘ سرائے بنانا ‘ محتاج خانے اور اپاہج خانے تعمیر کرنا ‘ مروجہ علوم کے لیے اسکولوں اور کالجوں کو گرانٹ دینا ‘ یتیموں اور بیواؤں کے لیے وظائف جاری کرنا ‘ بیماروں کے علاج معالجہ کے لیے ہسپتال بنانا اور انکے لیے دوائیں فراہم کرنا ‘ جو لوگ عدالتی اخراجات کی وجہ سے اپنے حقوق حاصل نہ کرسکیں انکے کام آنا اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں جو تنگ دست ہوں ان کی مدد کرنا ‘ فقراء اور مسکین کی کفالت کرنا ‘ قرض کی ادائیگی میں مقروض لوگوں کی مدد کرنا ‘ اور سبیل اللہ انواع میں سب سے بڑی اور اہم نوع جہاد کے راستہ میں خرچ کرنا ہے تاکہ اللہ کا دین سربلند ہو۔

دس گنے سات سو گنے اور بےحساب اجر دینے کی وجوہات :

اس رکوع میں صدقہ و خیرات کی ترغیب دیتے ہوئے البقرہ : ٢٦١ سے لے ر ٢٦٦ تک چھ آیتیں بیان کی گئی ہیں۔

قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے :

(آیت) ” من جآء بالحسنۃ فلہ عشرا امثالھا “۔ (الانعام : ١٦٠)

ترجمہ : جو شخص ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو اس جیسی دس نیکیوں کا اجر ملے گا۔

اور یہاں البقرہ کی آیت : ٢٦١ میں فرمایا ہے جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دانہ خرچ کرے گا اس کو سات سو گنا اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے گا اس اجر کو دگنا کردے گا۔

ایک اور مقام پر فرمایا ہے :

(آیت) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “۔۔ (الزمر : ١٠)

ترجمہ : صبر کرنے والوں کو ان کا پورا اجر بےحساب دیا جائے گا۔۔

کسی نیکی کا اجر دس گنا ہے ‘ کسی نیکی کا اجر سات سو گنا ہے اور کسی نیکی کا اجر بےحساب ہے ‘ اب سوال یہ ہے کہ اجر کے یہ مختلف مدارج کس حساب سے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے جو اللہ کی راہ میں حساب سے خرچ کرتا ہے اس کو اللہ حساب سے اجر دیتا ہے اور جو اللہ کی راہ میں بےحساب خرچ کرتا ہے اس کو اللہ بےحساب اجر دیتا ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اجر وثواب کے مدارج کا یہ فرق نیت اور خلوص کے مدارج کے اعتبار سے ہے ‘ مثلا ایک کروڑ پتی کسی بھوکے کو دو روٹیاں دے یہ بھی نیکی ہے ایک متوسط آمدنی والا کسی بھوکے کو دو روٹیاں دے یہ بھی نیکی ہے اور جس کی کل کائنات دو روٹیاں تھیں وہ اگر بھوکے کو دو روٹیاں دے گا تو خود بھوکا رات گزارے گا ‘ اس کا بھوے کو دو روٹیاں دینا بھی نیکی ہے ‘ لیکن یہ تینوں نیکیاں برابر نہیں ہیں تو ان کا اجر برابر کیسے ہوگا ‘ جس کی کل متاع دو روٹیاں ہیں ‘ اس کا دو روٹیاں دینا ایسے ہے جیسے ایک کروڑ پتی اپنی ساری دولت کسی کو دے دے ‘ اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ کروڑ پتی کو اس نیکی کا اجر دس گنا ملے گا متوسط آمدنی والے کو سات سو گنا اجر ملے اور جس کے پاس تھیں ہی دو روٹیاں اس کو بےحساب اجر ملے، چوتھا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صبرع کرنے والوں کے لیے بےحساب اجر کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ اللہ کی راہ میں از خود کرچ کرنا آسان ہے اور کسی ناگہانی آفت اور نقصان پر شکوہ و شکایت نہ کرنا اور خاموشی سے اس نقصان کو برداشت کرنا مشکل ہے ‘ کیونکہ جب آدمی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے منصوبہ اور پروگرام کے مطابق خرچ ہوتا ہے ‘ اس کو خرچ کرنے سے طمانیت اور تسکین حاصل ہوتی ہے ‘ کسی غریب اور فقیر کی حالت زار کو دیکھ کر جو اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور اس کی تکلیف سے اس کو جو تکلیف ہوتی ہے اس کا ازالہ ہوتا ہے لیکن اچانک اور ناگہانی نقصان ہوجائے جس میں اس کے پروگرام اور منصوبہ کا دخل نہ ہو ‘ جس میں کسی وجہ سے خوشی اور تسکین اور کوئی پہلو نہ ہو ماسوا اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس غم کو خاموشی کے ساتھ برداشت کرلے اور کسی کے سامنے حرف شکایت زبان پر نہ لائے ‘ یہ عمل اپنے پروگرام اور منصوبہ کے مطابق خرچ کرنے کی بہ نسبت زیادہ مشکل ہے۔

صدقات و خیرات کے آداب و شرائط :

اللہ تبارک وتعالیٰ اس رکوع کی پہلی آیت میں اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنے کا اجر وثواب بیان فرمایا ہے ‘ دوسری آیت میں یہ فرمایا ہے کہ یہ اجر وثواب تب حاصل ہوگا جب صدقہ دینے کے بعد احسان جتایا جائے نہ طعنہ دے کر اس کو اذیت پہنچائی جائے جس کو صدقہ دیا ہے ‘ امام رازی نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان نے جب غزوہ تبوک میں ایک ہزار اونٹ مع کجاو وں کے دیئے اور ایک ہزار دینار دیئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی : اے میرے رب ! میں عثمان سے راضی ہوگیا تو بھی عثمان سے راضی ہوجا ‘ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنے مال سے چار ہزار دینار صدقہ کیے تو یہ آیت نازل ہوئی : جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر جو کچھ خرچ کیا اس پر احسان جتاتے ہیں نہ تکلیف پہنچاتے ہیں ‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے ‘ ان پر کچھ خوف ہے نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (البقرہ : ٢٦٢) (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

اور تیسری آیت میں یہ فرمایا ہے : اگر کسی کو صدقہ دینے کے بعدطعنہ دے کر اس کو اذیت پہنچائی تو اس سے بہتر ہے کہ اس کو صدقہ نہ دیا جائے اور اس سے کوئی نیک اور اچھی بات کہہ دی جائے ‘ مثلا سائل سے یہ کہہ دے کہ اس وقت ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے اور اس سے معذرت کرے ‘ یا اس کی کسی اور دینے والے کی طرف رہنمائی کر دے ‘ یا کسی مسلمان کو کوئی نصیحت کرنا ‘ اس کی خیرخواہی میں کوئی بات کرنا ‘ کسی کو نیک مشورہ دینا ایسے صدقہ کرنے سے بہتر ہے جس کے بعد اس شخص کی دل آزاری کی جائے جس کو صدقہ دیا اور اس رکوع کی چوتھی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ صدقہ اور خیرات کرنے والے اخلاص کے ساتھ ‘ محض اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے صدقہ دیں ‘ لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے صدقہ نہ دیں ‘ وہ ضرورت مندوں سے اپنی سخاوت اور دریا دلی کے قصیدے سننے کی خواہش نہ رکھیں ‘ نہ یہ چاہیں کہ عام لوگوں میں ان کی فیاضی کا ذکر ہو ‘ اگر انہوں نے اپنی سخاوت اور دریا دلی کے قصیدے سننے کی خواہش نہ رکھیں ‘ نہ یہ چاہیں کہ عام لوگوں میں ان کی فیاضی کا ذکر ہو ‘ اگر انہوں نے اپنی سخاوت اور دریا دلی کے قصیدے سننے کی خواہش نہ رکھیں ‘ نہ یہ چاہیں کہ عام لوگوں میں ان کی فیاضی کا ذکر ہو اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کا یہ تمام عمل ضائع ہوجائے گا اور اس پر کوئی ثواب نہیں ملے گا اور ان کی مثال ایسے ہے جیسے کسی چکنے پتھر پر مٹی جمع ہوگئی اور بارش نے اس کو بالکل صاف کردیا ‘ خلاصہ یہ ہے کہ صدقہ کی مقبولیت اور اس پر اجر ملنے کی تین شرطیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں :

(١) احسان نہ جتایا جائے۔

(٢) جس کو صدقہ دیا ہو اس کو طعنہ دے کر آذیت نہ پہنچائی جائے۔

(٣) اخلاص کے ساتھ صدقہ دیا جائے ‘ لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے نہ دیا جائے۔

صدقات کے مصارف ‘ اجر وثواب اور آداب و شرائط کے متعلق احادیث :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام طبرانی نے حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک شخص گزرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس کے حسن اور اس کی تندرستی کو دیکھ کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کاش یہ شخص اللہ کی راہ میں ہوتا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ شخص اپنے چھوٹے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے جارہا ہے تو یہ اللہ کی راہ میں ہے ‘ اگر یہ اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کے لیے جارہا ہے تو یہ اللہ کی راہ میں ہے ‘ اگر یہ اپنی ضروریات میں خود کو سوال سے روکنے کے لیے جارہا ہے تو یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ لوگوں کو دکھانے اور فخر کے لیے جارہا ہے تو یہ شیطان کی راہ میں ہے۔

امام احمد اور امام بیہقی نے ” سنن کبری “ میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے اللہ کی راہ میں کسی زائد چیز کو خرچ کیا اس کو سات سو گنا اجر ملے گا اور جس نے پانی ذات پر اور اپنے اہل پر خرچ کیا اور کسی مریض کی عیادت کی یا راستہ سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دی تو اس کو دس گنا اجر ملے گا اور جب تک روزہ کو باسد نہ کرے وہ اس کے لیے ڈھال ہے اور جس شخص کو اللہ کسی جسمانی بیماری میں مبتلا کرے تو اس کو بھی اجر ملے گا۔

امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال کی سات قسمیں ہیں دو عمل واجب کرتے ہیں ‘ دو عملوں کا بدلہ ایک مثل ہے ‘ ایک عمل کا بدلہ دس گنا ہے ‘ ایک عمل کا بدلہ سات سو گنا ہے اور ایک عمل ایسا ہے کہ اس کے ثواب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ‘ رہے وہ دو عمل جو واجب کرتے ہیں تو جو شخص اس حال میں اللہ سے ملاقات کرے کہ اس نے اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کی ہو اور شرک بالکل نہ کیا ہو اس کے لیے جنت واجب ہے اور جس نے اللہ سے اس حال میں ملاقات کی ہو کہ اس نے شرک کیا ہو اس کے لیے دوزخ واجب ہے۔ (اور جن دو کاموں کا ایک مثل اجر ہے تو) جس نے برا کام کیا اس کو ایک برائی کی سزا ملے گی اور جس نے نیکی کا صرف ارادہ کیا اس کو ایک نیکی کا اجر ملے گا ‘ (اور جن کاموں کا سات سو گنا اجر ہے تو) جس نے اللہ کی راہ میں ایک درہم خرچ کیا اس کو سات سو درہموں کا اجر ملے گا اور جس نے اللہ کی راہ میں ایک دینار خرچ کیا اس کو سات سو دیناروں کا اجر ملے گا ‘ اور روزہ اللہ کے لیے ہے اس کے عامل کے ثواب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

امام ابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ کسی آدم کو اللہ کی راہ میں بھیجتے ہیں یا کسی آدمی پر خرچ کرتے ہیں ‘ پھر اس پر احسان رکھتے ہیں اور اس کو ایذاء پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں : میں نے اللہ کی راہ میں اتنا اتنا خرچ کیا ‘ اللہ کے نزدیک اس عمل کا شمار نہیں ہوگا ‘ اور جو لوگ کسی کودے کر یہ کہتے ہیں کہ کیا میں نے تم کو فلاں فلاں چیز نہیں دی تھی وہ اس کو ایذاء پہنچاتے ہیں۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد ‘ امام ابن المنذر اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : احسان جتانے والا ‘ ماں باپ کا نافرمان ‘ عادی شرابی ‘ جادو پر ایمان رکھنے والا اور کاہن جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

امام بزار اور امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تین شخصوں کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا : ماں باپ کا نافرمان ‘ عادی شرابی اور کچھ دے کر احسان جتانے والا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٣٩۔ ٢٣٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 261