أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلشَّيۡطٰنُ يَعِدُكُمُ الۡـفَقۡرَ وَيَاۡمُرُكُمۡ بِالۡفَحۡشَآءِ‌ ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمۡ مَّغۡفِرَةً مِّنۡهُ وَفَضۡلًا ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌۚ

ترجمہ:

شیطان تم کو تنگدستی سے ڈراتا ہے اور تم کو بےحیائی کا حکم دیتا ہے ‘ اور اللہ تم سے اپنی بخشش اور اپنے فضل کا وعدہ فرماتا ہے ‘ اور اللہ بڑی وسعت والابہت جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : شیطان تم کو تنگ دستی سے ڈراتا ہے ‘ اور تم کو بےحیائی کا حکم دیتا ہے ‘ اور اللہ تم سے اپنی بخشش اور اپنے فضل کا وعدہ فرماتا ہے۔ (البقرہ : ٢٦٨)

بخل کو بےحیائی کے ساتھ تعبیر کرنے کی توجیہ :

فحشاء کا معنی بےحیائی ہے اور اس آیت میں بخل پر بےحیائی کا اطلاق کیا گیا ہے ‘ کیونکہ حیاء کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو اس کی ضرورت سے زیادہ مال دیا ہے اور جب اس کے سامنے کوئی ضرورت مند سائل سوال کرے تو وہ اس کی ضرورت کو پورا کرے اور اس کو یہ خیال آئے کہ آخر وہ بھی تو اپنی ضرورتوں کے لیے اللہ کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے اور اللہ جب اس کو ضرورت سے زیادہ عطا کرتا ہے تو وہ اللہ کے حکم سے سائل کو خالی ہاتھ لوٹانے سے حیاء کرے اور جو انسان کسی کو صدقہ اور خیرات دینے کا ارادہ کرتا ہے شیطان اس کو مستقبل کی ضرورتیں یاد دلاتا ہے اور اس کو پیش آنے والی تنگ دستی یاد دلاتا ہے ‘ اس کو صدقہ دینے سے منع کرتا ہے اور اسے سائل کو بری طرح جھڑکنے کا حکم دیتا ہے ‘ اور اللہ صدقہ کرنے پر تم سے مغفرت اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور جتنا تم دو گے آخرت میں تم کو اس سے زیادہ اجر عطا فرمائے گے قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ ‘ وھو خیر الرزقین “۔۔ (سبا : ٣٩)

ترجمہ : اور تم جو کچھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے وہ تمہیں اس کا بدل عطا کرے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں ؛

امام ترمذی تحسین سند کے ساتھ ‘ امام نسائی ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر امام ابن ابی حاتم ‘ امام ابن حبان اور بیہقی ” شعب الایمان “ میں حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم کے پاس ایک شیطان ہوتا ہے اور ایک فرشتہ ہوتا ہے شیطان اس کو شر سے ڈراتا ہے اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور فرشتہ اس سے خیر کا وعدہ کرتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :

شیطان تم کو تنگ دستی سے ڈراتا ہے اور تم کو بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٤٨‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 268