أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ مِنۡهُ اٰيٰتٌ مُّحۡكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الۡكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ‌ؕ فَاَمَّا الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ زَيۡغٌ فَيَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَهَ مِنۡهُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَةِ وَابۡتِغَآءَ تَاۡوِيۡلِهٖۚ وَمَا يَعۡلَمُ تَاۡوِيۡلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ ؔ‌ۘ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِى الۡعِلۡمِ يَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ‌ۚ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ

ترجمہ:

وہی (اللہ) ہے، جس نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے (اس کتاب کی) بعض آیات واضح ہیں جو اس کتاب کی اصل بنیاد ہیں، اور اس کی بعض آیات متشابہہ ہیں سو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے، وہ فتنہ جوئی کے لیے اور متشابہ کا محمل نکالنے کے لیے آیت متشابہ کے درپے رہتے ہیں ‘ حالانکہ متشابہ کے محمل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور ماہر علماء یہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے ‘ اور صرف عقل والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں

تفسیر:

آیات محکمات اور متشابہات کے ذکر کی مناسبت :

عیسائیوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے :

(آیت) ” انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی مریم وروح منہ “۔ (النساء : ١٧١)

ترجمہ : اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے ‘ جس کو اللہ نے مریم کی طرف القا کیا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔

عیسائیوں نے یہ کہا کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح کہا ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ ابن اللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں یہ آیات نازل فرمائیں کہ قرآن مجید میں محکم آیات بھی ہیں اور متشابہ آیات بھی ہیں اور یہ آیت متشابہات میں سے ہے اور متشابہات کی اصل مراد کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

محکم کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

علامہ سید محمد مرتضی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥ ھ نے لکھا ہے کہ حکم کے معنی ہیں منع کرنا ‘ حکمت کو حکمت اس لئے کہتے ہیں کہ عقل اس کے خلاف کرنے کو منع کرتی ہے ‘ اس لئے محکم کا معنی ہے جس میں اشتباہ اور خفاء ممنوع ہو اور محکم وہ آیات ہیں جن میں تاویل اور نسخ ممنوع ہو۔ (تاج العروس ج ٨ ص ‘ ٣٥٣ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

محکم وہ آیت ہے جس میں لفط کی جہت سے کوئی شبہ پیدا ہو نہ معنی کی جہت سے۔ (المفردات ص ١٢٨‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ میرسید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

جس لفظ کی مراد تبدیل ‘ تغیر ‘ تخصیص اور تاویل سے محفوظ ہو وہ محکم ہے اس کی مثال وہ آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر دلالت کرتی ہیں جیسے ” اللہ تعالیٰ کرتی ہیں جیسے ” اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے “ اس آیت کے منسوخ ہونے کا احتمال نہیں ہے۔ (کتاب التعریفات ص ‘ ٨٩ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ہے محکمات وہ آیات ہیں جو ناسخ ہیں ‘ اور ان میں حلال ‘ حرام ‘ حدود اور فرائض کا بیان ہے اور یہ کہ کس پر ایمان لایا جائے اور کس پر عمل کیا وہ آیات ہیں جو منسوخ ہیں وہ اور موخر ہیں ان پر ایمان لایاجائے اور ان پر عمل نہ کیا جائے،۔

محمد بن جعفر بن زبیر نے کہا محکم وہ آیات ہیں جن کا صرف ایک معنی اور ایک محمل ہے اور اس میں کسی اور تاویل کی گنجائش نہیں ہے اور متشابہہ وہ آیات ہیں جن میں کئی تاویلات کی گنجائش ہے۔

ابن زید نے کہا محکم وہ آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں اور ان کے رسولوں کے واقعات اور قصص بیان فرمائے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت کے لئے ان کی تفصیل کی ‘ اور متشابہ وہ آیات ہیں جن میں ان واقعات کو بار بار ذکر فرمایا ہے اور ان کے الفاظ اور معانی میں اختلاف ہے۔

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان فرمایا محکم وہ آیات ہیں جن کے معنی اور ان کے تاویل اور تفسیر علماء کو معلوم ہے اور متشابہ وہ آیات ہیں جن کا معنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ان کو علم نہیں ہے ‘ آیات متشابہات میں حروف مقطعہ ہیں جو اوئل سورة میں مذکور ہیں جیسے الم ‘ المر ‘ المص وغیرہ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کا وقت ‘ اور سورج کب مغرب سے طلوع ہوگا ‘ اور قیامت کب واقع ہوگی۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١١٥۔ ١١٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

متشابہہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

جس لفظ کا معنی اس لفظ سے معلوم نہ ہو سکے وہ متشابہ ہے ‘ اس کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے کہ اس کو محکم کی طرف لوٹانے سے اس کا معنی معلوم ہوجائے دوسری قسم وہ ہے جس کی حقیقت کی معرفت کا کوئی ذریعہ نہ ہو اور جو شخص اس کے معنی کے درپے ہو وہ بدعتی اور فتنہ پرور ہے ‘ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر لفظ سے اس کی مراد ظاہر ہو تو اگر وہ منسوخ ہونے کا احتمال نہ رکھے تو وہ محکم ہے اور اگر وہ منسوخ ہونے کا احتمال رکھتا ہو لیکن اس میں تاویل کی گنجائش نہ ہو تو مفسر ہے اور اگر اس میں تاویل کی گنجائش ہو لیکن عبارت اس کی وجہ سے لائی گئی ہو تو نص ہے ورنہ وہ ظاہر ہے ‘ اور اگر کسی عارض کی بناء پر لفظ سے اس کی مراد مخفی ہو تو وہ مخفی ہے اور اگر اس لفظ کی وجہ سے اس کی مراد مخفی ہو تو وہ مشکل ہے اور اگر عقل یا نقل سے اس کا ادراک ہو سکے تو وہ مجمل ہے اور اگر کسی وجہ سے اس کا ادارک نہ ہو سکے تو وہ متشابہ ہے۔ (تاج العروس ج ٩ ص ‘ ٣٩٣ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں :

متشابہ کی تین قسمیں ہیں : (اول) جس کی معرفت کا کوئی ذریعہ نہ ہو جیسے وقت وقوع قیامت اور دابتہ الارض کے نکلنے کا وقت ‘ وغیرہ (ثانی) جس کی معرفت کا انسان کے لئے کوئی ذریعہ ہو جیسے مشکل اور غیر مانوس الفاظ اور مجمل احکام (ثالث) جو ان دونوں کے درمیان ہو علماء راسخین کے لئے اس کی معرفت حاصل کرنا ممکن ہے اور عام لوگوں کے لئے ممکن نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کے متعلق دعا کی تھی : اے اللہ اس کو دین کی فقہ عطا فرما اور اس کو تاویل کا علم عطا فرما ‘ اس دعا سے اسی قسم کی متشابہہ آیات کا علم مراد ہے آپ نے حضرت ابن عباس (رض) کے لئے بھی اسی قسم کی دعا کی ہے۔ (المفردات ص ٢٥٥‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ میرسید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

جس کا معنی نفس لفظ کی وجہ سے مخفی ہو اور اس کی معرفت کی بالکل امید نہ ہو جیسے اوائل سورة میں حروف مقطعات ہیں۔ (کتاب التعریفات ص ٨٦‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)

اصولیین کے نزدیک محکم اور متشابہ کی تعریفیں :

علامہ عبدالعزیز بن احمد بخاری متوفی ٧٣٠ ھ لکھتے ہیں :

لفظ سے جس معنی کا ارادہ کیا گیا ہے اگر اس میں نسخ اور تبدیل ممتنع ہو تو وہ محکم ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ لفظ محکم اپنے معنی کا فائدہ پہنچانے میں انتہائی واضح ہوتا ہے اور چونکہ وہ معنی منسوخ نہیں ہوسکتا اس لئے اس کو محکم کہتے ہیں ہمارے عام اصولیین کی یہی رائے ہے ‘ اس کی تفسیر میں اور بھی اقوال ہیں۔

(١) جس میں صرف ایک محمل کی گنجائش ہو۔

(٢) عقل کے نزدیک وہ واضح ہو۔

(٣) وہ ناسخ ہو۔

(٤) اس کے معنی کا علم اور اس کی مراد معلوم ہو۔

(٥) تمام اہل اسلام کے نزدیک اس کا معنی ظاہر ہو اور کسی کا اس معنی میں اختلاف نہ ہو،۔

(٦) جو فرائض اور حدود کے بیان پر مشتمل ہو۔

(٧) جو حلال اور حرام کے بیان پر مشتمل ہو۔ محکم کی یہ متعدد تعریفیں ہیں لیکن صحیح تعریف پہلی ہے۔ (کشف الاسرار ١ ص ١٣٦‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤١١ ھ)

علامہ عبدالعزیز بن احمد بخاری متوفی ٧٣٠ ھ متشابہ کی تعریف میں لکھتے ہیں :

جب کسی لفظ سے اس کی مراد مشتبہ ہو اور اس کی معرفت کا کوئی ذریعہ نہ ہو حتی کہ اس کی مراد کی طلب ساقط ہوجائے اور اس کی مراد کے حق ہونے کا اعتقاد واجب ہو تو اس کو متشابہہ کہتے ہیں۔ (کشف الاسرار ج ١ ص ١٤٩۔۔ ١٤٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤١١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ جوئی کے لئے اور متشابہ کا محمل نکالنے کے لئے آیت متشابہ کے درپے رہتے ہیں حالانکہ متشابہ کے محمل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اور ماہر علماء یہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ (آل عمران ٧ :)

زائغین (جن کے دلوں میں کجی ہے) کا مصداق :

” جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے “ اس سے مراد نجران کے عیسائی ہیں کیونکہ انہوں نے قرآن مجید کی آیات سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے پر استدلال کیا ‘ یہ ربیع کا قول ہے ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد یہود ہیں کیونکہ یہودی عالم حی بن اخطب اور اس کے اصحاب کے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف سورتوں کے اوائل سے حروف مقطعات پڑھے تو وہ ابجد کے حساب سے ان کے عددنکال کر اس دین کی مدت کا حساب کرنے لگے ‘ اور جب آپ نے کئی حروف پڑھے تو وہ کہنے لگے ہم پر حساب مشتبہ ہوگیا کہ ہم قلیل عدد کا اعتبار کریں یا کثیر کا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ اس کتاب میں آیات محکمات بھی ہیں اور متشابہات بھی ہیں، قتادہ نے کہا کہ ان لوگوں سے مراد منکرین بعثت ہیں ‘ اور ابن جریج نے کہا اس سے مراد منافقین ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد تمام مبتدعین ہیں ‘ قرآن مجید کا ظاہر لفظ عموم کا تقاضا کرتا ہے اور اس کے عموم میں ہر وہ فرقہ داخل ہے جس کے دل میں کجی ہے۔

لایعلم تاویلہ الا اللہ “ میں وقف کی تحقیق :

” حالانکہ متشابہ کے محمل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا “ اس میں اختلاف ہے کہ آیت کے اس حصہ پر وقف کیا جائے گا یا ” والراسخون فی العلم “ کو اس کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا اور اس پر وقف کیا جائے گا ‘ دوسری صورت میں یہ معنی ہوگا حالانکہ متشابہ کے محمل کو اللہ اور ماہر علماء کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ‘ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت ابن عباس (رض) ، حضرت عائشہ (رض) ‘ حسن ‘ عروہ ‘ عمر بن عبدالعزیز ‘ ابی نہیک اسدی ‘ مالک بن انس ‘ کسائی ‘ فراء ‘ جلبائی ‘ اخفش اور ابوعبید کے نزدیک الا اللہ پر وقف ہے اور اس کا معنی ہے اللہ کے سوا اور کوئی متشابہہ کے علم کو نہیں جانتا ‘ علامہ خطابی اور فخر الدین رازی کا بھی یہی موقف ہے۔ مجاہد ‘ ربیع بن انس ‘ محمد بن جعفر بن زبیر اور اکثر متکلمین کے نزدیک ” والراسخون فی العلم “ پر وقف ہے اور معنی ہے ” حالانکہ متشابہ کے محمل کو اللہ اور ماہر علماء کے سوا کوئی نہیں جانتا “ پہلی تفسیر راحج ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے متشابہات کے علم کے درپے ہونے والوں کی مذمت کی ہے ‘ نیز وقت وقوع قیامت ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور دجال کے خروج اور دابۃ الارض کے ظہور کا وقت بھی متشابہات میں ہے اور اس کو ماہر علماء نہیں جانتے نیز اللہ تعالیٰ نے ماہر علماء کی مدح اس بات میں کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ” ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کی طرف سے ہے “ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا قرآن مجید کی تفسیر کی چار قسمیں ہیں۔

(١) وہ تفسیر جس میں جہل نہیں ہے۔

(٢) وہ تفسیر جس کو عرب اپنی زبان دانی کی وجہ سے جان لیتے ہیں۔

(٣) وہ تفسیر جس کو صرف علماء ماہرین ہی جانتے ہیں۔

(٤) وہ تفسیر جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” الرحمن علی العرش استوی “۔ (طہ : ٥)

ترجمہ : رحمن عرش پر جلوہ فرما ہے۔

یہ آیت بھی متشابہات میں سے ہے امام مالک سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا استوی کا مطلب (قائم قرارگزیں) معلوم ہے اور اسکی کیفیت مجہول ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے ‘ اور اس کی کیفیت کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے ‘ امام مالک کے اس جواب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ اس آیت میں وقف الا اللہ پر ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٢٨۔ ٢٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

آیات متشابہات کو نازل کرنے کا فائدہ :

علماء متقدمین کا یہی مذہب تھا کہ آیات متشابہات کے معنی کا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو علم نہیں ہے ‘ ان پر یہ اعتراض ہوا کہ پھر آیات متشابہات کے نازل کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس میں علماء کا امتحان ہے جس طرح جاہل کے لئے تحصیل علم مشکل ہے اسی طرح علماء کے لئے کسی لفظ کے معنی میں تدبر اور تفکر نہ کرنا مشکل ہے ‘ سو آیات متشابہات کو نازل کرکے اللہ تعالیٰ نے علماء کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ ان آیات میں تدبر اور تفکر کرنے سے باز رہیں ‘ نیز علماء امت کو ان آیات متشابہات کے معنی معلوم نہیں ہیں لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان آیات کا معنی قطعی طور پر معلوم ہے۔

ملا احمد جیون جون پوری متوفی ١١٣٠ ھ لکھتے ہیں :

آیات متشابہات کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اس کی مراد حق ہے اگرچہ قیامت سے پہلے ہمیں اس کا علم نہیں ہوگا ‘ اور قیامت کے بعد ان کا معنی ہر شخص پر منکشف ہوجائے گا انشاء اللہ تعالیٰ اور یہ امت کے حق میں ہے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا معنی قطعی طور پر معلوم ہے ورنہ آپ سے خطاب کرنا بےسود ہوگا اور یہ مہمل الفاظ کے ساتھ خطاب کرنے کے مترادف ہوگا یا ایسے ہوگا جیسے حبشی کے ساتھ کوئی شخص عربی میں گفتگو کرے۔ (التفسیرات الاحمدیہ ص ٩٣‘ مطبوعہ مکتبہ حقانیہ پشاور)

آیات متشابہات میں غور وفکر کرنے والے علماء متاخرین کا نظریہ :

علماء متقدمین آیات متشابہات میں غور وفکر نہیں کرتے تھے اور نہ کسی کو ان کا کا معنی بیان کرتے تھے ‘ لیکن متاخرین علماء احناف نے جب یہ دیکھا کہ بدمذہب لوگ ان آیات کے ظاہری معنی بتا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں مثلا وجہ اللہ سے اللہ کا چہرہ بیان کرتے ہیں ‘ یدا للہ سے اللہ کا ہاتھ ” یوم یکشف عن ساق “ سے اللہ کے لئے پنڈلی ثابت کرتے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں کے عقائد کو محفوظ کرنے کے لئے ان آیات کی تاویلات کیں ‘ اور یہ تصریح کردی کہ یہ تاویلات ظنی ہیں اور ان آیات متشابہات کے صحیح محمل اور حقیقی مراد کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

امام ابوبکر محمد بن حسین آجری متوفی ٣٦٠ ھ اپنی سند کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو آیات متشابہات میں بحث کررہے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن سے بچنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ‘ نیز حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا لوگ قرآن کے متشابہ میں بحث کریں گے تو تم علم رکھنے والے لوگو کو لازم پکڑلینا۔ (الشریعہ ص ٧٦۔ ٧٤‘ مطبوعہ مکتبہ دارالسلام ریاض ‘ ١٤١٣ ھ)

ملا احمد جو نپوری متوفی ١١٣٠ ھ لکھتے ہیں :

متاخرین علماء نے جب یہ دیکھا کہ ملحدین آیات صفات کے ظاہری معانی سے اللہ تعالیٰ کے لئے جہت ‘ مکان اور اعضاء ثابت کررہے ہیں اور حضرت آدم کو اللہ کی روح کا عین ثابت کر رہے ہیں ‘ اور انہوں نے دیکھا کہ عوام کا شریعت پر اعتقاد ضعف کا شکار ہو رہا ہے تو انہوں نے ان آیات کی ایسی تاویل کرنے کے جواز کا فتوی دیا جس سے ان آیات کے ذریعہ فاسد عقائد نہ بیان کئے جائیں ‘ اور وہ معانی اہل سنت و جماعت کے عقائد کے موافق ہوں ‘ متاخرین کے بیان کردہ معانی کی مثالیں حسب ذیل ہیں :

(آیت) ” ونفخت فیہ من روحی “۔ (الحجر : ٢٩) اس کا ظاہری معنی ہے : اور میں اس میں اپنی روح سے پھونک دوں ‘ متاخرین نے اس میں تاویل کی : اور میں اس میں اپنی پیدا کی ہوئی روح سے پھونک دوں۔

(آیت) ” اللہ نور السموات والارض “۔ (النور : ٣٥) اس کا ظاہری معنی ہے : اللہ آسمانوں اور زمینوں کی روشنی ہے ‘ اس کی تاویل ہے : اللہ آسمانوں اور زمینوں کو روشن کرنے والا ہے۔

(آیت) ” یداللہ فوق ایدیھم “۔ (الفتح : ١٠) :

ترجمہ : ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اس کی تاویل ہے : ان کی قدرتوں پر اللہ کی قدرت ہے۔

(آیت) ” فثم وجہ اللہ “۔ (البقرہ : ١١٥)

ترجمہ : سو وہیں اللہ کا چہرہ ہے “۔ اس کی تاویل ہے : سو وہیں اللہ کی ذات ہے۔

(آیت) ” وجاء ربک “۔ القمر : ٢٢) اور آپ کا رب آیا ‘ اس کی تاویل ہے : اور آپ کے رب کا حکم آیا۔

(آیت) ” الرحمن علی العرش استوی “۔ (طہ : ٥)

ترجمہ : رحمن عرش پر قائم ہے۔ اس کی تاویل ہے : عرش پر اللہ کی حکومت اور اس کا تسلط ہے۔

(آیت) ” یحسرتی علی ما فرطت فی جنب اللہ “۔ (الزمر : ٥٦)

ترجمہ : ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ کے پہلو میں کیں۔ یعنی اللہ کی جوار رحمت میں ‘ اللہ کے حضور کے قرب میں ‘ یا اللہ کے متعلق۔

متاخرین نے آیات صفات کے علاوہ حروف مقطعات میں بھی تاویلات کی ہیں الم (الف لام میم) کے متعلق کہا الف سے اللہ کی طرف لام سے جبریل کی طرف اور میم سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اشارہ ہے ‘ یعنی اللہ نے جبریل کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف قرآن دے کر بھیجا۔ یا اس کا معنی ہے میں اللہ جاننے والا ہوں۔ ” المص “ کا مطلب ہے میں اللہ حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہوں۔ ” الر “ کا معنی ہے میں اللہ دیکھتا ہوں ” کھیعص “ میں کاف کریم سے ‘ ھا، حادی سے ’ یا ‘ حکیم سے ‘ ’ عین ‘ علیم سے اور ’ صاد ‘ صادق سے کنایہ ہے ’ طہ ‘ کا معنی ہے اہل بیت کی طہارت کی قسم ’ طسم “ میں طا ‘ ذی الطول سے ’ سین ‘ قدوس سے ’ میم ‘ رحمن سے کنایہ ہے ‘ اس طرح ’ حم عسق ‘ میں حاء اور میم رحمن سے ’ عین ‘ علیم سے ’ سین ‘ قدوس سے اور قاف قاہر سے کنایہ ہے باقی حروف مقطعات بھی اسی قیاس پر ہیں۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ انآیات کی تاویل کو اللہ کے سوال کوئی نہیں جانتا اور جو ان آیات کی تاویل کے درپے ہیں ان کے دلوں میں کجی ہے ‘ تو پھر ان متاخرین کو ان آیات کا معنی کیسے معلوم ہوگیا ؟ اور کیا وہ اس وعید کے مصداق نہیں بنے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیات کے حقیقی معنی اور ان کے قطعی محمل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ نے اسی علم کی اپنے غیر سے نفی کی ہے اور علماء متاخرین نے جو تاویل کی ہے وہ ظنی ہے اور وہ ان کے محامل میں سے ایک محمل ہے ‘ اور کجی ان لوگوں کے دلوں میں ہے جو ان آیات کے ایسے معانی بیان کرتے ہیں جو قرآن مجید اور احادیث کی تصریحات کے خلاف ہیں اور اہل سنت و جماعت کے عقائد کے منافی ہیں۔ (التفسیرات الاحمدیہ ص ١٩٧۔ ١٩٥ مطبوعہ مکتبہ حقانیہ پشاور)

علماء راسخین کی تعریف :

علماء راسخین سے مراد ایسے علماء ہیں جنہوں نے دین کا پختہ علم حاصل کیا اور قرآن اور حدیث میں مہارت حاصل کی اور تمام اصول اور فروع پر حاوی ہوں ‘ ان سے عقائد اسلام اور احکام شرعیہ کے متعلق جو بھی سوال کیا جائے وہ اس کا جواب دینے پر قادر ہوں۔

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

علماء راسخین سے مراد ایسے علماء ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو دلائل : یقینیہ قطعیہ سے جانتے ہوں ‘ اور ان کو دلائل یقینیہ سے معلوم ہو کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور جب وہ کسی آیت کو دیکھیں کہ اس کا ظاہری معنی قطعی طور پر مراد نہیں ہے تو وہ قطعیت سے جان لیں کہ یہ آیت متشابہہ ہے اور اس کی مراد کا صرف اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عقل سے قرآن مجید میں غور کرتے ہیں اور جس آیت کا معنی ظاہری دلائل شرعیہ کے مطابق ہوتا ہے اس کو محکم قرار دیتے ہیں اور جس کا ظاہر دلائل شرعیہ کے خلاف ہوتا ہے اس کو متشابہ قرار دیتے ہیں ‘ اس آیت سے متکلمین کی قدر و منزلت کا علم ہوتا ہے جو دلائل عقلیہ سے بحث کرتے ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ صفات اور افعال کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور دلائل عقلیہ ‘ لغت ‘ قواعد عربیہ اور احادیث اور آثار سے قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہیں ‘ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تفسیر کر نیک کے لئے لغت ‘ قواعد عربیہ اور احادیث اور آثار میں تبحردرکار ہے اور جو شخص ان علوم میں تبحر حاصل کئے بغیر قرآن مجید کی تفسیر کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے بہت دور ہوگا ‘ اور اسی لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے۔ جس شخص نے اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کی وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٠١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

میں کہتا ہوں کہ علماء راسخین کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ علم کے تقاضوں پر عامل ہوں اور جس شخص کو اصول اور فروع کے مسائل حفظ ہوں اور وہ عمل سے خالی ہو یا بدعمل ہو وہ علماء راسخین میں سے نہیں ہے قرآن مجید میں ہے ؛

(آیت) ” مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفارا “۔ (الجمعہ : ٥)

ترجمہ : ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کا بوجھ رکھا گیا پھر انہوں نے اسے نہ اٹھایا (اس پر عمل نہیں کیا) اس گدھے کی طرح ہے جس کی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابودرداء (رض) اور حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ علم میں راسخ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اپنی قسم پوری کرے اور اسکی زبان سچی ہو اور اس کا دل (حق پر) مستقیم ہو اور اس کا پیٹ اور اس کی شرم گاہ حرام سے محفوظ ہو۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٢٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ نے اس حدیث کو امام طبرانی اور امام ابن عساکر کے حوالوں سے بیان کیا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ٧‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 7