يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادیتوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو۔ (آل عمران : ٢٠٠) 

رب آیات : 

یہ اس سورت کی آخری آیت ہے ‘ اور سورة آل عمران میں جو تمام مضامین تفصیلی طور پر ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام مضامین اجمالی طور پر اس آیت میں ذکر کردیئے گئے ہیں ‘ اس آیت میں عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” اصبروا “ میں اشارہ ہے ‘ اور مخالفین کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” صابروا “ میں اشارہ ہے اور کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” رابطوا “ میں اشارہ ہے اور اصول اور فروع یعنی عقائد اور اعمال سے متعلق احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” واتقوا اللہ “ میں اشارہ ہے۔ 

صبر کا لغوی اور شرعی معنی : 

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

صبر کے معنی ہیں تنگی میں کسی چیز کو روکنا ‘ صبرت الدابۃ کا معنی ہے میں نے بغیر دانے اور چارہ کے سواری کو روک لیا ‘ اور صبر کا اصطلاحی معنی ہے عقل اور شرع کے تقاضوں کے مطابق نفس کو روکنا اور پابند کرنا ‘ صبر ایک جنس ہے اور اس کی کئی انواع ہیں ‘ مصیبت پہنچنے پر نفس کو جزع وفزع ہے اور جنگ کے وقت نفس کو بزدلی سے روکنا صبر ہے اس کو شجاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں بزدلی ہے ‘ عبادات میں مشقتوں کو برداشت کرنا اور غضب ‘ شہوت اور حرص وطمع کی تحریک کے وقت اپنے نفس کو اللہ کی نافرمانی سے روکنا بھی صبر ہے اس کو اطاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں فسق وفجور ہے (مفردات الفاظ القرآن ص ٢٧٣‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

صبر کے متعلق احادیث :

مصیبت کے وقت نفس کو جزع اور فزع سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے قریب سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی ‘ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو اس نے کہا ایک طرف ہٹو تم کو میری طرح مصیبت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ اس کو بتایا گیا کہ یہ تو نبی کریم ہیں ‘ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازہ پر آئی وہاں اس نے کوئی دربان نہیں پایا ‘ اس نے کہا میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصبیت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہنچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصیبت) پہنچے اسی وقت (نفس کو روکنا) صبر ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ١٢٨٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٢٦) 

اور کفار سے جنگ کے وقت اپنے نفس کو بزدلی سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمنوں سے جنگ کرتے ہوئے ایک دن انتظار کیا حتی کہ سورج ڈھل گیا ‘ پھر آپ نے لوگوں میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! دشمن سے مقابلہ کی توقع نہ کرو ‘ اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو ‘ اور جب تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو (یعنی بزدلی نہ کرو) اور یقین رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦‘ ٢٩٦٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧) 

عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرائے آپ نے اپنی قمیص پہنی ‘ اور چادر اوڑھی ‘ پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں بہت لمبا قیام کیا پھر آپ نے رکوع کیا ‘ میں نے دیکھا کہ ایک عورت مجھ سے عمر میں بڑی تھی اور کھڑی ہوئی تھی اور ایک عورت میری بہ نسبت بیماری تھی وہ بھی قیام میں تھی تو میں نے دل میں کہا میں تمہاری بنسبت زیادہ حقدار ہوں کہ طول قیام کی مشقت پر صبر کروں (مسند احمد ج ٦ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

حرص ‘ غضب اور شہوت کے تقاضوں پر صبر کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سلمہ بن صخر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر ایک رات کو اس سے جماع کرلیا ‘ صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ واقعہ عرض کیا : آپ نے فرمایا اے سلمہ ! تم نے یہ کام کیا ؟ میں نے دو مرتبہ عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے تقصیر ہوگئی اور میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں ‘ آپ کو جو اللہ فرمائے آپ مجھے اس کا حکم دیجئے۔ الحدیث : (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٢١٣) 

صابروا کا لغوی معنی اور صبر اور مصابرہ میں فرق : 

علامہ سید محمد مرتضیٰ حسینی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اصبروا وصابروا ورابطوا “ اس آیت میں ادنی سے اعلی کی طرف انتقال ہے ‘ صبر ‘ مصابرہ سے کم ہے اور مصابرہ ‘ مرابطہ سے کم ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اپنے نفوس کے ساتھ صبر کرو اور صابروا کا معنی ہے مصیبتوں پر اپنے دلوں میں اللہ پر صبر کرو ‘ اور رابطوا کا معنی ہے اپنے اسرار کا اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو اور ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اللہ میں صبر کرو ‘ اور صابروا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ صبر کرو اور رابطوا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو۔ (تاج العروس ج ٣ ص ‘ ٣٢٤ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب مشرکین کو معاف کردیتے تھے اور ان کی ایذا ارسانیوں پر صبر کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ٦٢٠٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے امیر کی کوئی ناگوار چیز دیکھے وہ اس پر صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی علیحدہ ہوا ‘ اور مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤٩) 

امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں تشریف فرما تھے ‘ آپ ہنسے ‘ پھر آپ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں دریافت کرتے کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھے مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے ‘ اس کا ہرحال خیر ہے اگر اس کو کوئی پسندیدہ چیز ملے اور وہ اس پر اللہ کی حمد کرے تو یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اس کو کوئی ناگوار چیز ملے اور وہ اس پر صبر کرے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے اور مومن کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا ہرحال خیر ہو۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٩٩٩‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٣٣‘ ٣٣٢‘ ج ٦ ص ١٥١٦) 

مرابطہ کے معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

مرابطہ کی دو قسمیں ہیں ‘ مسلمانوں کی سرحدوں کی نگہبانی اور حفاظت کرنا ‘ کہیں اس پر دشمن اسلام حملہ آور نہ ہوں اور دوسری قسم ہے نفس کا بدن کی نگہبانی اور حفاظت کرنا کہیں شیطان اس سے گناہ نہ کرائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا بھی رباط ہے ‘ یہ دوسری قسم ہے اور پہلی قسم کے متعلق یہ آیت ہے : 

(آیت) ” واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل “۔ (الانفال : ٦٠) 

ترجمہ : ان کے لیے بہ قدر استطاعت ہتھیاروں کی قوت اور گھوڑے باندھنے کو فراہم کرو۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ١٨٦ ‘۔ ١٨٥‘ مطبوعہ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

آیت مذکورہ میں رابطور کے محامل : 

ہر چند کہ انسان ضبط نفس کرکے فی نفسہ صبر کرتا ہے اور لوگوں کی ایذاء رسانی پر بھی صبر کرتا ہے لیکن پھر بھی اس میں شہوت ‘ غضب اور حرص پر مبنی برے اخلاق ہوتے ہیں اور اپنے نفس کو برے اخلاق سے پاک کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور جب کبھی شہوت یا حرص کے غلبہ سے کسی گناہ کی تحریک ہو تو اپنے نفس کو اس گناہ سے آلودہ نہ ہونے دے ‘ اور یہ محاسبہ اور نگہبانی اسی وقت ہوسکتی ہے جب انسان کے دل میں اللہ کا ڈر اور خوف ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا : (آیت) ’ ورابطوا واتقوا اللہ “۔ یعنی اپنے نفس کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی کی امید ہو۔ 

چونکہ سورة آل عمران کی زیادہ کی زیادہ تر آیتیں جنگ احد سے متعلق ہیں اور بعض مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی تھی جس کے نتیجہ میں وہ شکست سے دوچار ہوئے اور اس شکست پر آزردہ خاطر ہوئے ‘ اس لیے اس آیت کا ایک ظاہری محمل یہ ہے کہ کفار سے جنگ کے دوران ثابت قدم رہو اور جنگ میں ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرو ‘ اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو ‘ اور اس سلسلہ میں اللہ اور رسول کے احکام پر عمل کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہو اور کسی قسم کی حکم عدولی نہ کرو تاکہ تمہیں کامیابی اور سرفرازی کی امید ہو۔ 

اس آیت کا ایک محمل یہ بھی ہے کہ نفسہ صبر کرو اور مخالفوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرو اور ہرحال میں اللہ سے رابطہ استوار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ 

اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن اور ایک رات سرحد کی حفاظت کرنا ‘ ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے ‘ اور اگر وہ مرگیا تو اس کا یہ اجر جاری رہے گا اور وہ فتنہ میں ڈالنے والے سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٩١٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦٨‘ ٣٦٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٧‘ مسنداحمد ‘ ج ٢ ص ١٧٧‘ ج ٥ ص ٤٤١‘ ٤٤٠‘ تحفۃ الاشراف : رقم الحدیث : ٩١ ٤٤) 

فتنہ میں ڈالنے سے مراد یا تو منکر نکیر ہیں اور یا اس سے مراد شیطان ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے ثواب کو جاری رکھے گا اور جس حدیث میں ہے ابن آدم میں سے ہر ایک کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ماسوا تین کے اس کا مطلب ہے ان تین کا عمل منقطع نہیں ہوتا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کا ثواب جاری رکھے گا۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منی میں فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا اس کے علاوہ ہزار ایام سے افضل ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٥٧‘ ٦٦‘ ٦٤‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٣١) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹا دے اور درجات کو بلند کر دے ‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا مشقت کے وقت مکمل وضو کرنا ‘ زیادہ قدم چل کر مسجد میں جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ‘ سو یہی رباط ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥١‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٥١، سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٤٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٧‘ ٢٠٢) 

گناہوں کو مٹانے سے مراد یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے گناہ مٹادیئے جائیں ‘ یا گناہ کے مقابلہ میں دل کے اندر جو ایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے اس کو مٹا دیا جائے ‘ مشقت کے وقت مکمل وضو کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب انسان کو پانی ٹھنڈا لگے یا پانی کے استعمال سے جسم میں تکلیف ہو اس وقت مکمل وضو کرے ‘ دور سے چل کر مسجد میں آنا یہ واضح ہے ‘ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اس سے یا تو مسجد میں بیٹھ کر انتظار کرنا مراد ہے تو یہ اعتکاف کے ایام میں پانچوں نمازوں سے حاصل ہوتا ہے اور عام دنوں میں آسانی سے عصر کے بعد مغرب کی نماز اور مغرب کے بعد مسجد میں عشاء کی نماز کے انتظار میں حاصل ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ انسان ایک نماز پڑھ کر اپنے گھر یا دکان یا دفتر میں آجائے لیکن اس کا دل و دماغ دوسری نماز کے انتظار میں لگا ہوا ہو ‘ تو یہ انتظار پانچویں نمازوں میں آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے ‘ اس کو آپ نے رباط فرمایا ہے کیونکہ رباط سے مراد نفس کو پابند کرنا ہے۔ خواہ سرحد کی حفاظت پر خواہ ان عبادات میں یا اس لیے کہ رباط کا معنی ہے نفس اور جسم کا عبادات کے ساتھ ارتباط رکھنا ‘ یا رباط کا معنی ہے نگہبانی کرنا خواہ سرحد کی دشمنان اسلام سے نگہبانی کی جائے خواہ وضو سے نماز کی حفاطت کی جائے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرکے اس کی نگہبانی کی جائے اور اس کو ضائع ہونے بچایا جائے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے سو یہی رباط ہے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سورة آل عمران میں جو رابطو ‘ کا لفظ ہے اس سے مراد ان عبادات کی نگہبانی کرنا ہے۔ 

آج ٢٢ صفر المظفر ١٤١٧ ھ۔ جولائی ١٩٩٦ ء بروز پیر سورة آل عمران کی تفسیر مکمل ہوگئی الہ العلمین جس طرح آپ نے آل عمران کی تفسیر مجھ سے مکمل کرائی ہے بقیہ قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں اور اس تفسیر میں مجھ کو غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھیں اور اس تفسیر تبیان القرآن کو تا روز قیامت مقبول اور اثر آفرین رکھیں اور مجھے ‘ میرے والدین ‘ میرے اساتذہ اور میرے قارئین اور محبین کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچائیں اور ان کے لیے دارین کی نعمتوں کا دروازہ کھول دیں ” واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ خیر خلقہ سیدنا محمد و علی الہ و اصحابہ وازواجہ وعلمآء ملتہ واولیآء امتہ وامتہ اجمعین “۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 199

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

ترجمہ:

اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور اس پر جو ان کی طرف نازل کیا گیا درآنحالیکہ ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ وہ اللہ کی آیتوں کے بدلہ میں تھوڑی قیمت نہیں لیتے یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور اس پر جو ان کی طرف نازل ہوا اور ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے (آل عمران : ١٩٩) 

شان نزول : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے متعلق نازل ہوئی ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے اور نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔ 

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو منافقین نے اس پر طعن کیا تو یہ آیت نازل ہوئی نیز ابن جریج سے یہ بھی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب خواہ یہود ہوں یانصاری ان میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ مجاہد کی روایت زیادہ اولی ہے (جامع البیان ج ٤ ص ١٤٧۔ ١٤٦‘ مطبوعہ دار المعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

غائب میت کی نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب ائمہ : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی موت کی خبر دی ‘ آپ عیدگاہ کی طرف گئے مسلمانوں نے صفیں باندھیں اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٨٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٥١) 

امام ابو محمد حسین بن مسعود شافعی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

نجاشی کافر قوم کے درمیان تھا وہ مسلمان تھا اور کافروں سے اپنا ایمان چھپاتا تھا ‘ اور جس جگہ وہ تھا وہاں اس کی نماز جنازہ پڑھ کر اس کا حق ادا کرنے والا کوئی نہ تھا اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا اہتمام کیا اسی طرح جس شخص کو معلوم ہو کہ ایک مسلمان ایسی جگہ فوت ہوگیا جہاں اس کی نماز پڑھنے والا کوئی نہیں ہے تو اس پر اس شخص کی نماز جنازہ پڑھنا لازم ہے ‘ اس حدیث کے فوائد سے یہ ہے کہ غائب میت کی نماز جنازہ جائز ہے ‘ وہ لوگ قبلہ کی طرف منہ کریں اس شخص کے شہر کی طرف منہ نہ کریں اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور بعض ائمہ کا قول یہ ہے کہ غائب کی نماز جنازہ جائز نہیں ہے یہ اصحاب رائے (ائمہ احناف اور مالکیہ) کا قول ہے ان کا قول یہ ہے کہ یہ نماز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ قول ضعیف ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال کی اقتداء واجب ہے جب تک کہ تخصیص کی دلیل نہ پائی جائے اور تخصیص کا دعوی صحیح نہیں ہے کیونکہ صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز نہیں پڑھی تھی بلکہ مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اس کی نماز پڑھی تھی۔ (شرح السنہ ج ٣ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ )

علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحید المعروف بابن الھمام المتوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ اس لیے پڑھی تھی کہ آپ کے سامنے اس کا تخت لایا گیا تھا ‘ حتی کہ آپ نے اس کو دیکھ لیا تھا ‘ سو یہ اس میت پر نماز تھی جس کو امام دیکھ رہا تھا ‘ اور اس کا جنازہ امام کے سامنے تھا اور مقتدیوں کے سامنے نہیں تھا اور یہ اقتداء سے مانع نہیں ہے ‘ ہرچند کہ یہ ایک احتمال ہے لیکن اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا اٹھو اس پر نماز پڑھو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور صحابہ نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں ‘ آپ نے چار تکبیریں پڑھیں اور وہ یہ گمان نہیں کرتے تھے کہ اس کا جنازہ آپ کے سامنے تھا ‘ (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣١٠٢) اس حدیث میں اشارہ ہے کہ واقع میں ان کے گمان کے خلاف تھا ‘ یا تو حضرت عمران نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن لیا تھا اور یا ان کے لیے جنازہ منکشف کردیا گیا تھا ‘ یا یہ صرف نجاشی کی خصوصیت تھی اور دوسرا کوئی اس کے ساتھ لاحق نہیں ہے جیسے حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کی شہادت دو شہادتوں کے برابر ہے ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے صحابہ کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے ‘ جیسے حضرت معاویہ بن معاویہ مزنی (رض) ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تبوک میں نازل ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! معاویہ بن معاویہ مزنی مدینہ میں فوت ہوگئے کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کے لیے زمین سمیٹ دی جائے اور آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! انہوں نے اپنے دونوں پر زمین پر زمین پر مارے تو ان کا تخت اٹھا کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ‘ آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں ‘ اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ‘ پھر وہ تخت واپس ہوگیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ معاویہ نے یہ فضیلت کس وجہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہا وہ سورة ” قل ھو اللہ احد “۔ سے محبت رکھتے تھے اور آتے جاتے ‘ اٹھتے بیٹھتے ہرحال میں اس کو پڑھتے تھے۔ (اس حدیث کو امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ مسند الشامبین ‘ رقم الحدیث : ٨٣١‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥٣٧‘ اور امام ابن السنی نے بھی روایت کیا ہے عمل الیوم واللیلۃ رقم الحدیث : ١٨٠) اور امام ابن سعد نے اس کو طبقات میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور امام واقدی نے مغازی میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھندا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور اپنے دو پروں کے ساتھ جہاں چاہے جنت میں دوڑ رہے ہیں۔ (کتاب المغازی ج ٢ ص ٧٦٢۔ ٧٦١‘ مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے خصوصیت کا دعوی اس وقت کیا ہے جب ان کا تخت لایا گیا ہو نہ وہ دکھائی دیئے گئے ہوں ‘ علاوہ ازیں مغازی میں اس کی دونوں سندیں ضعیف ہیں اور یہ حدیث مرسل ہے اور طبقات کی سند میں علاء بن یزید ضعیف ہے اور امام طبرانی کی سند میں بقیہ بن ولید معنعن ہے ‘ پھر خصوصیت کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں اور نجاشی کے سوا اور کسی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ‘ اور ان کے متعلق یہ تصریح ہے کہ ان کا جنازہ آپ کے سامنے لایا گیا تھا اور آپ ان کو دیکھ رہے تھے ‘ جب کہ بہت سے صحابہ متعدد سفروں میں غائبانہ فوت ہوجاتے تھے مثلا حبشہ اور متعدد غزوات میں ‘ اور سب سے زیادہ عزیز آپ کو ستر قاری تھے جن کو تبلیغ کے لیے کافر لے گئے اور ان کو قتل کردیا لیکن یہ کہیں منقول نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی کی نماز جنازہ پڑھی ہو حالانکہ صحابہ میں سے جو فوت ہوجاتے آپ اس کی نماز جنازہ پر ھنے پر بہت حریص تھے حتی کہ آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص بھی مرجائے تم مجھے اس کی خبر دو کیونکہ اس کے اوپر میری نماز (جنازہ) اس کے لیے رحمت ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٨٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٧٦۔ ٢٧٥‘ سنن نسائی ج ٤ ص ٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٥٢٨‘ المستدرک ج ٣ ص ٥٩١‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣٠٩٢۔ ٣٠٨٧‘ سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٣٥) (فتح القدیر ج ٢ ص ١٢٢‘ ١٢١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 199

لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 198

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ

ترجمہ:

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے (آل عمران : ١٩٨) 

اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس کے قرب کا جنت سے افضل ہونا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق وعید کا ذکر کیا تھا ‘ اور اب اس آیت میں مسلمانوں کے متعلق وعد اور بشارت کا ذکر فرمایا ہے ‘ یہ بشارت متقین کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والا ‘ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کرے گا اور جن کاموں سے اس نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے جنت کے متعلق فرمایا ہے یہ اس کی مہمانی ہے اس کی وضاحت اس حدیث میں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن سلام کو یہ خبر ملی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور کہا میں آپ سے تین سوال کروں گا جن کے جواب کو نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا (الی قولہ) اہل جنت ‘ جنت میں سب سے پہلے کیا کھائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اہل جنت جس چیز کو سب سے پہلے کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا ٹکڑا ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث ٤٤٨٠) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن یہ زمین روٹی کی طرح ہوجائے گی ‘ اللہ اہل جنت کی مہمانی کے لیے اپنے ہاتھ سے اس زمین کو الٹ پلٹ دے گا ‘ جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ‘ پھر ایک یہودی آیا اور کہنے لگا رحمان آپ پر برکتیں نازل فرمائے کیا میں آپ کو یہ بتاؤں کہ قیامت کے دن اہل جنت کی کس چیز سے مہمانی ہوگی ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا زمین تو ایک روٹی کی طرح ہوجائے گی جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ اس نے کہا کیا میں آپ کو اس کے سالن کی خبر نہ دوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا بالام اور نون ‘ صحابہ نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے ایک ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھا سکیں گے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے “ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ دنیا میں نیک لوگوں کے پاس جو نعمتیں تھیں یاد نیا میں کافروں کے پاس جو نعمتیں تھیں ‘ اس کے مقابلہ میں اللہ کے پاس جو اجر وثواب ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان خیال آیا ہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ 

(آیت) ” فلا تعلم نفس ما خفی لھم من قرۃ اعین “۔ (الم السجدۃ : ١٧) 

ترجمہ : سو کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے کیا نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧٤٩٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٢٤) 

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٢٥٠‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٤٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٣٣٠‘ سنن دارمی : رقم الحدیث : ٢٨٢٣‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٤٨٣‘ ٤٨٢‘ ٤٣٨‘ ٣١٥‘ ج ٣ ص ٤٣٤‘ ٤٣٣‘ ١٤١‘ ج ٥ ص ٣٣٩‘ ٣٣٨‘ ٣٣٠) 

اس آیت کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے جنت اور اس میں ان کی مہمانی تیار کر رکھی ہے اور جو اللہ کے پاس اجر ہے وہ جنت اور اس کی مہمانی سے بہتر ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب اور اس کا دیدار اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ‘ لیکن یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ جو مسلمان دنیا میں ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کام دوزخ سے پناہ مانگنا اور جنت کو طلب کرنا بھی ہے ان ہی کو اللہ کی رضا اور اس کا دیدار نصیب ہوگا اور جو لوگ جنت کو معمولی اور اپنے مقام سے کمتر خیال کرتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں کیونکہ وہ اس چیز کو معمولی اور گھٹیا کہہ رہے ہیں جس کی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ تعریف فرمائی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 198

مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ثُمَّ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِهَادُ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 197

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَتَاعٌ قَلِيۡلٌ ثُمَّ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِهَادُ

ترجمہ:

یہ (حیات فانی کا) قلیل سامان ہے پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 197

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِى الۡبِلَادِؕ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 196

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِى الۡبِلَادِؕ

ترجمہ:

(اے مخاطب) کافروں کا شہروں میں (خوش حالی سے) گھومنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈال دے

تفسیر:

غرور کا معنی اور شان نزول : 

انسان کسی چیز کو بہ ظاہر اچھا گمان کرے اور تحقیق وتفتیش کے بعد وہ چیز اس کے بالکل برعکس ہو تو اس کو غرور کہتے ہیں اس آیت میں بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے کہ آپ کفار کی خوشحالی اور ان کے عیش وطرب سے دھوکا نہ کھائیں لیکن اس سے مراد عام مسلمان یا مخاطب ہیں۔ امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ خدا کی قسم اللہ کے نبی نے کفار سے کبھی دھوکا نہیں کھایا حتی کہ آپ کا وصال ہوگیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٤٥‘ مطبوعہ بیروت) 

کفار کے لیے دنیا میں عیش اور مسلمانوں کے لیے تنگی کے متعلق احادیث : 

امام بخاری ایک طویل حدیث کے ضمن میں حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ‘ آپ کے اور چٹائی کے درمیان اور کوئی چیز نہیں تھی ‘ اور آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ ہتھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور آپ کے پیروں کے پاس ایک درخت کے پتوں کا ڈھیر تھا ‘ اور آپ کے پاس کچی (بغیر رنگی ہوئی) کھالیں لٹکی ہوئی تھیں اور میں نے دیکھا کہ چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو میں گڑ گئے تھے ‘ میں رونے لگا آپ نے فرمایا تم کس وجہ سے رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! بیشک قیصر و کسری کس قدر عیش و آرام میں ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ! آپ نے فرمایا کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو ! (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٩١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٧٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٩٥٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤١٨٨‘ المستدرک ج ٤ ص ١٠٤‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ١٤٤٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٣٩) 

ایک اور حدیث میں روایت کرتے ہیں : 

میں نے نظر اٹھا کر گھر میں دیکھا تو خدا کی قسم مجھے تین کچی کھالوں کے سو اور کچھ نظر نہیں آیا ‘ میں نے عرض کیا آپ دعا کیجئے اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر وسعت کرے ‘ کیونکہ فارس اور روم پر وسعت کی گئی اور ان کو دنیا دی گئی حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے آپ تکیہ لگائے بیٹھے تھے ‘ آپ نے فرمایا اے ابن الخطاب کیا تم کو شک ہے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی اچھی چیزیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لیے استغفار کیجئے (صحیح البخاری ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٨) 

امام ابورحاتم محمد بن حبان السبی المتوفی ٣٥٤ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چارپائی پر سیاہ چادر پڑھی ہوئی تھی ‘ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر آئے تو نبی کریم اس پر لیٹے ہوئے تھے ‘ جب آپ نے دیکھا تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ چارپائی کے نشانات آپ کے پہلو میں نقش ہوگئے تھے ‘ حضرت ابوبکر اور عمر (رض) نے کا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی چارپائی اور پستر کی سختی سے آپ کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے اور یہ قیصر اور کسری ریشم اور دیباج کے بستروں پر سوتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کہو کسری اور قیصر کے بستر دوزخ میں ہیں اور میرا یہ بستر اور میری چارپائی کا انجام جنت ہے۔ (صحیح ابن حبان : ٧٠٤) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر دنیا اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ بھی نہ عطا فرماتا۔ (الجامع الصحیح رقم الحدیث : ٢٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١١٢٠) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ انصار کی ایک عورت نے رسول اللہ کے پستر پر ایک مڑی ہوئی چادر دیکھی اس نے حضرت عائشہ (رض) کے پاس ایک گدا بھیجا جس میں اون بھرا ہوا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں انصاری عورت میرے پاس آئی تھی اس نے آپ کا بستر دیکھا تو وہ گئی اور اس نے یہ بستر بھیج دیا ‘ آپ نے فرمایا : اے عائشہ اس کو واپس کردو ‘ خدا کی قسم ! اگر میں چاہوں تو اللہ میرے ساتھ سونے اور چاندی کے پہاڑوں کو روانہ کر دے (شعب الایمان رقم الحدیث : ١٤٦٨‘ دلائل النبوت ج ١ ص ٣٤٥) 

اس حدیث کی سندضعیف ہے ‘ لیکن اس سے بہرحال یہ معلوم ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فقر اختیاری تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کسی مومن پر ظلم نہیں کرتا ‘ اس کی نیکی کا صلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے اور اس کی پوری جزاء اس کو آخرت میں دی جائے گی اور کافر نے دنیا میں اللہ کے لیے جو نیکیاں کی ہیں اس کی پوری جزا دنیا میں دے دی جاتی ہے حتی کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں ہوگی جس کی جزا دی جائے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٠٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے ‘ امام ابو عیسیٰ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی روایت ہے۔ (الجامع الصحیح ‘ رقم الحدیث : ٢٣٢٤‘ مسند البرار “ رقم الحدیث : ٣٦٤٥‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٦١٨٣‘ ٦٠٨٧‘ المستدرک ج ٣ ص ٦٠٤)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 196

فَاسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ اَنِّىۡ لَاۤ اُضِيۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى‌‌ۚ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌‌ۚ فَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِىۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ‌ؕ وَ اللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 195

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ اَنِّىۡ لَاۤ اُضِيۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى‌‌ۚ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌‌ۚ فَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِىۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ۚ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ ‌ؕ وَ اللّٰهُ عِنۡدَهٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ

ترجمہ:

سو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ بیشک میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ‘ سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور ان کو گھروں سے نکال دیا گیا اور ان کو میری راہ میں اذیتیں پہنچائی گئیں اور جنہوں نے جہاد کیا اور جو شہید کردیئے گئے ‘ میں ضرور ان سب کے گناہ مٹادوں گا اور ان کو ضرور ان جنتوں میں داخل کروں گا ‘ جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں ‘ یہ اللہ کی طرف سے ثواب ہوگا اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ بیشک میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ‘ سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور ان کو گھروں سے نکال دیا گیا اور ان کو میری راہ میں اذیتیں پہنچائی گئیں اور جنہوں نے جہاد کیا اور جو شہید کردیئے گئے ‘ میں ضرور ان سب کے گناہ مٹادوں گا اور ان کو ضرور ان جنتوں میں داخل کروں گا ‘ جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں ‘ یہ اللہ کی طرف سے ثواب ہوگا اور اللہ ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔ (آل عمران : ١٩٥) 

دعا کے قبول ہونے کا ایک طریقہ :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی پانچ دعائیں ذکر فرمائی تھیں : ” ربنا ما خلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذاب النار ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ وما للظالمین من انصار ‘ ربنا اننا سمعنا منادیاینادی للایمان ان امنوا بربکم فامنا فاغفرلنا ذنوبنا ‘ وکفر عنا سیاتنا وتوفنا مع الابرابر ‘ ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک ولا تخزنا یوم القیمۃ “۔ اس آیت میں ان دعاؤں کی مقبولیت کا بیان ہے ‘ امام جعفر صادق نے فرمایا جو شخص اپنی دعاؤں میں پانچ مرتبہ ربنا کہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے کیونکہ اس سے پہلے مسلمانوں نے اپنی دعاؤں میں پانچ مرتبہ ربنا کہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ عمل ‘ عامل سے صادر ہونے کے بعد فنا ہوجاتا ہے تو پھر اس کے ضائع نہ کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ میں کسی عمل کا ثواب ضائع نہیں کرتا ‘ یا اس سے مراد یہ ہے کہ میں خضوع اور خشوع اور حضور قلب سے کی ہوئی کسی دعا کو ضائع نہیں کرتا ‘ اللہ تعالیٰ دعا کو فورا قبول فرما لیتا ہے ‘ یا اپنی کسی حکمت کی وجہ سے اس کو موخر کردیتا ہے ‘ اور دعا کرنے والا تاخیر پر صبر کرے تو اس کو اجر عطا فرماتا ہے یا اس دعا کے عوض اس سے کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو ‘ اس آیت کے سبب نزول میں، امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے ہجرت (کے اجر وثواب) میں عورتوں کا ذکر بالکل نہیں سنا تو یہ آیت نازل ہوئی : (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٤٣ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

تمام صحابہ کے مومن ہونے کی دلیل : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عہد رسالت کے مہاجرین اور مجاہدین سے بلا استثناء مغفرت اور جنت کا وعدہ کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ تمام صحابی جنتی اور مغفور ہیں اور شیعہ اور رافضیہ کا یہ کہنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد چھ کے سوا باقی تمام صحابہ مرتد ہوگئے تھے ‘ اس آیت کے صریح خلاف ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ عہد رسالت کے تمام جہاد کرنے والے اور ہجرت کرنے والے مسلمانوں سے مغفرت اور جنت کا وعدہ نہ فرماتا اور انہوں نے مغفرت اور دوزخ سے نجات کی جو دعائیں کی تھیں ان کو قبول نہ فرماتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 195

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 194

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! ہمیں وہ عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان کے ذریعہ ہم سے وعدہ فرمایا ہے ‘ اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٩٤) 

دعا قبول ہونے کے علم کے باوجود دعا کرنے کی حکمتیں : 

مسلمانوں نے اپنی دعا میں یہ کہا تو نے اپنے رسولوں کی زبانوں کے ذریعہ ہم سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا فرما ‘ بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ‘ اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کے خلاف کرنا محال ہے ‘ پھر یہ دعا کیوں کی گئی کہ تو اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا سے مقصود اظہار عبودیت ہے کیونکہ بعض چیزوں کے متعلق ہم کو معلوم ہے کہ لامحالہ ایسا ہوگا پھر بھی اس کی دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین “۔ (المؤمنون : ١١٨) 

ترجمہ : آپ دعا کیجئے اے میرے رب مغفرت فرما اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ 

رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت سورة فتح سے قطع طور پر ثابت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اظہار عبودیت کے لیے آپ کے لیے مغفرت طلب کرنے کا حکم برقرار رکھا۔ 

(آیت) ” قال رب احکم بالحق “۔ (الانبیاء : ١١٤) 

ترجمہ : (اللہ کے رسول نے) دعا کی اے میرے رب برحق فیصلہ فرما ،

حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ برحق ہی ہوتا ہے پھر بھی اللہ کے رسول نے اظہار عبودیت کے لیے یہ دعا کی۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو رسولوں کے ذریعہ مغفرت اور اجروثواب کا وعدہ فرمایا ہے وہ نام بہ نام معین اشخاص سے وعدہ نہیں فرمایا بلکہ وہ وعدہ بطور نیک اوصاف کے ہے یعنی جو لوگ اعمال صالحہ کریں گے ان کے لیے جنت اور آخرت کی نعمتیں ہیں ‘ اس لیے ہم کو یہ معلوم نہیں کہ ہمارا شمار ان اوصاف کے حاملین میں ہے یا نہیں جب کہ ہم سے انواع و اقسام کے گناہ بھی ہوتے رہتے ہیں اس لیے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ عطا فرمائے گا لیکن یہ نہیں فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو کب غلبہ نصیب ہوگا سو مسلمانوں نے اس غلبہ کے حصول کے لیے دعا کی۔ 

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان اپنے نیک اعمال کی وجہ سے اجر وثواب کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ اس وعدہ کی وجہ سے اجر کا مستحق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور مسلمانوں نے اللہ سے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ اپنے وعدہ کی وجہ سے ہمیں عطا فرما یہ نہیں کہا کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے عطا فرما : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ‘ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھ کو بھی نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ‘ تم درست کام کرو اور نیکی کے قریب ہو ‘ صبح ‘ شام اور رات کے کچھ حصہ میں درمیانہ روی اور اعتدال سے عمل کرو۔ 

صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٤٦٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨١٨‘ ٢٨١٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٠١‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣٧‘ ٥٢٤‘ ٥١٤‘ ٥٠٩‘ ج ٣ ص ٣٦٢‘ ٣٣٧‘ ٥٣‘ ج ٦ ص ١٢٥‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٤٦١ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 194