أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الدِّيۡنَ عِنۡدَ اللّٰهِ الۡاِسۡلَامُ ۗ وَمَا اخۡتَلَفَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡيًا ۢ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

ترجمہ:

بیشک اللہ کے نزدیک دین ‘ اسلام ہی ہے اور اہل کتاب نے علم حاصل ہونے کے باوجود جو باہم اختلاف کیا وہ ایک دوسرے سے عناد کے باعث تھا، اور جو اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرے تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

تفسیر:

اسلام کا لغوی اور اصطلاحی معنی :

اس سے پہلی آیت میں یہ ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ ‘ فرشتوں اور علماء نے یہ شہادت دی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد سے لے کر آج تک اسلام کے سوا اور کوئی دین توحید کا داعی نہیں ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔

اصطلاح شرع کے اعتبار سے اسلام کا معنی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے پاس سے جو خبریں اور احکام لے کر آئے ان کی تصدیق کرنا اور ان کو ماننا اور یہی ایمان کا اصطلاحی معنی ہے اور اس اعتبار سے ایمان اور اسلام واحد ہیں البتہ لغت کے اعتبار سے ان میں فرق ہے ‘ ایمان کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو مامون اور بےخوف کرنا۔ انسان اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لا کر اپنے آپ کو دوزخ کے دائمی عذاب سے محفوظ کرلیتا ہے ‘ اور اسلام کا لغوی معنی ہے اطاعت کرنا سلامتی میں داخل ہونا اور اخلاص ‘ جب انسان اسلام قبول کرلیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے دنیا میں اس کی جان اور مال سلامتی میں رہتے ہیں اور آخرت میں بھی وہ عذاب سے سلامت رہتا ہے اور جو شخص جتنا پکا مسلمان ہوتا ہے اس کے دین میں اتنا زیادہ اخلاص ہوتا ہے۔ سورة فاتحہ کی تفسیر میں ہم نے وضاحت کے ساتھ دین کا معنی بیان کیا ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم میں جو عقائد اور اصول مشترک رہے ہیں ان کا نام دین ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اہل کتاب نے علم حاصل ہونے کے باوجود جو باہم اختلاف کیا وہ ایک دوسرے سے عناد کے باعث تھا اور جو اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرے تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔۔ (آل عمران : ١٩)

اہل کتاب کے اختلاف کا بیان

اس آیت جن اہل کتاب کے اختلاف کا ذکر ہے اس کے مصداق کی تعیین میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) اس سے مراد یہود ہیں اور ان کے اختلاف کا بیان یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات قریب ہوئی تو انہوں نے تورات کو ستر علماء کے سپرد کیا اور ان کو تورات پر امین بنایا اور حضرت یوشع (علیہ السلام) کو خلیفہ مقرر کیا، پھر کئی قرن گزرنے کے بعد ان ستر علماء کی اولاد در اولاد نے تورات کا علم رکھنے کے باوجود باہمی حسد اور عناد کے باعث ایک دوسرے سے اختلاف کیا۔

(٢) اس سے مراد نصاری ہیں اور باوجود انجیل کی تعلیمات کے انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اختلاف کیا اور انہیں عبداللہ کی بجائے ابن اللہ کہا۔

(٣) اس سے مراد یہود اور نصاری ہیں اور ان کا آپس میں اختلاف یہ تھا کہ یہود نے کہا کہ عزیر ابن اللہ ہیں اور نصاری نے کہا کہ مسیح ابن ہیں ‘ اور ان دونوں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کیا اور انہوں نے کہا قریش مکہ کی بہ نسبت نبوت کے ہم زیادہ حق دار ہیں کیونکہ وہ ان پڑھ لوگ ہیں اور ہم اہل کتاب ہیں باوجود اس کے کہ ان کے پاس سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کے متعلق علم آچکا تھا ‘ ان کی کتابوں میں آپ کے متعلق اوصاف ‘ علامات اور پیش گوئیاں تھیں۔ قرآن مجید میں ایسی آیات نازل ہو رہی تھیں جن کی تائید اور تصدیق ان کی کتابوں میں تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے معجزات کا ظہور ہو رہا تھا جن سے آپ کے دعوی نبوت کا صدق ظاہر ہو رہا تھا۔

اللہ تعالیٰ کو ان کے کفر کا اور ان کی تمام بداعمالیوں کا علم ہے اس نے اپنی حکمت سے ان کو ڈھیل دی ہوئی ہے وہ بہت جلد انکاحساب لے گا اور انکو ان کے جرائم کی سزا دے گا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 19