أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـيۡسُوۡا سَوَآءً ‌ؕ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآٮِٕمَةٌ يَّتۡلُوۡنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيۡلِ وَ هُمۡ يَسۡجُدُوۡنَ

ترجمہ:

وہ سب برابر نہیں ہیں، اہل کتاب میں سے ایک گروہ قیام کرتا ہے رات کے اوقات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتا ہے اور وہ سجدہ کرتے ہیں

تفسیر:

ربط آیات اور مناسبت :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اہل کتاب میں سے بعض مومن ہیں اور اکثر فاسق ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کفار اہل کتاب کی مذمت فرمائی تھی اب اس کے مقابلہ میں اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کی مدح فرما رہا ہے ‘

امام محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ‘ جب عبداللہ بن سلام ‘ ثعلبہ بن سعید ‘ اسید بن سعید ‘ اسد بن عبید اور دیگر یہودی اسلام لے آئے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور اسلام میں رغبت کی اور قبول اسلام کے بعد اسلام کی راہ میں مال خرچ کیا تو علماء یہود اور ان میں سے دیگر کفار نے کہا جو لوگ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے ہیں اور ان کی پیروی کر رہے ہیں وہ ہم میں بہت برے لوگ تھے ‘ اگر وہ نیک لوگ ہوتے تو اپنے آباء و اجداد کے دین کو ترک نہ کرتے ‘ اس کے علاوہ ان کی مذمت میں اور باتیں کیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح سرائی میں یہ آیت نازل فرمائیں اور ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ نیکوں میں سے ہیں (جامع البیان ج ٤ ص ٣٥‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اہل کتابہ میں سے ایمان لانے والوں کی صفات کی تفصیل اور تحقیق : 

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے اوصاف بیان کیے ہیں ‘ آیات سابقہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اہل کتاب میں سے بعض مومن ہیں اور اکثر فاسق ہیں۔ پھر فاسقوں کے احوال بیان فرمائے اور ان کا انجام بیان فرمایا ‘ اور ان آیات میں اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے احوال اور ان کی صفات بیان فرمائیں۔ اگرچہ اسلام میں داخل ہونے والے اہل کتاب بہت کم تعداد میں تھے۔

مومنین اہل کتاب کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ قائم ہیں ‘ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ وہ رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز میں قیام کرتے ہیں اور نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” والذین یبیتون لربھم سجدا و قیاما “ (الفرقان : ٦٤)

ترجمہ : اور جو لوگ اپنے رب کے لیے سجدہ اور قیام کرتے ہوئے رات گزار دیتے ہیں۔

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ گروہ دین حق پر قائم ہے اور ثابت قدم ہے اور مخالفین کی ریشہ دوانیاں اور اسلام کے خلاف ان کے شکوک و شبہات ڈالنے کی کوششیں ان کے پائے ثبات کو متزلزل نہیں کرتیں۔

دوسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ رات کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اس سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سجدہ میں بھی خضوع اور خشوع سے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں ‘ لیکن سجدہ میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا منع ہے۔

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے رکوع اور سجود میں قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٢٧‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

یہ ممانعت قرآن مجید کی تعظیم کی وجہ سے ہے کیونکہ رکوع اور سجود انتہائی ذلت کی حالت ہے اس لیے اس حال میں قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

” اور وہ سجدہ کرتے ہیں “ یہ ان کی الگ اور مستقل صفت ہے اور پہلی صفت کی قید نہیں ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ نماز میں کبھی قیام کرتے ہیں اور کبھی سجدہ کرتے ہیں اور سجدہ کا اطلاق نماز پر بھی کیا جاتا ہے اس لیے اس آیت کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ رات کے وقت نماز میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔

تیسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں تاکہ یہ وہم نہ کیا جائے کہ اس آیت میں یہودیوں کی تعریف ہے کیونکہ یہودی بھی تہجد کی نماز پڑھتے تھے اور رات کو اٹھ کر تورات کی تلاوت کرتے تھے ‘ سو اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ وہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہاں رسول پر ایمان لانے کا ذکر نہیں ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تب صحیح ہوگا جب اس کی تمام آیتوں پر ایمان لایا جائے اور تمام آیتوں میں یہ آیت بھی ہے :

(آیت) ” کل امن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ “۔ (البقرہ : ٢٨٥) 

ترجمہ : سب ایمان لائے اللہ پر ‘ اس کے سب فرشتوں پر اس کی سب کتابوں پر اور اس کے سب رسولوں پر (یہ کہتے ہوئے کہ) ہم ایمان لانے میں اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔

اور بالخصوص سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی اتباع کے متعلق فرمایا :

(آیت) ” الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل “۔ (الاعراف : ١٥٧)

ترجمہ : جو لوگ اتباع کرتے ہیں اس رسول ‘ نبی ‘ امی کی جس کو وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

اور یہود تمام رسولوں پر ایمان نہیں لائے تھے۔ ان کا حضرت عیسیٰ کی رسالت پر ایمان نہ تھا اور بالخصوص وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے منکر تھے اس لیے ان کا اللہ کی تمام آیتوں پر ایمان نہ ہوا ‘ اور جب اللہ کی آیتوں پر ایمان نہ ہوا تو اللہ پر ایمان نہ ہوا ‘ لہذا اس میں ایمان والوں کی جو صفات ذکر کی گئی ہیں ‘ اس سے یہودی مراد نہیں ہوسکتے۔

چوتھی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ‘ انسان کا پہلا کمال یہ ہے کہ اس کے عقائد صحیح ہوں اور اس کے عمال صالح ہوں ‘ اور دوسرا کمال یہ ہے کہ وہ خود کامل ہونیکے بعد دوسرے ناقصوں کو کامل بنائے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔

سو انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کامل ہونے کے بعد دوسرے ناقصوں کو کامل بنائے اور یہ فریضہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے ادا ہوگا ‘ بعض علماء نے کہا ہے کہ نیکی کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی توحید اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کا حکم دیں ‘ اور برائی سے روکنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ شریک بنانے اور آپ کی رسالت کے انکار سے روکیں ‘ لیکن تحقیق یہ ہے کہ امر بالمعروف سے مراد یہ ہے کہ تمام عقائد صحیحہ کے ماننے کا حکم دیا جائے اور تمام فرائض ‘ واجبات ‘ سنن اور مستحبات پر حسب مراتب عمل کرنے کا حکم دیا جائے اور تمام محرمات ‘ مکروہات تحریمہ ‘ تنزیہہ اور خلاف اولی کاموں سے حسب مراتب منع کیا جائے۔

پانچویں صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ نیکی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں ‘ یعنی ہر نیک کام کو اس کے وقت پر کرلیتے ہیں اور فرائض اور واجبات کو فوت ہونے سے پہلے ادا کرلیتے ہیں ‘ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ نیک کاموں کو خوشی اور سعادت سمجھ کر کرتے ہیں ‘ بوجھ اور بیگار سمجھ کر نہیں کرتے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ عجلت سے کام کرنا تو ممنوع ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اطمینان سے کام کرنا اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور جلدی کرنا شیطان کی طرف سے ہے۔ (جامع ترمذی ص ٢٩٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

اس کا جواب یہ ہے کہ سرعت اور عجلت میں فرق ہے ‘ سرعت کا معنی ہے جس کام کو پہلے کرنا چاہیے اس کو پہلے کیا جائے اور عجلت کا معنی ہے جس کام کو موخر کرنا چاہیے اس کو مقدم کردیا جائے ‘ نیز یہاں سرعت سے مراد یہ ہے کہ دین کے کاموں کو انتہائی خوش دلی اور رغبت سے کیا جائے۔

چھٹی صفت : یہ بیان فرمائی : کہ وہ لوگ صالحین میں سے ہیں ‘ یہ بہت عظیم صفت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء (علیہم السلام) کا صالحیت کے وصف کے ساتھ ذکر کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” و زکریا ویحی و عیسیٰ والیاس کل من الصلحین “ (الانعام : ٨٥)

ترجمہ : اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس (یہ) سب صالحین میں سے ہیں۔

اور ساتویں صفت یہ بیان فرمائی : اور وہ جو بھی نیک کام کرتے ہیں اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی، یعنی ان لوگوں کو ان کے نیک اعمال کی جزا سے ہرگز محروم نہیں کیا جائے گا ‘ کفر کا معنی ہے چھپا لینا اور کسی شخص کی نیکی کی جزا نہ دینا اس کو چھپانے کے مترادف ہے ‘ اس لیے یہاں انہیں جزا نہ دینے کو کفر سے تعبیر فرمایا۔ مزید برآن یہ کہ اللہ تعالیٰ نیکی کی جزاء دینے کو شکر فرماتا ہے۔ (آیت) ” فان اللہ شاکر علیم “۔ (البقرہ : ١٥٨)

اس اعتبار سے اس آیت میں جزا نہ دینے کو کفر سے تعبیر فرمایا۔ اور اس کی دلیل یہ فرمائی کہ اللہ متقین کو خوب جاننے والا ہے اس لیے ان کے نیک کاموں پر ان کو اچھی جزا سے محروم نہیں فرمائے گا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 113