الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ- سورۃ 3 – آل عمران – آیت 134

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ۚ

ترجمہ:

جو لوگ خوشحالی اور تنگ دستی میں خرچ کرتے ہیں اور جو غصہ پینے والے ہیں اور لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ خوش حالی اور تنگ دستی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : ١٣٤)

خوشحالی اور تنگ دستی کے علاوہ سراء اور ضراء کے اور بھی کئی معانی بیان کیے گئے ہیں۔ ایک معنی آسانی اور مشکل ہے ‘ دوسرا معنی صحت اور مرض ہے ‘ تیسرا معنی زندگی اور موت کے بعد وصیت ہے ‘ چوتھا معنی شادی اور غمی ہے ‘ پانچواں معنی ہے اپنی اولاد اور قرابت داروں پر خرچ کرنا اس سے خوشی ہوتی ہے اور دشمنوں پر خرچ کرنا جو کوئی خوشی کا باعث نہیں ہے ‘ چھٹا معنی ہے مہمانوں پر خرچ کرنا اور مصیبت زدہ لوگوں پر خرچ کرنا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو غصہ پینے والے ہیں اور لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (آل عمران : ١٣٤)

غصہ ضبط کرنے کا طریقہ اور اس کی فضلیت :

غصہ ضبط کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ کسی غصہ دلانے والی بات پر خاموش ہوجائے اور غیظ وغضب کے اظہار اور سزا دینے اور انتقام لینے کی قدرت کے باوجود صبر و سکون کے ساتھ رہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غصہ ضبط کرنے اور جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے طریقوں کی ہدایت دی ہے۔

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لڑ رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص بہت شدید غصہ میں تھا اور یوں لگتا تھا کہ غصہ سے اس کی ناک پھٹ جائے گی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ایک ایسے کلمہ کا علم ہے اگر یہ وہ کلمہ پڑھ لے گا تو اس کا غضب جاتا رہے گا ‘ حضرت معاذ نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کلمہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ یہ کہے ” اللہم انی اعوذ بک من الشیطن الرجیم “۔ حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص غصہ ہو اور وہ کھڑا ہوا ہو تو بیٹھ جائے پھر اگر اس کا غصہ دور ہوجائے تو فبہا رونہ پھر وہ لیٹ جائے۔

عطیہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا غضب شیطان (کے اثر) سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص غضب ناک ہو تو وہ وضو کرلے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٣٠٤۔ ٣٠٣ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

غصہ ضبط کرنے کی فضیلت میں بھی احادیث ہیں ‘ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے غصہ ضبط کرلیا حالانکہ وہ اس کے اظہار پر قادر تھا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو امن اور ایمان سے بھر دے گا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ٦١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے غصہ کو ضبط کرلیا باوجودیکہ وہ اس کے اظہار پر قادر تھا اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے سامنے اس کو اختیار دے گا وہ جس حور کو چاہے لے لے۔

حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ فرمایا تمہارے نزدیک پہلوانی کا کیا معیار ہے ؟ صحابہ نے کہا جو لوگوں کو پچھاڑے اور اس کو کوئی نہ پچھاڑ سکے ‘ آپ نے فرمایا نہیں ‘ بلکہ پہلوان وہ شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٣٠٣ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اپنے غصہ کو دور کیا اللہ تعالیٰ اس سے عذاب کو دور کر دے گا ‘ اور جس نے اپنی زبان کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ اس کے عیوب پر پردہ رکھے گا اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے اور اس میں عبدالسلام بن ہاشم ایک ضعیف راوی ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٦٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

اور غصہ نہ کرنے کی فضیلت میں بھی احادیث ہیں ‘ حافظ الہیثمی بیان کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ مجھے اللہ عزوجل کے غضب سے کیا چیز دور کرسکتی ہے ؟ فرمایا تم غصہ نہ کرو ‘ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ضیعف ہے اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں :

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ایسا عمل بتلائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم غصہ نہ کرو تو تمہارے لیے جنت ہے ‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں روایت کیا ہے اور معجم کبیر کی ایک سند کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٧٠۔ ٦٩ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

معاف کرنے کی فضیلت : 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(آیت) ” واذا ما غضبوا ھم یغفرون “۔ (الشوری : ٣٧)

ترجمہ : اور جب وہ غضب ناک ہوں تو معاف کردیتے ہیں :

(آیت) ” وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “۔ (الشوری : ٣٩)

ترجمہ : اور برائی کا بدلہ اس کی مثل برائی ہے ‘ پھر جس نے معاف کردیا اور اصلاح کرلی تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔

(آیت) ” ولمن صبر وغفران ذالک لمن عزم الامور “۔ (الشوری : ٤٣)

ترجمہ : اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو یقینا یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےحیائی کی باتیں طبعا کرتے تھے نہ تکلفا اور نہ بازار میں بلند آواز سے باتیں کرتے تھے ‘ اور برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معاف کردیتے تھے اور درگزر فرماتے تھے۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو زیادتی بھی کی گئی میں نے کبھی آپ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا بہ شرطی کہ اللہ کی حدود نہ پامال کی جائیں اور جب اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے ‘ اور آپ کو جب بھی دو چیزوں اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٩٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو ‘ اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا ‘ ہاں اگر اللہ کی حدود پامال کی جاتیں تو آپ ان کا انتقام لیتے تھے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٣٠٤ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا ‘ میں نے ابتداء آپ کا ہاتھ پکڑ لیا ‘ اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے ‘ آپ نے فرمایا : اے عقبہ ‘ جو تم سے تعلق توڑے اس سے تعلق توڑو ‘ جو تم کو محروم کرے ‘ اس کو عطا کرو ‘ اور جو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو ‘ (مسند احمد ج ٤ ص ١٤٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

حافظ ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے ‘ اس میں یہ الفاظ ہیں جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردو۔ (تہذیب تاریخ دمشق ج ٣ ص ٦١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

میمون بن مہران روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ان کی باندی ایک پیالہ لے کر آئی جس میں گرم گرم سالن تھا ‘ ان کے پاس اس وقت مہمان بیٹھے ہوئے تھے ‘ وہ باندی لڑکھڑائی اور ان پر وہ شوربا گرگیا ‘ میمون نے اس باندی کو مارنے کا ارادہ کیا ‘ تو باندی نے کہا اے میرے آقا ‘ اللہ تعالیٰ کے اس قول پر عمل کیجئے (آیت) ” والکاظمین الغیظ “۔ میمون نے کہا میں نے اس پر عمل کرلیا (غصہ ضبط کرلیا) اس نے کہا اس کے بعد کی آیت پر عمل کیجئے (آیت) ” والعافین عن الناس “۔ میمون نے کہا میں نے تمہیں معاف کردیا ‘ باندی نے اس پر اس حصہ کی تلاوت کی : (آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ میمون نے کہا میں تمہارے ساتھ نیک سلوک کرتا ہوں اور تم کو آزاد کردیتا ہوں۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢٠٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

نیز علامہ قرطبی نے امام مبارک کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ عزوجل کے سامنے ایک منادی ندا کرے گا جس نے اللہ کے پاس کوئی بھی نیکی بھیجی ہو وہ آگے بڑھے تو صرف وہ شخص آگے بڑھے گا جس نے کسی کی خطا معاف کی ہوگی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 134

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.