أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةٌ لِّلۡمُتَّقِيۡنَ

ترجمہ:

یہ لوگوں کے لیے واضح بیان ہے اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ لوگوں کے لیے واضح بیان ہے اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ (آل عمران : ١٣٨)

اس آیت میں بیان ‘ ہدایت اور نصیحت کا ذکر ہے ‘ جس کلام سے کسی پیدا ہونے والے شبہ کا ازالہ کیا جائے اس کو بیان کہتے ہیں ‘ اور جو کلام امور شرعیہ میں رہنمائی پر مشتمل ہو اس کو ہدایت کہتے ہیں اور جو کلام کسی برے کام سے ممانعت کی تلقین پر مشتمل ہو اس کو نصیحت کہتے ہیں اس آیت میں فرمایا ہے یہ کلام متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے ‘ اس تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام سے ہدایت اور نصیحت متقین ہی حاصل کرتے ہیں اگرچہ یہ کلام تمام دنیا کے لیے پیش کیا گیا ہے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہدایت کی پیش کش دنیا کے تمام لوگوں کے لیے ہے لیکن اس سے فائدہ متقین نے ہی اٹھایا ہے

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 138