مقدمہ

بقلم مرتب

نحمدہ ونصلی ونسلم علی حبیبہ الکریم وآلہ واصحابہاجمعین۔ امابعد۔

اللہ رب العزت جل جلالہ وعم نوالہ نے اپنے حبیب کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کو کائناتعالم میں معلم کتاب وحکمت بناکر مبعوث فرمایا اور بے شمار مناصب علیا ومراتب قصوی سے عزت وکرامت بخشی ۔

آپ ہادی اعظم اور مبلغ کائنات بھی ہیں ،جیسا کہ فرمان الہی ہے ۔

یآایھا الرسول بلغ ماانزل الیک من ربک ،وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ۔ واللہ یعصمک من الناس ،ان اللہ لایہدی القوم الکافرین ۔ (پارہ ۴ ع آل عمران)

اے رسول ! پہونچادو جو کچھ اترا تمہیں تمہارے رب کی طرف سے ، اور ایسا نہ ہو تو تم نے اسکا کوئی پیام نہ پہونچایا ،اور اللہ تمہاری نگہبانی کریگا لوگوں سے ۔ بیشک اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔

’’ اور معلم کتاب وحکمت بھی ‘‘۔ ارشاد الہی ہے ۔

لقد من اللہ علی المؤمنین اذبعث فیہم رسولامنہم یتلوعلیہم آیاتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ۔(پارہ ۴ ع آل عمران)

بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا انسانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اسکی آیتیں پڑھتاہے اورانہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتاہے ،اور وہ ضرور اس سے پہلے گمراہی میں تھے ۔

نیز طیبات کوحلال اور خبائث کو حرام فرمانے والے بھی ہیں ۔خداوندقدوس کا فرمان ہے ۔

ویحل لہم الطیبات ویحرم علیہم الخبائث ویضع عنہم اصرہم والاغلال التی کانت علیہم ۔(پارہ ۹ ع ۹ الاعراف)

اور ستھری چیزیں انکے لئے حلال فرمائیگا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا ، اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتارے گا۔

اور احکم الحاکمین کے نائب مطلق بھی۔فرماتاہے ۔

فلاوربک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لایجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما۔ ( پارہ ۵ ع ۶ النساء)

تواے محبوب ! تمہارے رب کی قسم ،وہ مسلمان نہ ہونگے جب تک اپنے آپ کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں ،پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں ۔

نیز فرماتاہے :۔

وماکان لمؤمن ولامؤمنۃ اذاقضی اللہ ورسولہ امرا ان یکون لہم الخیرۃ من امرہم ومن یعص اللہ ورسولہ فقد ضل ضلالا مبینا۔ ( پارہ ۲۲ ع ۲ الاحزاب)

اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہونچتا ہے کہ جب اللہ ورسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے اور جو حکم نہ مانے اللہ اور اسکے رسول کا وہ بیشک صریح گمراہی میں بہکا۔

حضور کی ذات گرامی اہل عالم کے لئے نمونہ عمل ہے

آپکی عظیم شخصیت ہر شخص کیلئے اسوئہ حسن اور نمونۂ عمل ہے ۔فرمان الہی ہے۔

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃحسنۃ لمن کان یرجوااللہ والیوم

الآخر۔(پارہ ۲۱ ع ۱۸ الاحزاب)

بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہترہے ۔ ہراس شخص کیلئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھا ہے۔

امت مسلمہ کو آپکی اتباع اور پیروی کا حکم ہے جس سے اعراض دنیا وآخرت کا خسران مبین ہے ،اور آپکی اطاعت وفرمانبرداری ہدایت ونجات کااہم ذریعہ اور صلاح وفلاح کی ضامن ہے ۔

قرآن حکیم میں باربار اس کا حکم آیا اور باری تعالیٰ نے اپنا منشاومراد یوں ظاہر فرمایا۔

فآمنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن باللہ وکلماتہ واتبعوہ لعلکم تہتدون (پارہ ۸ ع ۱۰ الاعراف)

توایمان لاؤ اللہ اوراسکے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اسکی باتوں پر ایمان لاتے ہیں ،اور انکی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ ۔

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ویغفرلکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم۔ ( پارہ ۳ ع ۱۲ آل عمران)

اے محبوب ! تم فرمادوکہ لوگو!اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ ، اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخشدے گا ،اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ۔

وماآتکم الرسول فخذوہ ومانہاکم عنہ فانتہوا ،واتقعواللہ ان اللہ شدید العقاب۔( پارہ ۲۸ ع ۴ الحشر،)

اور جو کچھ تمہیں رسول عطافرمائیں وہ لو ،اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے ۔

قل اطیعوا اللہ والرسول فان تولوفان اللہ لایحب الکافرین ۔(پارہ ۳ ع ۱۲ آل عمران)

تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا ، پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر۔

ان تمام آیات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو امت کا پیشوا بنایا ،انکی پیروی کا حکم دیا ،نمونۂ تقلید بناکر بھیجا اور تشریعی اختیارات عطافرمائے ،آپ نے

اللہ تعالیٰ کے عطاکردہ مناصب کو بروئے کار لاکر بے شمار چیزوں کا حکم بھی دیا اور ان گنت چیزوں سے منع بھی فرمایا ۔ جسکے لئے یہ امر لازم ہے کہ حضور پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کلام بھی قرآن عظیم کیطرح ہدایت کا سرچشمہ تسلیم کیا جائے اور اسلام کیلئے اسکو اصل سند مانا جائے۔

حضور سید عالم ﷺ شارح کلام ربانی ہیں

ان تمام اوصاف وکمالات کی واقعی حیثیت کے پیش نظر حتمی اور یقینی طور پر کہاجاتاہے کہ خداوند قدوس نے آپکو دین اسلام کی تعلیمات کیلئے جہاں قرآن کریم کے ذریعہ تبلیغ وہدایت کا فریضہ سونپا وہیں اسکی تشریح وتفسیر ،تبیین وتوضیح اور بیان وتصریح کیلئے اپنے افعال واقوال اورسیرت وکردار کے ذریعہ عام فرمانے کا حکم بھی فرمایا ۔

قرآن کریم میں نماز کا حکم یوں ہے ۔

واقیمواالصلوۃ ،

اور نماز قائم کرو ۔

آپ نے اسکی تفسیر اپنے اقوال وافعال سے یوں فرمائی ،کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے،فلاں وقت میں اتنی رکعات اور فلاں میں اتنی ، شرائط یہ ہیں اور ارکان وفرائض یوں ہیں، انکے ساتھ ہی سنن ومستحبات کی نشاندہی ،ان تمام چیزوں کی تفصیل سے کتابیں مالامال ہیں اور ان پر عمل کی راہیں ہمار ے لئے پورے طور پر ہموار کردی گئی ہیں ۔اگر آپکی ذات اقدس نماز کی ادائیگی کیلئے کامل نمونہ نہ ہوتی تو پھر نماز پڑھنا اس اجمالی قرآنی حکم کے تحت ممکن ہی نہ تھا ۔

زکوۃ، روزہ اور حج وعمرہ ان سب کیلئے بھی حضور کی قولی یاعملی وضاحت ضروری تھی ورنہ ارکان اسلام پر کوئی عمل کر ہی نہیں سکتاتھا ۔

قرآن عظیم بلاشبہ ہمارے لئے ایک مکمل اور جامع دستور حیات ہے لیکن اسکے فرامین اصول وضوابط کے طور پر امت مسلمہ کو عطاہوئے جن کا اعجازوایجاز اپنی غایت ونہایت کو پہونچاہوا ہے ۔ایک ایک آیت ایسی جامعیت رکھتی ہے کہ اسکے نیچے معانی ومفاہیم کا ایک بحربیکراں ودیعت کردیاگیاہے ۔ اسکی توضیح وتفسیر کیلئے ہم ہی کیاصحابہ کرام بھی اس سرچشمہ ہدایت کے محتاج نظر آتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ تھی کہ قرآن اپنی رائے سے نہیں بلکہ تعلیمات رسول سے سمجھااور سمجھایاگیا ۔ اور اسی افہام وتفہیم کا نام سنت رسول اور احادیث مصطفی ہے ۔

علیہ التحیۃ والثناء ۔

لہذا زندگی کے ہر موڑ پر آپکی سنت وسیرت نے لوگوں کیلئے آسانی کی شاہراہیں قائم فرمائیں اور ہر قرن وصدی میں اسلام کی اس عظیم دولت سے لوگ سرفراز رہے ۔رشدوہدایت کیلئے ہر دور میں سنت رسول کی ضرورت کو محسوس کیا گیا اور گمرہی وبے دینی سے نجات حاصل کرنے کیلئے کتاب اللہ کے ساتھ سنت کو خاص اہمیت دی جاتی رہی ۔اور حقیقت یہ ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی سنت کریم کودین اسلام میں اسی حیثیت سے اجاگر فرمایا، فرمان رسول ہے ۔

ترکت فیکم امرین لن تضلوا ماتمسکتم بھما ،کتاب اللہ وسنۃ ر سولہ ۔(الموطا لمالک ۸۹۹)

میں تم میں دوچیزیں چھوڑرہاہوں ،جب تک ان دونوں پر عمل پیرا رہوگے ہرگز ہلاک نہیں ہوگے ،اللہ کی کتاب ، اور اسکے رسول کی سنت ۔

جن لوگوں نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل کا رسول بر حق تسلیم کیاہے انکے لئے اس بات کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ آپکے فرامین کو بحیثیت فرمان رسول نشانۂ تنقید بنائیں اور اسکے انکار کی کوئی راہ پیداکریں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان تمام چیزوں کی مذمت خود اپنی حیات مقدسہ میں فرمائی اور منکرین حدیث وسنت کی واضح الفاظ میں تردید فرماکر قیامت تک آنے والے لوگوں کو خبردار کردیا ۔فرماتے ہیں ۔

لاالفین احدکم متکئا علی اریکتہ یاتیہ الامرمما امرت بہ اونہیت عنہ فیقول : لاادری، ماوجدنا فی کتاب اللہ اتبعناہ ۔(السنن لا بن ماجہ، عن ابی رافع ، رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱/۳)

میں تمہیں اس حالت میں نہ پائوں کہ تم میں سے کوئی اپنی مسہری پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کے پاس میرا کوئی حکم یا میری جانب سے کوئی ممانعت پہونچے تووہ اس کے جواب میں یہ کہے : ہم نہیں جانتے،ہم تو اس کی پیروی کریں گے جو اللہ کی کتاب میں پائیں گے۔

نیز فرماتے ہیں: ۔

یوشک الرجل متکئا علی اریکتہ یحدث بحدیث من حدیثی فیقول : بیننا وبینکم کتاب اللہ عزوجل ،فماوجدنا فیہ من حلال استحللناہ وماوجدنا فیہ من حرام حرمناہ ،الا وان ماحرم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مثل ماحرم اللہ ۔ (السنن لا بن ماجہ عن المقدام بن معدی کرب الکندی رضی اللہ عنہ ۱/۳)

عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ آدمی اپنے تخت پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوگا اور اس کے سامنے میری حدیث بیان کی جائے گی تووہ جواب میں کہے گا : ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی اللہ کی کتاب ہے ، جو کچھ ہم اس میں حلال پائیں گے اسے حلال جانیں گے اور جو کچھ حرام پائیںگے اسے حرام سمجھیں گے ۔آگاہ رہو کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حرام

فرمایا وہ بھی ویسا ہی حرام ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ۔

قرآن عظیم کی مندرجہ ذیل آیت سے بھی حدیث وسنت کی بنیادی اوراستنادی حیثیت کا واضح ثبوت فراہم ہوتاہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ۔

وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیہم۔( پارہ ۱۴ ع ۱۲ النحل ۴۴)

اور اے محبوب ! ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو انکی طرف اترا ۔

امت مسلمہ کو یہ عظیم کتاب اسی لئے عطاہوئی تھی کہ یہ ازاول تاآخر ہدایت ہے ۔ لیکن اسکی تعلیما ت محض زبان دانی کے ذریعہ حاصل نہیں ہوسکتی تھیں ۔ اسی لئے حضور نبی کریم صلی اللہ

تعالیٰ علیہ وسلم کو ہادی برحق مبعوث فرمایا اور اسکی توضیح وتفسیر کی ذمہ داری بھی آپ کو سونپی گئی ۔

آپ نے یہ فریضہ باحسن وجوہ اداکیا ،نظم قرآن ہم تک پہونچانے کیلئے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اول دن سے ہی تاکید فرمادی تھی اور عملی طور پر کاتبان وحی یہ فریضہ انجام دیتے ،لہذا نزول قرآن کے ساتھ ساتھ اسکو لکھا جاتا رہا ۔ پھر دور صدیقی میں اسکی جمع وتدوین ہوئی اور عہد عثمانی میں اسی نسخہ کو شائع کردیا گیا ۔یہاں تک کہ کسی شبہ کے بغیر بطورتواتر یہ

قرآن ہم تک نقل ہو کر پہونچا۔ اسی طرح معانی ومراد کلام الہی کی وضاحت کیلئے ضرورت تھی کہ آپ انتظام فرماتے، چنانچہ آپ نے ان تمام چیزوں کو جنکی امت کو ضرورت تھی مختلف مواقع پر اپنے اقوال وافعال اور تقریرات سے بیان فرمادیا ۔اس طرح کبھی آپ مجمل کی تفسیر فرماتے اور عام کو خاص اور مطلق کو مقید فرماتے جسکی بے شمارمثالیں آج بھی کتابوں میں موجود پائیں گے ۔ چندمثالیں ہدیہ ناظریں ہیں ۔

قرآن کریم میں ہے :۔

والسارق والسارقۃ فاقطعواایدیہما جزاء بما کسبا ۔(پارہ ۶ ع ۱۰ المائدۃ،)

اور جو مرد یاعورت چو ر ہوتو انکا ہاتھ کاٹو ان کے کئے کا بدلہ۔

اس آیت میں لفظ ’سارق ،اور، ید، دونوں مطلق وارد ہوئے ہیں،ان دونوں کی وضاحت احادیث نبویہ کے بغیر مشکل ہے کہ افراط وتفریط میں پڑنے کا اندیشہ ہے ،لہذاحدیث

نے ہماری اس طرح رہنمائی فرمائی ۔

لاتقطع الید الافی ثمن المجن وثمنہ یؤمئذدینار ۔(السنن للنسائی ، عن ایمن بن ام ایمن ضی اللہ تعالیٰ عنہما، ۲/۲۲۵)

چور کا ہاتھ ایک ڈھال کی قیمت میں ہی کاٹاجاتاتھا اور ڈھال کی قیمت اس زمانہ اقدس میں ایک دینار تھی ۔

دوسری روایت میں ہے ۔

کان ثمن المجن علی عہد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقوم

عشرۃ دراہم ۔(السنن للنسائی عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۲ /۱۲۵)

ڈھال کی قیمت حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد پاک میں دس درہم تھی اسی طرح مقدار’ ید‘ کی تشریح میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں

پہونچے سے ہاتھ کاٹاجاتاتھا۔

اگر اس طرح کی تشریحات نہ ہوتیں تو یہ فیصلہ نہ ہوپاتا کہ کتنی رقم کی چیز پر ہاتھ کاٹاجائے اور کہاں سے کاٹاجائے ۔

دوسر ی مثال ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔

الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئک لہم الامن وہم مہتدون ۔ (پارہ ۷ ع ۱۵ الانعام، ۸۲)

وہ جوایمان لائے اوراپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی ، انہیں کیلئے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں ۔

اس آیت کے نزول پر صحابہ کرام کو یہ اشکال ہوا کہ ظلم سے ہر قسم کا ظلم مراد ہے توپھر امت حرج ودشواری میں مبتلاہوجائیگی ۔بارگاہ رسالت میں عرض کیا تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسکی وضاحت اورتعیین مراد الہی یوں فرمائی ۔کہ یہاں ظلم سے شرک مراد ہے ،

اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس اشکال کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی ہے ،

ان الشرک لظلم عظیم ۔( پارہ ۲۱ ع ۱ ۱ لقمان،)

بیشک شرک بڑاظلم ہے ۔

تیسری مثال ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:۔

واذاضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا ۔(پارہ ۵ ع ۱۲ النساء ۱۰۱)

اور جب تم زمین میں سفر کرو توتم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو، اگرتمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذادینگے ۔

اس آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتاہے کہ سفر میں نماز قصر کرنے کا حکم خوف کے ساتھ مشروط ہے ۔ حالانکہ خوف کفار قصر کیلئے شرط نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے ۔

حضرت یعلی بن امیہ فرماتے ہیں ۔

قلت لعمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ ان خفتم ‘‘ وقدأمن الناس ، فقال : عجبت مماعجبت منہ حتی سألت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عن ذلک ،فقال : صدقۃ تصدق اللہ بہا علیکم فاقبلواصدقتہ۔(التفسیر لا بن جریر ۴ /۲۴۳)

میں نے حضرت امیرالمؤمنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا: ہم تو امن میں ہیں پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں ؟فرمایا: اسکا مجھے بھی تعجب ہواتھا ،تو میں نے سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا، حضور نے فرمایا : تمہارے لئے یہ اللہ کی طرف سے

صدقہ ہے تم اسکا صدقہ قبول کرو۔

چوتھی مثال ،اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔

حرمت علیکم المیتۃ والدم ۔(پارہ ۶ ع ۵ المائدۃ، ۳)

تم پر حرام ہے مرداراور خون۔

لیکن حدیث شریف میں دومردار اوردوخون حلال فرمادیئے یعنی مچھلی اور ٹڈی خواہ مردہ ہوکھانا جائز ، اسی طرح جگر وتلی کہ یہ بھی حلال ہیں حالانکہ بستہ خون ہیں ۔

پانچویں مثال ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔

قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق،(پارہ ۸ ع ۱۱ الاعراف ۳۲)

تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کیلئے نکالی اور پاک

رزق ۔

اس آیت سے بظاہر یہ ہی سمجھاجاسکتاہے کہ ہر طرح کی زینت ہر شخص کیلئے جائز

ومباح ہے ۔

لیکن حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسکی تخصیص یوں بیان فرمائی ۔

یہ ریشم وسونا عورتوں کیلئے جائز اور مردوں کیلئے ناجائز ۔ مستدرک۔

چھٹی مثال ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

وان تجمعوابین الاختین ۔(پارہ ۴ ع ۱۵ النساء ۲۳)

اور دوبہنیں اکٹھی کرنا نکاح میں حرام۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے واضح فرمادیا کہ پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی

بھی اسی حکم میں داخل ہیں ۔

غرض کہ وضووغسل کی تفصیل ہو یانماز روزہ کے مسائل ،حج وزکوۃ کے احکام ہوں یانکاح ووراثت کے قوانین ، سب کے تفصیلی مباحث میں آپکو سنت رسول کی جلوہ گری نمایاں

ملے گی ۔

ان حقائق کو تسلیم کرلینے کے بعد یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے آپکو محض قانون داں ہی نہیں بنایا بلکہ تبلیغ شرائع کیلئے مکمل اختیار بھی مرحمت

فرمایا اور سب کو حقیقی طور پر اپنی طرف منسوب فرماکر یوں ارشاد فرمایا ۔

وماینطق عن الہوی ،ان ہوالاوحی یوحی ،( پارہ ۲۷ ع النجم،)

پس ازروئے نص قرآنی جوذات اس درجہ موٗقر ومعتبرہوئی کہ قرآن عظیم کی شارح ومفسر قراردی گئی ،اسکے خاص کو عام اورعام کوخاص کرنے والی بتائی گئی ، مطلق کو مقید اور مقید کو مطلق فرمانے والی مانی گئی ،حد یہ کہ وہ صرف قانون دان ہی نہیں ،قانون سازی کے درجہ پر فائز ہوئی۔ اسکی زبان اور اسکا کلام اس درجہ بے اعتبار وغیر معتبر ہوگا کہ اسکو ردی کی ٹوکری میں ڈالدیا

جائے ،کون انسان اسے باورکریگا ۔مگر افسوس کہ ۔

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں ٭ ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق