أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَلَمَّا يَعۡلَمِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا مِنۡكُمۡ وَيَعۡلَمَ الصّٰبِرِيۡنَ

ترجمہ:

کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو (دوسروں سے) ممتاز نہیں کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو (دوسروں سے) ممتاز نہیں کیا۔ (آل عمران : ١٤٢)

فتح اور شکست کو گردش دینے کی اصل حکمت : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے وہ لوگو ! جو جنگ احد میں ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے شکست کھاچکے ہو اور کافروں کی یلغار اور ان کے دباؤ کی وجہ سے جن کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اور جان بچانے کے لیے گھبرا کر بھاگے تھے کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح جنت میں داخل ہوجاؤ گے جو اس جنگ میں شہید ہوچکے ہیں یا جو لوگ زخمی ہونے اور کافروں کے دباؤ کے باوجود ثابت قدم رہے اور زخموں سے چور چور ہونے کے باوجود صبر و استقامت کے ساتھ اپنے مورچوں میں ڈٹے رہے اور اپنی جانوں پر کھیل کر ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کرتے رہے !

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مسلمانوں کے درمیان فتح اور شکست کو گردش دینے کے اسباب بیان فرمائے تھے ‘ ایک سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کافروں سے چھانٹ کر الگ کرلے کیونکہ جب جنگ احد میں عبداللہ بن ابی ابن سلول اپنے ساتھیوں کو لے کر مسلمانوں کے لشکر سے نکل گیا تو صرف مخلص مسلمان ہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہ گئے ‘ اور اس شکست کے نتیجہ میں جو مسلمان قتل کیے گئے وہ مقام شہادت سے سرفراز ہوئے ‘ اور جو مسلمان زندہ بچے وہ زخمی تھے اور شکست کے صدمہ سے دوچار تھے اور یہ چیز انکے گناہوں کا کفارہ بن گئی اور جب مسلمان جنگ میں غالب ہوں گے تو کفار بہ تدریج کم ہوتے چلے جائیں گے اور اس آیت میں فتح اور شکست کو گردش دینے کا اصل سبب بیان فرمایا ہے کہ تم یہ نہ گمان کرنا کہ تم مشقتوں کو جھیلنے ‘ جہاد کی صعوبتوں کو برداشت کرنے اور مصائب پر صبر کئے بغیر جنت میں چلے جاؤ گے ‘ جنت میں دخول کے لیے ضروری ہے کہ دشمن پر غلبہ پانے کے لیے تم جہاد میں ثابت قدم رہو اور اگر تم اپنی کسی کوتاہی کی بناء پر شکست کھا جاؤ تو اس مصیبت پر صبر کرو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 142