تعلیم کا مفہوم

تنویر ارشد

اللہ عزوجل کی اس دنیا میں مختلف قسم کی مخلوقات پائی جاتی ہیں اُن میں بعض مخلوقات کے پاس کچھ قدرتی صلاحتیں ہوتی ہیں جو اُنھیں ان کے ماحول کے ساتھ ہم آہنگی میں مدد فراہم کرتی ہیں اور انھیں اس مقصد کے حصول کے لیے کسی منظم تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں پڑتی، مگر انسان کی حالت قدرے مختلف ہے، کیونکہ انسان تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ دوسرے پر منحصر رہتا ہے۔یہی سبب ہے کہ اہل خاندان اور سماج انسان کو روایتی اور غیر روایتی، رسمی اور غیر رسمی طور پر تعلیم سے آراستہ کرنے کی جتن کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہوں،اور اپنی کفالت خود کر سکیں۔جس فکر اورعقل سلیم کی وجہ سے انسان دیگر مخلوقات پر امتیازی شان رکھتا ہے وہ اُسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے اور یہی تعلیم اسے اپنے ماحول سے ہم آہنگی پیدا کرنے میں تاحیات مدد کرتی ہے۔

انسان کے وجودمیں آتے ہی تعلیم کا عمل شروع ہو جاتا ہے،جس کے لیے ماں کی گودبنیادی کرداراداکرتی ہے اور جو انسان کے لیے پہلا مکتب بھی ہے،اسی لیے ماں کی گود سے ہی حصول تعلیم پر زوردیاگیاہے،حدیث شریف میں اسی پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے:

 ’’اُطْلِبُوا لْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ اِلیٰ اللَّحْدِ۔‘‘

یعنی ماں کی گود سے لے کر مرنے (قبر) تک علم حاصل کرو۔

 کوشش اور خطا (Trail & Error) کی تکنیک کے استعمال سے وہ اس بات کوسیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر کس طرح ماں کے سینے سے دودھ حاصل کیا جائے،چنانچہ جیسے جیسے اس کی معلومات کا دائرہ بڑھتاہے ویسے ہی اس کے روایتی وغیر روایتی اور رسمی و غیر رسمی اساتذہ کی تعداد بھی بڑھتی رہتی ہے اور یہ عمل اس کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔

اس طرح انسان کی پوری زندگی دانائی اور ذہانت کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے جو اُسے دیگر مخلوقات کے مقابلے میں اشرف المخلوقات کا تاج پہناتی ہے اور صالح فکر کی وجہ سے معاشرتی تعلقات کا تانا بانا وجود میں آتا ہے جو دیگر حیوانات میں نہیں پایاجاتا ہے۔

آج کل، سماج اور سماجی ضروریات بہت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ سماجی رشتے بھی دن بہ دن الجھتے جا رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر تازہ سانس کے ساتھ ایک نیا چیلنج سامنے آجاتا ہے اورنت نئی ایجادات اور دریافت انسان کو یہ سوچنے پر مجبورکررہی ہے کہ فطرت پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کیا جائے۔ ان سب باتوں کے علاوہ زندگی کو آسان اور آرام طلب بنانے میں اچھے سے اچھے کی تلاش نے بھی انسانی زندگی کے شب و روز کو انقلابی بنا کر رکھ دیا ہے،جس کا نتیجہ اس طورپرسامنے آرہا ہے کہ اسکولوں، مدارس، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رسمی تعلیم کے آغاز کی وکالت ہونے لگی ہے۔

 یہاں یہ بات واضح رہے کہ تعلیم کے عمل کو منظم اور صحت مند بنانے کے لیے فلسفیانہ خیالات، مذہبی اصول، نفسیاتی تجربات و اطلاعات اور سماجی بیداری و ضروریات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

تعلیم کا حقیقی تصور کیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس کے مفاہیم مندرجہ ذیل سطور میں پیش کیے جا رہے ہیں:

 تعلیم کا عام مفہوم 

عام لوگوں کے نزدیک مدرسہ یا اسکول میں دی جارہی معلومات اور ہدایات ہی تعلیم ہیں۔ اس عمل میں اساتذہ کچھ مخصوص مقاصد کے تحت طلبا کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس میں اساتذہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے ،جبکہ طلبا کی حیثیت محض ایک سامع جیسی ہوتی ہے۔ وہ صرف ان معلومات کو حاصل کرتے ہیں جو اُنھیں اساتذہ کے ذریعے دی جاتی ہیں اور اس عمل کے خاتمے پر سال کے آخر میں انھیں پاس اور فیل کی سند تھما دی جاتی ہے۔

تعلیم کا یہ تصور بہت ہی تنگ اور فرسودہ ہے، کیونکہ اس میں اساتذہ کے ذریعے صرف اطلاعات کی ترسیل ہوتی ہے اور طلبا کے ذریعے صرف ان کا حصول ہوتا ہے۔ اس عمل کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ اس میں طلبا کی شخصیت اوراس کی ہمہ جہت نشو و نما پر کوئی زور نہیں دیا جاتا ۔ نتیجے کے طور پر اس طرح کی تعلیم طلباکو اس قابل بنانے میں ناکام ثابت ہوتی ہے کہ وہ مستقبل کی مشکلات اور چیلنج کا سامنا کر سکیں۔

 تعلیم کاتکنیکی مفہوم

یہ تعلیم مدرسہ، اسکول اورباہر ہونے والے اُن تمام تجربات و مشاہدات کو شامل ہے جو ایک فرد کو اس کی پوری زندگی میں کسی بھی طرح سے متأثر کرتے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ طلبا کی شخصیت کی نشو و نما اور اُن کے کردار کی تعمیر کے عمل کا نام ہے۔

اس طرح تعلیم شعوری اور غیر شعوری طورپر ایک مسلسل  عمل ہے جو فرد، مقام اور وقت کی پابندیوں سے آزاد ہے۔ بیداری کی حالت میں ہر وقت ہم کچھ نہ کچھ ضرورحاصل کرتے رہتے ہیں چاہے وہ تعلیم کی شکل میں ،تجربات کی شکل میں ہو یا پھر معلومات کی شکل میں۔

وہ جگہ جہاں تجربات کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں، تکنیکی طور پر مدرسہ یا اسکول کہے جاتے ہیں اور ہر وہ فرد جو اِس عمل میں زیادہ سرگرم کردار ادا کرتا ہے وہ استاد کہلاتاہے۔

تعلیم کا عملی مفہوم

عملی طور پر نئے تجربات اور شخصیت کی ہمہ جہت نشو و نما کے لیے، فرد کی جبلی صلاحیتوں کا مکمل استعمال ہی تعلیم ہے، جس سے اس کی ذہنی، جسمانی اور روحانی صلاحیتوں کو فروغ حاصل ہو،اور اس تعلیم کے استعمال سے اُسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی معلومات ،تجربات اور مشاہدات کا حقیقی زندگی پر اطلاق کر ے تاکہ اپنی ذات، سماج اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود کا کام عمدہ طریقے سے انجام دے سکے۔

اس طرح تعلیم اپنے حدود کے اندر رہ کر بھی ایک فرد کو مکمل اور مثالی بنا سکتی ہے، اگرچہ کمال کا سب سے اونچا درجہ کبھی بھی قابل تسخیر نہیں رہا ہے،کیونکہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات ہی کامل او رمکمل ہے۔