أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا ‌ۚ وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ

ترجمہ:

بیشک جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئی تھیں اس دن جو لوگ تم میں سے پھرگئے تھے ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کے قدموں کو لغزش دی تھی اور یقینا اللہ نے ان کو معاف کردیا ‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑے حلم والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئی تھیں۔ اس دن جو لوگ تم سے پھرگئے تھے ‘ ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کے قدموں کو لغزش دی تھی ‘ بیشک اللہ نے ان کو معاف کردیا بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا حلم والا ہے (آل عمران : ١٥٥) 

جنگ احد میں بھاگنے والے مسلمانوں کا بیان : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض اصحاب جنگ احد کے دن مشرکین کے مقابلہ سے بھاگ گئے ‘ اس لغزش کی وجہ سے شیطان کا بہکانا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس لغزش کو معاف کردیا۔ اب اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں ‘ بعض نے کہا اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس دن مشرکین کے مقابلہ سے بھاگ گیا تھا 

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد جنگ احد کے دن قتال سے بھاگنے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اصحاب ہیں، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور یہ عمل شیطان کے بہکانے اور اس کے ڈرانے کی وجہ سے ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگذر فرمایا اور ان کو معاف کردیا۔ 

دوسرا قول یہ ہے اس آیت سے خاص لوگ مراد ہیں جو جنگ احد میں پیٹھ موڑ کر بھاگ گئے تھے ‘ امام ابن جریر روایت کرتے ہیں : 

عکرمہ بیان کرتے ہیں یہ آیت رافع بن معلی ‘ دیگر انصار ‘ ابوحذیفہ بن عتبہ اور ایک اور شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان ‘ حضرت عقبہ بن عثمان (رض) ‘ حضرت سعد بن عثمان (رض) اور دو انصاری جنگ احد کے دن بھاگ گئے حتی کہ وہ مدینہ کی ایک جانب جلعب نامی پہاڑ کے پاس پہنچ گئے ‘ پھر تین دن کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ نے ان سے فرمایا تم بہت دور چلے گئے تھے۔ 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا کیونکہ ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٩٦‘ مطبوعہ بیروت) 

جنگ احد میں بھاگنے کی وجہ سے حضرت عثمان پر طعن کا جواب : 

امام ابو اللیث نصربن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٠ ھ روایت کرتے ہیں :

غیلان بن جریر بیان کرتے ہے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کے درمیان بحث ہوئی ‘ حضرت عبدالرحمان نے کہا تم مجھے برا کہتے ہو ‘ حالانکہ میں جنگ بدر میں حاضر ہوا اور تم حاضر نہیں ہوئے اور میں نے درخت کے نیچے بیعت (رضوان) کی اور تم نے نہیں کی اور تم جنگ احد کے دن لوگوں کے ساتھ بھاگ گئے تھے حضرت عثمان نے فرمایا جنگ بدر میں حاضر نہ ہونے کا جواب یہ ہے کہ میں کسی غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غائب نہیں رہا ‘ البتہ غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی بیمار تھیں ‘ اور میں ان کی تیمارداری میں مشغول تھا ‘ اور رسول اللہ نے بدر کے مال غنیمت سے مجھے بھی اتنا ہی حصہ دیا تھا جتنا آپ نے دوسرے مسلمانوں کو حصہ دیا تھا اور رہا درخت کے نیچے بیعت کا معاملہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مکہ میں مشرکین سے بات کرنے کے لیے بھیجا تھا ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دایاں ہاتھ میرے اپنے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے بہتر ہے اور رہا جنگ احد میں بھاگنے کا سوال تو اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی : بیشک جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئی تھیں اس دن جو لوگ تم میں سے پھرگئے تھے ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کو لغزش دی تھی ‘ بیشک اللہ نے ان کو معاف کردیا۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٣١٠‘ مطبوعہ دار الباز مکہ مکرمہ ١٤١٣ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عثمان بن موھب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حج بیت اللہ کرنے کے لیے آیا۔ اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا اس نے پوچھا یہ کون لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ قریش ہیں ‘ پوچھا یہ بوڑھا آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت ابن عمر (رض) ہیں ‘ اس نے کہا میں آپ سے سوال کرتا ہوں کیا آپ مجھے اس کا جواب دیں گے ؟ میں آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان بن عفان جنگ احد کے دن بھاگ گئے تھے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے کہا ہاں ! اس سے کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ غزوہ بدر میں بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ حضرت ابن عمر نے کہا ہاں ! اس نے نعرہ لگایا اللہ اکبر ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا تم نے جن چیزوں کے متعلق سوال کیا تھا اب میں تم کو ان کی وجوہات بیان کرتا ہوں رہا جنگ احد میں بھاگنے کا معاملہ تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے اس کو معاف کردیا ‘ اور رہا غزوہ بدر میں غیرحاضر رہنا ‘ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی (حضرت رقیہ (رض) ان کے نکاح میں تھیں ‘ (وہ ان کی تیمارداری کر رہے تھے) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم کو بدر میں حاضر ہونے والے مسلمانوں اجر اور مال غنیمت ملے گا اور رہا بیعت رضوان سے غائب ہونے کا معاملہ تو یہ بیعت اس وقت ہوئی تھی جب حضرت عثمان (رض) مکہ جا چکے تھے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے ‘ پھر اس کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا ‘ اور فرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے۔ پھر حضرت ابن عمر (رض) نے اس شخص سے فرمایا تم نے یہ جوابات سن لیے اب جہاں جانا چاہو چلے جاؤ۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٨٢۔ ٥٨١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

جنگ احد میں مسلمانوں کی جس خطاء کی وجہ سے شیطان نے ان کو لغزش دی۔

اس آیت میں مذکور ہے : ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کے قدموں کو لغزش دی تھی۔ 

ان کے وہ کون سے کام تھے جن کی وجہ سے شیطان نے ان کو لغزش دی تھی ؟ اس کی کئی تفسیریں ہیں : ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے مرکز کو ترک کرنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکم عدولی کی ‘ اور مال غنیمت لوٹنے کے لیے دوڑ پڑے ‘ حسن نے کہا انہوں نے شیطان کے وسوسوں کو قبول کرلیا دوسرا قول یہ ہے کہ کہ دشمن سے شکست کھا جانا معصیت نہیں تھا ‘ لیکن جب انہوں نے سنا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیئے گئے تو وہ مدینہ کی حفاظت کے لیے شہر میں چلے گئے تاکہ دشمن اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پکار رہے تھے تو انہوں نے خوف اور ہراس کے غلبہ کی وجہ سے آپ کی پکار کو نہیں سنا ‘ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دشمن کی تعداد ان سے کئی گنا زیادہ تھی کیونکہ وہ سات سو تھے اور دشمن تین ہزار تھا اور ان حالات میں شکست کھاجانا بعید نہیں ہے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ بھاگ جانا ایسی خطاء ہے جو جائز نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ سوچا ہو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی احد پہاڑ کی کسی جانب نکل گئے ہیں۔ 

معلوم یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے اچانک پلٹ کر آنے اور اس کے زبردست دباؤ کی وجہ سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بےسوچے سمجھے بھاگ پڑے۔ بہرحال یہ خطاء کسی وجہ سے بھی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا اور سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص اپنے گناہ سے تائب ہوجائے وہ اس کی مثل ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کا اعلان کردیا تو اب کسی شخص کے لیے ان پر اعتراض کرنا جائز نہیں ہے ‘ صحابہ کرام (رض) میں جو باہمی اختلافات تھے اور اس کی وجہ سے جو ان میں جنگیں ہوئیں۔ ہو سب اجتہادی امور پر مبنی تھیں ‘ حضرت علی (رض) اور ان کے رفقاء کا گروہ اپنے اجتہاد میں حق پر تھا ان کو دو اجر ملیں گے اور حضرت معاوی اور ان کی جماعت کو اجتہاد میں خطاء لاحق ہوئی ‘ ان کو ایک اجر ملے گا ‘ ان میں سے کسی فریق پر بھی طعن کرنا جائز نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ سے عاقبت حسنی کا وعدہ فرمایا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 155