کتاب الطھارۃ

پاکی کی کتاب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ طہارت کے معنی ہیں گندگی اور ناپاکی دور کرنا،گندگی روحانی بھی ہوتی ہے اور جسمانی بھی،لہذا طہارت بھی روحانی اور جسمانی ہے،ان دونوں طہارتوں کی بہت قسمیں ہیں کیونکہ گندگیاں بہت قسم کی ہیں۔طہارت جسمانی دو طرح کی ہے:طہارت حقیقی اور طہارتِ حکمی

طہارت حقیقی:گندگی ٔحقیقی یعنی خبث کو دور کرنا،اور

طہارت حکمی:حکمی گندگی یعنی حدث کو دورکرنا،اس باب میں انہی دو طہارتوں کا ذکر آئے گا۔

حدیث نمبر :270

روایت ہے حضرت ابو مالک اشعری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پاکی نصف ایمان ہے ۲؎ اور الحمدﷲ ترازو بھردے گی۳؎ اور سبحان اﷲ اور الحمدﷲ آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں ۴؎ اور نماز روشنی ہے ۵؎ خیرات دلیل ہے ۶؎ صبر چمک ہے ۷؎ قرآن تیری یا تجھ پر حجۃ ہے ۸؎ ہر شخص صبح پاتا ہے تو اپنا نفس بیچتا ہے تو یا نفس کو آزاد کرتا ہے یا ہلاک ۹؎ مسلم نے روایت کی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر آسمان و زمین کے درمیان کو بھردیتے ہیں میں نے یہ روایت نہ مسلم و بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں نہ جامع میں لیکن اسے دارمی نے ذکر کیا اور سبحان اﷲ کی بجائے الحمدﷲ ذکر کیا ۱۰؎

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،حضرت ابوموسیٰ اشعری کے چچا ہیں،عہد فاروقی میں وفات پائی۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ طہور سے ظاہری پاکی اورایمان سے عرفی ایمان مرادہے۔چونکہ ایمان بھی گناہوں کو مٹاتا ہے اور وضوءبھی،لیکن ایمان چھوٹے بڑے سارے گناہ مٹا دیتا ہے اور وضوءصرف چھوٹے،اس لیے اسے آدھا ایمان فرمایا۔ایمان باطن کو عیبوں سے پاک فرماتا ہے اور وضو ظاہر کو گندگیوں سے،اور ظاہر باطن کا گویا نصف ہےیا ایمان دل کو برائیوں سے پاک اور خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے اور طھارت جسم کو فقط گندگیوں سے پاک کرتی ہے،لہذا یہ نصف ہے اورممکن ہے کہ ایمان سے مراد نماز ہو،رب فرماتاہے:”لِیُضِیۡعَ اِیۡمٰنَکُمْ”۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کی ساری شرطیں شرط طہارت کے برابر ہیں۔غرضکہ حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ ایمان بسیط چیز ہے پھر اس کا آدھا اورتہائی کیسا ؟

۳؎ یعنی جو شخص ہر حال میں الحمد ﷲ کہا کرے تو قیامت میں میزانِ عمل کے نیکی کا پلہ اس سے بھر جائے گا اور ایک حمد تمام گناہوں پر بھاری ہوگی۔کیونکہ یہ ہیں ہمارے کام اور وہ ہے رب کا نام۔

۴؎ یعنی ان دوکلموں کا ثواب اگر دنیا میں پھیلایا جائے تو اتنا ہے کہ اس سے سارا جہان بھر جائے یا مطلب یہ ہے کہ سبحان اﷲ میں اﷲ کی بے عیبی کا اقرار ہے اورالحمدﷲ میں اسی کے تمام کمالات کا اظہار۔اوریہ دو چیزیں وہ ہیں جن کے دلائل سے دنیا بھری ہوئی ہے کہ ہرذرہ اورہرقطرہ رب کی تسبیح وحمدکررہاہے۔

۵؎ یعنی نماز مسلمان کے دل کی،چہرے کی،قبر کی،قیامت کی روشنی ہے۔پل صراط پرسجدہ کا نشان بیٹری کا کام دے گا،رب فرماتاہے:”نُوۡرُہُمْ یَسْعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ”اورممکن ہے کہ صلوٰۃ سے مراد درودشریف ہوکہ یہ بھی ہرطرح نورہے۔

۶؎ مؤمن کے ایمان کی،کہ منافق اور کافر کو صحیح خیرات کی توفیق نہیں ملتی،یا کل قیامت میں صدقہ محبتِ پروردگار کی دلیل اور بخشش کا کفیل بنے گا،کیونکہ اسے رب نے قرض فرمایا ہے:”مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یُقْرِضُ اللہَ”۔خیال رہے کہ اس صدقہ میں زکوٰۃ،فطرہ وغیرہ تمام فرضی ونفلی خیراتیں داخل ہیں۔

۷؎ صبر کے لغوی معنے ہیں روکنا،یعنی نفس کو گناہوں سے روکنا،یا عبادت پر قائم رکھنا،یا مصیبتوں پر گھبراہٹ سے روکنا دل کا یا چہرے کا نور ہے۔خیال رہے کہ نور ہر روشنی کو کہا جاسکتا ہے ہلکی ہویاتیز،مگر ضیاءصرف تیز روشنی کو کہتے ہیں۔رب فرماتا ہے:”جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوۡرًا”چونکہ صبرہر عبادت میں ضروری ہے اس لیے نماز کو نور اور اسے ضیاءفرمایا گیا۔ہوسکتا ہے کہ صبرسے مراد روزہ ہو،چونکہ روزہ صرف اﷲ کا ہے اسی لئے ضیاء یعنی جگمگاہٹ فرمایا گیا۔

۸؎ کہ اگر تم نے اس پر عمل کیا تو قیامت میں یہ تیرا گواہ اور تیرے ایمان کی دلیل ہوگا اور اگر اس کے خلاف عامل رہا توتیرے خلاف گواہ۔

۹؎ یعنی روزانہ صبح کے وقت ہرشخص اپنی زندگی کی دُکان کھولتا ہے،سانسیں صَرف کرکے اعمال کماتا ہے،اگراچھے اعمال میں سانسیں گزریں تو سودانفع کارہا،نفس جہنم سے بچ گیا۔ا ور اگر برے کام کیئے تو سودا گھاٹے کا رہا،نفس کو ہلاک کردیا۔نفس سے مراد ذات دل اور سانسیں سب کچھ ہوسکتے ہیں۔سبحان اﷲ! اس افصح الفصحاءعرب کے قربان جاؤں کیسے جامع کلمات ارشاد فرمائے۔خیال رہے کہ ہم جیسے گنہگاروں کی دکانِ زندگی صبح کھل کرسوتے وقت بند ہوجاتی ہے،بعض وہ خوش نصیب بھی ہیں جن کی دکان کبھی بند ہی نہیں ہوتی،اور ان کا بازارکبھی سونا ہی نہیں ہوتا،سوتے میں بھی دکانداری کرتے ہیں،کیونکہ ان کا دل جاگتا ہے بلکہ بعد وفات بھی ان کے میلے لگے ہوئے ہیں۔

۱۰؎ یعنی یہ زیادتی ان میں سے کسی کتاب میں نہ ملی تو مصابیح میں بھی نہ ہونی چاہیئے تھی،کیونکہ فصل اول میں صحیحین کی روایات آتی ہیں۔