أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيۡرٌ وَّنَحۡنُ اَغۡنِيَآءُ ‌ۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَقَتۡلَهُمُ الۡاَنۡۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ ۙۚ وَّنَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ

ترجمہ:

بیشک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ عنقریب ہم ان کا قول لکھ لیں گے اور ان کا نبیوں کو ناحق قتل کرنا (بھی لکھ لیں گے) اور ہم کہیں گے کہ دوزخ کی آگ کا عذاب چکھو

تفسیر:

اسلام کے نظام زکوۃ پر یہودیوں کا اعتراض :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیت المدارس گئے آپ نے دیکھا وہاں بہت سے یہودی فخ اس کے گرد جمع تھے۔ یہ شخص یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے فخ اس سے کہا اے فخ اس ! تم پر افسوس ہے، تم اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرلو ‘ تم کو معلوم ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ‘ وہ اللہ کے پاس سے وہ دین برحق لے کر آئے ہیں جس کو تم تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہو ‘ فخ اس نے کہا بہ خدا اے ابوبکر ہمیں اللہ کی کوئی حاجت نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ ہمارا محتاج (فقیر) ہے ‘ ہمیں اس سے فریاد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ ہم سے فریاد کرتا ہے اور ہم اس سے مستغنی (غنی) ہیں ‘ اگر اللہ ہم سے مستغنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسا کہ تمہارے پیغمبر کہتے ہیں ‘ وہ ہم کو ربا (سود) سے منع کرتا ہے اور خود ہم کو سود (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زیادہ اجر) دیتا ہے ‘ اگر اللہ غنی ہوتا تو ہم کو سود نہ دیتا ‘ حجرت ابوبکر یہ سن کر غضبناک ہوئے اور فخ اس کے منہ پر زور سے ایک تھپڑ مارا اور فرمایا یہ خدا اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا ‘ فخ اس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور حضرت ابوبکر کی شکایت کی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے پوچھا تم نے اس کو تھپڑ کیوں مارا تھا ؟ حضرت ابوبکر نے بتایاس کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی اور کہا اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ اس وجہ سے میں نے غضبناک ہو کر اس کو تھپڑ مارا فخ اس نے اس کا انکار کیا اور کہا میں نے یہ نہیں کہا تھا تب اللہ تعالیٰ نے فخ اس کے رد اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی : بیشک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٢٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

یہودیوں کے اعتراض مذکور کا جواب :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جان اور مال خرچ کرنے کا حکم دیا تھا ‘ اور اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کے خلاف یہودیوں کے شبہات کے جواب دیئے ہیں ان کا ایک شبہ یہ تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے قرض مانگتا ہے اور اس پر اصل رقم سے زیادہ اجر دینے کا وعدہ فرماتا ہے اور یہ بعینہ سود ہے وہ مسلمانوں کو سود سے منع کرتا ہے اور خود سود دیتا ہے ‘ نیز اس کا قرض مانگنا اس کو احتیاج کو ظاہر کرتا ہے۔ سو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس خدا کی دعوت دے رہے ہیں وہ عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اس کے اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرض مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کی سربلندی اور ناداروں اور مسکینوں کے لیے اصحاب ثروت خرچ کریں اور وہ جو کچھ دنیا میں خرچ کریں گے اللہ ان کو دس گنا ‘ سات سو گنا ‘ یا اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرمائے گا ‘ نیز مال انسان کو طبعا محبوب ہوتا ہے اور جب وہ اللہ کے حکم پر مال خرچ کریں گے تو ان کے دعوی ایمان کا سچا ہونا ثابت ہوگا ‘ نیز مال کو خرچ کرنے سے انسان کے دل سے مال کی محبت کم ہوگی اور دنیا سے بےرغبتی پیدا ہوگی ‘ غریبوں اور مسکینوں کی محبت اور ان کی دعائیں حاصل ہوگی اور یہ بہت عظیم نفع ہے۔ 

مخالف کے طعن کے جواب میں اس پر طعن کر کے اس کو ساکت کرنا۔ 

فخ اس یہودی نے اسلام پر اعتراض کرتے ہوئے برسبیل الزام یہ کہا تھا کہ اسلام کے نظام زکوۃ اور صدقہ و خیرات کے احکام سے اللہ کا فقیر ہونا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر گرفت کرتے ہوئے ان پر برسبیل الزام فرمایا پھر تم نبیوں کو ناحق کیوں قتل کرتے تھے اور ایک مسلم برائی بیان فرما کر ان پر گرفت فرمائی ہرچند کہ قتل ان کے آباؤ و اجداد نے کیا تھا لیکن یہ ان کے اس فعل پر راضی تھے اس لیے ان کو اس فعل کا مخاطب کیا گیا ‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معترض کے جواب کا یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ اس کے اعتراض کے جواب میں اس کے مسلم عیب اور نقص کو بیان کرکے اس کو ساکت کردیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ کی شان میں توہین آمیز کلام کفر ہے :

فخ اس یہودی کا یہ عقیدہ اور نظریہ نہیں تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ بلکہ اس نے اسلام کے نظام زکوۃ پر اعتراض کرتے ہوئے بہ طریق الزام یہ کہا تھا اس لیے باوجود اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا اور حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو تھپڑ مارا اور اس کو واجب القتل قرار دیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف کوئی ہتک آمیز جملہ خواہ بہ طریق الزام کہا جائے یا بہ طریق عقیدہ ہر طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے اور کفر ہے اور اس کا قائل موجب قتل ہے۔ 

علامہ اقبال ایشیا کے عظیم شاعر انقلاب ہیں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ ہندوستان کے غلام مسلمانوں میں آزادی کا شعور پیدا کیا فرنگی تہذیب سے نفرت دلائی اور اسلام کی عظمت کو جاگزیں کیا لیکن ان کے بعض اشعار بارگاہ الوہیت میں بہت گستاخانہ ہیں : 

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے ،

بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہے۔

(کلیات اقبال ص ١٣١ الفیصل نشران و تاجران کتب لاہور ‘ ١٩٩٥ ء) 

واضح رہے کہ جواب شکوہ ‘ شکوہ کے گستاخانہ اشعار سے رجوع اور توبہ نہیں ہے ‘ رجوع تب ہوتا جب ان اشعار کو کتاب سے نکال دیا جاتا۔ 

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم ،

بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے۔

(کلیات اقبال ص ٢٤٠ الفیصل نشران و تاجران کتب لاہور ‘ ١٩٩٥ ء) 

خود ڈاکٹر اقبال کو بھی بارگاہ الوہیت میں اپنی گستاخیوں کا احساس تھا وہ کہتے ہیں : 

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال ،

کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند۔ 

(کلیات اقبال ص ٢٥٢ الفیصل نشران و تاجران کتب لاہور ‘ ١٩٩٥ ء) 

اسرار خودی کے مقدمہ میں ڈاکٹر اقبال نے حافظ شیرازی کی بہت ہجو کی تھی لکھا تھا : 

الخدر از محفل حافظ الخدر 

الخدر از گوسفنداں الخدر۔ 

حافظ شیرازی کے چاہنے والوں نے اس کے جواب میں ڈاکٹر اقبال کی بہت مذمت کی اور ان کی ہجو میں بہت اشعار لکھے ایک شعر یہ تھا : 

الخدر از بد سگالاں الخدر 

الخدر از شغالاں الخدر :

چنانچہ ڈاکٹر اقبال نے اسرار خود کے مقدمہ سے حافظ شیرازی کی ہجو والے تمام اشعار نکال دیئے ‘ میں سوچتا ہوں کہ اس زمانے میں حافظ کے چاہنے والے تو تھے خدا کا چاہنے والا کوئی نہ تھا ورنہ ڈاکٹر اقبال ‘ اللہ کی شان میں گستاخانہ اشعار کو بھی نکال دیتے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) اللہ تعالیٰ کی شان میں فقیر کا لفظ نہ سن سکے اور برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں بخیل کا لفظ خاموشی سے سن لیا حالانکہ بخیل کے لفظ میں فقیر کی بہ نسبت زیادہ توہین ہے۔ شاید اس زمانہ میں صدیق اکبر کی طرح غیرت مند کوئی مسلمان نہیں تھا ! 

حضرت ابوبکر کی تصدیق معراج کا صلہ :

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کیا ہے (الی قولہ) صبح کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے سامنے واقعہ معراج سنایا وہ لوگ حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور کہا اے ابوبکر ! تمہارے پیغمبر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ گذشتہ رات ایک ماہ کی مسافت کا سفر کرکے واپس آگئے ہیں ‘ اب بولو کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا اگر واقعی آپ نے یہ فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں ! اور میں تو اس سے زیادہ بعید باتوں میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں آپ آسمانوں سے آنے والی خبریں بیان کرتے ہیں اور میں ان کی تصدیق کرتا ہوں اسی دن سے حضرت ابوبکر (رض) کا نام صدیق پڑگیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ‘ ٢٤٨ مطبوعہ ادارہ اندلس ‘ بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ) 

جب تمام مشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سفر معراج کا انکار کر رہے تھے تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) نے اس کی تصدیق کی تھی اور جب فخ اس اللہ تعالیٰ کو فقیر کہہ کر منکر ہوگیا اور سب یہودی حضرت ابوبکر (رض) کی تکذیب کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر (رض) کی تصدیق کی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو حضرت ابوبکر (رض) نے تصدیق کی تھی اس کا بدلہ اتار دیا !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 181