مغربی اصطلاحات کی تعریف

۔۔۔سیکولرازم۔۔۔

ذیل میں کچھ مشہور و معروف مغربی اصطلاحات کی فنی تعریفات پیش کی جارہی ہیں، جنہیں میں نے فلاسفہ و مفکرین مغرب اور خود ان اصطلاحات کے موجدین کی فکر و نظر اور مطلوبہ مفاہیم کی روشنی میں مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم مغربی اصطلاحات تو بے دریغ استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے حقیقی مفاہیم(وہ مفہوم جو اہل مغرب کی حقیقی مراد ہوں) سے آگاہ نہیں ہیں۔ اوپر سے یہ ظلم کہ ہمارے دیسی لبرل دانشورمغرب کا نمک حلال کرتے ہوے ان اصطلاحات کو عین اسلامی قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، یہ لوگ جان بوجھ کر اسلام پر مغربیت کا لبادہ اوڑھنے کے درپے ہیں، ان سے ہوشیار رہئے اور اصطلاحات کو ان کے حقیقی مفاہیم کو مدنظر رکھ کر ہی استعمال کرنے کی عادت ڈالئے۔ شکریہ

1۔ سیکولرازم/سیکولرزم/Secularism:-

پاکستان کی سرکاری اردو لغت(http://udb.gov.pk) میں سیکولرازم کا مطلب یہ بتایا گیا ہے

"لادینیت، مذہبی عقیدے سے بریت، ایسا نظریہ حیات جو عقائد کی مداخلت سے پاک ہو۔”

عرف میں سیکولرازم کا مفہوم یہ بتایا جاتا ہے کہ

سیکولرازم ایک ایسا نظریہ ہے جس کے مطابق چرچ(مذہب) اور اسٹیٹ(ریاست) کو الگ الگ رکھا جانا چاہئے۔

اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ ریاستی یا انسان کے اجتماعی معاملات میں مذہب کو الگ رکھا جانا چاہئے اور اجتماعی انسانی مسائل کا فیصلہ وحی، کسی مخصوص مذہب یا مطلقا مذہب کی تعلیمات کی بجائے، اکثریت، انسانی اجتماع یا General/Common Willکی روشنی میں کیا جانا چاہئے۔

فکروفلسفہ مغرب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم سیکولرازم کی تعریف یوں کر سکتے ہیں؛

"سیکولرازم تنویری مفکرینِ مغرب(Enlightened Western Thinkers) کا پیش کردہ ایک ایسا نظریہ حیات ہے جس کے مطابق انسان کے اجتماعی معاملات کو ہدایتِ الہی(Religion)سے آزاد فکرِ انسانی(Reasoning) کے اصولوں پر طے کیا جانا چاہئے۔”

اگر ہم اس تعریف پر غور کریں تو مندرجہ ذیل نقاط اخذ ہوتے ہیں؛

1۔ سیکولرازم کوئی الہامی نظریہ حیات نہیں بلکہ اس کا فلسفہ مغرب کے دین بیزار مفکرین کی ایجاد ہے۔

2۔ سیکولرازم صرف نظریہ ریاست نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ حیات ہے۔

3۔ سیکولرازم کا تعلق انسان کے اجتماعی معاملات سے ہے۔

4۔ سیکولرازم انسانی معاملات کو طے کرنے میں خدائی یا پیغمبرانہ نورِ ہدایت یا سادہ لفظوں میں "وحی” سے انکار کرتا ہے۔

5۔ سیکولرازم خدا اور وحی کو انسانی اجتماعی مسائل سے غیرمتعلق قرار دینے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق تسلیم کرنے کا نام ہے۔

6۔ سیکولرازم وحی کو معطل کر کے انسان ساختہ اصولوں Man Made Laws/Human Rights کی بنیاد پر اجتماعی مسائل کا حل تلاش کرتا ہے۔

مذکورہ نقاط میں سے کوئی ایک بھی نقطہ ایسا نہیں جسے رد کیا جا سکے۔ مغربی مفکرین کی کتب سیکولرازم کے اسی مفہوم کو بیان کرتی ہیں اور اسی مفہوم کی دعوت دیتی ہیں۔ پس ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ سیکولرازم لادینیت ہے۔بعض مغربی مفکرین یہ کہتے ہیں کہ سیکولرازم لادینیت نہیں ہے کیونکہ لادینیت خدا کے انکارکا نام ہے جب کہ سیکولرازم خدا کا انکار نہیں کرتا ۔

یہ محض ایک مغالطہ ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ سیکولرازم لادینیت ہی ہے۔ درحقیقت لادینیت کی تعریف اہل مغرب کے ہاں مختلف ہے جبکہ ہم مسلمانوں کے نزدیک مختلف ہے۔ مغربی مفکرین کے نزدیک لادینیت صرف وجودباری تعالیٰ کے انکار کا نام ہے جبکہ ہم مسلمانوں کے نزدیک انکارِ وجود باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ انکارِ مذہبDeism بھی لادینیت ہے پس اسلامی نقطہ نظر کے مطابق سیکولرازم لادینیت /الحاد ہے۔ سیکولرازم کے لادینیت ہونے پر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ سیکولرازم خدا کو انسانی اجتماعی زندگی سے غیر متعلق قرار دینے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق اپنانے یا نافذ کرنے کا نام ہے۔

2۔ لبرل ازم/ لبرلزم/Liberalism:-

لبرل ازم ایک پیچیدہ اور جامع اصطلاح ہے۔ مغربی مفکرین کی اکثریت اسے ایک سیاسی نظریہ قرار دیتی ہے لیکن اگر لبرل ازم کے فلسفے کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ صرف ایک سیاسی نظریہ نہیں ہے۔ اس کی جڑیں حیات انسانی میں انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں پھیلی ہوئی ہیں۔

پاکستان کی سرکاری اردو لغت(http://udb.gov.pk) میں لفظ لبرل کا مطلب یہ بتایا گیا ہے

"کھلے ذہن کا مالک، وسیع القلب، کشادہ نظر، وہ شخص یا افراد کا گروہ جو انفرادی آزادی، جمہوری نظام حکومت اور آزاد تجارت کا حامی ہو، جاگیرداری اور رجعت پسندی کے مقابل، فیاض، کریم، دریادل، سخی ۔”

لفظ لبرل کے جو معانی بتائے گئے ہیں ان میں سے آخری چار معانی لغوی ہیں جبکہ بقیہ سب اصطلاحی معانی ہیں۔

عرف میں لبرل ایک ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو انفرادی و اجتماعی آزادی کی بات کرتا ہو، جمہوریت کا حامی ہو، فری ٹریڈ کا حامی ہو، حقوق نسواں کی تحریکوں کو نظریاتی سطح پر جسٹیفائے کرتا ہو اور اشیاء کا جائزہ بالعموم مذہب کی بجائے عقل و خرد کی بنیاد پر کرتا ہو۔

مغربی فکر و فلسفے کے مطالعے سے واضح ہے کہ لبرل ازم ایک جامع اصطلاح ہے جس میں سیکولرازم، ہیومن ازم اور انہی کے طرح کے دیگر "اِزم” بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت جتنے بھی مغربی "اِزم” ہیں وہ کئی کئی جہات سے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس لئے ان کے درمیان کوئی واضح خط فاصل کھینچنا خاصا مشکل کام ہے۔

جہاں تک ہم لبرل ازم کو سمجھتے ہیں، اس کے مطابق، لبرل ازم اور سیکولر ازم کی تعریف میں صرف ایک لفظ کا فرق ہے ،

"لبرل ازم تنویری مفکرینِ مغرب(Enlightened Western Thinkers) کا پیش کردہ ایک ایسا نظریہ حیات ہے جس کے مطابق انسان کے انفرادی معاملات کو ہدایتِ الہی(Religion)سے آزاد فکرِ انسانی(Reasoning) کی اصولوں پر طے کیا جانا چاہئے۔”

آپ نے دیکھا کہ سیکولر ازم کا تعلق انسان کے اجتماعی معاملات سے تھا جبکہ لبرل ازم کا تعلق انفرادی معاملات سے ہے۔

لبرل ازم کا بنیادی نعرہ ہے، "آزادی”، قابل غور بات یہ ہے کہ آزادی سےمغربی مفکرین کی مراد کیا ہے؟ مغربی فکر اور معاشرے میں آزادی ایک بنیادی قدر ہے۔ تمام مغربی فلسفے فرد یا افراد کی آزادی کے گرد ہی گھومتے ہیں۔جاننا چاہئے کہ مغربی تصور آزادی سے مراد ہے، "مذہب کی حدود و قیود سے آزادی۔” ہمارے دیسی لبرل دانشور اگرچہ واشگاف الفاظ میں یہ مفہوم بیان نہیں کرتے لیکن اگر آپ لبرل ازم کے حقیقی مفکرین اور دانشوران مغرب کے افکار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

لبرل ازم کا نصب العین آزادی کو یقینی بنانا ہے، لہذا ضروری ہے کہ ہم آزادی کے مغربی تصور پر روشنی ڈالیں۔

مغربی تصور آزادی یہ ہے کہ "میری خواہشات اور ترجیحات کی تقسیم اور درجہ بندی متعین کرنے کا حتمی اختیار صرف اور صرف میرے پاس ہے، خیر و شر کا حتمی پیمانہ میں ہوں، خدا اور نبی کون ہوتے ہیں جو مجھے بتائیں کہ مجھے کیا چاہنا چاہئے اور کیا نہیں چاہنا چاہئے!”

1۔ لبرل ازم وحی اور مذہب کو اولا تو انسان کی انفرادی زندگی سے معطل کرنے اور بعد ازاں ان کے انکار کا نام ہے۔

2۔ لبرل ازم خیر و شر کا پیمانہ خدا اور نبی کی بجائے خود فرد کو قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر میں شراب پینا پسند کرتا ہوں تو مجھے شراب پی لینی چاہئے، یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ خدا اسے ناپسند کرتا ہے کیونکہ خدا کو کوئی حق نہیں کہ وہ میری پرسنل لائف میں انٹر فئیر کرے!(العیاذ باللہ)

3۔ لبر ل ازم ہر قسم کی مذہبی تعلیمات اور حدود و قیود کو توڑ کر ان سے آزادی حاصل کر لینے کا نام ہے۔

4۔ لبرل ازم ہر شعبہ ہائے زندگی سے مذہب کو بے دخل کر کے نفسانی خواہشات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے نظریہ کو بطور نظریہ حق اپنانے یا نافذ کرنے کا نام ہے۔

5۔ لبرل ازم اسلامی نقطہ نظر کے مطابق کفر ہے اور ہر نظریاتی لبرل دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

۔۔۔ہیومن ازم۔۔۔(انسانیت پرستی)۔۔۔

3۔ ہیومن ازم/ ہیومنزم/ Humanism:-

گزشتہ سات آٹھ سو سال میں مغرب نے جتنے بھی نئے نظریات پیش کئے ان میں سے نوے پچانوے فیصد نظریات کی اساس ایک ہی ہے۔ یہ اساس ہے "انسان”، بات زرا سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

نشاۃ ثانیہ کا مغربی عہد درحقیقت انسان پرستی کی ابتداء کا عہد تھا۔ نشاۃ ثانیہ اور انسان پرستی دونوں الفاظ قابل غور ہیں،

مغرب کی فکری تاریخ تین ادوار میں منقسم ہے،

1۔ عہد قدیم

2۔ نشاۃ ثانیہ

3۔ عہد جدید

عہد قدیم وہ عہد ہے جو زمانہ قبل از تاریخ سے شروع ہو کر قرون وسطیٰ کی آخری صدیوں یعنی تقریبا پندرہویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس عہد کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مذہب مغربی فکر کی اساس رہا ہے، چاہے وہ قدیم یونانی و رومی بت پرستانہ مذاہب ہوں یا قرون وسطیٰ کا مسیحی مذہب ہو، مغربی فکر پر مذہب کی گہری چھاپ رہی ہے۔

پندرہویں صدی کے وسط سے سترہویں صدی کے وسط تک تقریبا دو سو سال کا عہد نشاۃ ثانیہ اور ہیومنزم کی ابتداء کا عہد کہلاتا ہے۔ اس کی خصوصیات زرا بعد میں بتاتا ہوں۔

اس کے بعد سترہویں صدی عیسوی کے وسط تا زمانہ حال تک مغربی فکر کا تیسرا عہد یعنی عہد جدید پھیلا ہوا۔ اس عہد کی سب سے نمایاں خصوصیت عقل پرستیRationalism ہے۔ ریشنل ازم یا عقل پرستی کا مطلب یہ ہے کہ اس عہد میں مغرب نے خدا، مذہب اور وحی کا یا تو انکار کر دیا یا اسے غیر تسلی بخش قرار دے کر انسانی حیات سے نکال باہر کیا۔

عہد قدیم و جدید کے درمیان ایک عبوری دور نشاۃ ثانیہ کا ہے۔ نشاۃ ثانیہ سے پہلے مغربی فکر پرخدا، وحی اور مذہب کا غلبہ رہا جبکہ نشاۃ ثانیہ کے بعد مغربی فکر پر انسان، عقل اور الحاد و سائنس کا غلبہ رہا ہے جو آج تک موجود ہے۔ ان ادوار کے مابین نشاۃ ثانیہ مغربی انسان کی خدا پرستی سے انسان پرستی کی طرف تبدیلی سے عبارت ہے۔ نشاۃ ثانیہ کی اہم ترین تحریکوں میں تحریک تراجم سر فہرست ہے جس کا مقصد قدیم یونانی و رومی فلسفیانہ کتب کا مقامی زبانوں میں ترجمہ تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ "مذہب سے آزاد” علوم کی طرف راغب ہوں اور مذہب کا طوق اتار پھینکنے میں کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں۔

غرض ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ مغرب نے خدا پرستی سے انسان پرستی کا معکوس سفرجن دو صدیوں میں طے کیا اسے نشاۃ ثانیہ کہا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان پرستی Humanism سے مراد کیا ہے؟

انسان پرستی کی تعریف یوں کر لیجئے

” انسان پرستی ایک ایسا نظریہ حیات ہے جس کے مطابق پرستش کے قابل صرف ایک ہی ہستی ہے، اور وہ ہستی انسان خود ہے۔”

ہیومنزم کا بنیادی کلمہ "لاالہ الا الانسان” ہے!

اس تعریف کو کھولا جائے تو حسب ذیل نقاط اخذ ہوتے ہیں؛

1۔ ہیومن ازم انسان کو خدا کے مقام پر فائض کرنے کا نام ہے۔

2۔ ہیومن ازم مذہب کے متوازی ایک مکمل مذہب ہے۔ایک ایسا مذہب جس میں انسان کی پرستش کی جاتی ہے۔آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ "انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے”!

3۔ ہیومن ازم میں انسان کی پرستش کا طریقہ ویسا نہیں جو خدا پرستی کا طریقہ کار ہے۔

4۔ ہیومن ازم کے مطابق ہر انسان اپنے اندر ایک عدد خدا ہے۔

اسلامی نقطہ نظر کے مطابق ہیومن ازم یا انسانیت پرستی صریح کفر و شرک ہے۔ لیکن یہ کفر کیسے ہے؟ سطور زیریں میں پڑھئے!

امریکی فلسفی کارلس لیمنٹ نے اپنی کتاب فلسفہ انسانیت پرستی میں ہیومنز ازم کو کھول کھول کر بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہےکہ میرے ہاتھ میں اس وقت کتاب کا آٹھواں ایڈیشن ہے!

صفحہ نمبر 10 سے وہ ہیومنزم کے دس بنیادی نکات بیان کرنا شروع کرتا ہے جن میں سے پہلے پانچ کا معنوی ترجمہ مع اصل متن آپ احباب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ اس کے بعد فیصلہ آپ خود فرمائیے۔

First, Humanism believes in a naturalistic metaphysics or attitude toward the universe that considers all forms of the supernatural as myth; and that regards Nature as the totality of being and as a constantly changing system of matter and energy which exists independently of any mind or consciousness.

اول، ہیومنزم نیچری مابعد طبیعات یا سادہ لفظوں میں اس روئیے پر یقین رکھتا ہے جس کے مطابق ہر قسم کے مافوق الفطری موجودات(مثلا خدا، فرشتے، جنت، جہنم وغیرہ) فرضی قصے کہانیاں اور افسانے ہیں، اور یہ کہ تمام وجودات اور یہ ساری کائنات ،مستقل بالذات مادے اور انرجی کے باہمی تعامل ہی کا نتیجہ ہیں جن کے پیچھے کوئی ذہن مطلق یا ناظم کائنات کارفرما نہیں ہے۔

Second, Humanism, drawing especially upon the laws and facts of science, believes that we human beings are an evolutionary product of the Nature of which we are a part; that the mind is indivisibly conjoined with the functioning of the brain; and that as an inseparable unity of body and personality we can have no conscious survival after death.

دوم، ہیومنزم کا انحصار، بالخصوص سائنسی قوانین و حقائق پر ہے۔ ہیومنزم کے مطابق ہم انسان اس مادی کائنات، جس میں کہ ہم رہتے ہیں، ہی کا ایک حصہ اور ارتقائی ماحصل ہیں۔ اور یہ کہ نفس یا شعور انسانی دماغ ہی کے تعامل اور فنکشنز کا نام ہےجس کا دماغ کے ساتھ اٹوٹ رشتہ ہے یعنی نفس انسانی الگ سے کوئی روحانی وجود نہیں بلکہ دماغ ہی کا ایک عمل ہے۔ ہیومنزم اس بات پر بھی یقین رکھنے کا نام ہےکہ چونکہ انسانی تشخص یا روح اور جسم درحقیقت ایک ہی شے ہے اس لئے موت کے بعد کسی قسم کی شعوری حیات کا کوئی وجود نہیں۔

Third, Humanism, having its ultimate faith in humankind, believes that human beings possess the power or potentiality of solving their own problems, though reliance primarily upon reason and scientific method applied with courage and vision.

سوم، ہیومنز م چونکہ "انسان” پر ایمان لانے کا نام ہے، اس لئے انسانی مسائل کو حل کرنے میں حتمی فیصلہ (وحی یا آسمانی ہدایت کی بجائے) انسانی عقل اور سائنسی طریقہ کار کا ہے۔

Fourth, Humanism, in opposition to all theories of universal determinism, fatalism, or predestination, believes that human beings, while conditioned by the past, possess genuine freedom of creative choice and action, and are, within certain objective limits, the shapers of their own destiny.

چہارم، ہر قسم کے نظریہ جبر و تقدیر اور ایمان بالقدر کے برعکس، ہیومنز م یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان اپنی قسمت اور تقدیر کا خالق خود ہے، ان معنوں میں کہ جس شے یا عمل کو انسان مثبت سمجھتا ہے، اسے اپنانے یا کر گزرنے میں انسان پوری طرح آزاد ہے۔ یعنی اسے کسی خارجی یا آسمانی پابندی کی فکر نہیں کرنے چاہئے، وہ اپنے لئے خیر و شر کے انتخاب اور ترجیحات کی درجہ بندی متعین کرنے میں پوری طرح آزاد ہے۔

Fifth, Humanism believes in an ethics or morality that grounds all human values in this-earthly experiences and relationships and that holds as its highest goal the this worldly happiness, freedom, and progress – economic, cultural, and ethical – of all humankind, irrespective of nation, race, or religion.

پانچواں یہ کہ ہیومنزم کے مطابق اخلاقیات کی تمام تر بنیاد مذہب، قوم یا قبیلے کی روایات و تعلیمات کی بجائےان دنیاوی اقدار پر ہے جن کے ذریعے انسان اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ خوشیاں، آزادی اور مادی ترقی حاصل کر سکے۔

کارلس لیمنٹ نے یہ بات کھول کر بیان کر دی ہےکہ ہیومنزم یعنی انسانیت پرستی ، خدا پرستی یا مذہب کے عین الٹ ہے۔ ہیومنزم ہر اس بات کی مخالفت کرتا ہے جو کسی بھی مذہب کی بنیادی تعلیمات ہوتی ہیں پس ہیومنزم کو کلمہ پڑھوانا ناممکن ہے۔ ہمارے جدیدیت پرست مسلم مفکرین کو ہزار بار سوچنا چاہئے کہ وہ اسلام میں کس غلیظ کپڑے کا پیوند لگانے میں کوشاں ہیں!

فیصل ریاض شاہد

26-12-2018