أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ

ترجمہ:

بلاشبہ آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش اور رات اور دن کے اختلاف میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدت پر دلیل : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلاشبہ آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش اور رات اور دن کے اختلاف میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔ 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آسمانوں اور زمینوں کا ملک اللہ ہی کی ملکیت میں ہے ‘ اور بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ آیت اس دعوی کو متضمن تھی کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کا مالک اور خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے ‘ سو اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی جو اس دعوی کی دلیل ہے ‘ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلیل ہے ‘ کیونکہ اس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے قائم کیا ہوا ہے اور ان کو ستاروں سے مزین کیا ہے ‘ اور زمین کی پیدائش میں اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ‘ کیونکہ اس نے زمین کو پھیلا یا اور اس میں پہاڑوں کی میخیں ٹھونک دیں ‘ اور اس میں دریا جاری کردیئے اور اس میں درختوں اور سبزہ کو اگایا اور سمندروں کو اس میں رواں دواں کردیا ‘ اور رات اور دن کے اختلاف یعنی رات اور دن کی کمی بیشی میں یا رات کے بعد دن کے آنے میں اس کی وحدانیت پر دلیل ہے کیونکہ یہ تمام نظام نہج واحد پر چل رہا ہے اور تمام دنیا میں اس نظام کی وحدانیت اس پر بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس نظام کو بنانے والا واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اس جگہ تین دلیلیں ذکر کی گئی ہیں اور سورة بقرہ کی آیت : ١٦٤ میں ان تین دلیلوں کے علاوہ پانچ اور دلیلوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ‘ کیونکہ راہ حق کی تلاش میں چلنے والوں کو ابتدا میں زیادہ دلائل کی ضرورت ہوتی ہے اور جب ان پر راستہ روشن ہوجاتا ہے تو پھر زیادہ دلائل کی ضرورت نہیں رہتی۔ نیز اللہ کی معرفت میں ڈوبنے کے لیے کثرت ادلہ بہ منزلہ حجابات ہوتے ہیں اور جیسے جیسے یہ معرفت قوی ہوتی ہے حجاب کم ہوتے چلے جاتے ہیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ حضرت ام المومنین میمونہ (رض) کے ہاں رہا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ دیر اپنی اہلیہ کے ساتھ باتیں کیں پھر آپ سو گئے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ گیا تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” ان فی خلق السموت والارض “۔ الخ پھر آپ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور مسواک کی اور گیارہ رکعات پڑھیں پھر حضرت بلال (رض) نے اذان دی تو آپ نے دو رکعات (سنت فجر) پڑھیں پھر آپ باہر آئے اور صبح کی نماز پڑھی۔ (صحیح بخاری ج ٥ ص ٢١٠‘ رقم الحدیث : ٤٥٦٩‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ سنن کبری ج ٦ ص ٣١٨‘ مطبوعہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 190