درس 022: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

درس 022: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَمِنْهَا) : أَنْ يَكُونَ طَهُورًا

ارکانِ وضو کی چوتھی شرط یہ ہے کہ پانی طہور/مطہر یعنی پاک کرنے والا ہو۔

لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ امْرِئٍ حَتَّى يَضَعَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثُمَّ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رِجْلَيْهِ»

دلیل نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ "اللہ تعالی کسی شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا حتی کہ وہ اپنے کچھ حصوں کو پاک نہ کرلے، تو وہ اپنے چہرے کو دھولے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو، پھر اپنے سر کا مسح کرے، پھر اپنے دونوں پیروں کو دھولے۔

وَالطَّهُورُ اسْمٌ لِلطَّاهِرِ فِي ذَاتِهِ الْمُطَهِّرِ لِغَيْرِهِ

(حدیث مبارک میں طہور کا لفظ ہے) طہور اس شے کو کہتے ہیں جو خود پاک ہو اور دوسری شے کو پاک کرنے والا ہو۔

فَلَا يَجُوزُ التَّوَضُّؤُ بِالْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ؛ لِأَنَّهُ نَجِسٌ عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِنَا، وَعِنْدَ بَعْضِهِمْ طَاهِرٌ غَيْرُ طَهُورٍ عَلَى مَا نَذْكُرُ

لہذا ماء مستعمل سے وجو جائز نہیں ہے، اسلئے کہ وہ ہمارے بعض ائمہ کے نزدیک ناپاک ہے اور بعض ائمہ کے نزدیک پاک تو ہے مگر پاک کرنے والا نہیں ہے، جسے ہم بیان کریں گے۔

وَيَجُوزُ بِالْمَاءِ الْمَكْرُوهِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِنَجِسٍ إلَّا أَنَّ الْأَوْلَى أَنْ لَا يَتَوَضَّأُ بِهِ إذَا وُجِدَ غَيْرُهُ

ماء مکروہ سے وضو کرنا جائز ہے اسلئے کہ وہ نجس نہیں ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ اگر غیر مکروہ پانی موجود ہو تو اس سے وضو نہ کیا جائے۔

وَلَا يَجُوزُ بِسُؤْرِ الْحِمَارِ وَحْدَهُ؛ لِأَنَّهُ مَشْكُوكُ فِي طَهُورِيَّتِهِ عِنْدَ الْأَكْثَرِينَ، وَعِنْدَ بَعْضِهِمْ فِي طَهَارَتِهِ، وَسَنُفَسِّرُهُ، وَنَسْتَوْفِي الْكَلَامَ فِيهِ إذَا انْتَهَيْنَا إلَى بَيَانِ حُكْمِ الْأَسْآرِ عِنْدَ بَيَانِ أَنْوَاعِ الْأَنْجَاسِ إنْ شَاءَ الله تَعَالَى

اور گدھے کے تنہا جوٹھے پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اکثر فقہاء کے نزدیک اسکی پاک کرنے کی صلاحیت اور بعض کے نزدیک اس کی پاکی مشکوک ہے، اور ہم نجس پانی کی قسموں کے وقت جوٹھے پانی کا حکم تفصیلی وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے، ان شاء اللہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وضاحت:

پانی کی چوتھی شرط اس کا مطہر ہونا ہے یعنی وہ پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

یہاں تین اصطلاح ذکر ہوئی ہیں: (1) ماء مستعمل (2) ماء مکروہ (3) ماء سؤرالحمار

ماء مستعمل: اس کا معنی ہے استعمال شدہ پانی، یہ وہ پانی ہوتا ہے جو انسان کے بدن سے نجاستِ حکمیہ یعنی حدث کو زائل کرتے ہوئے جدا ہو۔۔یا۔۔وہ پانی جو کسی قربت یعنی نیکی کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہو۔

جیسے کسی کا نماز کے لئے وضو کرنا، کھانےکے لئے سنت کی نیت سے ہاتھ دھونا کلی کرنا۔

ہمارے بعض فقہاء اسے ناپاک قرار دیتے ہیں، جیسے امام حسن کی روایت ہے مگر محقق فقہاء کرام کے مطابق یہ پاک ہے لیکن پاک نہیں کرسکتا، اسے نجس نہیں بلکہ قذر یعنی گندگی قرار دیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس پانی کو غیر مطہر کیوں قرار دیا گیا ۔۔؟

علامہ شامی نے فتح القدیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ دراصل اس کو غیر مطہر اسلئے کہا گیا ہے کہ یہ پانی کو دنس یعنی میلا کردیتا ہے۔

(لہذا میلے پانی سے مزید میل دور نہیں ہوسکتا ہاں ناپاکی دور ہوسکتی ہے، نیز میلے پانی کا پینا، اس سے کھانا پکانا بھی مکروہ ہے۔عارفین)

ماء مکروہ: یہ وہ پانی ہے جسے مختلف وجوہات کی وجہ سے مکروہ قرار دیا گیا ہے، کبھی ناپاکی کے احتمال کی وجہ سے مکروہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی حرج کی وجہ سے، یعنی اس سے بچنے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ جیسے بلی نے برتن میں بھرے پانی میں منہ ڈال دیا تو اس کا استعمال مکروہ ہے، اگرچہ اس سے وضو ہوجائےگا۔ اسکی تفصیلی وضاحت آگے آئے گی۔

ماء سؤر الحمار: یعنی گدھے کا جوٹھا پانی۔۔ دراصل گدھے کے گوشت، دودھ اور لعاب کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا یہ پاک ہے یا ناپاک۔۔ مزید یہ کہ اس بارے میں جو روایتیں ملتی ہیں خود ان کے مضامین میں اختلاف ہے۔ اسلئے فقہاء کرام نے اسے مشکوک پانی میں شمار کیا ہے، اگر کوئی اور اچھا پانی نہ ہو تو پہلے اس پانی سے وضو کریں گے پھراحتیاطا تیمم کرکے نماز ادا کریں گے۔

مذکورہ پانیوں پر تفصیلی کلام نجس پانی کے ضمن میں آئے گا۔

اسکے بعد علامہ کاسانی نے کچھ ایک مسائل ذکرکئے ہیں۔ پھر وضو کی سنتوں کا بیان شروع ہوگا۔

یہاں تک کے تمام دروس کا خلاصہ اس طرح ہے:

1- طہارت، نجاست کی ضد ہے۔ لہذا طہارت حاصل کرنے کے لئے نجاست سے دوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

2- نجاست دو طرح کی ہوتی ہے: حکمیہ یعنی حدث، حقیقیہ یعنی خبث۔

3- حکمیہ والی نجاست تین طریقوں سے دور ہوتی ہے: وضو ، غسل، تیمم۔

4- وضو: یہ ایک عمل ہے جو غَسل (پانی سے دھونے) اور مسح (پانی پہنچانے) پر مشتمل ہے۔

5- غَسل، متعلقہ عضو پر کم از کم دو بوند پانی بہانے کو کہتے ہیں اور مسح، پانی پہنچانے کو۔

6- کس پانی سے وضو کیا جائے کس سے نہیں تو اسکی دو قسمیں ہیں۔ مطلق اور مقید۔

7- مطلق پانی سے وضو جائز ہے کیونکہ یہ پانی اپنی ذات و صفت میں تبدیلی سے بچا ہوتا ہے۔

8- مقید پانی سے وضو جائز نہیں ہے کیونکہ یہ پانی اپنی ذات یا صفت میں تبدیلی سے دوچار ہوجاتا ہے۔

ابو محمد عارفین القادری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.