فَكَيۡـفَ اِذَا جِئۡـنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ ۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡـنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ شَهِيۡدًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 41

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡـفَ اِذَا جِئۡـنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ ۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡـنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ شَهِيۡدًا

ترجمہ:

تو اس وقت کیسا سماں ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے رسول مکرم) ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تو اس وقت کیسا سماں ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور اے (رسول مکرم) ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ (النساء : ٤١) 

تمام نبیوں کے صدق پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اللہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا یعنی کافر کو جو عذاب دے گا وہ ظلم نہیں ہوگا ‘ اور مومنوں کو بشارت دی تھی کہ ان کی نیکیوں کے اجر کو بڑھا دے گا ‘ اب اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہ جزا اور سزا نبیوں اور رسولوں کی گواہی پر مترتب ہوگی جس کے خلاف وہ گواہی دیں گے اس کو سزا ملے گی اور جس کے حق میں گواہی دیں گے اس کو اجر وثواب بیش از بیش ملے گا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے سامنے قرآن پڑھو ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو قرآن سناؤں حالانکہ آپ پر تو خود قرآن مجید نازل ہوا ہے ‘ آپ نے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میں کسی اور سے قرآن سنوں ‘ میں نے سورة النساء پڑھی جب میں آیت پر پہنچا (آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنا بک علی ھؤلاء شھیدا (النساء : ٤١) 

میں نے سر اٹھا کر دیکھا یا کسی نے میرے پہلو میں ٹہوکا دیا اور میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٨٠٠) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رونا خوف خدا کے غلبہ سے تھا کیونکہ اس سے پہلی آیت میں ہے اللہ تعالیٰ کسی پر ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں فرمائیگا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت دینے کا معنی یہ ہے کہ آپ انبیاء صادقین (علیہم السلام) کے صدق پر گواہی دین گے ‘ یا انبیاء سابقین کی تقویت کے لئے ان کی امت کے کافروں کے خلاف شہادت دیں گے ‘ اور اس میں ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم فضیلت ہے کیونکہ تمام نبیوں اور رسولوں کی شہادت آپ کی شہادت سے مانی جائے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 41

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.