وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ رَاَيۡتَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡكَ صُدُوۡدًا‌ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 61

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ رَاَيۡتَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡكَ صُدُوۡدًا‌ ۞

ترجمہ:

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کتاب کی طرف جس کو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو آپ دیکھتے ہیں منافقین آپ سے اعراض کرتے ہوئے کترا کر نکل جاتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کتاب کی طرف جس کو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو آپ دیکھتے ہیں منافقین آپ سے اعراض کرتے ہوئے کترا کر نکل جاتے ہیں۔ اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا۔ (النساء : ٦٢۔ ٦١) 

ابن جریج نے بیان کیا کہ جب مسلمان منافقوں سے کہتے تھے کہ آؤ اپنے مقدمہ کا فیصلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کراؤ تو وہ منہ موڑ کر کتراتے ہوئے نکل جاتے تھے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٩) 

جس منافق کو حضرت عمر (رض) نے قتل کیا تھا اس کا قصاص لینے کے لیے اس کے اہل آئے اور معذرت کر کے کہنے لگے ‘ کہ ہم نے جو حضرت عمر (رض) سے فیصلہ کرانے کے لیے کہا تھا اس سے ہمارا صرف یہ مقصد تھا کہ اس منافق کے ساتھ نیک سلوک ہو اور اس منافق اور اس کے مخالف یہودی کے درمیان صلح ہوجائے ‘ اس آیت میں اس مصیبت سے مراد اس منافق کا قتل کیا جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان منافقوں کے دلوں میں جو شر اور فتنہ ہے اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے ‘ آپ ان کے بہانوں کو قبول کرنے سے اعراض کیجئے کیونکہ ان کے بہانوں کے قبول کرنے کا مطلب ہے حضرت عمر (رض) سے قصاص لینا اور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ نہ مانے اس کا خون مباح ہے اور اس کا کوئی قصاص نہیں ہے ‘ آپ ان کو زبان سے نصیحت کیجئے اور ان کے نفاق سے درگذر کیجئے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 61

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.