أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكْكُّمُ الۡمَوۡتُ وَلَوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ‌ ؕ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٌ يَّقُوۡلُوۡا هٰذِهٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّقُوۡلُوۡا هٰذِهٖ مِنۡ عِنۡدِكَ‌ ؕ قُلۡ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ ؕ فَمَالِ ھٰٓؤُلَۤاءِ الۡقَوۡمِ لَا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ حَدِيۡثًا ۞

ترجمہ:

تم جہاں کہیں بھی ہو تم کو موت پالے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو ‘ اور اگر ان کو کچھ اچھائی پہنچے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کچھ برائی پہنچے تو (اے رسول مکرم) یہ کہتے ہیں کہ یہ آپ کی طرف سے ہے آپ کہیے کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ یہ کوئی بات سمجھ نہیں پاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تم جہاں کہیں بھی ہو تم کو موت پالے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو ‘ اور اگر ان کو کچھ اچھائی پہنچے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کچھ برائی پہنچے تو (اے رسول مکرم) یہ کہتے ہیں کہ یہ آپ کی طرف سے ہے آپ کہیے کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ یہ کوئی بات سمجھ نہیں پاتے۔ (النساء : ٧٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ موت ایک حتمی چیز ہے اور جب انسان کی مدت حیات پوری ہوجائے تو اس کو موت بہر حال آلیتی ہے خواہ ہو کھلے میدان میں ہو یا کسی مضبوط قلعہ میں ہو یا وہ میدان جنگ میں ہو۔ حضرت خالد بن ولید (رض) نے متعدد معرکوں میں حصہ لیا ‘ اور بہت جنگیں لڑیں لیکن ہو کسی جنگ میں شہید نہیں ہوئے ان کو بستر پر طبعی موت آئی اس سے واضح ہوگیا کہ جہاد میں شرکت کرنا موت کا سبب نہیں ہے ‘ موت صرف اپنے وقت پر آتی ہے خواہ انسان میدان جنگ میں ہو یا اپنے گھر کے بستر پر ! 

اچھائی اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے اور برائی ہمارے گناہوں کے نتیجہ میں :

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے محترم اصحاب (رض) ہجرت کرکے مدینہ آئے اور اس کے بعد یہودیوں اور منافقوں کو اچھائیاں اور برائیاں ‘ راحتیں اور مصیبتیں پہنچی تو انہوں نے کہا جب سے یہ مدینہ میں آئے ہیں ہمارے پھلوں اور کھیتوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ‘ سختی ہو یا آسانی ‘ کامیابی ہو یا ناکامی فصلوں کی پیداوار زیادہ ہو یا کم ‘ فائدہ ہو یا نقصان ‘ اور بیماری ہو یا صحت ‘ تمام امور کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی قضا اور قدر سے ہوتا ہے ‘ البتہ جب تم پر رزق کی وسعت ‘ خوشحالی اور فراخ دستی ہو تو یہ محض اللہ کا فضل اور انعام ہے۔ سو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرو اور جب تم کو تنگی اور رزق میں کمی پہنچے تو یہ تمہارے گناہوں اور شامت اعمال کا نتیجہ ہے اس کی نسبت اپنی طرف کرو۔ 

بعض پڑھے لکھے جاہلوں نے ” کل من عنداللہ “ کا غلط معنی سمجھا ہے وہ کہتے ہیں نیک اعمال اور برے اعمال دونوں اللہ کی طرف سے ہیں تو اس میں بندے کا کیا قصور ہے ! اور اس کو آخرت میں سزا کیوں ملے گی ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اچھائی اور برائی اور ہر چیز کا تعلق امور تکوینیہ سے ہے امور تشریعیہ سے نہیں ہے ‘ امور تکوینیہ سے مراد وہ امور ہیں جو بندوں کے دخل کے بغیر وقوع پذیر ہوتے ہیں جیسے پیدا ہونا ‘ مرنا ‘ صحت ‘ بیماری ‘ بارش کا ہونا نہ ہونا ‘ طوفانوں اور زلزلوں کا آنا وغیرہ ‘ اور امور تشریعیہ سے مراد وہ کام ہیں جن کرنے یا ان کو نہ کرنے کا بندوں کو حکم دیا ہے مثلا نیک کام کرنا اور برے کاموں کو ترک کرنا ‘ نیک اور بدکاموں میں سے جس کا بھی بندہ قصد اور ارادہ کرتا ہے اللہ اس کو پیدا فرماتا دیتا ہے ‘ بندہ کے ارادہ کو کسب اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کو خلق اور ایجاد کہتے ہیں ‘ اور بندہ کو اس کے کسب کی وجہ سے جزاء یا سزا ملتی ہے ‘ جو کسب اور خلق کا فرق نہیں کرتے ان میں سے بعض کہتے ہیں انسان پتھروں کی طرح مجبور ہے اور ہر نیک اور بدکام کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں یہ جبریہ ہیں ‘ اور بعض کہتے ہیں انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے یہ معتزلہ ہیں ‘ اور اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ بندہ کا سب ہے اور اللہ تعالیٰ خالق ہے ‘ جبریہ اور معتزلہ مردہ مذاہب ہیں لیکن ان کے نظریات اور آثار اب بھی بعض لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 78