أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ‌ ؕ اُحِلَّتۡ لَـكُمۡ بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ اِلَّا مَا يُتۡلٰى عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّى الصَّيۡدِ وَاَنۡـتُمۡ حُرُمٌ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيۡدُ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اپنے عہد پورے کرو تمہارے لیے ہر قسم کے چار پاؤں والے جانور حلال کیے گئے ہیں، ماسوا ان کے جن کا حکم تم پر آئندہ تلاوت کیا جائے گا لیکن تم حالت احرام میں شکار کو حلال نہ سمجھنا، بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اپنے عقود (عہدوں) پورے کرو۔ 

عقود کا لغوی اور عرفی معنی : 

عقود عقد کی جمع ہے۔ عقد کا معنی ہے کسی چیز کو پختگی اور مضبوطی کے ساتھ دوسری چیز کے ساتھ واصل کرنا ‘ یا ایک چیز کی دوسری چیز کے ساتھ گرہ باندھنا ‘ عہد کا معنی ہے کسی چیز کو لازم کرنا اور عقد کا معنی ہے پختگی کے ساتھ کسی چیز کا التزام کرنا ‘ یعنی اس لزوم کو ماننا ‘ اور عقود سے مراد وہ عہود ہیں جو اللہ اور بندوں کے درمیان کیے گئے ‘ یا وہ عہود ہیں جو بندوں نے آپس میں عقد بیع اور عقد نکاح وغیرہ کے ساتھ کیے ‘ یا جو لوگوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے عہد کیے ‘ یا جس چیز پر حلف اٹھا کر عہد کیا۔ 

عقود کا شرعی معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اے ایمان والو ! اپنے عقود کو پورا کرو ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ صفات ‘ اس کے احکام اور اس کے افعال کو ماننے اور قبول کرنے کا نام ایمان ہے ‘ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایمان والے اس کے تمام احکام پر عمل کریں اور جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ‘ ان سے باز رہیں۔ لہذا جو شخص ایمان لاتا ہے ‘ اس کا ایمان اس عقد اور عہد کو متضمن ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو بجا لائے گا ‘ تو اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے ایمان والو ! تم نے اللہ پر ایمان لا کر جس عقد کا التزام کرلیا ہے ‘ اس کو پورا کرو۔ 

اس آیت میں عقود سے کیا مراد ہے ؟ اس کی کئی تفسیریں کی گئی ہیں۔ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں ‘ اس کی اطاعت کریں ‘ جن چیزوں کو اس نے حلال کیا ہے ‘ ان کو حلال قرار دیں اور جن کو اس نے حرام کیا ہے ‘ ان کو حرام قرار دیں۔ 

ابن زید اور زید بن اسلم نے کہا اس سے مراد وہ عقد اور عہد ہیں جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ 

مثلا قسم کھاکر معاہدہ کرنا ‘ عقد نکاح اور عقد بیع وغیرہ۔ 

مجاہد نے بیان کیا اس سے مراد وہ عقود ہیں جو زمانہ جاہلیت میں لوگ ایک دوسرے مدد کرنے کے لیے کرتے تھے۔ 

قتادہ نے کہا ” اس سے مراد وہ عقود ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے تورات اور انجیل میں لیے تھے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کریں گے اور آپ کی کتاب پر ایمان لائیں گے “۔ (جامع البیان ج ٦ ص ‘ ٦٦۔ ٦٤ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

عقود کی اقسام :

بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ عقد کی تین قسمیں ہیں : 

(١) اللہ اور بندہ کے درمیان عقد۔ 

(٢) بندہ اور اس کے نفس کے درمیان عقد۔ 

(٣) ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ عقد۔ 

جوع عقد اللہ اور بندہ کے درمیان ہے اس کا موجب عقل ہے یا شرع ہے۔ عقل سے مراد تو بداہت عقل ہے کیونکہ انسان کی عقل میں اللہ تعالیٰ نے ایسا نور رکھا ہے جس سے انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اور یا عقل سے مراد یہ ہے کہ انسان مخلوق میں غور وفکر کرے تو ہر چیز کا ایک نظم اور ضبط کے ساتھ کام کرنا اور نظام کائنات میں کسی فرق اور رخنہ کا واقع نہ ہونا ‘ زبان حال سے یہ کہنا ہے کہ اس کا کوئی خالق ہے اور وہ خالق وحدہ لا شریک ہے ‘ اور یا اس عقد کا موجب شرع ہے اور شرع سے مراد کتاب اور سنت ہے۔ سو کتاب اور سنت میں اللہ تعالیٰ کے جو احکام بیان کیے گئے ہیں ‘ بندہ ایمان لانے کے بعد ان سب پر عمل کرنے کا اللہ سے عقد کرلیتا ہے۔ جو عقدبندہ اور اس کے نفس کے درمیان ہے ‘ اس سے مراد ہے بندہ کا نذر مان لینا۔ اگر وہ کسی عبادت کی اور کار خیر کی نذر مان لیتا ہے تو اس کو پورا کرنا واجب ہے۔ اگر وہ کسی مباح کام کو ترک کرنے کی قسم کھاتا ہے ‘ مثلا یہ کہ وہ اونٹ کا گوشت یا شہد نہیں کھائے گا تو اس قسم کو پورا کرنا مستحب ہے۔ اور اس کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرنا بھی جائز ہے۔ اور اگر وہ کسی معصیت کی یا کسی عبادت کو ترک کرنے کی قسم کھاتا ہے تو اس قسم کو پورا کرنا حرام ہے ‘ اور اس کو توڑنا واجب ہے۔ 

اور جو عقد ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہوتا ہے ‘ جیسے عقد بیع ‘ عقد نکاح وغیرہ۔ ان کا حکم معقود علیہ کے اعتبار سے ہے۔ جس چیز پر عقد کیا ہے اگر وہ واجب ہے تو عقد واجب ہے ‘ مثلا غلبہ شہوت کے وقت نکاح واجب ہے تو یہ عقد واجب ہے۔ اگر وہ سنت ہے تو عقد سنت ہے ‘ جیسے عام حالات میں عقد نکاح۔ اگر وہ جائز ہے تو عقد جائز ہے ‘ جیسے بیع شراء۔ اگر وہ مکروہ ہے تو عقد مکروہ ہے ‘ جیسے نبیذ کی بیع۔ اگر وہ حرام ہے تو عقد حرام ہے تو عقد حرام ہے ‘ جیسے خمر اور خنزیر کی بیع ہے۔ اسی طرح عقد اجارہ (کرایہ) کی اقسام ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارے لیے ہر قسم کے چار پاؤں والے جانور حلال کیے گئے ہیں۔ 

بھیمۃ الانعام کا معنی : 

بھیمۃ اس جاندار کو کہتے ہیں جو بےعقل ہو اور عرف میں یہ سمندر اور خشکی کے چار پاؤں والے جانوروں کے ساتھ خاص ہے اور انعام اونٹ ‘ گائے اور بکریوں کو کہتے ہیں اور جو جانور ان کے ساتھ ملحق ہیں ‘ جیسے بھینس ‘ بھیڑ ‘ اور ہرن وغیرہ۔ 

قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا منھاومنھا تاکلون “ (المؤمن : ٧٩) 

ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے ‘ تاکہ تم ان میں سے بعض کو کھاؤ۔ 

(آیت) ” ومن الانعام حمولۃ وفرشا کلوا مما رزقکم اللہ، ثمنیۃ ازواج من الضان اثنین ومن المعزاثنین، ومن الابل اثنین ومن البقراثنین، (الانعام : ١٤٤، ١٤٢ )

ترجمہ : اور بعض (قد آور) چوپائے (پیداکیے) بوجھ اٹھانے والے اور بعض زمین سے لگے ہوئے کھاؤ اس رزق سے جو اللہ نے تمہیں دیا۔ آٹھ جوڑے پیدا کیے ‘ بھیڑ سے دو (نر و مادہ) اور بکری سے دو (نرومادہ) اور اونٹ سے دو پیدا کیے اور گائے سے دو پیدا کیے۔ 

ان آیتوں میں آٹھ چوپایوں ‘ بھیڑ بکری ‘ اونٹ اور گائے کے جوڑوں پر انعام کا اطلاق فرمایا ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے المائدہ کی تیسری آیت میں جن چوپایوں کا استثناء فرمایا ہے ‘ ان کے علاوہ باقی تمام جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد ان کو کھانا اور ان سے بار برداری وغیرہ کے دیگر منافع حاصل کرنا جائز ہیں۔ 

جانوروں کے ذبح کرنے پر اعتراض کا جواب : 

مجوسی اور ہندوؤں کے بعض فرقے یہ کہتے ہیں کہ جانوروں کو ذبح کرنا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ جانور بےزبان ہیں اور اپنے خلاف مدافعت نہیں کرسکتے اور ان کو پکڑکر زبردستی ذبح کردینا ظلم ہے اور کسی پر ظلم کرنا جائز نہیں ہے۔ بعض مسلمانوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ذبح کے وقت ان کو تکلیف نہیں ہوتی اور اللہ ان سے اس تکلیف کو اٹھا لیتا ہے۔ لیکن اس جواب میں مکابرہ ہے اور بداہت کا انکار ہے۔ معتزلہ نے کہا ‘ درد اور تکلیف مطلقا قبیح نہیں ہے ‘ انسان سرجری اور جراحی کرتا ہے ‘ تاکہ اس عمل جراحی کے ذریعہ اس کو کسی بڑی تکلیف سے نجات مل جائے۔ اسی طرح ان جانوروں کو آخرت میں ذبح کی اس تکلیف کے بدلہ بہت عمدہ عوض ملے گا ‘ اس لیے یہ قبیح نہیں ہے اور اہل سنت نے یہ کہا کہ چوپایوں کو ذبح کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ‘ اور اللہ ہر چیز کا مالک ہے ‘ اور وہ ہر طرح تصرف کرسکتا ظلم اس وقت ہوتا جب غیر کی ملک میں تصرف کیا جاتا ‘ اور جب ہر چیز اللہ کی ملک میں ہے ‘ تو پھر جب وہ اپنی ملک میں کوئی تصرف کرے تو کسی کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ماسوا ان کے جن کا حکم تم پر آئندہ تلاوت کیا جائے گا۔ (المائدہ : ١) 

مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اس استثناء کا بیان (المائدہ : ٣) میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے : 

مردار ‘ رگوں کا بہا ہوا خوں ‘ خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو ‘ اور گلا گھٹ جانے والا ‘ اور چوٹ سے مارا ہوا اور اوپر سے گرا ہوا ‘ اور جس کو درندے نے کھالیا ہو مگر جس کو تم نے (اللہ کے نام پر) ذبح کرلیا اور جس کو بتوں کے لیے نصب شدہ پتھروں پر ذبح کیا گیا ہو (یہ سب) تم پر حرام کیے گئے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیکن تم حالت احرام میں شکار کو حلال نہ سمجھنا، بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ (المائدہ : ١) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بھیمۃ الانعام “ (چوپایوں) کو حلال فرمایا تھا۔ اب یہ فرمایا ہے کہ جو چوپائے شکار ہوں ‘ وہ حالت احرام میں حلال نہیں ہیں ‘ اور جب احرام کھول دیا ہو ‘ تو حلال ہیں۔ 

اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ محرم کے لیے ہر قسم کا شکار کرنا جائز نہیں ہے ‘ لیکن ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم پر صرف خشکی کا شکار کرنا ممنوع ہے ‘ اور سمندری شکار کرنا جائز ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” احل لکم صید البحر وطعامہ متاعالکم وللسیارۃ وحرم علیکم صیدالبرمادمتم حرما “۔ (المائدہ : ٩٦) 

ترجمہ : تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا طعام (اس کی پھینکی ہوئی مچھلیاں وغیرہ) حلال کردی گئی ہیں ‘ تمہارے لیے (بھی) اور تمہارے مسافروں کے لیے (بھی) اور جب تک تم محرم ہو ‘ تم پر خشکی کا شکار کرنا حرام ہے۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے محرم پر خشکی کا شکار کرنا حرام کیا ہے ‘ اور سمندر کا شکار حلال کردیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا مالک اور خالق ہے اور کسی عام حکم میں کسی چیز کو مستثنی کرنے یا کسی چیز کی تخصیص کرنے کی وجہ سے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : بیشک اللہ جو چاہتا ہے ‘ حکم دیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 1