دو ولیوں کی ملاقات

حکایت نمبر198: دو ولیوں کی ملاقات

حضرت سیدنا شعیب بن حرب علیہ رحمۃالرب سے منقول ہے :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سفیان بن سعید ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ہمراہ ” کوفہ”سے” مصیصہ” حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کی زیارت کے لئے گیا۔ ہم نے ”مصیصہ” پہنچ کر حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کے بارے میں دریافت کیا تو لوگو ں نے بتایا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد میں ہونگے۔ ہم جامع مسجد پہنچے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو مسجد میں لیٹے ہوئے پایا۔ میں نے قریب جا کرآپ کو بیدارکیا اورکہا:” حضور! اٹھئے اوردیکھئے کہ آپ کے دوست حضرت سیدنا سفیان بن سعید ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی آپ سے ملنے آئے ہیں۔”اتناسنتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک جھٹکے سے اٹھے اور خوش ہوتے ہوئے حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو گلے سے لگایا ۔ پھر دونوں دوست بیٹھ گے اور باتیں کرنے لگے ۔ 

میں نے اور حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے تین دن سے کچھ نہ کھایا تھا ۔ حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم سے عرض کیـ:”اے ابو اسحاق (علیہ رحمۃ اللہ الرزاق) ! ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جس کے ذریعے ہم حلال رزق حاصل کر سکیں ۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” آؤ! ہم کھیتی کاٹنے چلتے ہیں ۔” چنانچہ ہم ایک شخص کے پاس گئے اور کہا :”ہم مزدوری کرنا چاہتے ہیں ، ہمیں اجرت پرکچھ کام دے دیجئے ۔” اس نے کہا :” آپ دونوں کھیتی کاٹیں۔”

چنانچہ ہم ایک دن کی دو درہم اجرت پر کھیت کی کٹائی پر اجیر(یعنی مزدور)بن گئے۔ سارا دن انتہائی محنت ،لگن اور دیانتداری سے کام کرتے رہے ۔شام کو جب کھیت کے مالک نے ہمارا کام دیکھا تو بڑا خوش ہوا اور کہنے لگا :”تم لوگوں نے بہت اچھا کام کیا ہے، یہ لو اپنی اُجرت۔” پھر اس نے دو درہم دیتے ہوئے کہا :”تم روز انہ مزدوری کے لئے آجایا کرو۔” پھر ہم وہاں سے چلے آئے ۔

حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے ایک درہم مجھے دیا اور کہا:” جاؤ! جو بہتر سمجھو، کھانے کے لئے لے آؤ۔” چنانچہ میں بازار جاکر کھانا خریدلایا اور ان کے سامنے رکھ دیا ۔ حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم سے فرمایا: ”کھانا کھائیے۔” حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے کہا : ”پہلے آپ کھائیے، آپ مجھ سے بڑے ہیں اور علم کے اعتبار سے بھی افضل ہیں۔ ” لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی پہلے کھانے سے انکار کر تے ہوئے کہا:” پہلے آپ کھائیے۔” کچھ دیر اسی طرح تکرار ہوتا رہا ۔ بالآ خر حضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم سے فرمایا:” مجھے اس کھانے سے معافی دیجئے، کیا آپ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ ہم نے مزدوری بالکل ٹھیک کی ہے اور جو رقم ہمیں ملی ہے اس میں کسی قسم کی ملاوٹ یا شبہ نہیں؟ اگر آپ یہ ضمانت دیتے ہیں تو میں کھالیتا ہوں ۔” حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے عرض کی :” میں کیسے ضمانت دے سکتا ہوں کہ یہ کھانا شبہ سے پاک ہے ؟”

توحضرت سیدنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی کہنے لگے: ”پھر مجھے اس کھانے کی کوئی حاجت نہیں۔” یہ سن کر حضرت سیدنا ابراھیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے کہا :” جس چیز کو آپ نے ترک کردیا میں اسے کیسے اختیار کرسکتا ہوں، میں بھی یہ کھانا نہیں کھاؤں گا ۔”چنانچہ ہم نے کھانا وہیں چھوڑ دیااور ایک لقمہ بھی نہ کھایا۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامين صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.