أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ ؕ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے رسول : جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کو پہنچا دیجئے اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا ‘ اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا۔ بیشک اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے رسول : جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کو پہنچا دیجئے اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا ‘ اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا۔ بیشک اللہ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدہ : ٦٧) 

ایک آیت کی تبلیغ نہ کرنے سے مطلقا تبلیغ رسالت کی نفی کس طرح درست ہے ؟ 

اس سے پہلی آیتوں میں یہود و نصاری کے خبیث عقائد اور ان کے باطل اقوال ‘ دین میں ان کی تحریفات اور ان کی بداعمالیاں بیان کی گئی تھیں۔ اس طرح مشرکوں کی خرابیوں کو بھی بیان کیا گیا تھا اور مشرکوں کے متعلق آیات نازل ہوئیں تھیں۔ اب آپ سے فرمایا ہے کہ آپ کے اوپر جو کچھ بھی آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ‘ وہ سب کو پہنچا دیجئے اور اس تبلیغ میں یہود و نصاری اور مشرکوں اور کافروں کی مخالفت کی مطلقا پروانہ کیجئے۔ اللہ آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے گا ‘ اور اگر بہ فرض محال آپ نے ایسا نہ کیا اور کسی آیت کو بھی نہ پہنچایا تو آپ نے کار رسالت انجام نہیں دیا اور آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا۔ 

اس آیت پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر اس آیت کا معنی یہ ہو اگر آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچا یا تو یہ کلام غیر مفید ہے۔ کیونکہ شرط اور جزاء میں تغائر ہوتا ہے اور یہاں تغائر نہیں ہے اور اگر اس آیت کا معنی یہ ہے اگر آپ نے ایک آیت بھی نہیں پہنچائی تو آپ نے اپنے رب کا پیغام بالکل نہیں پہنچایا تو یہ کلام مفید ہے۔ لیکن واقع کے خلاف ہے ‘ کیونکہ ایک آیت کے نہ پہنچانے سے اس ایک آیت کے پہنچانے کی نفی ہونی چاہیے ‘ باقی تمام آیات جو پہنچائی جا چکی ہیں ‘ ان کی نفی کیسے صحیح ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ معنی یہی ہے کہ اگر آپ نے بالفرض ایک آیت کو بھی نہیں پہنچایا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام بالکل نہیں پہنچایا۔ کیونکہ ایک آیت کو بھی نہ پہنچانے سے باقی تمام آیات کا پہنچانا ضائع اور غیر معتبر ہوجائے گا ‘ یا جیسے کوئی شخص قرآن مجید کی ایک آیت پر ایمان نہ لائے تو اس کا باقی تمام قرآن پر ایمان لانا ضائع ہوگیا ‘ یا جیسے کوئی شخص نماز کا ایک رکن ادا نہ کرے اور باقی تمام ارکان ادا کرے تو اس کی نماز ضائع ہوگی ‘ کیونکہ جب کسی ایک آیت کو چھپایا جائے گا تو دعوت اسلام سے جو غرض اور مقصود ہے وہ فوت ہوجائے گا۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے۔ 

(آیت) ” من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا “۔ (المائدہ : ٣٢) 

ترجمہ : جس نے بغیر قصاص کے یا بغیر زمین میں فساد کے کسی کو (ناحق) قتل کیا تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کردیا۔ 

کیونکہ جس طرح ایک شخص کو ناحق قتل کرنا اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے ‘ اسی طرح سب لوگوں کو ناحق قتل کرنا بھی اللہ کی نافرمانی ہے ‘ اور جو ایک شخص کے قتل ناحق پر جرات کرسکتا ہے ‘ اگر اس کے بس میں ہو تو وہ سب لوگوں کے قتل ناحق پر بھی جرات کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو بالفرض ایک آیت کے چھپانے پر جرات کرسکتا ہے ‘ وہ سب آیتوں کے چھپانے پر بھی جرات کرسکتا ہے۔ اس لیے فرمایا : اگر آپ نے بالفرض ایک آیت کو بھی چھپایا تو آپ نے کار رسالت بالکل انجام نہیں دیا۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ‘ اس آیت کا معنی ہے آپ پر آپ کے رب کی جانب سے جو کچھ نازل ہوا ہے ‘ اگر (بالفرض) آپ نے اس میں سے ایک آیت بھی چھپالی تو آپ نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٤١٤‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

تبلیغ رسالت اور لوگوں کے شر سے آپ کو محفوظ رکھنے کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں سہارے سے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا اے ابو عائشہ ! جس شخص نے تین باتوں میں سے ایک بات بھی کہی ‘ اس نے اللہ پر بہت برا جھوٹ باندھا۔ میں نے پوچھا وہ کون سی باتیں ہیں ؟ فرمایا : جس نے یہ کہا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو دیکھا ہے ‘ اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ‘ میں سہارے سے بیٹھا ہوا تھا۔ میں سنبھل کر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا اے ام المؤمنین ! مجھے مہلت دیں اور جلدی نہ کریں ‘ کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا ؟ اور بیشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا (التکویر : ٢٣) اور فرمایا اور بیشک انہوں نے اسے ضرور دوسری بار دیکھا (النجم : ١٣) حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اس امت میں ‘ میں سب سے پہلی ہوں جس نے ان آیتوں کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا۔ آپ نے فرمایا یہ جبرائیل ہیں ‘ جس صورت پر جبرائیل کو پیدا کیا ہے ‘ آپ نے اس صورت پر جبرائیل (علیہ السلام) کو صرف دو بار دیکھا ہے۔ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا ‘ ان کی عظیم خلقت (بناوٹ اور جسامت) نے تمام آسمان اور زمین کو بھر لیا تھا۔ پھر حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ قول نہیں سناآنکھیں اللہ کا ادراک (احاطہ کرتے ہوئے) نہیں کرسکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے وہ وہی باریکیوں کو جاننے والا اور ظاہر و باطن سے خبردار ہے (الانعام : ١٠٣) اور کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ قول نہیں سنا اور کسی بشر کے یہ لائق نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے جو اس کے حکم سے اس کو وہ پہنچا دے جو اللہ چاہے (الشوری : ٥١) اور جو شخص یہ کہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی کتاب سے کچھ چھپالیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول ! جو آپ پر آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے ‘ اس کو پہنچا دیجئے اور اگر (بالفرض) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا (المائدہ : ٦٧) اور جس نے یہ کہا کہ آپ کل کی بات کی (ازخود) خبر دیتے ہیں ‘ تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا۔ اللہ فرماتا ہے آپ کہئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں کوئی بھی (ازخود) غیب کو نہیں جانتا سوا اللہ کے۔ (النمل : ٦٥) 

(صحیح مسلم ‘ الایمان ‘ ٢٨٧‘ (١٧٧) ٤٣٢‘ صحیح ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٥٥‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٧٩‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٤٧‘ مسند احمد ‘ ج ‘ ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٠٩٩‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ ص ٢٤١‘ طبع قدیم ‘ جامع البیان ‘ جز ٦‘ ص ٤١٦) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ روایت کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کی جاتی تھی۔ حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا (المائدہ : ٦٧) تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیمہ سے اپنا سرباہر نکال کر فرمایا : اے لوگو ! واپس جاؤ‘ بیشک اللہ نے مجھے محفوظ کردیا۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث ‘: ٣٠٥٧‘ المستدرک ‘ ج ٢‘ ص ٣١٣) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عم محترم حضرت عباس (رض) ان مسلمانوں میں سے تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کرتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے محفوظ رکھے گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفاظت کے انتظام کو ترک کردیا۔ (المعجم الصغیر ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٨‘ المعجم الاوسط ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٥٣٤‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کی سند میں عطیہ العوفی ایک ضعیف راوی۔ مجمع الزوائد : ج ٧‘ ص ١٧)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نجد کی طرف ایک غزوہ میں گئے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوئے تو وہ آپ کے ساتھ واپس آئے۔ ایک وادی جس میں خار دار درخت بہت زیادہ تھے ‘ اس میں انہوں نے دوپہر کے وقت قیام کیا ‘ مسلمان درختوں کے سائے میں بکھر کر آرام کرنے لگے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیکر کے ایک درخت کے نیچے اترے اور آپ نے اس میں تلوار لٹکا دی۔ حضرت جابر (رض) نے کہا ہم لوگ سو گئے۔ اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بلایا ‘ ہم آپ کے پاس پہنچے تو وہاں ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں سویا ہوا تھا ‘ اس شخص نے میری تلوار نکال لی ‘ میں بیدار ہوا تو وہ تلوار اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی اور وہ مجھ سے کہنے لگا آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا اللہ ! لو وہ یہ بیٹھا ہوا ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کوئی سزا نہیں دی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٤١٣٥ (رض) السیرۃ النبویہ لابن ہشام ‘ ج ٣‘ ص ٢٢٧‘ الطبقات الکبری لابن سعد ‘ ج ٢‘ ص ٦١‘ سب الھدی والرشاد ‘ ج ٥‘ ص ١٧٦) 

علامہ علی بن برھان الدین حلبی متوفی ١٠٤٤ ھ نے اس واقعہ کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : 

اس شخص کا نام غویرث بن الحارث تھا۔ اس نے اپنی قوم سے کیا : کیا میں تمہارے لیے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل نہ کروں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں تم ان کو کیسے قتل کرو گے ؟ اس نے کہا میں ان کی غفلت میں ان کے پاس جاؤں گا ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا۔ اس وقت تلوار آپ کی گود میں تھی ‘ اس نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذرا اپنی تلوار مجھے دکھائیں۔ پھر تلوار آپ کی گود سے لے کر آپ پر سونت لی اور کہنے لگا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھ سے ڈرتے نہیں۔ آپ نے فرمایا نہیں ‘ بلکہ اللہ مجھے تم سے بچائے گا ‘ پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلوار دے دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے تلوار لے کر فرمایا اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا آپ بہتر بدلہ لینے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے کہا میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آپ سے لڑوں گا ‘ نہ آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو جانے دیا ‘ وہ اپنی قوم کے پاس گیا اور کہا میں تمہارے پاس سب سے بہتر شخص کے پاس سے آیا ہوں ‘ پھر وہ مسلمان ہوگیا اور اس کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ (انسان العیون ‘ ج ٢‘ ص ٥٧٤‘ حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔ فتح الباری ‘ ج ٧‘ ص ٤٢٨ )

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیند نہیں آرہی تھی۔ آپ نے فرمایا کاش ! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک شخص آج رات میری حفاظت کرتا ‘ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ آپ نے فرمایا کاش ! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک شخص آج رات میری حفاظت کرتا ‘ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ آپ نے فرمایا یہ کون ہے ؟ کہا گیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سعد ہوں اور آپ کی حفاظت کے لیے آیا ہوں۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے حتی کہ ہم نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٨٥‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٢٣١‘ صحیح مسلم ‘ فضائل الصحابہ ‘ ٣٩‘ (٠ ا ٢٤) ٦١١٣‘ سنن ترمذی ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٧٧‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٩٨٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ١٢‘ ص ٨٩۔ ٨٨‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ ص ١٤١‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥١٤٧‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد (احمد شاکر) ج ١٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٩٧٣‘ فضائل الصحابہ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ١١٣‘ المستدرک ‘ ج ٣ ص ٥٠١‘ تہذیب تاریخ دمشق لابن عساکر ‘ ج ٤ ص ٢٠٠‘ کنزالعمال ‘ ج ١٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٦٤٧) 

علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے اس حدیث کو صحیح مسلم کے حوالے سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔ 

غیر صحیح میں یہ روایت ہے کہ ہم اسی حال میں تھے کہ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی۔ آپ نے فرمایا کون ہے ؟ انہوں نے کہا ہم سعد اور حذیفہ ہیں۔ آپ کی حفاظت کے لیے آئے ہیں ‘ پھر آپ سو گئے ‘ حتی کہ ہم نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی اور یہ آیت نازل ہوئی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور فرمایا : اے لوگو ! واپس جاؤ بیشک اللہ نے میری حفاظت کرلی ہے (الجامع الاحکام القرآن ‘ جز ٦‘ ص ١٨٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ قرطبی نے جس طرح ان دونوں روایتوں کو ملا دیا ہے ‘ مجھے اس طرح حدیث کسی کتاب میں نہیں ملا ‘ جبکہ میں نے اس حدیث کا بہت تتبع کیا ہے ‘ جیسا کہ مذکور الصدر حوالہ جات سے ظاہر ہے۔ 

حضرت علی (رض) کی خلافت بلافصل پر علماء شیعہ کا استدلال اور اس کا جواب :

مشہور شیعہ عالم شیخ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٤٦٠ ھ اس آیت کے شان نزول کے متعلق لکھتے ہیں : 

ابو جعفر اور ابو عبداللہ (علیہما السلام) نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف یہ وحی کی کہ آپ حضرت علی (رض) کو خلیفہ بنائیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خوف تھا کہ یہ معاملہ آپ کے اصحاب کی جماعت پر دشوار ہوگا۔ تب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہمت بڑھانے کے لیے یہ آیت نازل کی تاکہ آپ اللہ کے حکم پر عمل کریں۔ (التبیان ‘ ج ٣ ص ٥٨٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

بروز جمعرات ‘ ١٨ ذوالحجہ ١٠ ھ کو حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر غدیر خم کے مقام پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے فرمایا تم تمام لوگوں میں مسلمانوں کے سب سے زیادہ لائق اور مستحق کون ہے ؟ صحابہ نے کہا اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ میرا مولی ہے اور میں مسلمانوں کا مولی ہوں اور میں جس کا مولی ہوں ‘ علی اس کے مولی ہیں ‘ آپ نے اس جملہ کو تین چار بار دہرایا۔ پھر فرمایا اے اللہ ! اس سے دوستی رکھ جو علی سے دوستی رکھے ‘ اور اس سے عداوت رکھ جو علی سے عداوت رکھے۔ اللہ ! اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھے اور اس سے بغض رکھ جو علی سے بغض رکھے۔ پھر آپ نے فرمایا تمام حاضرین یہ پیغام غائبین کو پہنچا دیں۔ (تفسیر نمونہ ‘ ج ٥‘ ص ١٢۔ ١١‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ ‘ طہران) 

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہے ‘ کیونکہ ان کی شرط کے موافق اس کی روایت نہیں ہے۔ دیگر کتب حدیث میں یہ روایت ہے۔ بعض میں صرف اس قدر ہے کہ جس کا میں مولی ہوں ‘ اس کے علی مولی ہیں اور بعض میں یہ الفاظ بھی ہیں اے اللہ ! اس سے دوستی رکھ جو علی سے دوستی رکھے ‘ اور اس سے عداوت رکھ جو علی سے عداوت رکھے۔ اور اس کے حوالہ جات حسب ذیل ہیں : (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٣٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٢١‘ سنن کبری للنسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٨١٤٥‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٣٣١۔ ١٥٢۔ ١١٩۔ ١١٨۔ ٨٨۔ ٨٤‘ ج ٤‘ ص ٣٧٢‘ ٣٧٠‘ ج ٥‘ ص ٤١٩۔ ٣٦٦۔ ٣٧٠‘ طبع قدیم ‘ مسند البزار ‘ (کشف الاستار) ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥١٩۔ ٢٥٣٧۔ ٢٥٤٤۔ ٢٥٤٢۔ ٢٥٣٢۔ ٢٥٣١۔ ٢٥٢٨۔ ٢٥٢٩۔ ٢٥٣٦۔ ٢٥٣٥‘ مسن ابو یعلی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٦٧۔ ٦٤٢٣‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٠٥۔ ٢٠٣٥‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٥٢۔ ٣٥١٤۔ ٣٥١٥‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٩٢۔ ٤٩٦٨۔ ٥١٢٨۔ ٤٩٩٦۔ ٤٩٨٥۔ ٥٠٦٧۔ ٣٥١٤‘ ج ١٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩١‘ ج ٢٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٥‘ المعجم الاوسط ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٥‘ ١٩٨٧‘ ١٣٧٣‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٧٥۔ ٢١٣١‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٩ ص ١٠٩۔ ١٠٤‘ طبع قدیم )

علماء شیعہ یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں مولی بمعنی اولی ہے۔ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس شخص پر اولی بالتصرف ہیں اس پر حضرت علی اولی بالتصرف ہیں اور جو شخص اولی بالتصرف ہو ‘ وہ امام معصوم ہوتا ہے اور اس کی اطاعت فرض ہوتی ہے۔ لہذا حضرت علی امام معصوم ہیں اور ان کی اطاعت فرض ہے ‘ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو امام قرار دے دیا تو ان کی موجودگی میں حضرت ابوبکر کی امامت صحیح نہیں۔ 

اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں : 

(١) لفظ مولی ولی سے ماخوذ ہے اور اہل تشیع کا استدلال اس پر موقوف ہے ‘ کہ اس حدیث میں ولی بمعنی اولی ہے۔ اس لیے ہم پہلے دیکھتے ہیں کہ اس لفظ کے لغت میں کیا معنی ہیں۔ علامہ زبیدی نے قاموس کے حوالے سے ولی کے حسب ذیل معنی ذکر کیے ہیں :

(١) محب۔ (٢) صدیق۔ (دوست) ۔ (٣) نصیر۔ (٤) سلطان۔ (٥) مالک (٦) عبد (٧) آزاد کرنے والا (٨) آزاد کیا ہوا۔ (٩) قریب۔ (١٠) مہمان۔ (١١) شریک۔ (١٢) عصبہ۔ (١٣) رب۔ (١٤) منعم۔ (١٥) تابع۔ (١٦) سسرالی رشتہ دار۔ (١٧) بھانجہ۔ (تاج العروس ‘ ج ١٠‘ ص ٣٩٩۔ ٣٩٨) 

ولی کے یہ تمام حقیقی معانی ہیں اور ولی کا معنی اولی بالتصرف نہیں ہے ‘ اس لیے یہاں مولی کے لفظ کو اولی بالتصرف پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے۔ نیز یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص فلاں کا مولی ہے ‘ یہ نہیں کہا جاتا کہ فلاں شخص فلاں سے مولی ہے یعنی اولی ہے۔ 

(٢) بفرض محال اگر یہ مان لیاجائے کہ یہاں مولی بمعنی اولی ہے ‘ تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ اولی بالامامۃ کے معنی میں ہو ‘ بلکہ یہ اولی بالاتباع اور اولی بالقرب کے معنی میں ہے ‘ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” اولی الناس ابراھیم للذین اتبعوہ (آل عمران : ٦٨) ابراہیم سے اولی بالقرب وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی ہے۔ 

(٣) اگر یہ لفظ اولی بالامامۃ کے معنی میں بھی مان لیاجائے تو اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ جب حضور نے یہ فرمایا تھا۔ اس وقت حضرت علی اولی بالامامۃ تھے ‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی مال کے اعتبار سے اولی بالامامۃ ہیں ‘ یعنی جس وقت حضرت علی کی خلافت کا موقع ہوگا ‘ اس وقت وہی اولی بالامۃ ہوں گے ‘ اور خلفاء ثلاثہ کا ان سے پہلے خلیفہ اور امیر ہونا اس حدیث کے خلاف نہیں ہے۔ 

(٤) اگر یہ حدیث حضرت علی (رض) کی خلافت پر نص ہوتی تو حضرت علی (رض) اس سے حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت کے خلاف اپنی خلافت پر استدلال کرتے ‘ لیکن حضرت علی (رض) اور حضرت عباس (رض) میں سے کسی نے بھی اس حدیث سے استدلال نہیں کیا۔ 

(٥) مسند بزار میں ہے حضرت علی نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا تو میں کسی کو کیسے اپنا خلیفہ بنا سکتا ہوں۔ اگر یہ حدیث حضرت علی (رض) کی خلافت پر نص ہوتی تو حضرت علی (رض) اس طرح نہ فرماتے۔ 

(٦) اس حدیث میں مولی دوست محب اور ناصر کے معنی میں ہے ‘ جیسا کہ اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں اے اللہ ! اس سے دوستی رکھ جو علی سے دوستی رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھے ‘ یہ دعا اس پر قرینہ ہے کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ کا معنی ہے میں جس کا دوست یا محب یا ناصر ہوں ‘ علی اس کے دوست یا محب یا ناصر ہیں۔ 

اہل تشیع کے اس اعتراض کے اور بھی متعددد جوابات ہیں ‘ لیکن ہم نے اختصار کے پیش نظر صرف انھی جوابات پر اکتفاء کی ہے۔ 

آیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف احکام شرعیہ کی تبلیغ پر مامور تھے ‘ یا اپنے تمام علوم کی تبلیغ پر ؟ 

علماء کرام نے اس مسئلہ پر بحث وتمحیص کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو کچھ بھی وحی کی تھی ‘ خواہ وہ وحی جلی ہو یا خفی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ سب امت تک پہنچا دی یا کچھ علوم ایسے تھے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص تھے۔ 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

بعض صوفیاء سے منقول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جو احکام بندوں کی مصلحت سے متعلق ہیں ‘ ان کی تبلیغ آپ پر ضروری ہے اور جن آیات سے مقصود بندوں کو اطلا پہنچانا ضروری ہے ‘ ان کو بندوں تک پہنچانا ضروری نہیں ہے ‘ بلکہ اس کا ان سے چھپانا ضروری ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” فاوحی الی عبدہ ما اوحی “۔ (النجم : ١٠) 

ترجمہ : سو وحی فرمائی اپنے عبد مقدس کو جو وحی فرمائی۔ 

حضرت جعفر (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلب پر بلاواسطہ ایک راز کی وحی فرمائی اور اس راز کو آپ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس کا آخرت میں پتا چلے گا۔ جب آپ اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے اور علامہ واسطی نے کہا اللہ نے اپنے عبد مکرم کی طرف القاء کیا جو القاء کیا اور اس کو بالکل ظاہر نہیں کیا ‘ کیونکہ اللہ سبحانہ نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص رکھا ہے اور جس چیز کو آپ کے ساتھ مخصوص رکھا ہے ‘ وہ مستور ہے اور جس چیز کے ساتھ آپ کو مخلوق کی طرف مبعوث کیا ہے ‘ وہ ظاہر ہے اور صوفیاء اس کو اسرار الہیہ اور حقیقت کا علم کہتے ہیں۔ 

علامہ آلوسی اس نظریہ سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صوفیاء نے اس مسئلہ میں بہت طویل کلام کیا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس احکام شرعیہ اور اسرار الہیہ کا جو بھی علم تھا ‘ وہ سب قرآن مجید میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء “۔ (النحل : ٨٩) 

ترجمہ : ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ 

(آیت) ” مافرطنا فی الکتاب من شیء “۔ (الانعام : ٣٨) 

ترجمہ : ہم نے کتاب میں کسی چیز کو نہیں چھوڑا۔ 

اور امام ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب فتنے ہوں گے۔ آپ سے پوچھا گیا ان سے نکلنے کی کون سے جگہ ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں تم سے پہلے اور تمہارے بعد کے لوگوں کی خبریں ہیں اور تمہارے متعلق احکام ہیں اور امما ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ قرآن مجید میں ہر علم کو نازل کیا گیا ہے اور ہمارے متعلق ہر چیز کا بیان کیا گیا ہے لیکن ان کو قرآن کریم سے حاصل کرنے سے ہمارا علم قاصر ہے ‘ اور امام شافعی رحمۃ اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس قدر احکام دیئے ہیں ‘ آپ نے ان سب کو قرآن سے مستنبط کیا ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے امام طبرانی نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اسی چیز کو حلال کرتا ہوں جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا ہے اور اسی چیز کو حرام کرتا ہوں ‘ جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کیا ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٥٧٣٧‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٧‘ ص ٧٥) 

علامہ مرسی نے کہا کہ قرآن مجید میں تمام اولین اور آخرین کے علوم جمع ہیں اور اس کا حقیقی احاطہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اور اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے ‘ ماسوا ان علوم کے جن کو اللہ تعالیٰ سبحانہ نے اپنے ساتھ خاص کرلیا ہے۔ پھر معظم سادات صحابہ کرام ان علوم کے وارث ہوئے ‘ مثلا خلفاء اربعہ اور حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) پھر صحابہ کرام (رض) کے بعد تابعین عظام ان علوم کے وارث ہوئے ‘ پھر رفتہ رفتہ مسلمانوں کی ہمتیں اور ان کے درجات کم ہوتے گئے اور افاضل صحابہ اور اخیار تابعین جن علوم کے حامل تھے ‘ بعد کے مسلمان وہ مقام حاصل نہ کرسکے۔ 

اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ تمام علوم اور معارف قرآن مجید میں موجود ہیں ‘ تو قرآن مجید کی تبلیغ ان تمام علوم و معارف کی تبلیغ ہے ‘ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر ہر نکتہ ‘ ہر ہر راز اور ہر ہر حکم تفصیل کے ساتھ ہر ہر شخص کے لیے قرآن مجید کی صریح عبارت سے ظاہر نہیں ہے اور جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ کچھ ایسے اسرار ہیں جو قرآن مجید سے خارج ہیں اور ان کو صوفیہ نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے حاصل کیا ہے ‘ تو یہ صریح جھوٹ ہے۔ علامہ قسطلانی نے کہا کہ عالم دین کا اپنی فہم سے قرآن مجید سے اسرار اور حکمتوں اور احکام کا استخراج کرنا جائز ہے ‘ بشرطیکہ وہ اصول شریعت کے موافق ہوں۔ 

میں کہتا ہوں کہ صوفیاء کا کلام بھی اسی اعتبار سے ہے۔ البتہ ان کی بعض عبارات ظاہر شریعت کے مخالف ہوتی ہیں اور حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے لوگوں سے ان کے عرف کے مطابق بات کرو۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی جائے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ١٢٧‘) ہمارے موقف کے قریب یہ حدیث ہے۔ 

ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ عترہ سے روایت کیا ہے کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا ہم سے لوگ یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے پاس کوئی خاص علم ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے بیان نہیں کیا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اے رسول ! آپ پر جو آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ‘ اس کو پہنچا دیجئے۔ بخدا ہم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (قرآن مجید کے سوا) کسی تحریر کا وارث نہیں کیا ‘ اور امام بخاری نے ابو جحیفہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) سے پوچھا کیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے ؟ فرمایا نہیں ! صرف کتاب اللہ ہے ‘ یا وہ فہم ہے جو ہر مسلمان شخص کو دی گئی ہے ‘ یا جو اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا : دیت کے احکام ہیں اور قیدیوں کو چھڑانے کے اور یہ کہ مسلمانوں کو کافر (حربی) کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ١١١) 

خلاصہ یہ ہے کہ صوفیاء کی جو عبارات قرآن وسنت کے موافق ہیں ‘ وہ مقبول ہیں اور جو عبارات کتاب وسنت کے خلاف ہیں ‘ وہ مردود ہیں ‘ اور یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو کتاب وسنت سے ایسے اسرار اور احکام مستنبط کرنے کی فہم عطا فرمائے جو ان سے پہلے مفسرین ‘ فقہاء اور مجتہدین نے مستنبط نہ کیے ہوں ‘ اور جب آیات اور احادیث سے ائمہ اربعہ کے اجتہاد اور استنباط کو مان لیا گیا ہے ‘ حالانکہ وہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں تو بعد کے علماء کے لیے یہ کیوں جائز نہیں ہے ؟ کہ وہ کتاب اور سنت سے ایسے مسائل اور حکمتیں مستنبط کریں ‘ جو ائمہ اربعہ نے نہ مستنبط کیے ہوں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ استخراج اجماع امت کے خلاف نہ ہو۔ (روح المعانی ج ٦ ص ‘ ١٩٢۔ ١٨٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

نبی کریم کے علم کی تین قسمیں : 

علامہ سید محمود آلوسی کے اس کلام کی متانت اور ثقاہت میں ہمیں کلام نہیں ہے ‘ لیکن دلائل صحیحہ کی روشنی میں بعض محققین کا یہ نظریہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صرف احکام شرعیہ کی تبلیغ واجب تھی ‘ اور تمام علوم کی تبلیغ آپ پر واجب نہیں تھی۔ بعض علوم ایسے تھے جو آپ نے سب کو نہیں بتلائے بلکہ جو ان کے اہل تھے ‘ ان کو بتلا دیئے اور بعض علوم ایسے تھے ‘ جو آپ نے کسی کو نہیں بتلائے ‘ وہ صرف آپ کی ذات مقدسہ کے ساتھ مختص تھے گویا آپ کے علوم کی تین قسمیں ہیں : 

شیح عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے میرے پروردگار نے کوئی چیز پوچھی جس کا جواب میں نہیں دے سکا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے اپنادست قدرت میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا ‘ جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینہ میں محسوس کی ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اولین اور آخرین کا علم عطا فرما دیا اور مجھے کئی اقسام کا علم عطا فرمایا۔ ایک علم کی وہ قسم تھی جس کے متعلق مجھے عہد لیا کہ میں کسی کو اس پر مطلع نہیں کروں گا اور میرے علاوہ اور کوئی شخص اس کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ دوسری علم کی وہ قسم تھی جس کو ظاہر کرنے یا پوشیدہ رکھنے کا مجھے اختیار عطا فرمایا اور تیسری علم کی وہ قسم تھی جس کے متعلق مجھے حکم دیا کہ میں امت کے ہر خاص وعام کو اس کی تبلیغ کروں۔ (مدارج النبوت ‘ ج ١ ص ١٦٨‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر ‘ ١٣٩٧ ھ) 

وہ علم جس کو تمام امت تک پہنچانا آپ پر فرض ہے۔ 

جن علوم کی امت کے ہر خاص وعام کو تبلیغ واجب ہے ‘ ان کا تعلق احکام شرعیہ سے ہے اور زیر بحث آیت میں آپ کو ان ہی کی تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔ آپ نے قرآن مجید کی تمام آیات کا پہنچایا اور احادیث میں ان کی وضاحت فرمائی۔ زیر بحث آیت کی تفسیر میں بہت سے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں آپ کو احکام شرعیہ کی تبلیغ کا حکم دیا ہے۔ 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت کا ظاہر معنی یہ ہے کہ ہر جو چیز نازل ہوئی اس کی تبلیغ واجب ہے ‘ اور شاید اس سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کے ساتھ بندوں کی مصلحتیں متعلق ہوں ‘ اس کی تبلیغ واجب ہے اور اس کے نازل کرنے سے مقصود ان کو مطلع کرنا ہو ‘ کیونکہ بعض اسرار الہیہ کا افشاء کرنا حرام ہے۔ (انورالتنزیل ‘ الکازرونی ‘ ج ٢‘ ص ٣٤٨‘ مبطوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں : 

بعض علماء نے کہا ہے کہ اس آیت کے حکم کا تعلق دین اور بندوں کی مصلحتوں کے ساتھ ہے ‘ اور آپ کو انہیں مطلع کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ اور جو اسرار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہیں ‘ ان کا حکم نہیں ہے۔ جیسا کہ امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دو قسم کے علوم محفوظ کیے۔ ایک علم کو تو میں نے لوگوں میں پھیلا دیا ‘ اور اگر دوسرے علم کو میں پھیلاؤں تو یہ نرخرہ کاٹ دیا جائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ‘ ٣‘ ص ٣٦٤‘ ٣٦٣‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت) 

علامہ ابو السعود محمد عمادی حنفی متوفی ٩٨٢ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

آپ پر جس قدر بھی احکام نازل کیے گئے ہیں ‘ ان کو پہنچا دیجئے ‘ کیونکہ جن امور کا تعلق احکام سے بالکل نہیں ہے جیسے اسرار خفیہ ان کی لوگوں کو تبلیغ کرنا مقصود نہیں ہے۔ (تفسیر ابی السعود علی ھامش الکبیر ‘ ج ٤‘ ص ٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ سلیمان بن عمر الجمل متوفی ١٢٠٤ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں 

جو امور احکام سے متعلق ہیں ان کو پہنچا دیجئے۔ کیونکہ جو اسرار آپ کے ساتھ خاص کر دیجئے۔ کیونکہ جو اسرار آپ کے ساتھ خاص کردیئے گئے ہیں ‘ ان کی تبلیغ کرنا آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین ‘ ج ١ ص ٥١٠‘ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ ‘ کراچی) 

وہ علم جس کی تبلیغ میں آپ کو اختیار ہے 

علامہ طاہر بن عاشور متوفی ١٣٨٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی بعض لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ بعض ایسے علوم سے مطلع فرماتے جن کا تعلق احکام شرعیہ کے ساتھ نہیں ہوتا تھا ‘ اور بعض اصحاب کو کسی راز سے مطلع فرماتے تھے ‘ جیسے آپ نے صرف حضرت سیدہ فاطمہ (رض) کو یہ راز بتلایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل میں سے سب سے پہلے وہ آپ کے ساتھ آپ کے وصال کے بعد لاحق ہوں گی۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٢٣) اور حضرت ابوبکر (رض) کو اس راز سے مطلع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٩٠٥) اور حضرت حذیفہ (رض) کو اس راز سے مطلع کیا کہ خارجی حضرت عثمان (رض) کو شہید کردیں گے ‘ جیسا کہ حضرت حذیفہ نے حضرت عمر (رض) کو بتایا تھا۔ (صحیح البخاری : رقم الحدیث : ٥٢٥) اور جیسا کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دو قسم کے علوم حاصل کیے ہیں۔ ایک علم تو انہوں نے پھیلا دیا اور دوسرا علم اگر وہ پھیلا دیں تو ان کی رگ جاں کاٹ دی جائے گی۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٠) اور یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض وفات میں کچھ لکھوانا چاہا اور پھر لکھوانے سے اعراض کرلیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١١٤) تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا تعلق احکام شرعیہ سے نہیں تھا ‘ کیونکہ اگر اس کا تعلق احکام شرعیہ سے ہوتا تو آپ اس کو لکھوانے سے کبھی اعراض نہ فرماتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ہے اے رسول ! جو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا۔ (المائدہ : ٦٧) اور حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا جو شخص تم سے یہ کہے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی ایسی چیز کو چھپالیا جو آپ پر نازل کی گئی تھی تو اس نے جھوٹ بولا (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث ٤٨٥٥‘ التحریر والتنویر ‘ جز سادس ‘ ص ٢٦٠) 

جن علوم کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا گیا تھا کہ جس کو چاہیں مطلع فرمائیں اور جس کو چاہیں نہ مطلع فرمائیں ان میں سے بعض کا ذکر احادیث کے حوالہ سے علامہ ابن عاشور کی تحریر میں آگیا ہے ‘ اور اسی سلسلہ میں ایک حدیث یہ ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک سواری پر حضرت معاذ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا اے معاذ بن جبل انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں حاضر ہوں (یہ مکالمہ تین بار ہوا) آپ نے فرمایا جو شخص بھی صدق دل سے ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ کی گواہی دے ‘ اللہ اس کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ حضرت معاذ نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو یہ خبر نہ سناؤں کہ وہ خوش ہوجائیں ! آپ نے فرمایا پھر لوگ اسی پر تکیہ کرلیں گے پھر حضرت معاذ (رض) نے موت کے وقت گناہ سے بچنے کے لیے (تاکہ علم کا چھپانا لازم نہ آئے) یہ حدیث بیان کردی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١ رقم الحدیث : ١٢٨) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) سے فرمایا : جس شخص نے اللہ سے اس حال میں ملاقات کی کہ اس نے اللہ کے ساتھ بالکل شرک نہ کیا ہو ‘ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ حضرت معاذ نے پوچھا میں لوگوں کو یہ خوش خبری نہ سنا دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ! مجھے خدشہ ہے کہ پھر لوگ اسی پر تکیہ کرلیں گے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١ رقم الحدیث : ١٢٩) 

قرآن مجید میں بھی اس سلسلہ کی ایک نظیر ہے : 

(آیت) ” واذ اسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا فلما نبات بہ واظہرہ اللہ علیہ عرف بعضہ واعراض عن بعض فلما نباھا بہ قالت من انباک ھذا قال نبانی العلیم الخبیر “۔ (التحریم : ٣) 

ترجمہ : اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے ایک راز کی بات فرمائی پھر جب انہوں نے اس راز کا (کسی سے) ذکر کردیا اور اللہ نے نبی پر اس کا اظہار فرما دیا ‘ تو نبی نے انہیں کچھ جتا دیا اور کچھ بتانے سے اعراض فرمایا۔ پھر جب نبی نے انہیں اس کی خبر دی ‘ تو وہ کہنے لگیں آپ کو اس کی کس نے خبر دی ؟ آپ نے فرمایا مجھے بہت علم والے نہایت خبر رکھنے والے نے خبر دی۔ 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں 

امام ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے اور امام ابن ابی حاتم نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) سے یہ راز بیان کیا کہ آپ نے اپنے اوپر حضرت ماریہ کو حرام کرلیا ہے۔ (بعض روایات میں شہد کے حرام کرنے کا ذکر ہے۔ اس سے مراد شرعی حرام نہیں ہے ‘ بلکہ قسم کھانا مراد ہے) اور یہ فرمایا کہ آپ کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) خلیفہ ہوں گے۔ حضرت حفصہ نے یہ راز حضرت عائشہ (رض) کو بتادیا تب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ سے فرمایا کہ تم نے ماریہ کے حرام کرنے کو افشاء کردیا ہے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے راز کو افشاء کرنے سے آپ نے اعراض فرمایا ‘ تاکہ وہ مزید شرمندہ نہ ہوں اور امام ابو نعیم اور امام ابن مردویہ نے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے والد اور عائشہ کے والد میرے بعد خلیفہ ہوں گے ‘ سو تم یہ راز کسی کو بتانے سے اجتناب کرنا۔ (روح المعانی ج ٢٨‘ ص ‘ ١٥١ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

ہم نے باحوالہ دلائل سے یہ بیان کردیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی ایک وہ قسم تھی جس کی ہر خاص و عام پر تبلیغ کرنا آپ پر فرض تھا ‘ یہ قرآن مجید کی تمام آیات ہیں اور وہ احادیث ہیں جن کا تعلق احکام شرعیہ سے ہے اور آپ کے علم کی دوسری قسم وہ ہے جس میں آپ کو اختیار تھا کہ آپ جس کو چاہیں ‘ بیان فرمائیں۔ اس پر بھی ہم نے باحوالہ بیان کردیئے ہیں۔ اب رہی تیسری قسم ‘ یعنی وہ علم جو آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور جس کا اخفاء آپ پر واجب ہے ‘ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔ 

وہ علم جس کا اخفاء آپ پر واجب ہے : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے متشابہات کا علم عطا فرمایا ہے اور عام مسلمانوں کو یہ علم عطا نہیں فرمایا۔ فقہاء احناف کا یہی مذہب ہے اور سلف صالحین کا بھی یہی مذہب تھا کہ آیات متشابہات کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ کرلیا ہے ‘ یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا اور کسی کو نہیں عطا فرمایا۔ 

ملا جیون متشابہ کی تعریف میں لکھتے ہیں :

متشابہ اس چیز کا اسم ہے جس کی معرفت کی امید منقطع ہو اور اس کے ظاہر ہونے کی اصلا امید نہ ہو۔ وہ غایت خفا میں ہوتا ہے ‘ اور محکم کی ضد ہے جو غایت ظہور میں ہوتا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اس لفظ سے جو مراد ہے ‘ وہ حق ہے۔ اگرچہ ہم کو قیامت سے پہلے یہ پتا نہیں چلے گا کہ اس لفظ متشابہ سے کیا مراد ہے اور قیامت کے بعد اس کی مراد انشاء اللہ ہر شخص پر منکشف ہوجائے گی اور یہ حکم امت کے حق میں ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں یہ اعتقاد ہے کہ آپ کو لفظ متشابہ کی مراد قطعا معلوم ہو ‘ ورنہ آپ سے اس کے ساتھ خطاب کا فائدہ باطل ہوجائے گا اور یہ ایسا ہوگا جیسے لفظ مہمل کے ساتھ خطاب کیا جائے یا کسی عربی کے ساتھ حبشی میں گفتگو کی جائے۔ (انور الانوار ‘ ص ٩٣‘ مطبوعہ سعید اینڈ کمپنی ‘ کراچی) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

اور یہ بات جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب (علیہ الصلوۃ والسلام) کو وقت وقوع قیامت کی کامل اطلاع دی ہو مگر اس طریقہ سے نہیں کہ آپ اللہ کے علم کی حکایت کریں ‘ ہاں مگر اللہ سبحانہ نے کسی حکمت کی وجہ سے آپ پر اس علم کا اخفاء واجب کردیا ہے اور یہ علم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواص میں سے ہے ‘ لیکن میرے نزدیک اس پر کوئی قطعی دلیل نہیں ہے۔ (روح المعانی ج ٢١ ص ‘ ١١٣ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں فرمایا ‘ بلکہ یہ جائز ہے کہ آپ کو روح کی حقیقت پر مطلع فرمایا ہو اور آپ کو لوگوں کو اطلاع دینے کا حکم نہ دیا ہو ‘ اور علم قیامت کے متعلق بھی انہوں نے اسی طرح کیا ہے۔ (فتح الباری ج ٨ ص ٤٠٣‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امور خمسہ (قیامت ‘ بارش ہونے ‘ ماں کے پیٹ ‘ کل کیا ہوگا ‘ اور کون کہاں مرے گا) کا علم دیا گیا ہے اور وقت وقوع قیامت اور روح کا علم بھی دیا گیا ہے ‘ لیکن آپ کو ان کے مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (خصائص کبری ‘ ج ٣‘ ص ١٦٠‘ طبع مصر ‘ شرح الصدور ‘ ص ٣١٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

علامہ احمد قسطلانی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

بعض علماء نے بیان فرمایا ہے کہ قرآن کی آیت میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حقیقت روح پر مطلع نہیں فرمایا ‘ بلکہ جائز ہے کہ آپ کو روح کی حقیقت پر مطلع فرمایا ہو اور دوسروں کو بتلانے کا حکم نہ دیا ہو اور علماء نے قیامت کے علم کے متعلق بھی اسی طرح فرمایا ہے۔ (المواہب اللدنیہ مع الزرقانی ‘ ج ١ ص ٢٦٥) 

امام بخاری نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے ایک خواب بیان کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے اس خواب کی تعبیر کی اجازت دیں ‘ پھر حضرت ابوبکر نے اس خواب کی تعبیر کی ‘ بعد ازاں عرض کیا آپ فرمائیں کہ میری تعبیر صحیح ہے یا غلط ‘ آپ نے فرمایا بعض صحیح ہے ‘ بعض غلط ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ خدا کی قسم ! آپ ضرور بتلائیں میں نے کیا خطا کی ہے ‘ آپ نے فرمایا قسم نہ دو ۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٧٠٤٦‘ مختصر) 

حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

خواب کی تعبیر غیب کا علم ہے ‘ اس لیے جائز تھا کہ آپ اس غیب کو اپنے ساتھ خاص رکھتے اور دوسروں سے مخفی رکھتے۔ (فتح الباری ج ١٢ ص ٤٣٦‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

ہم نے تفصیل سے دلائل کے ساتھ باحوالہ بیان کردیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم میں تین قسمیں تھیں۔ ایک وہ علم جس کی تمام امت کو تبلیغ کرنا آپ پر فرض تھا۔ یہ تمام قرآن کریم ہے اور وہ احادیث ہیں جن کا تعلق قرآن مجید کی تفصیل اور بیان سے ہے ‘ اور دوسرا وہ علم ہے جس کی تبلیغ میں آپ کو اختیار تھا اور اس کا تعلق عموما غیب کی خبروں سے ہے ‘ اور تیسرا وہ علم جس کا اخفاء آپ پر واجب ہے۔ جیسے آیات متشابہات ‘ تقدیر ‘ وقت وقوع قیامت اور روح کا علم اور یہ وہ اسرار ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اس نے صرف اپنے حبیب اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان پر مطلع فرمایا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 67