وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ثُمَّ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 71

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة

آیت نمبر 71

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَحَسِبُوۡۤا اَلَّا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ فَعَمُوۡا وَصَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ ثُمَّ عَمُوۡا وَصَمُّوۡا كَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ ان کو (اس کی) کوئی سزا نہیں ملے گی ‘ سو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ‘ پھر اللہ نے انکی توبہ قبول فرمالی ‘ پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ ان کو (اس کی) کوئی سزا نہیں ملے گی ‘ سو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ‘ پھر اللہ نے انکی توبہ قبول فرمالی ‘ پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ (المائدہ : ٧١)

فتنہ کے معنی :

فتنہ کے کئی معانی ہیں۔ نقصانات اور مصائب کو بھی فتنہ کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بداعمالیوں کی جو سزا دیتا ہے اس کو بھی فتنہ کہتے ہیں ‘ اور اس آیت میں یہی معنی مراد ہے اور اللہ کے نیک بندوں کو جس آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ‘ اس کو بھی فتنہ کہتے ہیں اس فتنہ کی وجہ سے نیک لوگوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے ہاروت اور ماروت کو بھی فتنہ فرمایا ہے ‘ کیونکہ ان کی وجہ سے لوگ آزمائش میں مبتلا ہوگئے تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دجال کو فتنہ فرمایا ہے۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بنو اسرائیل کا گمان یہ تھا کہ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا ہے ‘ اس کی دنیا میں اس کو کوئی سزا نہیں ملے گی اور اس وجہ سے ان پر مصائب طاری نہیں ہوں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ آخرت میں بھی ان کو عذاب سے نجات ہوجائے گی ‘ کیونکہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں اور اگر ان کو عذاب ہوا تو صرف چند دن عذاب ہوگا ‘ جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔

بنو اسرائیل کا ہدایت سے دو بار اندھا اور بہرا ہونا : 

اس آیت میں بنو اسرائیل کے متعلق دو مرتبہ فرمایا ہے کہ وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے دیکھ کر ہدایت حاصل کی اور نہ سن کر ہدایت حاصل کی ‘ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر قحط مسلط ہوگیا اور ان پر وبائیں طاری کی گئیں ‘ لیکن انہوں نے اس سے کوئی نصیحت حاصل نہیں کی۔ پھر ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف حسد اور بغض پیدا کردیا گیا ‘ وہ ایک دوسرے کے خلاف لڑتے اور ایک دوسرے کو قتل کرتے ‘ لیکن انہوں نے اس سے بھی کوئی عبرت حاصل نہیں کی

بنو اسرائیل ہدایت کو حاصل کرنے سے دو مرتبہ اندھے اور بہرے ہوئے۔ ایک مرتبہ حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی ‘ اور ان میں سے بعض کو ایمان لانے کی توفیق دی۔ ان میں سے پھر بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں انہوں نے آپ کی نبوت اور رسالت کا انکار کیا اور کم لوگ ایمان لائے ‘ جیسے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) ۔

اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ پہلی بار یہ اندھے اور بہرے اس وقت ہوئے جب انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی ‘ پھر انہوں نے توبہ کی اور اللہ نے ان کی توبہ کو قبول کرلیا ‘ پھر دوبارہ یہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔ جب انہوں نے سرکشی اور ہٹ دھرمی کی اور یہ کہا : کہ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھ نہ لیں۔

اور اس کا تیسرا محمل یہ ہے کہ جب ان کے پاس حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) بھیجے گئے تو یہ ہدایت حاصل کرنے سے اندھے اور بہرے ہوگئے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول کرلی اور اس کے بعد پھر یہ اندھے اور بہرے ہوگئے۔

علامہ طاہر بن عاشور متوفی ١٣٨٠ ھ نے لکھا ہے کہ اس آیت میں دو تاریخی عظیم حادثوں کی طرف اشارہ ہے جو حضرت موسیعلیہ السلام کے بعد بنواسرائیل کو پیش آئے۔ پہلا حادثہ وہ تھا جب اشور کا بادشاہ کئی مرتبہ بیت المقدس پر حملہ آور ہوا ‘ یہ ٦٠٦‘ ٥٩٨‘ ٥٨٨‘ سال قبل مسیح کے واقعات ہیں ‘ وہ تیسری مرتبہ یروشلم میں داخل ہوا ‘ اس نے مسجد کو جلا دیا اور تمام بنو اسرائیل کو ہانک کر بابل لے گیا اور وہاں ان کو قید کردیا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور فارس کا بادشاہ کو رش ‘ اشوریین پر غالب آیا اور اس نے ٥٣٠ سال قبل مسیح بابل پر قبضہ کرلیا ‘ اور یہودیوں کو اجازت دی کہ وہ اپنے شہروں میں واپس چلے جائیں اور ان کو آباد کریں۔ سو واپس گئے اور انہوں نے اپنی مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا ‘ اس کے بعد انہوں نے پھر نافرمانی اور سرکشی کی اور یہ پھر ہدایت اور راہ حق سے اندھے اور بہرے ہوگئے ‘ اور تب دوسرا حادثہ پیش آیا۔ جب قیطس بن انبراطور رومانی نے یروشلم کا محاصرہ کرلیا ‘ حتی کہ یہود بھوک سے مجبور ہو کر چمڑا کھانے لگے اور بعض اوقات بھوک سے بلبلا کر ایک دوسرے کو کھا جاتے تھے۔ اس نے دس لاکھ یہودیوں کو قتل کردیا ‘ اور ستانوں ہزار یہودیوں کو قید کرلیا ‘ یہ ٦٩ ء کا واقعہ ہے۔ پھر ابن انبراطور رومانی ١١٧ ء سے ١٣٨ ء تک اس کے بعد حکمران رہا ‘ اس نے ان کے شہر کو منہدم کر کے سپاٹ زمین بنادیا اور اس وقت دنیا میں یہودیوں کی حکومت ختم ہوگئی تھی اور ان کا وطن ملیا میٹ ہوچکا تھا۔ (التحریر والتنویر ‘ ج ٦‘ ص ٢٧٨۔ ٢٧٧)

یہ دونوں تاریخی حادثے جو بنو اسرائیل کی بداعمالیوں کی پاداش میں رونما ہوئے تھے ‘ ان کی طرف قرآن مجید کی حسب ذیل آیات میں اشارہ کیا گیا ہے :

(آیت) ” وقضینا الی بنی اسرآئیل فی الکتاب لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا۔ فاذا جآء وعدا ولھما بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید فجاسوا خلل الدیار وکان وعدا مفعولا۔ ثم رددنا لکم الکرۃ علیھم وامددنکم باموال وبنین وجعلنکم اکثر نفیرا۔ ان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا فاذا جآء وعد الاخرۃ لیسوء وا وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃ ولیتبروا ماعلوا تتبیرا۔ عسی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکفرین حصیرا “۔ (بنواسرائیل : ٨۔ ٤)

ترجمہ : ہم نے بنواسرائیل کو کتاب میں قطعی طور پر یہ بتادیا تھا کہ تم ضرور زمین میں دو مرتبہ فساد کرو گے اور تم ضرور بہت بڑی سرکشی کرو گے، تو جب ان میں سے پہلے وعدہ کا وقت آپہنچا تو ہم نے تم پر اپنے سخت بندے مسلط کردیئے سو وہ تمہاری تلاش کے لیے شہروں میں پھیل گئے اور یہ ایسا وعدہ تھا جو ضرور پورا ہونا تھا، پھر ہم نے ان پر تمہارا غلبہ دوبارہ لوٹا دیا ‘ اور مال اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد فرمائی اور تمہاری تعداد بڑھا دی، اگر تم نے نیک کام کیے تو تم نے اپنی جانوں کے ساتھ بھلائی کی ‘ اور اگر تم نے برے کام کیے تو اپنے ساتھ برائی کی ‘ پھر جب دوسرے وعدہ کا وقت آپہنچا تو ہم نے دوسرے ظالموں کو تم پر مسلط کردیا ‘ تاکہ وہ تمہارے چہروں کو مضمحل کردیں اور مسجد میں داخل ہوں جیسا کہ پہلی بار اس میں داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر غلبہ پائیں ‘ اسے تباہ و برباد کردیں، عنقریب تمہارا رب تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر سرکشی کی تو ہم پھر عذاب دیں گے ‘ اور ہم نے دوزخ کو کافروں کیلیے قید خانہ بنادیا ہے۔

ان آیات کی تفسیر میں بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں لکھ دیا تھا کہ بنو اسرائیل دو بار شرارت کریں گے۔ اس کی سزا میں دشمن ان کے ملک پر غالب ہوجائیں گے۔ پہلے وعدہ سے مراد بخت نصر کا حملہ ہے جو ولادت مسیح سے ٥٨٨ سال قبل ہوا ‘ اور دوسرے وعدہ سے قیطس (طیطوس) رومی کا حملہ ہے ‘ جو ٦٩ ء میں ہوا۔ ان دونوں حملوں میں یہودوں پر مکمل تباہی آئی اور مقدس ہیکل کو برباد کردیا گیا۔

چونکہ یہودیوں نے یہ گمان کیا تھا کہ انہوں نے رسولوں کی جو تکذیب کی ہے ‘ اور ان کو قتل کیا ہے ‘ ان کو اس کی کوئی سزا نہیں ملے گی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کا رد کرنے کے لیے فرمایا کہ انہوں نے دو بار سرکشی کی اور ہر بار اللہ نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی ‘ جس سے تمام یہودی ویران اور برباد ہوگئے ‘ اور ہر سزا کے بعد انہوں نے توبہ کی اور توبہ کے بعد وہ پھر اندھے اور بہرے ہوگئے۔ سو اب اگر انہوں نے ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی اور آپ کو قتل کرنے کی سعی کی ‘ تو یہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے اور ایسا ہی ہوا ‘ انہوں نے آپ کی تکذیب بھی کی اور دو بار آپ کو قتل کرنے کی سازش کی۔ آپ کو اللہ نے ان کے شر سے محفوظ رکھا اور ان کو قتل کیا گیا اور جلاوطن کیا گیا اور دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کردی گئی۔

 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 71

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.