أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡـتُمۡ حُرُمٌ‌ ؕ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ هَدۡيًاۢ بٰلِغَ الۡـكَعۡبَةِ اَوۡ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيۡنَ اَوۡ عَدۡلُ ذٰ لِكَ صِيَامًا لِّيَذُوۡقَ وَبَالَ اَمۡرِهٖ‌ ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ‌ ؕ وَمَنۡ عَادَ فَيَنۡتَقِمُ اللّٰهُ مِنۡهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! حالت احرام میں شکار نہ مارو ‘ اور تم میں سے جس نے عمدا شکار مارا تو جس جانور کو اس نے مارا ہے اس شخص کو مویشیوں میں سے اسی کی مثل قربانی کرنی ہوگی ‘ تم میں سے دو منصف اس (کی مثلیت) کا فیصلہ کریں گے درآں حالیکہ یہ قربانی کعبہ کو پہنچنے والی ہو ‘ یا (اس پر) چند مسکینوں کا کھانا ہے یا ان (کی تعداد) کے برابر روزے رکھنا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوت کا مزہ چکھے ‘ جو گزر گیا اس کو اللہ نے معاف کردیا ‘ اور جو دوبارہ یہ کام کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ بہت غالب منتقم ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! حالت احرام میں شکار نہ مارو ‘ اور تم میں سے جس نے عمدا شکار مارا تو جس جانور کو اس نے مارا ہے اس شخص کو مویشیوں میں سے اسی کی مثل قربانی کرنی ہوگی ‘ تم میں سے دو منصف اس (کی مثلیت) کا فیصلہ کریں گے درآں حالیکہ یہ قربانی کعبہ کو پہنچنے والی ہو ‘ یا (اس پر) چند مسکینوں کا کھانا ہے یا ان (کی تعداد) کے برابر روزے رکھنا ہے تاکہ وہ اپنے کرتوت کا مزہ چکھے ‘ جو گزر گیا اس کو اللہ نے معاف کردیا ‘ اور جو دوبارہ یہ کام کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ بہت غالب منتقم ہے۔ (المائدہ : ٩٥) 

خشکی کے جانوروں کے قتل کی ممانعت سے پانچ فاسق جانوروں کا استثناء : 

خشکی کے شکار کو مارنا محرم پر حرام ہے اور سمندر شکار کو مارنا اس کے لیے حلال ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” احل لکم صید البحر وطعامہ متاعالکم وللسیارۃ “ (المائدہ : ٩٦) 

ترجمہ : تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا طعام حلال کردیا گیا ہے ‘ تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے۔ 

خشکی کا شکار وہ ہے جو خشکی میں پیدا ہوا ہو اور خشکی میں رہتا ہو اور سمندری شکار وہ ہے جو پانی میں (خواہ دریا ہو یا سمندر) پیدا ہوا ہو ‘ اور پانی میں رہتا ہو اور شکار اس جانور کو کہتے ہیں جو اپنی اصل خلقت کے اعتبار سے انسانوں سے غیر مانوس ہو اور ان سے متنفر اور متوحش ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خشکی کے جانوروں کو قتل کرنے کی ممانعت کے عمومی حکم سے پانچ خبیث جانوروں کو مستثنی فرما لیا ہے۔ کاٹنے والا کتا ‘ بھیڑیا ‘ چیل ‘ کوا ‘ سانپ ‘ اور بچھو۔ کیونکہ یہ جانور ابتداء حملہ کرتے ہیں اور ایذا پہنچاتے ہیں ‘ اور کوے سے مراد وہ ہے جو مراد کھاتا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانچ جانور فاسق ہیں جن کو حرم یا غیر حرم میں قتل کرد یا جائے گا۔ سانپ ‘ کوا ‘ (جس کی پشت اور پیٹ پر سفیدی ہو) چوہا اور کاٹنے والا کتا اور چیل۔ (صحیح مسلم ‘ حج ٦٦‘ (١١٩٨) ٢٨١٥‘ سنن نسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٢٩‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ : ٣٠٨٧) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ پانچ جانور کل کے کل فاسق ہیں ‘ ان کو حرم میں بھی قتل کردیا جائے گا۔ کوا ‘ چیل ‘ کاٹنے والا کتا ‘ بچھو اور چوہا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٢٩‘ صحیح مسلم ‘ حج ٧١‘ (١١٩٨) ٢٨٢٠‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٩٠) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ محرم اور غیر محرم کے لیے کاٹنے والے کتے کو حرم اور غیر حرم میں قتل کرنا جائز ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد کیا ہے ؟ ایک قول یہ ہے کہ اس سے یہی معروف کتا مراد ہے۔ امام اوزاعی ‘ امام ابوحنیفہ ‘ اور حسن بن صالح کا یہی قول ہے اور انہوں نے بھیڑیے کو بھی اسی کے ساتھ لاحق کیا ہے ‘ اور امام زفر کے نزدیک کتے سے مراد صرف بھیڑیا ہے ‘ اور جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ کاٹنے والے کتے سے مراد بالخصوص یہ معروف کتا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد ہر وہ درندہ ہے جو عادۃ حملہ کرتا ہو ‘ مثلا بھیڑیا اور چیتا وغیرہ۔ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ سفیان ثوری وغیرھم کا یہی قول ہے۔ قاضی عیاض نے اس قول کو جمہور علماء کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔ (صحیح مسلم مع شرحہ للنووی ‘ ج ٥‘ ص ٣٢٣٤‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصفطفی مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ) 

کھیتوں کے کوے کے علاوہ ہر کوے کو قتل کرنے کا حکم : 

شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ لکھتے ہیں : 

علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کوے کو قتل کرنے کے حکم سے وہ چھوٹا کوا مستثنی ہے جو دانہ کھاتا ہے۔ اس کو غراب زرع اور زاغ کہا جاتا ہے۔ اس کے کھانے پر جواز کا فتوی دیا گیا ہے ‘ اس کے علاوہ کوے کی جتنی قسمیں ہیں ‘ ان سب کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ فتح الباری کے مطابق کوے کی پانچ قسمیں ہیں۔ ایک عقعق ہے۔ قاموس میں لکھا ہے کہ یہ سفید اور سیاہ رنگ کا پرندہ ہے ‘ اس کی آواز عین اور قاف کے مشابہ ہے اور دوسرا ابقع ہے ‘ جس کی پیٹھ اور پیٹ پر سفیدی ہے۔ تیسرا غداف ہے۔ اہل لغت اس کو ابقع کہتے ہیں اور اس کو غراب ایین بھی کہا جاتا ہے ‘ کیونکہ جب نوح (علیہ السلام) نے اس کو زمین کی خبر لانے کے لیے بھیجا ‘ تو یہ ان سے علیحدہ ہو کر مردار کھانے میں مشغول ہوگیا۔ چوتھی قسم اعصم ہے۔ یہ وہ ہے جس کی ٹانگ یا پیر یا پیٹ میں سفیدی یا سرخی ہو اور پانچویں قسم زاغ ہے ‘ اس کو غراب زرع بھی کہتے ہیں ‘ یہ چھوٹا کوا ہے جو دانہ کھاتا ہے۔ (فتح الملھم ‘ ج ٣‘ ص ٢٣١‘ مطبوعہ مکتبہ الحجاز ‘ کراچی) 

شیخ عثمانی نے زاغ یا غراب زرع کے سواکوے کی باقی اقسام کو حرام قرار دیا ہے اور فقہاء کی عبارات سے ثابت ہوتا ہے کہ زاغ (غراب زرع) اور عقعق کے سوا کوے کی باقی اقسام حرام ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ زاغ (غراب زرع) اور عقعق دونوں اس عام کوے سے چھوٹے ہوتے ہیں ‘ ان تصریحات سے واضح ہوا کہ یہ عام معروف کوا جو ہمارے درختوں پر پایا جاتا ہے ‘ حرام ہے۔ 

تین صورتوں میں محرم کے لیے شکاری جانوروں کو قتل کرنے کی اجازت : 

اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر محرم شکار کو قتل کردے تو اس پر اس کی جزا (تاوان) واجب ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سورة مائدہ کی اس آیت ٩٥ میں صراحتا مذکور ہے، شکار کے قتل کی بھی قسمیں ہیں ‘ ایک قسم مباح ہے اور ایک قسم حرام ہے۔ حرام وہ قسم ہے جس میں محرم شکار کو بغیر کسی سبب موجب یا سبب مبیح کے قتل کر دے۔ سبب موجب یہ ہے کہ کوئی جانور محرم پر حملہ کر دے ‘ اور اس کو قاتل کیے بغیر اس جانور سے جان بچانے کی اور کوئی صورت نہ ہو ‘ اس صورت میں اس جانور کو قتل کرنا واجب ہے۔ کیونکہ جان بچانا فرض ہے ‘ یہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کے قاعدہ کے مطابق ہے ‘ اور سبب مبیح یہ ہے کہ انسان کے پاس حلال ذرائع سے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو اور جان بچانے کی صرف یہ صورت ہو کہ انسان کسی جانور کو شکار کرکے کھالے ‘ تو اس صورت میں اپنی جان بچانے کے لیے اس جانور کو شکار کرکے کھانا مباح ہے۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ rnّ (آیت) ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکم “۔ (البقرہ : ١٩٥) 

ترجمہ : اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ 

تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی جانور کو کسی درندہ یا کسی کے پھندہ سے بچانے کی کوشش کرے اور وہ جانور ہلاک ہوجائے تو اس پر ضمان نہیں ہے۔ 

محرم عمدا قتل کرے یا خطاء ‘ ہر صورت میں اس پر ضمان کا وجوب : 

ائمہ مذاہب کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ محرم شکار کو عمدا قتل کرے یا خطا قتل کرے ‘ ہر صورت میں اس پر ضمان واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے : 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس بجو کو محرم شکار کرے ‘ اس کا تاوان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مینڈھا قرار دیا اور اس کو شکار میں شمار فرمایا : (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٠٨٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : محرم شتر مرغ کا انڈا شکار سے حاصل کرے تو اس کا تاوان اس کی قیمت ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٠٨٦‘ مطبوعہ بیروت) 

وجہ استدلال یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ضمان کو عمد کے ساتھ مقید نہیں فرمایا : بلکہ شکار کرنے پر مطلقا تاوان کو واجب فرمایا ہے۔ 

شکار کی تعریف : 

شکار کو قتل کرنا محرم پر حرام ہے ‘ خواہ اس نے حج کا احرام باندھا ہو یا عمرہ کا اور شکار وہ ہے جس میں تین اوصاف ہوں۔ اس کا کھانا حلال ہو ‘ اس جانور کا کوئی مالک نہ ہو ‘ وہ فی نفسہ پالتو جانور نہ ہو ‘ اور انسانوں سے غیر مانوس ہو ‘ ان کو دیکھ کر بھاگنے والا ‘ متنفر اور وحشی ہو۔ سو اگر کوئی شخص کسی درندے کو یا پھاڑنے چیرنے والے پرندے کو یا حشرات الارض میں سے کسی جانور مثلا چھپکلی یا گرگٹ وغیرہ اور دیگر کیڑے مکوڑے کو قتل کر دے تو اس پر ضمان نہیں ہے ‘ اسی طرح محرم اگر کسی پالتو جانور کو ذبح کر دے مثلا گائے ‘ بکری اور مرغی وغیرہ کو تو اس پر بالاتفاق ضمان نہیں ہے ‘ اور یہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ سمندری اور دریائی جانور کو شکار کرنا جائز ہے ‘ صرف خشکی کے جانور کو شکار کرنا محرم کے لیے جائز نہیں ہے۔ 

شکار پر دلالت کرنے کی وجہ سے ضمان کے لزوم میں مذہب ائمہ : 

امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک جس طرح شکار کو قتل کرنے سے محرم پر جزا لازم آتی ہے۔ اسی طرح اگر محرم کسی اور کو شکار کی طرف رہنمائی کرے یا اس پر دلالت کرے تو اس پر بھی ضمان لازم آتی ہے اور امام شافعی اور امام مالک یہ فرماتے ہیں کہ ضمان کا تعلق قتل سے ہے ‘ اور شکار پر دلالت کرنا ‘ اس کو قتل کرنا نہیں اور یہ ایسا ہے جیسے غیر محرم ‘ غیر محرم کو کسی شکار پر دلالت کرے ‘ فقہاء احناف کا استدلال اس حدیث سے ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ گئے ‘ حتی کہ ہم ” قاحہ “ میں پہنچے ہم میں سے بعض محرم اور بعض غیر محرم تھے ‘ اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں ‘ میں نے دیکھا کہ وہ ایک جنگلی گدھا تھا ‘ میں نے اپنے گھوڑے پر زین ڈالی ‘ اپنا نیزہ سنبھالا اور سوار ہوگیا۔ اتفاقا میرا چابک گرگیا ‘ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا مجھے چابک اٹھا دو ‘ ساتھی محرم تھے ‘ انہوں نے کہا خدا کی قسم ہم تمہاری اس معاملہ میں بالکل مدد نہیں کریں گے ‘ میں نے اتر کر چابک اٹھایا اور سوار ہوگیا۔ میں نے اس جنگلی گدھے کو پیچھے سے جاکر پکڑ لیا درآنحالیکہ وہ ٹیلہ کے پیچھے تھا ‘ میں نے نیزہ مار کر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اس کو اپنے ساتھیوں کے پاس لایا۔ بعض ساتھیوں نے کہا کھالو اور بعض نے کہا نہ کھاؤ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے آگے تھے۔ میں گھوڑا بڑھا کر آپ تک پہنچا ‘ آپ نے فرمایا وہ حلال ہے اس کو کھالو۔ (صحیح مسلم ‘ الحج ‘ ٥٦‘ (١١٩٦) ٢٨٠٤‘ صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ١٨٢٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٥٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٤٧‘ سنن النسائی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨١٦) 

درج ذیل حدیث میں زیادہ وضاحت ہے : 

حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج کے لیے گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے بعض صحابہ کو ایک طرف روانہ کیا جس میں ابو قتادہ بھی تھے۔ آپ نے فرمایا تم لوگ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلو ‘ پھر مجھ سے آ ملنا ‘ پھر وہ سب سمندر کے کنارے کنارے چل پڑے ‘ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جانے لگے تو حضرت ابوقتادہ (رض) کے سوا سب نے احرام باندھ لیا ‘ انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا ‘ چلتے چلتے انہوں نے جنگلی گدھے دیکھے۔ حضرت ابو قتادہ (رض) نے ان پر حملہ کیا اور ایک گدھی کی کونچیں کاٹ ڈالیں ‘ پھر سب نے اتر کر اس کا گوشت کھایا۔ حضرت ابو قتادہ (رض) کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے سوچا کہ ہم نے (شکار کا) گوشت کھالیا ہے ‘ حالانکہ ہم محرم ہیں۔ حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس جنگلی گدھی کا باقی ماندہ گوشت اپنے ساتھ رکھ لیا اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا ‘ یارسول اللہ ! ہم نے احرام باندھ لیا تھا اور ابو قتادہ (رض) نے احرام نہیں باندھا تھا ‘ ہم نے جنگلی گدھے دیکھے ‘ ابو قتادہ (رض) نے ان پر حملہ کیا اور ان کی کونچیں کاٹ ڈالیں ‘ پھر ہم نے اتر کر اس کا گوشت کھایا۔ پھر ہمیں خیال آیا کہ ہم محرم تھے ‘ اور ہم نے شکار کا گوشت کھالیا ‘ پھر ہم نے باقی گوشت رکھ لیا۔ آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے شکار کا امر کیا تھا یا اس کی طرف کسی قسم کا اشارہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں ‘ آپ نے فرمایا اس کا باقی ماندہ گوشت بھی کھالو۔ 

شیبان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم میں سے کسی شخص نے اس کو حملہ کرنے کا حکم دیا تھا ؟ یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا ؟ اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ تم نے اشارہ کیا تھا یا امداد کی تھی ؟ یا شکار کیا تھا ؟ (صحیح مسلم ‘ الحج ‘ ٦٠‘ (١١٩٦) ٢٨١٠‘ صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٢٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٥٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٤٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٢٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٩٣‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٦٦‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣٣٧‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٥‘ ص ٣٢٢‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٢ ص ٢٩١‘ ملتان ‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٣٠٦‘ ٣٠٥‘ ٣٠١‘ طبع قدیم) 

اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شکار کے حلال ہونے کو اس کی طرف اشارہ نہ کرنے پر موقوف فرمایا ہے۔ سو اگر کوئی شخص زبان سے شکار کی رہنمائی کرے گا تو وہ بطریق اولی حرام ہوگیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس سے تو صرف اس شکار کا حرام ہونا لازم آئے گا ‘ ضمان لازم نہیں آئے گی ‘ تو ہم کہیں گے کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ محرم کے لیے شکار کی طرف اشارہ کرنا ‘ یا اس کی طرف رہنمائی کرنا حرام ہے ‘ اور اس کے اس اشارہ کرنے کی وجہ سے اس شکار کا امن زائل ہوگیا اور اس کی جان تلف ہوگئی اور اس کے اشارہ اور اعانت کی وجہ سے وہ شکار قتل کردیا گیا ‘ سو شکار کی طرف اشارہ کرنے والے محرم پر بھی وہی ضمان ہوگی جو شکار کو قتل کرنے والے محرم پر ہوتی ہے۔ عطاء نے کہا ہے کہ تمام لوگوں کا اس اجماع ہے کہ شکار پر دلالت کرنے والے پر بھی ضمان ہے ‘ اور اس زمانہ کے لوگ صحابہ کرام اور تابعین تھے۔ علامہ ابن قدامہ نے المغنی میں لکھا ہے۔ کہ حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) کا بھی یہی مذہب ہے اور امام طحاوی نے اس کو متعدد صحابہ سے نقل کیا ہے ‘ اور کسی صحابی سے اس کے خلاف منقول نہیں ہے اس پر اجماع صحابہ ہے اور حضرت ابن عمر سے جو یہ منقول ہے کہ دلالت کرنے والے پر ضمان نہیں ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ جب دلالت کرنے سے شکار کو قتل نہ کیا جائے۔ (فتح القدیر ‘ ج ٣‘ ص ٦٤۔ ٦٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

علامہ عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

شکار پر دلالت کرنے سے بھی ضامن بنایا جائے گا پس جب کسی محرم کو شکار پر دلالت کی اور اس نے اس شکار کو تلف کردیا ‘ تو اس کی پوری جزا محرم پر ہوگی۔ حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور مجاہد ‘ بکرمزنی ‘ اسحاق اور فقہاء احناف کا بھی یہی مذہب ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی نے کہا ہے کہ دلالت کرنے والے پر کچھ ضمان نہیں ہے۔ کیونکہ ضمانت جنایت سے لازم آتی ہے ‘ دلالت سے لازم نہیں آتی اور ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو قتادہ (رض) کے اصحاب سے فرمایا تھا ‘ کیا تم میں سے کسی نے اس کو حملہ کرنے کا حکم دیا تھا ؟ یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا ؟ نیز شکار پر دلالت کرنا اس کو تلف کرنے کا ذریعہ ہے ‘ لہذا اس کی وجہ سے ضمان لازم آئے گی اور یہ حضرت علی (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ‘ اور صحابہ میں سے کوئی ان کا مخالف نہیں ہے۔ (المغنی ج ٣ ص ١٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

شکار کی جزا میں اس کی مثل صوری ضروری ہے یا اس کی قیمت ؟ : 

امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ کے نزدیک شکار کو قتل کرنے کی جزا یہ ہے کہ جس مقام پر شکار کو قتل کیا گیا یا جو جگہ اس کے قریب ترین ہو ‘ وہاں اس شکار کی قیمت مقرر کی جائے اور دو نیک شخص اس کی قیمت مقرر کریں ‘ پھر فدیہ دینے میں محرم کو اختیار ہے ‘ اگر اتنی رقم سے قربانی کا جانور خریدا جاسکتا ہے تو اس قربانی کا جانور خرید کر اس کو ذبح کر دے اور اگر چاہے تو اس رقم سے طعام خرید کر مسکینوں پر صدقہ کرے ‘ ہر مسکین کو دو کلو گرام گندم یا چار کلو گرام کھجوریں یا جو صدقہ کرے اور اگر چاہے تو جتنے مساکین پر صدقہ لازم آتا ہے اتنے دنوں کے روزے رکھے ‘ مثلا فدیہ کی رقم سے دس کلو گندم آتی ہے ‘ جو پانچ مسکینوں پر صدقہ کی جائے گی تو اس کو اختیار ہے کہ وہ پانچ مسکینوں پر دس کلو گندم صدقہ کرے ‘ اور چاہے تو اس کے بجائے پانچ دنوں کے روزے رکھ لے۔ 

امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی نظیر ہوسکتی ہو ‘ اس میں اس کی نظیر کو صدقہ کرنا واجب ہے۔ ہرن کی نظیر بکری ہے ‘ اور بجو کی نظیر بھی بکری ہے اور خرگوش کی نظیر بکری کا بچہ ہے ‘ اور جنگلی چوہے کی نظیر چار ماہ کا بکری کا بچہ ہے اور شترمرغ کی نظیر اونٹ ہے اور جنگلی گدھے کی نظیر گائے ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” فجزآء مثل ماقتل من النعم “۔ (المائدہ : ٩٥) 

ترجمہ : تو اس کا تاوان اس جانور کی مثل ہے۔ 

اور مقتول جانور کی مثل وہ ہوگی جو صورۃ اس کی مثل ہو اور قیمت اس جانور کی مثل نہیں ہے اور صحابہ کرام (رض) نے بھی خلقت اور ظاہری صورت کے اعتبار سے مثل کو واجب کیا ہے۔ شتر مرغ ‘ ہرن ‘ جنگلی گدھے اور خرگوش میں انہوں نے ان ہی جانوروں کو مثل قرار دیا ہے ‘ جو ہم نے بیان کی ہیں۔ 

امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا ‘ کیا بجوشکار ہے ؟ فرمایا ہاں جب محرم اس کا شکار کرے تو اس میں ایک مینڈھا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٠١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٥١‘ سنن النسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٢٣٦‘ سنن دارمی ‘ ١٨٧٧‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٦٥‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٢٩٧‘ سنن دارقطنی ج ٢‘ ص ٢٤٥‘ ملتان ‘ المستدرک ‘ ج ١‘ ص ٤٥٢) 

جس جانور کی نظیر نہ ہو ‘ اس میں امام محمد رحمۃ اللہ عنہ کے نزدیک قیمت واجب ہے ‘ مثلا چڑیا اور کبوتر اور ان کی مثل دوسرے پرندے ‘ اور جب قیمت واجب ہو تو امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں مثل کو مطلقا ذکر کیا ہے ‘ اور مطلق سے مراد فرد کامل ہوتا ہے اور مثل کامل وہ ہے جو صورۃ اور معنی دونوں اعتبار سے مثل ہو ‘ اور جب کامل مثل متحقق نہیں ہوسکتی ‘ تو اس کو معنی مثل پر محمول کیا جائے گا ‘ کیونکہ مثل معنوی شریعت میں متعارف ہے ‘ جیسا کہ حقوق العباد میں ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : 

(آیت) فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم “۔ (البقرہ : ١٩٤) 

ترجمہ : سو جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس کی زیادتی کا بدلہ لو ‘ اس زیادتی کی مثل جتنی اس نے تم پر زیادتی کی ہے۔ 

نیز جن جانوروں کی مثل نہیں ہے ان میں امام شافعی کے نزدیک بھی مثل معنوی مراد ہوتی ہے پس مثل معنوی بالاجماع مراد ہے۔ لہذا سب جگہ مثل معنوی ہی مراد لینی چاہیے ‘ ورنہ قرآن مجید کے ایک لفظ سے دو معنی مراد لینے لازم آئیں گے ‘ کہیں مثل صوری اور کہیں مثل معنوی۔ نیز مثل معنوی میں عموم ہے اور مثل صوری میں خصوص ہے اور عموم خصوص پر راجح ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ محرم نے جس شکار کو قتل کیا ہے ‘ اس پر اس کے تاوان میں اس کی قیمت واجب ہے۔ نیز قرآن مجید میں قتل کیے ہوئے شکار کے لیے نعم کا لفظ ہے اور یہ لفظ جنگلی اور پالتو دونوں قسم کے جانوروں کے لیے بولا جاتا ہے۔ 

جزاء میں اختیار منصفوں کی طرف راجع ہے یا محرم کی طرف ؟ 

امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک جزاء میں اختیار محرم کی طرف راجع ہے ‘ یعنی محرم کو اختیار ہے ‘ خواہ وہ اس جانور کی قیمت سے قربانی کا جانور خرید کر اس کی قربانی کر دے ‘ یا اس کی قیمت کا طعام خرید کر مساکین پر صدقہ کر دے ‘ یا ان مسکینوں کی تعداد کے برابر روزے رکھ لے ‘ اور امام شافعی اور امام محمد کے نزدیک یہ اختیار فیصلہ کرنے والے دو نیک حاکموں کی طرف راجع ہے۔ اگر وہ قربانی کا حکم دیں تو اس جانور کی نظیر خرید کر اس کی قربانی کرے ‘ اور اگر وہ طعام صدقہ کرنے کا حکم دیں یا روزے رکھنے کا حکم دیں تو اس کی قیمت کا طعام خرید کر مساکین پر صدقہ کرے یا مساکین کی تعداد کے برابر روزے رکھے۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ یہ اختیار محرم کی آسانی کے لیے دیا گیا ہے اور محرم کے لیے آسانی اسی وقت ہوگی جب یہ اختیار اس کی طرف راجع ہو۔ امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم میں سے دو منصف اس (کی مثلیت) کا فیصلہ کریں گے درآنحالیکہ یہ قربانی کعبہ کو پہنچنے والی ہو ‘ یا اس پر چند مسکینوں کا کھانا ہے ‘ یا ان کی تعداد کے برابر روزے رکھنا ہیں اور ظاہر آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اختیار ان منصفوں کی طرف راجع ہے۔ 

طعام کا صدقہ مکہ میں کرنا ضروری ہے یا دوسرے شہر میں بھی جائز ہے : 

قربانی کا جانور صرف مکہ میں ذبح کیا جائے گا اور مسکینوں کو طعام کا صدقہ کسی اور شہر میں بھی دیا جاسکتا ہے۔ امام شافعی صدقہ طعام کو قربانی پر قیاس کرکے کہتے ہیں کہ یہ طعام بھی مکہ کے مسکینوں پر صدقہ کیا جائے اور ان دونوں میں مشترک چیز یہ ہے کہ حرم کے رہنے والوں کے ساتھ حسن سلوک ہو۔ امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ شکار کی جزاء میں کسی جانور کو ذبح کرنا غیر معقول فعل ہے ‘ لہذا وہ زمان اور مکان کے اعتبار سے اپنے امور میں بند رہے گا اور صدقہ کرنا ایک معقول فعل ہے۔ اس لیے وہ ہر جگہ ہوسکتا ہے اور روزہ میں اتفاق ہے کہ وہ کسی بھی شہر میں رکھے جاسکتے ہیں۔ (ہدایہ اولین ‘ ص ٢٨٠‘ ٢٧٧‘ مختصرا وموضحا ‘ مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) 

دوسری بار شکار کو مارنے سے جزاء لازم ہوگی یا نہیں ؟ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو گزر گیا اس کو اللہ نے معاف کردیا اور جو دوبارہ یہ کام کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ بہت غالب منتقم ہے۔ (المائدہ : ٩٥) 

اس آیت کا معنی ہے محرم نے پہلی بار شکار کو قتل کیا اور اس کی ضمان یا یا جزاء ادا کردی ‘ تو اللہ اس کو معاف کر دے گا اور جس محرم نے دوسری بار شکار کو قتل کیا ‘ وہ اخروی عذاب کا مستحق ہوگا۔ 

دوسری بار شکار کو قتل کرنے والا ضمان ادا کرے گا یا نہیں ‘ اس میں دو قول ہیں۔ عطاء ‘ ابراہیم ‘ ابن جبیر ‘ حسن اور جمہور کا قول یہ ہے کہ تکرار قتل سے تکرار جزاء واجب ہوتی ہے اور حضرت ابن عباس (رض) اور قاضی شریح کا قول یہ ہے کہ اگر محرم نے دوبارہ شکار کو قتل کیا تو اس کو کفارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا ‘ حتی کہ جب ان سے کوئی محرم سوال کرتا کہ اس نے شکار کو قتل کردیا ہے ‘ اب وہ کیا کرے تو وہ اس سے سوال کرتے تھے کہ اس نے پہلی بار شکار کو قتل کیا ہے یا دوسری بار۔ اگر اس نے پہلی بار قتل کیا ہوتا تو اس کو کفارہ کا حکم دیتے اور اگر دوسری بار قتل کیا ہوتا ‘ تو اس کو کفارہ کا حکم نہ دیتے ‘ اور وہ چونکہ عذاب اخروی کا مستحق ہے ‘ اس لیے اب اس پر صرف توبہ کرنا لازم ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہے کہ اس کی توبہ قبول فرمائے یا اس کو عذاب دے ‘ جس طرح باقی کبیرہ گناہوں کا حکم ہے۔ 

اس آیت کی توجیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس نے دوبارہ حالت احرام میں شکار کو قتل کیا اور کفارہ نہیں دیا ‘ تو اللہ اس سے انتقام لے گا ‘ لیکن یہ توجیہ ظاہر آیت سے بعید ہے۔ اس آیت میں گناہ کبیرہ پر اصرار کرنے والے کے لیے بہت سخت وعید ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کو دوبارہ کرنے پر انتقام لینے کی وعید سنائی ہے۔ بندہ کو چاہیے کہ ہر آن اور ہر لحظہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کو دوبارہ کرنے پر انتقام لینے کی وعید سنائی ہے۔ بندہ کو چاہیے کہ ہر آن اور ہر لحظہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا رہے اور کسی بھی گناہ کو دوبارہ کرنے سے اجتناب کرے۔ مبادا وہ اللہ تعالیٰ کے انتقام کا شکار ہوجائے ‘ میں جب بھی اس آیت کو پڑھتا ہوں ‘ تو مجھ پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ 

اضطرار کی صورت میں شکار اور مردار میں سے کس کو اختیار کرنا اولی ہے۔ 

اگر محرم کو کھانے پینے کے لیے کچھ نہ ملے اور وہ بھوک سے جاں بلب ہو اور اس کو مردار اور شکار دونوں میسر ہوں تو اس میں اختلاف ہے کہ وہ مردار کھا کر جان بچائے یا شکار کو مار کر کھائے۔ امام زفر نے کہا وہ مردار کھالے ‘ کیونکہ مردار ایک وجہ سے حرام ہے اور شکار کو قتل کرکے کھانا کئی وجہ سے حرام ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف نے فرمایا کہ وہ شکار کو قتل کرکے کھالے اور اس کی جزاء ادا کرے ‘ کیونکہ مردار کی حرمت زیادہ غلیظ ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ شکار کی حرمت عارضی ہے ‘ احرام سے نکلنے کے بعد یہ حرمت ختم ہوجاتی ہے ‘ اس کے برخلاف مردار کی حرمت دائمی ہے اور جب اسے دو حرمتوں میں سے کسی ایک حرمت کا ارتکاب کرنا پڑے تو زیادہ غلیظ حرمت کے مقابلہ میں ضعیف حرمت کو اختیار کرے جیسا کہ دو مصیبتوں میں سے کم درجہ کی مصیبت کو اختیار کیا جاتا ہے ‘ جس کو فقہاء ” اھون البلیستین سے تعبیر کرتے ہیں۔ مبسوط میں اسی طرح مذکور ہے اور فتاوی قاضی خان میں لکھا ہے کہ اس صورت میں امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے قول کے مطابق مردار کھانا شکار کو قتل کرکے کھانے سے اولی ہے۔ امام ابو یوسف اور حسن بن زیاد نے کہا کہ شکار کو ذبح کرلے اور اگر شکار حلال ہو اور مذبوح ہو تو سب کے نزدیک شکار کو کھانا مردار سے اولی ہے اور اگر ایک طرف شکار ہو اور دوسری طرف خنزیر کا گوشت ہو تو جان بچانے کے لیے محرم کے واسطے اولی یہ ہے کہ وہ شکار کھالے۔ (روح المعانی جز ٧ ص ٣٠۔ ٢٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

مبسوط اور فتاوی قاضی خاں کی نقل میں تعارض ہے ‘ ہمارے نزدیک مبسوط کی نقل معتمد ہے اور قوت دلیل کے اعتبار سے وہی راجح ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 95