يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا شَهَادَةُ بَيۡنِكُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ حِيۡنَ الۡوَصِيَّةِ اثۡـنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ اَوۡ اٰخَرَانِ مِنۡ غَيۡـرِكُمۡ اِنۡ اَنۡـتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ‌ ؕ تَحۡبِسُوۡنَهُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِىۡ بِهٖ ثَمَنًا وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى‌ ۙ وَلَا نَـكۡتُمُ شَهَادَةَ ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ‏ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 106

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا شَهَادَةُ بَيۡنِكُمۡ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الۡمَوۡتُ حِيۡنَ الۡوَصِيَّةِ اثۡـنٰنِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ اَوۡ اٰخَرَانِ مِنۡ غَيۡـرِكُمۡ اِنۡ اَنۡـتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ‌ ؕ تَحۡبِسُوۡنَهُمَا مِنۡۢ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِىۡ بِهٖ ثَمَنًا وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى‌ ۙ وَلَا نَـكۡتُمُ شَهَادَةَ ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو : جب تم میں سے کسی کی موت (کا وقت) آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو تمہاری شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تم میں سے دو نیک آدمی (گواہ ہوں) اور اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو اور تم میں سے کسی کو موت آپہنچے تو غیروں میں سے ہی دو شخص (گواہ ہوں) ‘ اگر تمہیں ان پر شک ہو تو تم ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک لو ‘ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم (کسی فائدہ کی وجہ سے) اس قسم کے عوض کوئی مال نہیں لیں گے اور خواہ قریبی رشتہ دار ہوں (ہم ان کی رعایت نہیں کریں گے) اور ہم اللہ کی گواہی نہیں چھپائیں گے ورنہ ہم سخت گنہ گاروں میں شمار ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو : جب تم میں سے کسی کی موت (کا وقت) آجائے اور وہ وصیت کر رہا ہو تو تمہاری شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تم میں سے دو نیک آدمی (گواہ ہوں) اور اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو اور تم میں سے کسی کو موت آپہنچے تو غیروں میں سے ہی دو شخص (گواہ ہوں) ‘ اگر تمہیں ان پر شک ہو تو تم ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک لو ‘ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم (کسی فائدہ کی وجہ سے) اس قسم کے عوض کوئی مال نہیں لیں گے اور خواہ قریبی رشتہ دار ہوں (ہم ان کی رعایت نہیں کریں گے) اور ہم اللہ کی گواہی نہیں چھپائیں گے رونہ ہم سخت گنہ گاروں میں شمار ہوں گے۔ پھر اگر معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں گواہ کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو جن لوگوں کا حق ان گواہوں نے ضائع کیا ہے ان کی طرف سے دو گواہ ان کی جگہ کھڑے کیے جائیں اور وہ گواہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری شہادت ان (وصیوں) کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے حد سے تجاوز نہیں کیا ‘ ورنہ ہمارا شمار ظالموں میں ہوگا۔ یہ طریقہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ (وصی) اس طرح شہادت دیں جس طرح شہادت دینے کا حق ہے یا وہ اس بات سے ڈریں کہ (ورثاء کی) قسموں کے بعد ان کی قسمیں مسترد کردیں جائیں گی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور (اس کے احکام) سنو : اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدہ : ١٠٨۔ ١٠٦) 

سفر میں وصیت پر اہل کتاب کو گواہ بنانے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں بنو سہم (عاص بن وائل سہمی کے قبیلہ) میں سے ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ (سفر میں) گیا۔ سہمی ایسی جگہ میں فوت ہوگیا جہاں کوئی مسلمان نہیں تھا ‘ جب وہ دونوں سہمی کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے ورثاء نے اس میں چاندی کا پیالہ گم پایا جس میں سونے کے پتر چڑھے ہوئے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے حلف لیا ‘ پھر وہ پیالہ مکہ میں پایا گیا اور ان لوگوں نے کہا ہم نے یہ پیالہ تمیم اور عدی سے خریدا ہے ‘ پھر سہمی کے ورثاء میں سے دو شخصوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور یہ پیالہ ان کے ساتھی کا ہے اور انہیں کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اے ایمان والو ! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے۔ (المائدہ : ١٠٨۔ ١٠٦) (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٨٠‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٠٦) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ نے اس حدیث کو زیادہ تفصیل کے ساتھ روایت کیا ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) اس آیت (المائدہ : ١٠٦) کے متعلق تمیم داری سے روایت کرتے ہیں ‘ تمیم داری نے کہا وہ اور عدی بن بداء دونوں نصرانی تھے ‘ اور اسلام لانے سے پہلے شام کا سفر کرتے رہتے تھے۔ ایک بار وہ دونوں تجارت کے لیے شام روانہ ہوئے ‘ تو ان کے پاس بنو سہم کے آزاد شدہ غلام بھی تجارت کے مقصد سے آئے ‘ ان کا نام بدیل بن ابی مریم تھا ‘ ان کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا ‘ وہ اس کو بادشاہ کے پاس لے جانا چاہتے تھے ‘ وہ راستہ میں بیمار ہوگئے۔ انہوں نے ہم دونوں کو وصیت کی اور یہ کہا : ان کا ترکہ ان کے اہل کو پہنچا دیں۔ تمیم نے کہا جب وہ فوت ہوگئے تو ہم نے اس پیالہ پر قبضہ کرلیا ‘ اس کو ہم نے ایک ہزار درہم میں فروخت کردیا۔ پھر میں نے اور عدی بن بداء نے اس رقم کو آپس میں تقسیم کرلیا ‘ جب ہم بدیل سہمی کے گھر پہنچے تو اس کا باقی ترکہ جو ہمارے پاس تھا ‘ وہ ہم نے اس کے گھر والوں کو دے دیا ‘ انہوں نے اس ترکہ میں پیالہ کو گم پایا ‘ تو ہم سے اس متعلق سوال کیا۔ ہم نے کہا اس نے اس کے سوا اور کچھ نہیں چھوڑا تھا ‘ اور نہ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہمیں دی تھی۔ 

تمیم نے کہا جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ تشریف لانے کے بعد مسلمان ہوگیا ‘ تو میں نے اس فعل میں گناہ جانا ‘ میں ان کے گھر گیا اور ان کو اصل واقعہ کی خبر دی ‘ اور ان کو پانچ سو درہم واپس کردیئے ‘ اور ان کو بتایا کہ میرے ساتھی کے پاس بھی اتنے درہم ہیں۔ وہ اس (عدی بن بداء) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے ‘ آپ نے سہمی کے ورثاء سے گواہ طلب کیے ‘ ان کے پاس گواہ نہیں تھے۔ پھر آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ عدی بن بداء سے قسم طلب کریں جو ان کے دین میں سب سے بڑی قسم ہو ‘ اس نے قسم کھالی ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی (المائدہ : ١٠٨۔ ١٠٢) پھر عمرو بن العاص اور ایک اور شخص نے (ورثاء سہمی کے موقف پر اور عدی کے خلاف) قسم کھائی تو عدی بن بداء سے سو درھم وصول کیے گئے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٠٧٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

سفر میں وصیت کرنے اور غیر مسلموں کو گواہ بنانے کے جواز پر امام احمد کے دلائل : 

ان آیتوں میں سفر اور حضر میں وصیت کرنے پر ترغیب دی گئی ہے ‘ وصیت کے ثبوت اور اس کو نافذ کرنے کے لیے گواہ مقرر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اصل میں مسلمان گواہوں کو مقرر کرنا چاہیے ‘ اور یہ کہ ضرورت یا حاجت کے پیش نظر غیر مسلموں کو بھی گواہ بنایا جاسکتا ہے اس آیت میں فرمایا ہے تم میں سے دو شخص گواہ ہوں اس کا معنی ہے تمہارے دین اور تمہاری ملت سے دو گواہ ہوں یہ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ سعید بن مسیب ‘ سعید بن جبیر ‘ شریح ‘ ابن سیرین اور شعبی کا قول ہے۔ امام احمد کا بھی یہی مختار ہے۔ پھر فرمایا ہے اور سفر میں غیروں میں سے ہی دو گواہ بنا لیے جائیں حضرت ابن مسعود ‘ حضرت عباس اور دیگر مذکور الصدر فقہاء تابعین کے نزدیک اس سے مراد ہے جو لوگ تمہارے دین اور تمہاری ملت کے غیر ہوں ‘ یعنی اہل کتاب میں سے ہوں ‘ اور حسن اور عکرمہ کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ تمہارے اقرباء اور رشتہ داروں کے غیر ہوں۔ 

جب یہ مراد لی جائے کہ غیروں سے مراد غیر مسلم اور اہل کتاب ہیں اور یہ کہ سفر میں وصیت پر اہل کتاب کو گواہ بنا لیا جائے ‘ تو پھر اس میں اختلاف ہے کہ یہ آیت محکمہ اور غیر منسوخ ہے یا یہ کہ اب یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) ابن المسیب ‘ ابن جبیر ‘ ابن سیرین ‘ قتادہ ‘ شعبی ‘ ثوری اور امام احمد کے نزدیک یہ آیت محکمہ اور اب بھی اہل کتاب کو سفر میں وصیت پر گواہ بنانا جائز ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہوئی : 

(آیت) ” واشھدوا ذوی عدل منکم “۔ (الطلاق : ٢) 

ترجمہ : اور اپنوں (یعنی مسلمانوں) میں سے دو نیک شخصوں کو گواہ بناؤ۔ 

زید بن اسلم ‘ امام مالک اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا بھی اسی طرح میلان ہے “ انہوں نے کہا کہ اہل کفر عادل (نیک) نہیں ہیں اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے ‘ کیونکہ یہ حاجت اور ضرورت کا مقام ہے اور ایسے مواقع پر صرف عورتوں کی گواہی بھی صحیح ہوتی ہے۔ جیسے حیض ‘ نفاس اور بچے کی پیدائش میں عورتوں کی گواہی صحیح ہوتی ہے۔ (زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٤٤٧۔ ٤٤٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

سفر میں وصیت پر غیر مسلموں کو گواہ بنانے کے عدم جواز پر جمہور فقہاء کے دلائل : 

جمہور فقہاء کے نزدیک مسلمانوں کے معاملات میں کفار کو گواہ بنانا جائز نہیں ہے ‘ اور اس آیت میں جو غیروں کو گواہ بنانے کا حکم دیا ہے ‘ اس آیت میں غیروں سے مراد غیر مسلم ہو تو پھر یہ آیت ” واشھدوا ذوی عدل منکم “۔ سے منسوخ ہے اور یا اس آیت سے منسوخ ہے : 

(آیت) ” واستشھدوا شھیدین من رجالکم فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتن ممن ترضون من الشھدآء “۔ (البقرہ : ٢٨٢) 

ترجمہ : اور اپنے (مسلمان) مردوں میں سے دو گواہ بنا لو ‘ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ 

اور ظاہر ہے کہ ذمی یا اہل کتاب شرعا پسندیدہ ہیں ‘ سو یہ آیت سورة مائدہ کی زیر تفسیر آیت کے لیے ناسخ ہے۔ اور ماضی میں مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اہل کتاب کو سفر میں وصیت پر گواہ بنانے کی اجازت دی گئی ‘ کیونکہ اس وقت مسلمان صرف مدینہ میں تھے اور آج کے دور میں تو ہر جگہ مسلمان موجود ہیں ‘ اس لیے کفار کی شہادت ساقط ہوجائے گی ‘ اس لیے اب مسلمانوں کا کافروں کو گواہ بنانا جائز نہیں ہے۔ علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس بحث میں لکھتے ہیں : 

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ شریح سے روایت کیا ہے کہ یہود و نصاری کی صرف سفر میں وصیت پر گواہ بنانا جائز ہے ‘ اور کسی موقع پر جائز نہیں ہے۔ (جامع البیان ‘ ج ٧‘ ص ١٤٢) امام احمد بن حنبل سے بھی اسی کی مثل مروی ہے اور وہ اس میں منفرد ہیں۔ ائمہ ثلاثہ نے ان سے اختلاف کیا ہے ‘ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اہل ذمہ کی گواہی جائز نہیں ہے۔ (جامع البیان ‘ ج ٧‘ ص ١٤٤) اور امام طحاوی نے ابو داؤد سے روایت کیا ہے کہ ایک مسلمان شخص وقوقا میں فوت ہوگیا اور اس کو مسلمانوں میں سے کوئی شخص نہیں ملا جس کو وہ اپنی وصیت پر گواہ بناتا ‘ تو اس نے دو اہل کتاب عیسائیوں کو گواہ بنا لیا ‘ وہ دونوں کوفہ میں حضرت ابو موسیٰ کے پاس آئے ‘ حضرت ابو موسیٰ نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد کے بعد اس طرح نہیں ہوتا تھا ‘ پھر عصر کے بعد ان دونوں سے حلف لیا کہ انہوں نے خیانت کی ہے ‘ نہ جھوٹ بولا ہے نہ وصیت میں کوئی تبدیلی کی ہے ‘ پھر ان کی شہادت کو نافذ کردیا۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٦٠٥‘ جامع البیان ‘ جز ٧‘ ص ١٤٣) امام طحاوی نے کہا یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابن عباس (رض) کے نزدیک یہ آیت محکمہ (غیر منسوخ) تھی اور میرے علم کے مطابق صحابہ میں سے کسی نے ان کی مخالفت نہیں کی ہے ‘ اور اکثر فقہاء تابعین کا بھی یہی نظریہ ہے ‘ اور نحاس نے ذکر کیا ہے کہ جو فقہاء یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور کسی حال میں کافر کی شہادت جائز نہیں ہے ‘ جس طرح فاسق کی شہادت جائز نہیں ہے۔ وہ زید بن اسلم ‘ امام شافعی اور نعمان (امام ابو حنیفہ) ہیں۔ البتہ امام ابوحنیفہ نے کافروں کی ایک دوسرے کی خلاف شہادت کو جائز کہا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١٤‘ ص ‘ ٧٤ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

اہل ذمہ کی آپس میں گواہی کے جواز پر امام ابوحنیفہ کے دلائل : 

امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ کافروں کی ایک دوسرے کے خلاف گواہی جائز ہے ‘ اور مسلمانوں کے خلاف ان کی گواہی جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ شہادت کی تمام آیات اپنے سیاق وسباق کے اعتبار سے مسلمانوں کے متعلق ہیں ‘ اور کافروں کی گواہی ایک دوسرے کے متعلق قبول کی جائے گی۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” والذین کفروا بعضھم اولیآء بعض “۔ (الانفال : ٧٣) 

ترجمہ : اور کافر ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ 

قرآن مجید نے کافروں کی ایک دوسرے پر ولایت ثابت کی ہے اور ولایت شہادت سے اعلی درجہ ہے اور حدیث میں بھی اہل کتاب کی ایک دوسرے کے خلاف شہادت کا ثبوت ہے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہود ایک مرد اور عورت کو لے کر آئے ‘ جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تم میرے پاس ایسے مردوں کو لے کر آؤ جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں ‘ وہ صوریا کے دو بیٹوں کو لے کر آئے آپ نے ان کو قسم دی کہ یہ بتاؤ کے تورات میں اس کی کیا سزا ہے ؟ انہوں نے کہا تورات میں یہ مذکور ہے کہ جب چار آدمی یہ گواہی دیں کہ انہوں نے مرد کے آلہ کو عورت کے اندام نہانی میں اس طرح دیکھا ہے جس طرح سلائی سرمہ دانی میں ہوتی ہے تو ان دونوں کو رجم کردیا جائے گا ‘ آپ نے فرمایا پھر تم کو انہیں رجم کرنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ انہوں نے کہا ہماری سلطنت (اقتدار) چلی گئی ‘ تو پھر ہم نے قتل کرنے کو ناپسند جانا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گواہوں کو بلایا ‘ سو چار گواہ آئے اور انہوں نے یہ شہادت دی کہ انہوں نے اس مرد کے آلہ کو اس عورت کے اندام نہانی میں اس طرح دیکھا ہے ‘ جس طرح سلائی سرمہ دانی میں ہوتی ہے ‘ تب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دیا۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٥٣‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٠٥) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ اہل کتاب کی اہل کتاب کے خلاف شہادت جائز ہے ‘ ایک اور حدیث سے بھی یہ بات مفہوم نکلتی ہے۔ 

امام علی بن عمر دار قطنی ٣٨٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک ملت والے دوسری ملت والوں کے وارث نہیں ہوتے اور ایک ملت والوں کی دوسری ملت والوں کے خلاف شہادت جائز نہیں ہے۔ ماسوا میری امت کے ‘ کیونکہ ان کی شہادت دوسروں کے خلاف جائز ہے۔ (سنن دارقطنی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨‘ المعجم المعجم الاوسط للطبرانی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٥٤٣٠‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٤‘ ص ٢٠١) 

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ملت کے افراد کی اپنی ملت والوں کے خلاف شہادت جائز ہے۔ 

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں : 

اہل ذمہ کی ایک دوسرے کے خلاف شہادت قبول کی جائے گی ‘ خواہ ان کی ملتیں مختلف ہوں۔ (مثلا یہود کی گواہی نصاری کے خلاف مقبول ہوگی) امام مالک اور امام شافعی نے کہا ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ‘ کیونکہ یہ فاسق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت) ” والکافرون ھم الفاسقون “۔ (قرآن مجید میں یہ آیت نہیں ہے ‘ یہ صاحب ہدایہ کا تسامح ہے۔ البتہ اس معنی میں یہ آیت ہے (آیت) ” ومن کفر بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون “۔ (النور : ٥٥) 

اس لیے ان کی خبر پر توقف کرنا واجب ہے ‘ اسی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف ان کی گواہی قبول نہیں کی جاتی اور وہ بمنزلہ مرتد ہیں۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصاری کی ایک دوسرے کے خلاف شہادت کو جائز قرار دیا ہے۔ نیز ان کو اپنے اوپر اور اپنے چھوٹے بچوں کے اوپر ولایت حاصل ہے۔ لہذا ان کو اس کی جنس پر شہادت کا حق بھی حاصل ہوگا ‘ اور فسق اعتقادی شہادت کو قبول کرنے سے مانع نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ اپنے دین میں جس چیز کو حرام اعتقاد کرتے ہیں ‘ اس سے اجتناب کرتے ہیں اور جھوٹ بولنا تمام ادیان میں حرام ہے۔ اس لیے وہ جھوٹی گواہی نہیں دیں گے اور ان کو مرتد پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ مرتد کو کسی پر بھی ولایت حاصل نہیں ہوتی ‘ اور ذمیوں کی گواہی مسلمانوں کے خلاف اس لیے مقبول نہیں ہے ‘ کہ ذمیوں کو مسلمانوں پر ولایت حاصل نہیں ہے۔ اللہ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا “۔ (النساء : ١٤١) 

اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں کو مغلوب کرنے کا کوئی راستہ ہرگز نہیں بنائے گا۔ 

اور چونکہ کافر مسلمان سے دشمنی رکھتا ہے اور دار اسلام میں اس سے مغلوب ہے ‘ اس لیے وہ اس پر غلبہ پانے کے لیے جھوٹ بولے گا اور کفر کی ملتیں ہرچند کہ مختلف ہیں ‘ لیکن داراسلام میں وہ ایک دوسرے سے مغلوب نہیں ہیں ‘ اس لیے ان میں باہم دشمنی نہیں ہوگی ‘ جو ان کو جھوٹی گواہی پر اکسائے اور حربی مستامن (جو کافر پاسپورٹ لے کر ہمارے ملک میں آئے) کی گواہی ذمی کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی اور جو کافر الگ الگ ملکوں میں رہتے ہیں ‘ ان کی گواہی ایک دوسرے کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی۔ (ہدایہ اخیرین ‘ ص ١٦٣‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ‘ ملتان) 

اور اس سے پہلے جو ہم نے حدیث ذکر کی ہے کہ ایک ملت والوں کی دوسری ملت والوں کے خلاف قبول نہیں ہوگی اس سے مراد دو مختلف ملکوں میں رہنے والے کافر ہیں ‘ اور جو مختلف ملتوں والے ایک ملک کے کافر ہمارے ملک میں پاسپورٹ لے کر آئیں ‘ ان کی گواہی ایک دوسرے خلاف قبول کی جائے گی ‘ کیونکہ یہاں وہ ایک دوسرے پر غالب نہیں ہیں اور ان میں باہم دشمنی نہیں ہے ‘ جو ان کو ایک دوسرے کے خلاف جھوٹی گواہی پر ابھارے۔ البتہ ! مستامن کی شہادت ذمی کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی اور نہ مختلف ملکوں میں رہنے والے کافروں کی شہادت ایک دوسرے کے خلاف قبول کی جائے گی۔ (ہدایہ اخیرین ‘ ص ١٦٣) 

امام ابوحنیفہ کے استدلال پر علامہ قرطبی کے اعتراض کا جواب : 

فقہاء مالکیہ کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ ان کے نزدیک اہل ذمہ کی شہادت مطلقا مقبول نہیں ہے ‘ مسلمان کے خلاف ‘ نہ اہل کتاب کے خلاف۔ اس لیے علامہ محمد بن احمد مالک قرطبی ٦٦٨ ھ فقہاء احناف کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ نے اس آیت (المائدہ : ١٠٨۔ ١٠٦) سے یہ استدلال کیا ہے کہ اہل ذمہ کی آپس میں شہادت جائز ہے کیونکہ ” اواخران من غیرکم “ کا معنی ہے ” یا ان کو گواہ بناؤ جو دین میں تمہارے غیر ہیں “ اور جب اہل ذمہ کو مسلمان گواہ بنا سکتے ہیں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو بطریق اولی گواہ بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تمہارے نزدیک تو مسلمانوں کا اہل ذمہ کو گواہ بنانا جائز نہیں ہے اور تمہارے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے ‘ اس لیے تمہارا یہ استدلال جائز نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت عبارت النص سے اس پر دلالت کرتی ہے کہ اہل ذمہ کو مسلمانوں کے خلاف گواہ بنانا جائز ہے اور بہ طریق تنبیہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ اہل کتاب کی آپس میں گواہی بھی جائز ہے ‘ کیونکہ جب ان کی شہادت مسلمانوں کے خلاف جائز ہے تو اپنی ملت والوں کے خلاف بہ طریق اولی جائز ہوگی۔ پھر جب دوسرے دلائل سے یہ ثابت ہوگیا کہ مسلمانوں کے خلاف ان کی شہادت باطل ہے ‘ تو آپس میں ان کی شہادت کا جواز اپنے حال پر باقی رہا ‘ لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ اہل ذمہ کی آپس میں شہادت کا جائز ہونا اس مسئلہ کی فرع ہے کہ اہل ذمہ کی مسلمانوں کے خلاف شہادت جائز ہونا اس مسئلہ کی فرع ہے کہ اہل ذمہ کی مسلمانوں کے خلاف شہادت جائز ہو اور جب اہل ذمہ کی مسلمانوں کے خلاف شہادت باطل ہوگی جو اصل تھی ‘ تو جو اس کی فرع ہے یعنی اہل ذمہ کی آپس میں شہادت کا جواز وہ بہ طریق اولی باطل ہوجائے گا۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ ج ٦‘ ص ٢٧٠۔ ٢٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ قرطبی کی اس عالمانہ بحث کی متانت سے ہمیں انکار نہیں ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ نے اہل ذمہ کی آپس میں شہادت کے جواز پر اس آیت سے استدلال نہیں کیا ‘ بلکہ ان کا استدلال اس آیت سے (آیت) ” والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض “۔ (الانفال : ٧٣) یہ آیت اور اس کے علاوہ دو حدیثیں جن سے امام اعظم نے استدلال کیا ہے ‘ ہم اس سے متصل پہلے عنوان میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں۔ 

ہم دیکھتے ہیں کہ اہل ذمہ آپس میں خریدو و فروخت کرتے ہیں ‘ اجرت اور قرض کا لین دین کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ زیادتی بھی کرتا ہے۔ مثلا قتل کرتا ہے یا زخمی کرتا ہے اور ان میں دیگر جرائم بھی ہوتے ہیں اور باہمی تنازعات بھی ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ اپنے مقدمات مسلمان حاکموں کے پاس لے جاتے ہیں ‘ اگر ان کے معاملات ‘ جرائم اور تنازعات میں ان کی اپنی شہادت قبول نہ ہو تو ان کے حقوق معطل ہوجائیں گے۔ ہمارے ملک میں ان کو انصاف نہیں مل سکے گا اور ظلم اور فساد کا غلبہ ہوگا ‘ اور یہ اسلام کے منشاء کے خلاف ہے ‘ اس لیے ضرورت کا یہ تقاضا ہے کہ دارالاسلام میں اہل ذمہ میں ایک دوسرے کے متعلق شہادت کو قبول کیا جائے۔ اور اس مسئلہ میں امام اعظم ابوحنیفہ قدس سرہ کا موقف ہی قرآن مجید ‘ احادیث اور عقل سلیم کے مطابق ہے۔ 

ناگزیر صورت میں غیر مسلموں کو گواہ بنانے کا جواز : 

بعض اوقات سفر میں یہ ہوسکتا ہے کہ کسی مسلمان کو وصیت کے وقت کوئی مسلمان گواہ میسر نہ ہو ‘ تو اب اگر مسلمانوں کے معاملات میں اہل کتاب کی شہادت بالکل میسر نہ ہو تو بعض مواقع پر مسلمانوں کے حقوق معطل ہوجائیں گے۔ اس لیے جہاں ایسی صورت ہو وہاں کسی غیر مسلم سے اس کے مذہب کے مطابق قسم لے کر امام احمد بن حنبل کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے ‘ اس کو گواہ بنا لیا جائے ‘ تو اس کی گنجائش ہے ‘ کیونکہ اس آیت کا منسوخ ہونا متفق علیہ نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ ابن المسیب ‘ ابن جبیر ‘ ابن سیرین ‘ قتادہ شعبی ‘ ثوری اور امام احمد کے نزدیک یہ آیت محکمہ ہے اور منسوخ نہیں ہے۔ لہذا اگر کسی ایسی صورت میں کسی غیر مسلم کو اس کے مطابق قسم لے کر گواہ بنا لیا جائے ‘ تو یہ ظاہر قرآن کے بھی مطابق ہے اور اس میں آسانی ہے اور مسلمانوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہے۔ 

شک اور شبہ کی بناء پر ملزم یا مہتمم کو قید میں رکھنے کا جواز :

اس آیت میں فرمایا ہے :

اگر تمہیں ان پر شک ہو تو تم ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک لو۔ 

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جس شخص پر کسی قسم کا شبہ ہو اس کو روکنا اور قید کرنا جائز ہے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

بہزبن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو تہمت کی بنا پر قید کرلیا۔ امام ترمذی کی روایت میں ہے ‘ بعد میں اس کو رہا کردیا۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٣٠‘ سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٢٢‘ سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٩١) 

علامہ احمد بن محمد خطابی متوفی ٣٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

قید کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ بطور سزا کے قید کرنا اور بطور تفتیش کے قید کرنا اور بطور سزا کے اس وقت قید کیا جائے گا جب اس پر کوئی حق واجب ہوگا یا جرم ثابت ہوگا ‘ اور جس شخص کو تہمت کی بناء پر قید کیا جائے گا تو اس کی تفتیش کیا جائے گی اور حدیث میں ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دن کے تھوڑے وقت کے لیے قید کیا ‘ پھر اس کو رہا کردیا۔ (معالم السنن مع مختصر سنن ابو داؤد ‘ ج ٥‘ ص ٢٣٧‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت) 

نیز امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں : 

عبداللہ حزاری بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ کلاعیین کے لوگوں کی چوری ہوگئی ‘ انہوں نے حا کہ کے کچھ لوگوں پر چوری کی تہمت لگائی ‘ وہ لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی حضرت نعمان بن بشیر (رض) کے پاس گئے ‘ حضرت نعمان نے حا کہ کے لوگوں کو چند روز قید رکھا ‘ پھر ان کو رہا کردیا۔ کلاعیین حضرت نعمان کے پاس گئے اور کہا ‘ آپ نے ان لوگوں کو بغیر مارے پیٹے اور بغیر امتحان لیے رہا کردیا۔ حضرت نعمان (رض) نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں ان کو مار لگاؤں ‘ پھر اگر تمہارا سامان نکل آیا تو فبھا ‘ ورنہ میں تمہاری پشت پر اتنے کوڑے لگاؤں گا جتنے ان کو لگائے ہوں گے۔ انہوں نے کہا یہ آپ کا فیصلہ ہے ؟ حضرت نعمان نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہے۔ 

امام ابو داؤد نے کہا اعتراف سے پہلے کسی کو مارنا جائز نہیں ہے۔ (سنن ابو داؤد ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٨٢‘ سنن النسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٨٩) 

ہمارے ملک میں محض شبہ کی بنا پر کسی شخص کو حوالات میں اتنی مار لگائی جاتی ہے کہ وہ مار سے بچنے کے لیے اپنے ناکردہ جرائم کو اعتراف کرلیتا ہے ‘ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ علامہ سندی نے لکھا ہے کہ تہمت اور شبہ کی بناء پر کسی کو قید کرنا جائز ہے۔ 

مجرموں کو قید میں رکھنے کا جواز : 

مجرموں کو قید میں رکھنے کی اصل یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑے سواروں کی ایک جماعت نجد کی طرف بھیجی ‘ وہ ایک شخص کو گرفتار کرکے لائے جس کا نام ثمامہ بن آثال تھا ‘ صحابہ نے اس کو مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا اے ثمامہ ! تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا نیک خیال ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو آپ ایک خونی کو قتل کریں گے اور اور آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا چاہیں مجھ سے سوال کریں ‘ اس کو اسی طرح رکھا گیا۔ آپ نے دوسرے دن پھر اس سے فرمایا : اے ثمامہ ! تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا وہی جو میں نے آپ سے کہا تھا ‘ اگر مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے ‘ اس کو پھر اسی طرح رکھا گیا۔ تیسرے دن آپ نے پھر اس سے سوال کیا : اے ثمامہ ! تمہارا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا وہی جو میں آپ سے کہہ چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا ثمامہ کو کھول دو ‘ پھر ثمامہ مسجد کے قریب ایک کھجور کے درخت کے پاس گیا ‘ اس نے غسل کیا ‘ پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہنے لگا۔ ” اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمد رسول اللہ “ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخدا (پہلے) تمام روئے زمین پر مجھے آپ کا چہرہ سب سے زیادہ برا لگتا تھا ‘ اور اب آپ کا چہرہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے ‘ اور بخدا ! میں پہلے سب سے زیادہ آپ کے دین سے بغض رکھتا تھا اور اب آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اور پہلے میں آپ کے شہر سے سب سے زیادہ بغض رکھتا تھا اور اب آپ کا شہر مجھے تمام شہروں میں سب سے زیادہ محبوب ہے ‘۔ آپ کے سواروں نے مجھے گرفتار کرلیا تھا ‘ اور اب میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں ‘ آپ کی کیا رائے ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بشارت دی اور اسے عمرہ کرنے کا حکم دیا ‘ جب وہ مکہ میں پہنچا تو اس سے کسی شخص نے کہا کیا تم نے دین بدل لیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں ! بخدا میں سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسلمان ہوگیا ہوں ‘ بخدا تمہارے پاس اب یمامہ سے اس وقت تک گندم کا ایک دانہ بھی نہیں پہنچے گا جب تک کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٧٢‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٧٩‘ صحیح مسلم ‘ جہاد ‘ ٨٩‘ (١٧٦٩) ٤٥٠٨‘ سنن النسائی ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٩‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٤٥٢‘ ج ٣‘ ص ٨٢‘ طبع قدیم) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین دن ثمامہ بن آثال کو قید رکھا اور یہ حدیث مجرموں کو قید میں رکھنے کی اصل ہے۔ 

نادہندہ مقروض کو قید کرنے کے متعلق احادیث :

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

ہرماس بن حبیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنے مقروض کو لے کر آیا ‘ آپ نے فرمایا اس کو قید کرلو ‘ پھر مجھ سے فرمایا : اے بنو تمیم کے بھائی ! تم اپنے قیدی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو ؟ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٢ رقم الحدیث : ٣٦٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

اس حدیث میں نادہندہ مقروض کو قید میں رکھنے کی دلیل ہے۔ 

عمرو بن الثرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا متمول آدمی کی (قرض واپس کرنے میں) سستی اور تاخیر اس کی عزت اور سزا کو حلال کردیتی ہے۔ 

امام ابن المبارک نے کہا کہ عزت کو حلال کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے سختی اور درشت کلام کے ساتھ تقاضا کیا جائے اور سزا حلال کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو قید کرلیا جائے۔ (علامہ نووی اور علامہ سندی نے بھی یہی تشریح کی ہے) (سنن ابوداؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٢٨‘ سنن النسائی ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٠٤۔ ٤٧٠٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢٧‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٩٦٨‘ طبع جدید ‘ دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٣٨٩۔ ٣٨٨۔ ٢٢٢‘ طبع قدیم ‘ امام بخاری نے اس حدیث کو تعلیقا ذکر کیا ہے۔ کتاب الاستقراض ‘ باب ١٣) 

نیز امام بخاری نے تعلیقا ذکر کیا ہے کہ قاضی شریح مقروض کو مسجد کے ستون سے باندھنے کا حکم دیتے تھے۔ (کتاب الصلوۃ ‘ باب ٧٦) 

نادھندہ مقروض کو قید کرنے کے متعلق مذاہب ائمہ : 

علامہ احمد بن محمد خطابی متوفی ٣٨٨ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ تنگ دست اور غریب مقروض کو عدم ادائیگی پر قید نہیں کیا جائے گا ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو جائز کہا ہے جو ادائیگی پر قادر ہو اور اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔ قاضی شریح کا نظریہ یہ تھا کہ متمول اور تنگ دست دونوں کو قید کردیا جائے ‘ اصحاب رائے کا بھی یہی نظریہ ہے۔ (فقہاء احناف کا یہ نظریہ نہیں ہے سعیدی غفرلہ) امام مالک نے کہا تنگ دست کو قید نہیں کیا جائے گا ‘ اس کو ادائیگی کے لیے مہلت دی جائے گی ‘ امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جو شخص بہ ظاہر تنگ دست ہو ‘ اس کو قید نہیں کیا جائے گا اور جو شخص بظاہر متمول ہو اور وہ اپنے حق کو ادا نہ کرتا ہو ‘ تو اس کو قید کیا جائے گا اور بعض اصحاب شافعیہ نے اس میں مزید قیود کا اضافہ کیا ہے۔ (معالم السنن مع مختصر سنن ابو داؤد ج ٥‘ ص ٢٣٧۔ ٢٣٦) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

اس حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جب مقروض قرض ادا کرنے پر قادر ہو (اور قرض ادا نہ کرے) تو اس پر سختی کرنے کے لیے اس کو قید کرنا جائز ہے۔ (فتح الباری ج ٥ ص ٦٢ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اس حدیث یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جب مقروض قرض ادا کرنے پر قادر ہو (اور قرض ادا نہ کرے) تو اس پر سختی کرنے کے لیے اس کو قید کرنا جائز ہے ‘ کیونکہ اس وقت وہ ظالم ہے اور ظلم حرام ہے ‘ خواہ وہ قلیل ہو اور اگر ممقروض کا تنگ دست ہونا ثابت ہو تو اس کو مہلت دینا واجب ہے اور اس کو قید کرنا حرام ہے ‘ اور جس شخص کا تنگ دست ہونا ثابت ہوگیا ہو اور اس کو قید سے نکال دیا گیا ہو تو اس میں اختلاف ہے ‘ کہ آیا قرض خواہ مقروض کے ساتھ لازم رہے یا نہیں۔ امام مالک اور امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ جب تک اس کے پاس کسی اور مال کا ثبوت نہ ہو ‘ وہ اس کے ساتھ لازم نہ رہیں اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں کہ حاکم قرض خواہوں کو اس کے ساتھ لزوم سے منع نہ کرے (عمدۃ القاری ج ١٢ ص ٢٣٦‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

جس طرح مالی حقوق میں اس شخص کو قید کرنا جائز ہے جس پر کسی کا مالی حق ہو ‘ اسی طرح بدنی حقوق میں استغاثہ کو حق دلانے کے لیے اس شخص کو قید کرنا جائز ہے جس پر قصاص لازم ہو ‘ اسی طرح جس شخص نے حدود میں سے کسی حد کا ارتکاب کیا ہو ‘ اس پر حد نافذ کرنے کے لیے اس کو قید کرنا جائز ہے۔ 

گواہ بنانے کے لیے بعد از نماز وقت کی خصوصیت :

اس آیت میں فرمایا ہے :

اگر تمہیں ان پر شک ہو تو تم ان دو گواہوں کو نماز کے بعد روک لو ‘ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں۔۔۔۔۔۔ 

اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں ” بعد از نماز “ سے مراد از نماز عصر ہے ‘ کیونکہ تمام ادیان میں اس وقت کو عظیم گردانا جاتا ہے اور وہ اس وقت میں جھوٹ بولنے سے اور جھوٹی قسم کھانے سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس وقت میں دن کے فرشتے بندہ کے اعمال لکھ کر جا ہوتے ہیں اور رات کے فرشتے اس کے اعمال لکھنے کے لیے آ رہے ہوتے ہیں اور یہ وقت دونوں فرشتوں کے اجتماع کا ہوتا ہے اور اس وقت جو عمل کیا جائے اس کو دن کے فرشتے بھی لکھ لیتے ہیں اور رات کے فرشتے بھی لکھ لیتے ہیں ‘ اس وقت بندوں کے اعمال قبول کیے جانے کے لیے عرش کی طرف فرشتے لے جاتے ہیں ‘ اس لیے اس وقت میں زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ‘ اور برے اعمال سے حتی الامکان گریز کیا جاتا ہے ‘ خصوصیت سے اس وقت میں جھوٹی قسم کھانا بہت بڑا گناہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں سے اللہ کلام نہیں کرے گا ‘ اور نہ ان کی طرف نظر (رحمت) فرمائے گا ‘ اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ‘ ایک وہ شخص جس کے پاس راستہ میں فاضل پانی ہو اور وہ مسافروں کو پانی (لینے) سے منع کرے۔ دوسرا وہ شخص جو کسی شخص سے محض دنیا کے لیے بیعت کرے ‘ اگر وہ اس کی خواہش کے مطابق دے تو اس سے بیعت کو پورا کرے ‘ ورنہ بیعت پوری نہ کرے۔ اور تیسرا وہ شخص جو عصر کے بعد کسی آدمی کو کسی چیز کی قیمت بتائے ‘ اور اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اسے وہ چیز اتنے اتنے میں ملی ہے اور وہ آدمی اس کو لے لے ‘ حالانکہ اسے اتنے میں نہ ملی ہو۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٢٦٧٢‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٧٢١٢) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ جو شخص عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائے گا ‘ اللہ عزوجل اس سے کلام نہیں کرے گا ‘ نہ اس کی طرف نظررحمت فرمائے گا ‘ نہ اس کو پاک کرے گا اور اس کو درد ناک عذاب ہوگا۔ 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

عصر کے وقت کو زیادہ گناہ کے ساتھ خاص کیا ہے۔ حالانکہ جھوٹی قسم ہر وقت کھانا حرام ہے ‘ کیونکہ یہ عظیم الشان وقت ہے ‘ اس وقت میں ملائکہ جمع ہوتے ہیں اور یہ اعمال کے ختم ہونے کا وقت ہے اور امور کا مدار خاتمہ پر ہے۔ اس لیے اس وقت میں گناہ کے ارتکاب پر سخت سزا رکھی ہے ‘ تاکہ لوگ اس وقت میں گناہوں پر جرات نہ کریں اور متقدمین عصر کے بعد حلف لیتے تھے اور اس سلسلہ میں حدیث بھی ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٢٠٣‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

قسم دلانے اور گواہ بنانے میں مقام کی خصوصیت میں مذاہب : 

جس طرح قسم کو پختہ کرنے کے لیے زمان کے اعتبار سے عصر کے بعد کے وقت کی خصوصیت ہے ‘ اسی طرح مکان اور مقام کے اعتبار سے کسی جگہ کی بھی اہمیت ہے یا نہیں ؟ اس میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام بخاری نے یہ عنوان قائم کیا ہے کہ مدعی علیہ جہاں چاہے قسم کھائے اور اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جائے گا اور اس کے تحت یہ اثر ذکر کیا ہے کہ مروان نے حضرت زید بن ثابت (رض) کے خلاف فیصلہ کیا کہ وہ منبر پر قسم کھائیں ‘ حضرت زید (رض) نے کہا میں اپنی جگہ قسم کھاؤں گا ‘ پھر زید قسم کھانے لگے اور انہوں نے منبر پر قسم کھانے سے انکار کیا ‘ مروان کو اس سے تعجب ہوا ‘ حضرت زید (رض) نے کہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم دو گواہ پیش کرو یا وہ قسم اٹھائے گا اور آپ نے کسی جگہ کی تخصیص نہیں فرمائی۔ 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک قسم دلانے کے لیے کسی خاص مقام کی ضرورت نہیں ہے ‘ اور امام بخاری کا بھی اسی طرف میلان ہے۔ علامہ ابن عبد البر مالکی نے کہا قسم میں امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ جب چوتھائی دینار یا اس سے زائد کے معاملہ پر قسم کھانی ہو تو جامع مسجد میں یا جامع مسجد کے منبر پر قسم دلائی جائے گی ‘ اور جب اس سے کم کا معاملہ ہو تو حاکم کی مجلس میں ‘ بازار میں یا کسی بھی جگہ قسم کھائی جاسکتی ہے ‘ اور اس پر قبلہ کی طرف متوجہ ہونا ضروری نہیں ہے ‘ اور امام مالک منبر مدینہ کے سوا اور کسی منبر کو نہیں پہچانتے تھے ‘ اور جو شخص منبر مدینہ کے پاس قسم کھانے سے انکار کرے ‘ وہ ان کے نزدیک قسم کھانے سے منکر ہے اور قسامت کی قسموں میں امام مالک کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ وہ رکن اور مقام کے درمیان قسم کھائے۔ علامہ ابن عبدالبر نے کہا ہے : کہ امام شافعی کا مذہب بھی امام مالک کی طرح ہے ‘ لیکن ان کے نزدیک منبر مدینہ یا مکہ میں رکن اور مقام کے نزدیک قسم کھانا اس وقت ضروری ہے جب بیس دینار دینار یا اس سے زائد کا معاملہ ہو اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ عنہ اور صاحبین کے نزدیک کسی شخص سے کسی بھی معاملہ میں خواہ قلیل مال کا معاملہ ہو ‘ یا کثیر مال کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر پر قسم لینا ضروری نہیں ہے ‘ اور نہ قصاص اور دیت میں اور نہ کسی اور چیز میں ‘ اور جس شخص پر قسم واجب ہو تو حکام اپنی مجلس میں اس سے قسم لے لیں۔ 

امام ابوحنیفہ نے حضرت زید بن ثابت کے اثر سے استدلال کیا ہے ‘ کیونکہ انہوں نے منبر پر قسم نہیں کھائی اور جو اس کو ضروری قرار دیتے ہیں ‘ وہ مروان کے قول سے بلادلیل استدلال کرتے ہیں۔ صاحب التوضیح نے امام شافعی کی طرف سے استدلال کیا ہے کہ اگر حضرت زید بن ثابت (رض) کو یہ یقین ہو تاکہ منبر پر قسم کھانا سنت نہیں ہے تو وہ مروان پر رد کرتے اور کہتے کہ نہیں ‘ خدا کی قسم ! میں منبر پر قسم نہیں کھاؤں گا ‘ میں صرف تمہاری مجلس میں قسم کھاؤں گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ عجیب استدلال ہے ‘ اگر حضرت زید کو علم ہو تاکہ منبر پر قسم کھانا سنت ہے ‘ تو وہ مروان کی مجلس میں قسم نہ کھاتے اور منبر پر ہی قسم کھاتے ‘ لیکن انہوں نے مروان کے کلام کی طرف توجہ نہیں کی اور اسی مجلس میں قسم کھائی اور یہ مروان کا رد نہیں تو اور کیا ہے ! (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ‘ ٢٥٣۔ ٢٥٢‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

حضرت زید بن ثابت (رض) کی تائید میں یہ اثر ہے۔ امام ابو عبیدہ نے کتاب القضاء میں سند صحیح کے ساتھ نافع سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ایک شخص کے وصی تھے ‘ ان کے پاس ایک شخص ایک دستاویز لے کر آیا ‘ جس میں گواہوں کے نام مٹ چکے تھے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے نافع سے کہا : اس کو منبر پر لے جا کر اس سے حلف لو۔ اس شخص نے کہا جب یہ منبر پر مجھ سے حلف لے گا تو آپ تو نہیں سن رہے ہوں گے حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا تم نے سچ کہا : اور اس شخص سے اسی مجلس میں حلف لیا۔ 

مروان کی تائید میں بھی اثر ہے۔ امام کر ابیسی نے آداب القضاء میں سند قوی کے ساتھ سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ایک شخص نے کسی آدمی پر یہ دعوی کیا کہ اس نے اس شخص کا اونٹ غصب کرلیا ہے ‘ اس نے حضرت عثمان (رض) کے پاس مقدمہ پیش کیا ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس کو حکم دیا کہ وہ منبر پر قسم کھائے ‘ اس نے قسم کھانے سے انکار کیا اور کہا : منبر کے علاوہ اور آپ جہاں چاہیں میں قسم کھاؤں گا ‘ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا نہیں تم کو منبر پر قسم کھانی ہوگی ‘ ورنہ اونٹ تاوان میں دینا پڑے گا ‘ اس شخص نے اونٹ تاوان میں دے دیا اور منبر پر قسم نہیں کھائی۔ 

جس طرح زمان کے اعتبار سے قسم کی تغلیظ میں عصر کے بعد کے وقت کی تخصیص ہے۔ اسی طرح مکان کے اعتبار سے قسم کی تغلیظ میں منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تخصیص ہے ‘ اور اس سلسلہ میں دو مرفوع حدیثیں ہیں : 

(١) امام مالک ‘ امام ابو داؤد ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام ابن خزیمہ نے تصحیح کے ساتھ اور امام ابن حبان اور امام حاکم وغیرہم نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے اس منبر پر جھوٹی قسم کھائے گا ‘ خواہ وہ ایک سبز مسواک پر قسم کھائے ‘ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ 

(٢) امام نسائی نے ثقہ راویوں سے روایت کیا ہے حضرت ابو امامہ بن ثعلبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے میرے اس منبر پر جھوٹی قسم کھائی ‘ جس سے وہ کسی مسلمان شخص کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہوں ‘ اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ‘ اللہ اس کا کوئی فرض قبول کرے گا ‘ نہ نفل۔ (فتح الباری ج ٥ ص ٢٨٥ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

اس میں کوئی شک نہیں کہ منبر رسول پر جھوٹی قسم کھانابہت بڑا گناہ ہے ‘ اور جس قسم میں تغلیظ مقصود ہو ‘ تو وہ منبر رسول پر قسم دینی چاہیے ‘ لیکن یہ ہے کہ کیا یہ واجب ہے ؟ اور کیا تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے اس پر عمل کرنا ممکن ہے ؟ عصر کے بعد کا وقت تو دنیا میں ہر جگہ حاصل ہوسکتا ہے ‘ اس لیے سخت اور قوی قسم دینے کے لیے عصر کے وقت کی خصوصیت درست ہے۔ لیکن رکن اور مقام پر قسم دینا یا منبر رسول پر قسم دینا ‘ یہ عملا صرف حرمین طیبین میں ہی ممکن ہے اور اب اسلام تمام دنیا میں پھیل چکا ہے۔ خصوصا پاسپورٹ اور ویزے کی پابندی کے اس دور میں معقول مذہب صرف امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا ہے ‘ اور وہی قابل عمل ہے۔ 

صرف اللہ کی ذات کی قسم کھائی جائے یا اس کی صفات کا بھی ذکر کیا جائے : 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

جس ذات کی قسم کھائی جائے اس کی صفات کے ذکر میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ امام مالک نے کہا ان الفاظ کے ساتھ قسم کھائے ” باللہ الذی لا الہ الا ھو عالم الغیب والشھادۃ الرحمن الرجیم “ امام شافعی نے کہا اس میں یہ اضافہ بھی کرے ” الذی یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور والذی یعلم من السر ما یعلم من العلانیۃ “ علامہ سحنون مالکی نے کہا اللہ اور مصحف کی قسم کھائے اور ہمارے اصحاب احناف کے نزدیک صرف اللہ کے نام کی قسم کھانا کافی ہے ‘ طلاق کی قسم نہ کھائے (یعنی اگر میں نے یہ کام کیا ہے تو میری بیوی کو طلاق) ہاں ! اگر فریق مخالف اللہ کی قسم کو اہمیت نہ دیتا ہو اور طلاق کی قسم کا مطالبہ کرے تو پھر طلاق کی قسم کھالے ‘ لیکن اگر اس نے طلاق کی قسم کھانے سے انکار کیا تو اس کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جائے گا ‘ کیونکہ اس نے اس چیز سے انکار کیا ہے جو شرعا ممنوع ہے ‘ اور اگر اس کے خلاف فیصلہ کر بھی دیا گیا ‘ تو وہ نافذ نہیں ہوگا۔ قسم کو زیادہ پختہ اور موکد کرنے کے لیے اللہ کی صفات کا بھی ذکر کیا جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ جو شخص عرف میں نیک ہو ‘ اس سے پختہ قسم کا مطالبہ نہ کیا جائے اور دوسروں سے مطالبہ کیا جائے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ زیادہ مال کے معاملہ میں پختہ قسم کا مطالبہ کیا جائے ‘ اور کم مال کے معاملہ میں نہ کیا جائے اور زمان اور مکان کے اعتبار سے قسم کو پختہ نہ کیا جائے (یعنی عصر کے بعد قسم کا مطالبہ کرے ‘ یا مسجد کے منبر پر قسم کھانے کا مطالبہ کرے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ جب اس وقت میں اور منبر پر قسم کھانے کا رواج عام ہوجائے گا تو لوگوں کے نزدیک ان کی وقعت کم ہوجائے گی۔ ہاں کسی بہت اہم اور خاص معاملہ میں زمان ومکان کے ساتھ تغلیظ کرنی چاہیے ‘ اور اللہ کی ذات اور صفات کی قسم دینی چاہیے ‘ کیونکہ امام ابو داؤد نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو قسم دی اور فرمایا یہ قسم کھاؤ۔ ” باللہ الذی لا الہ الا ھو “۔ میرے پاس مدعی کی کوئی چیز نہیں ہے۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٦٢٠) اس طرح قرآن ‘ حدیث اور آثار صحابہ سب پر عمل ہوگا ‘ کیونکہ قرآن مجید میں (عصر کی) نماز کے بعد قسم دلانے کا حکم ہے اور حدیث میں اللہ کی ذات اور صفات کے ساتھ قسم دینے کا حکم ہے ‘ اور آثار صحابہ میں مسجد کے منبر پر قسم دینے کا ذکر ہے۔ اس لیے قسم کی تغلیظ ‘ تاکید اور اس کو پختہ کرنے کے لیے ان امور کے ساتھ قسم دی جائے ‘ لیکن چونکہ قرآن اور حدیث میں اس تغلیظ کو واجب اور ضروری نہیں قرار دیا ‘ اس لیے ان امور کے ساتھ تغلیظ کو عام معمول نہ بنایا جائے ‘ تاکہ لوگوں کی نگاہوں میں ان کی وقعت اور اہمیت کم نہ ہو ‘ اور کسی بہت اہم اور غیر معمولی معاملہ میں جہاں بہت تاکید اور تغلیظ مقصود ہو ‘ وہاں عصر کے بعد مسجد کے منبر پر اللہ کی ذات اور صفات کی قسم دی جائے۔ (سعیدی غفرلہ) توضیح میں یہ مذکور ہے کہ کیا قسم دیتے وقت مصحف (قرآن مجید) کو بھی حاضر کیا جائے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ امام مالک نے اس کا انکار کیا اور بعض مالکی علماء نے کہا بیس دینار یا اس سے زیادہ کی مالیت میں مصحف کو حاضر کرنا لازم ہے ‘ اور ابن المنذر نے امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے مطرف کو دیکھا ‘ وہ مصحف کے سامنے حلف اٹھاتے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

مدعی کی قسم پر فیصلہ کرنے کی توجیہ : 

اس آیت میں فرمایا ہے پھر اگر معلوم ہوجائے کہ وہ دونوں گواہ کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ‘ تو جس لوگوں کا حق ان گواہوں نے ضائع کیا ہے ‘ ان کی طرف سے دو گواہ ان کی جگہ کھڑے کیے جائیں اور وہ گواہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اس واقعہ میں پہلے میت کے وصیوں نے قسم کھائی کہ ہم کو اس میت نے صرف اتنا ہی مال دیا تھا (جس میں چاندی کا پیالہ نہیں تھا) اور ورثاء نے یہ دعوی کیا کہ انہوں نے پورا مال نہیں پہنچایا ‘ اور انہوں نے جھوٹی قسم کھائی اور امانت میں خیانت کی ہے ‘ پھر وصیوں کی قسم کے مقابلہ میں ورثاء کے دو آدمی پیش ہوئے اور انہوں نے ان وصیوں کے خلاف قسم کھائی اور کہا ہماری قسم ان کی قسم کے مقابلہ میں برحق ہے۔ 

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ورثاء مدعی تھے اور مدعی کے ذمہ گواہ ہوتے ہیں ‘ اور قسم مدعی علیہ پر ہوتی ہے اور یہاں مدعی کی قسم پر فیصلہ کردیا گیا ‘ کیونکہ جب ورثاء کے گواہوں نے قسم کھائی کہ یہ وصی جھوٹے ہیں ‘ اس سامان میں پیالہ بھی تھا ‘ تو ان کی قسم پر فیصلہ کردیا گیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب وہ پیالہ مکہ میں مل گیا اور وصیوں سے اس کے متعلق پوچھا گیا ‘ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے میت سے یہ پیالہ خرید لیا تھا تو اب معاملہ برعکس ہوگیا ‘ اب وہ مدعی ہوگئے اور میت کے ورثاء اس خریداری کے منکر تھے ‘ وہ مدعی علیہ ہوگئے اور چونکہ وصیوں کے پاس پیالہ خریدنے کے گواہ نہ تھے ‘ اس لیے ورثاء پر قسم لازم آئی ‘ انہوں نے قسم کھائی کہ یہ جھوٹے ہیں اور ان کی قسم پر فیصلہ کردیا گیا۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض ورثاء کو مدعی ہی قرار دیا جائے ‘ تب بھی اصول یہ ہے کہ اگر کسی خارجی قرینہ سے مدعی علیہ کی خیانت اس کا جھوٹ اور گناہ ثابت ہوجائے تو اس کی قسم غیر معتبر ہوجاتی ہے ‘ اور پھر مدعی سے قسم لے کر اس کی قسم پر فیصلہ کردیا جاتا ہے ‘ اور اس آیت سے یہی اصول ثابت ہوتا ہے اور جو قاعدہ ہے کہ اگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ کی قسم پر فیصلہ کیا جاتا ہے ‘ وہ اس جب مدعی علیہ کی قسم کے جھوٹ ہونے پر کوئی خارجی دلیل اور قرینہ نہ ہو۔ اس سوال کا تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہے جس میں گواہ کا مسلمان ہونا ضروری فرمایا ہے ‘ اور اس آیت میں غیر مسلموں کو گواہ بنانے کا ذکر ہے ‘ اس پر مفصل بحث ہم اس آیت کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 106

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.