أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلۡ عَلَيۡنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوۡنُ لَـنَا عِيۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنۡكَ‌ۚ وَارۡزُقۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی : اے ہمارے رب : ہم پر آسمان سے کھانے کا خوان نازل فرما تاکہ (وہ دن) ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہوجائے اور تیری طرف سے نشان (ہو جائے) اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی : اے ہمارے رب : ہم پر آسمان سے کھانے کا خوان نازل فرما تاکہ (وہ دن) ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہوجائے اور تیری طرف سے نشان (ہو جائے) اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے۔ (المائدہ : ١١٤) 

عام آدمی کی نظر اور نبی کی نظر : 

حواریوں نے جب خوان کی درخواست کی تھی تو کہا تھا ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہمیں یقین ہوجائے کہ آپ نے سچ کہا تھا ‘ انہوں نے اس خوان سے دنیاوی غرض ‘ یعنی کھانے کو پہلے ذکر کیا اور اخروی غرض ‘ یعنی ایمان کی پختگی کو بعد میں ذکر کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جب دعا کی تو اخروی غرض کو پہلے ذکر کیا اور وہ ہے اگلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہونا اور اللہ کی طرف سے نشانی ہونا اور دنیاوی غرض کا بعد میں ذکر کیا اور وہ ہے کہ میں رزق عطا فرما اور اس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی کہ تو سب سے بہتر رزق عطا فرمانے والا ہے ‘ یہ فرق ہے نبی کی نظر میں اور عام آدمی کی نظر میں۔ 

عید کے دن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے عبادت کی جاتی ہے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نظر پہلے اللہ کی عبادت کی طرف تھی ‘ پھر فرمایا کہ وہ تیری طرف سے نشانی ہوجائے ‘ یعنی لوگ نزول مائدہ میں غور وفکر کر کے اس کے نازل کرنے والے کی طرف رسائی حاصل کریں اور نظر اور استدلال سے خدا کو پہچانیں ‘ یوں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نظر ایک بلند مقام سے ‘ اس سے بھی بلند ترک مقام پر پہنچی۔ پھر جب فرمایا ہمیں رزق عطا فرما تو نفس کے حصہ کی طرف نظر کی اور خالق سے مخلوق کی طرف نزول کیا اور جب کہا تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے تو نزول کے بعد پھر خالق کی طرف رجوع کیا ‘ اور یوں اس آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دو مرتبہ خلق سے خالق اور غیر اللہ سے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ اس دعا کے اول میں بھی ان کی نظر اللہ کی طرف تھی اور آخر میں بھی ان کی نظر اللہ کی طرف تھی اور اہل اللہ کا یہی حال ہوتا ہے وہ ہرحال میں اللہ کی طرف نظر رکھتے ہیں۔ اے اللہ ! ہمیں بھی اس بلند مقام سے حظ وافر عطا فرما ! (آمین) 

اول اور آخر کے لیے عید ہونے کا معنی : 

تاکہ وہ دن ہمارے اول اور آخر کے لیے عید ہوجائے ابن جریج نے کہا اول سے مراد اس وقت کے زندہ لوگ ہیں اور آخر سے مراد بعد میں آنے والے لوگ ہیں۔ 

سفیان نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ اس دن ہم دو مرتبہ نماز پڑھیں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ جب ہمارے سامنے خوان رکھا جائے تو اول سے لے کر آخر تک سب لوگ کھا لیں۔ 

سدی نے کہا جس دن مائدہ نازل ہو اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے ہم بھی اس دن عید منائیں اور ہمارے بعد آنے والے لوگ بھی۔ 

امام ابن جریر نے کہا صحیح قول یہ ہے کہ اس دعا کا معنی یہ ہے کہ : یہ دن ہمارے لیے عید ہوجائے اور جس دن یہ خوان نازل ہو ‘ اس دن ہم نماز پڑھیں ‘ جیسے لوگ عید کے دن نماز پڑھتے ہیں۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٧٨۔ ١٧٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

بنو اسرائیل پر نازل ہونے والے طعام کا خوان :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمار بن یاسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آسمان سے جو خوان نازل کیا گیا تھا ‘ اس میں روٹیاں اور گوشت تھا ‘ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس میں نہ خیانت کریں اور نہ اس کو کل کے لیے بچا کر رکھیں۔ انہوں نے خیانت بھی کی اور کل کے لیے بچا کر بھی رکھا ‘ سو ان کو مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث : ٣٠٧٦) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

بنو عجل کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی۔ انہوں نے نماز سے فارغ ہو کر مجھ سے پوچھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ بنو اسرائیل کے خوان کا کیا معاملہ ہوا تھا ؟ میں نے نہیں۔ انہوں نے کہا بنو اسرائیل نے حضرت عیسیٰ ابن مریم سے سوال کیا کہ ان کے اوپر کھانے کا ایسا خوان نازل کیا جائے جس سے وہ کھانا کھاتے رہیں اور وہ کبھی ختم نہ ہو ‘ ان سے کہا گیا کہ وہ خوان تمہارے پاس رہے گا بشرطیکہ تم اس میں سے کچھ چھپا کر نہ رکھو اور خیانت نہ کرو اور اس میں سے کوئی چیز نہ اٹھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم نے ایسا کیا تم نے ایسا کیا تو میں تم کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کسی کو ایسا عذاب نہ دیا ہوگا۔ پھر ایک دن بھی نہیں گذرا حتی کہ انہوں نے اس میں سے چھپایا اور اٹھا لیا اور خیانت کی ‘ سو ان کو ایسا عذاب دیا گیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا تھا اور اے عرب والو ! تم لوگ اونٹوں اور بکریوں کو چراتے تھے ‘ پھر اللہ نے تم میں تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا ‘ جس کے حسب اور نسب کو تم جانتے اور پہچانتے تھے ‘ تمہارے نبی کی زبان سے تم کو اطلاع دی کہ عنقریب تم پورے عرب پر غلبہ پاؤ گے ‘ اور تم کو سونے اور چاندی کے جمع کرنے سے منع کیا اور بخدا تم اب دن رات سونا اور چاندی جمع کر رہے ہو ‘ اور درد ناک عذاب کے مستحق ہو رہے ہو۔ 

حضرت عمار بیان کرتے ہیں کہ بنو اسرائیل پر مائدہ نازل کیا گیا اس میں جنت کے پھول تھے ‘ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس میں سے نہ چھپائیں ‘ نہ خیانت کریں ‘ نہ ذخیرہ کریں ‘ ان لوگوں نے خیانت کی ‘ چھپایا اور ذخیرہ کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بندر اور خنزیر بنادیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ١٨٠۔ ١٧٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

میلاد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : 

صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

یعنی ہم اس (خوان طعام) کے نزول کے دن کو عید بنائیں ‘ اس کی تعظیم کریں ‘ خوشیاں منائیں ‘ تیری عبادت کریں ‘ شکر بجا لائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو ‘ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا ‘ عبادتیں کرنا ‘ شکر الہی بجا لانا ‘ طریقہ صالحین ہے اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے۔ اس لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔ (خزائن العرفان ‘ ص ٢٠٣‘ مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور) 

علامہ شریف سیداحمد بن عبدالغنی بن عمر عابدین دمشقی متوفی ١٣٢٠ ھ (علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ کے عم زاد) نے علامہ ابن حجر ھیتمی مکی متوفی ٩٤٧ ھ کی کتاب النعمۃ الکبری کی شرح لکھی ہے۔ علامہ ابن حجر مکی شافعی نے النعمۃ الکبری نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے میلاد کے ثبوت اور بیان میں لکھی ہے اس کتاب کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں ‘ لیکن سب سے مبسوط شرح علامہ احمد عابدین دمشقی کی ہے۔ علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی متوفی ١٣٥٠ ھ نے اس شرح کو جواہر البحار میں مکمل نقل کیا ہے۔ ہم اس شرح کے چند اقتباسات جو میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ثبوت سے متعلق ہیں ‘ یہاں نقل کر رہے ہیں۔ 

محفل میلاد کا بدعت حسنہ ہونا : 

جس ماہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت ہوئی ‘ اس میں میلاد شریف کو منانا بدعات مستحبہ میں سے ہے ‘ اس کو ایجاد کرنے والا اربل کا بادشاہ مظفر تھا۔ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ وہ ربیع الاول میں میلاد شریف منعقد کرتا تھا ‘ اور بہت عظیم الشان محفل کا اہتمام کرتا تھا ‘ اس کی بادشاہی کافی عرصہ قائم رہی اور وہ ٦٣٦ ھ میں فوت ہوا۔ وہ بہادر ‘ نیک ‘ عادل اور ذہین بادشاہ تھا ‘ وہ اس محفل میں بہت علماء اور صوفیاء کو مدعو کرتا تھا اور اس عظیم الشان دعوت میں تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا۔ علامہ نووی کے استاذ شیخ ابو شامہ نے میلاد شریف منانے منانے کے بدعت حسنہ ہونے پر بہت قوی دلیل ہے۔ 

علامہ ابو شامہ کی عبارت یہ ہے : 

ہمارے زمانہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کے دن جو میلاد منایا جاتا ہے اور صدقات اور خیرات کیے جاتے ہیں اور خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے ‘ یہ سب سے اچھی اور نیک بدعت ہے ‘ نیز اس عمل کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی وجہ سے ناداروں اور مفلسوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جاتا ہے ‘ جس شخص نے اس بدعت کو ایجاد کیا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو نیک جزا دے۔ نیز۔ اس عمل کی وجہ سے کفار اور منافقین کے دل غیظ سے جلتے ہیں۔ 

(الباعث علی انکار والبدع والحوادث ملخصا ‘ ص ٩٥‘ مطبوعہ دارالرایہ الریاض ‘ طبعہ اولی ص ٠ ا ١٤١ ھ) 

علامہ زرقانی مالکی نے لکھا ہے کہ حافظ ابو الخیر شمس الدین بن الجزری نے کہا وہ ابو لہب جس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ‘ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوشی میں اپنی باندی ثوبیہ کو انگلی کے اشارہ سے آزاد کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس فعل کی یہ جزا دی کہ ہر پیر کو جب وہ اس انگلی کا سر چوستا ہے تو اس کے عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے ‘ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امتی مسلمان اور موحد جب ایمان کے رشتہ سے آپ کی ولادت پر خوشی منائے گا اور اپنی استطاعت کے مطابق مال خرچ کرکے صدقہ اور خیرات کرے گا تو اس کی جزاء کیا ہوگی ‘ اور مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل عمیم سے جنات النعیم میں داخل کر دے گا۔ امام امام محقق ابو زرعہ عراقی سے سوال کیا گیا کہ میلاد شریف منانا آیا مستحب ہے یا مکروہ ہے ؟ اور کیا اس میں کوئی چیز وارد ہوئی ہے اور کیا یہ فعل صحابہ کرام سے منقول ہے تو علامہ عراقی نے جواب دیا کہ دعوت کرنا اور کھانا کھلانا ہر وقت میں مستحب ہے اور جب اس کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی خوشی اور مسرت شامل ہو تو یہ فعل کیونکر مستحب نہیں ہوگا اور ہم سلف صالحین کے متعلق اس سے زیادہ نہیں جانتے اور کسی چیز کے بدعت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ بدعت مکروہہ ہو ‘ کیونکہ کتنی بدعات مستحب ہیں ‘ بلکہ واجب ہیں۔ 

علامہ ابراہیم حلبی حنفی نے کہا اگر محفل میلاد میں برائیوں کو شامل کرلیا جائے ‘ مثلا عورتیں شریک ہو اور بلند آواز سے گائیں ‘ یا مردوں اور عورتوں کے مخلوط اجتماع ہوں (یا جلوس کے دوران نمازیں نہ پڑھی جائیں) تو اس قسم کے افعال بالاجماع حرام ہیں۔ (علامہ شامی نے علامہ ابن حجر سے نقل کیا ہے کہ برائیوں کے شامل ہونے کی وجہ سے کسی نیکی کو ترک نہیں کیا جائے گا ‘ کیونکہ اس وجہ سے عبادات کو ترک نہیں کیا جاتا ‘ بلکہ انسان پر واجب ہے کہ وہ عبادات اور نیکیوں کو بجا لائے اور بدعات کا انکار کرے اور حتی الامکان ان کا ازالہ کرے۔ (رد المختار ‘ ج ١ ص ٢٠٤) علامہ زرقانی نے کہا کہ خلاصہ یہ ہے کہ فی نفسہ میلاد شریف بدعت ہے ‘ اس میں محاسن بھی ہیں اور قبائح بھی ‘ سو اگر محاسن کو اختیار کیا گیا اور قبائح سے اجتناب کیا گیا تو یہ بدعت حسنہ ہے ورنہ نہیں۔ 

حافظ ابن حجرعسقلانی نے ایک سوال کے جواب کہا کہ مجھ پر میلاد شریف منانے کی اصل ظاہر ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء (دس محرم) کا روزہ رکھتے تھے ‘ آپ نے ان سے اس کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے کہا اس دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نجات دی تھی ‘ تو ہم اس دن بطور شکر کے روزہ رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس معین دن میں اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا فرمائے ‘ اس دن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت اور آپ کے ظہور سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہوگی۔ سو جس دن آپ کی ولادت ہوئی ‘ اس دن مختلف عبادات کرنا ‘ مثلا نوافل پڑھنا ‘ روزہ رکھنا ‘ صدقہ و خیرات کرنا ‘ اور تلاوت کرنا اور ان عبادات سے اللہ کا شکر بجا لانا اس حدیث کے مطابق ہے اور حافظ ابن حجر سے پہلے علامہ ابن رجب حنبلی نے اس اصل کو تلاش کیا تھا۔ حافظ ابن حجر مکی نے کہا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کی متابعت میں اس دن روزہ رکھا اور یہود سے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ہمارا تم سے زیادہ حق ہے۔ 

علامہ احمد عابدین نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میلاد میں شریک ہونا اور آپ کی ولادت مبارکہ کا واقعہ اور آپ کے فضائل اور محامل کو بیان کرنا اور آپ پر بکثرت درود وسلام پڑھنا ‘ آپ کی محبت کا سبب ہے اور آپ کے قرب کا موجب ہے۔ سو ہر وہ شخص جو آپ کی محبت میں صادق ہو ‘ اس کو چاہیے کہ وہ آپ کی ولادت کے مہینہ کی آمد پر خوش ہو اور اس مہینہ میں اس محفل کو منعقد کرے اور اس میں آپ کی ولادت کے متعلق احادیث صحیحہ اور آثار قویہ بیان کرے اور امید ہے کہ ایسے شخص کو آپ کی شفاعت حاصل ہوگی ‘ کیونکہ شفاعت آپ کی محبت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ سو جو شخص محافل میلاد منعقد کر کے آپ کا بکثرت ذکر کرے گا اور آپ نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص جس سے محبت کرتا ہے اس کا بکثرت ذکر کرتا ہے اور آپ نے فرمایا ہے انسان اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ تو امید ہے کہ آپ کی محبت سے محفل میلاد میں آپ کا ذکر کرنے والے اور آپ پر بکثرت صلوۃ وسلام پڑھنے والے ‘ جنت میں آپ کے ساتھ ہوں گے۔ سو اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں پر رحمت نازل فرمائے ‘ جنہوں نے میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماہ مبارک کی راتوں کو عیدیں بنادیا۔ (جواہر البحار ‘ ج ٣‘ ص ٣٦٢۔ ٣٥٩‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ) 

عید میلاد النبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشروعیت پر ہم نے شرح صحیح مسلم جلد ثالث میں سیر حاصل بحث کی ہے اور اس سورت کی آیت ٣‘ میں بھی مانعین کے بکثرت حوالہ جات سے میلاد شریف کی مشروعیت اور استحباب کو بیان کیا ہے۔ یہ امر واضح رہے کہ ہمارے نزدیک محفل میلاد منعقد کرنا مستحسن اور مستحب ہے ‘ واجب یا فرض نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 114